ڈیورنڈ لائن ،پاکستان پر لٹکتی ننگی تلوار

Submitted by jan alam swat on Thu, 08/18/2011 - 23:03

برصغیر پاک و ہند پر فرہنگیوں کے غاصبانہ قبضے کا دُور خطے کا سیاہ ترین دُور کہلاتا ہے،مغل دُور حکومت میں فرہنگی تجارت کے بہانے ہندو ستان وارد ہوئے اور کچھ ہی عرصہ میں اپنی مکاریوں اور سازشوں کے ذریعے تمام ہندوستان پر قابض ہوگئے لیکن ہند کے مسلمانوں نے جدو جہد آزادی کے ولولانہ تحریک کے ذریعے انگریز وں کو اس خطے سے فرار پر مجبور کیا ۔برصغیر سے فرہنگی سامراج کی پسپائی میں ہندوستان کے مسلمانوں کی لازوال قربانیاں اور جنگ آزادی کی طویل اور ناقابل فہم جدو جہد تاریخ کے اوراق میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ہندوستان کے مسلمان اپنے شاندار ماضی اور جنگ آزادی میں صف اول کا کردار آدا کرنے کی وجہ سے ہمیشہ فرہنگیوں کے عتاب کا شکار رہے ، یہی وجہ تھی کہ فرہنگیوں نے ہندوستان کے تقسیم سے قبل اور بعد کے تمام اُمور میں مسلمانوں کے ساتھ نہایت معتصبانہ اور ظالمانہ رویہ روا رکھا، انہی وجوہات کے سبب فرہنگیوں نے تقسیم ہند کے معاملات میں مسلمانوں کو ناپاک سازشوں کے ذریعے طویل المعیاد نقصانات پہنچائے ۔جنگ آزادی میں مسلمانوں کی کامیابی کے بعداپنی مسلم دشمن پالیسیوں کے تحت انگریز وں نے مسلمانوں کو ایک ایسے ملک کا نقشہ دیا جسکی بنیاد انگریز وں نے ٹوٹنے پر بنائی تھی ،دو قومی نظریے کے تحت مسلمانوں کو دیے گیے اس ملک کے نقشے میں انگریز وں نے نہ تو ہندوستان کے مسلم آبادی والے علاقے شامل کئے نہ ہی بٹوارے کے اصولوں اور زمینی حقائق کا خیال رکھا ،بلکہ فرہنگوں نے سازش کے تحت مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے دو بے ترتیب ٹکڑوں پر مشتمل ایک ملک کا نقشہ بنایا اور اسکے دونوں حصوں کے درمیان دشمن ملک کوحائل کیاتاکہ مستقبل میں اپنے اندرونی و بیرونی مسائل اور خلفیشار کی وجہ سے یہ دونوں حصے الگ ہو کر ملک ٹوٹنے کا سبب بن سکے،یہی نہیں بلکہ مغربی پاکستان میں سازش کے تحت مسّلہ کشمیر اور ڈیورنڈ لائن جیسے مسائل پیدا کرکے چھوڑ دیے تاکہ مشرقی پاکستان یعنی بنگلا دیش کے الگ ہوجانے کے بعد باقی ماندہ پاکستان کے مسلما ن ایندہ بھی چین سے نہ رہ سکے ،آزادی کے بعدہندوستان کی غیر منصفانہ تقسیم انگریز وں کی مسلم دشمن ذہنیت کی واضح دلیل ہے ،برصغیر سے لوٹتے وقت انگریز وں نے خطے کے مسلمانوں کے خلاف ایسی سازشیں تیار کی تھی جس کے انگارے ایک صدی گزرنے کے باوجود بھی دھک رہے ہیں ،انہی سازشوں کی وجہ سے آج بھارت اور پاکستان میں مسلمانوں کی حالت زندہ درگوں ہے، برصغیر میں انگریز وں کی تخلیق کردہ کئی مسلم دشمن سازشوں میں سے ایک سازش ڈیورنڈ لائن نامی معاہدہ ہے جسے فرہنگی نے افغانستان کے پختونوں اور ہندوستان کے مسلمانوں کے خلاف تیار کی تھی ،ڈیورنڈ لائن نامی فرہنگی سازش پاکستان کے وجود پر ننگی تلوار کی طرح لٹک رہی ہے اور اس کی وجہ سے پاکستان کومستقبل میں نہایت کٹھن حالات کا سامنا ہو سکتا ہے ۔ڈیورنڈلائن معاہدے کی تاریخ کچھ یوں ہے کہ ہندوستان پر قبضے کے بعد انگریز وں نے اپنے غاصبانہ قبضوں کے سلسلے کوجاری رکھتے ہوئے افغانستان کے کئی علاقوں پر قبضے کرکے ہندوستان میں شامل کرلیے تھے ،اور بر صغیر سے لوٹتے وقت ا ن مقبوضہ علاقوں کے مستقبل کے بارے میں انگریز سرکارنے افغانستان حکومت کے ساتھ ڈیورنڈ لائن نامی ایک معاہدہ طے کیا،ایک صفحے اور سات کالموں پر مشتمل یہ معاہدہ 12 نومبر1893 ء میں برٹش انڈیا کے فارن سیکٹری سر ہنری ڈیورنڈ اورافغانستان کے والی وقت امیر عبد الرحمٰن خان کے مابین طے پایا تھا ۔اس معاہدے میں یہ طے کیا گیاکہ برصغیرسے انگریزوں کے چلے جانے کے بعد 2,640 کلو میٹر پرمحیط مقبوضہ افغا ن علاقے100 سال تک ہندوستان کے زیرحکومت رہیں گیں اور معاہدے کی میعاد ختم ہونے کے بعد مذکورہ علاقے واپس افغانستان کے کنٹرول میں دے دیے جائیں گے ،تاریخی ڈیورنڈ لائن نامی معاہدہ جو دنیا کے نقشے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک سُرخ لکیر کی صورت میں موجود ہے 1896ء سے نافذ عمل ہوا اور ایک صدی کی مسافت طے کرکے 1996ء میں اختیتام پذیر ہو چکاہے۔معاہدے کی رُو سے آج افغانستان دوبارہ ان مقبوضہ علاقوں کا مالک ہے ،ڈیورنڈ لائن معاہدے سے قبل اور بعد کے نقشوں کے مطالعے سے کچھ کم و بیش یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صوبہ بلوچستان ،صوبہ خیبر پختونخواہ کے زیادہ تراور صوبہ پنجاب کے کچھ علاقے افغانستان کے حصے ہیں ۔1947 ء میں پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد افغانستان پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا ۔اس انکار کے بارے میں افغانستان کا موقف تھا کہ وہ اپنی مقبوضہ زمین پرکسی بھی نئے ملک کے وجود کو تسلیم نہیں کر سکتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت افغانستان پاکستان سے اپنی زمین واپس مانگنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور وہ اس عمل کے لیے کسی مناسب وقت کے طاق میں ہے ،افغانستان کسی بھی صورت ڈیورنڈ لائن معاملے سے دستبردار ہونے کو تیار نظر نہیں آتا ہے ،جون 1949 ء میں افغان پارلیمنٹ نے مشترکہ اجلاس میں ڈیورڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم نہ کرنے کابل پاس کرکے دنیا کو اس بارے میں واضح پیغام دے چکے ہیں ۔ اسی زمرے میں کچھ عرصہ قبل افغان وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ اورافغان صدر کرزئی کے مابین مشاورت میں یہ بات طے پائی تھی کہ افغانستان ڈیورنڈ لائن معاہدے پرپاکستان سے عمل درامد کرنے کا مطالبہ مناسب وقت دیکھ کر پیش کرے گا ۔اگر افغانستان مستقبل میں ڈیورنڈ لائن کے ایشو کو اُٹھاتا ہے تو پاکستان پر اس کے نہایت خوفناک اثرات مرتب ہونے کے خدشات ہیں ۔کیونکہ معاہدے کی رُو سے صوبہ بلوچستان ،خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے کئی علاقے افغانستان میں ضم ہو جانے کے قوی امکانات ہیں اور اس صورتحال میں موجودہ پاکستان صرف پنجاب و سندھ تک محدود رہ جانے کے واضح امکانات ہیں۔اس تناظر میں پاکستان کو اپنا وجود قائم رکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا،کیا پاکستان معاہدے کو تسلیم کرتے ہوئے مذکورہ علاقے افغانستان کے سپرد کردے گا ؟کیا پاکستانی عوام بخوشی افغانستان کے ساتھ شامل ہونے کو تیار ہوگی ؟اس ممکنہ تقسیم کے بعد پاکستان کی کیا حیثیت رہے گی ؟یہ سوالات نہایت اہم اور قابل غور ہیں ، پاکستان کی زیادہ تر عوام ڈیورنڈ لائن معاملے سے بے خبر نظر آتے ہیں جبکہ سیاسی جماعتوں اور با خبر عوامی طبقوں میں اس مسّلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں ملے جلے تاثرات پائے جاتے ہیں ،خیبر پختونخوہ اور بلوچستان کے عوام کا ایک طبقہ اس صورتحال میں افغانستان کے ساتھ ملحق ہونے کو ترجیح دیتاہے جبکہ دوسرا عوامی طبقہ پاکستان کے ساتھ رہنے کا خواہاں ہے جبکہ تیسرا طبقہ اس صورتحال میں الگ آزاد حیثیت سے رہنے کو ترجیح دیتاہے۔جبکہ مقامی قوم پرست سیاسی پارٹیاں اس صورتحال میں ڈیورنڈ لائن کے اس پار اور اُس پار پختون علاقوں پر مشتمل پختونستان کے نام سے ایک نئے ملک بنانے کے خواہاں ہیں ۔پاکستان بننے کے بعدسے آج تک کے حکمرانوں اور سیاستدانوں نے مستقبل میں درپیش اس گھمبیر مسّلے کے بارے میں چند ایک بار کوششیں تو ضرور کی ہیں لیکن کھبی بھی کوئی سنجیدہ اقدامات یا کوئی ٹھوس پالسی نہیں اپنائی بلکہ اس مسّلے کو وقت کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے ،جنیوا کنونشن میں پاکستا ن اس مسّلے کو زیر بحث لا چکا ہے مگربدقسمتی سے کوئی حل نکالنے کامیاب نہ ہو سکا ،طالبا ن کے دور حکومت میں پاکستان نے افغانستان سے ڈیورنڈ لائن کو بین الاقومی سرحد تسلیم کرنے اور یا پھر اس معاہدے میں توسیع کا مطالبہ کیا مگر طالبان نے اسے افغانی قوم کا مسّلہ قرار دے کراورمعین الدین حیدر کوکابل سے خالی ہاتھ رخصت کر کے واضح انکار کیا ۔اس کے بعد جنرل مشرف کے دورحکومت میں کافی کوششیں کی گی تھی کہ کسی طرح امریکہ افغانستان میں پاکستانی علاقوں سے ہونے والی مداخلت کو روکنے کے لیے ڈیورنڈ لاین پر باڑھ لگا نے کی اجازت دے مگربدقسمتی سے امریکہ نے اس پاکستانی پیشکش کو ٹکرا دیا تھا ،ڈیورنڈ لائن کا ماضی میں معاہدہ افغانستان اور برٹش انڈیا گورنمنٹ کے مابین طے پایا تھا ،برٹش انڈیا حکومت کے خاتمے کے بعد اب افغانستان کا فریق دوئم برٹش حکومت ہوگی یا انڈیا حکومت ؟اس معاملے میں افغانستان اول پاکستان سے بات کرے گا ،پاکستان سے انکار کی صورت میں افغانستان برطانیہ جو معاہدے کا فریق اول ہے اسکو ملوث کرکے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے ذریعے اس مسّلے کو حل کروانے کی کوشش کرے گا۔پاکستان اپنے محل و قوع اور گرم پانی کے وسائل کی وجہ سے خطے میں ایک اہم حیثیت کا حامل ہے، جسکی وجہ سے یہ ملک ہمیشہ بین الاقوامی سیاست کا شکار رہا ہے ۔امریکہ سمیت دیگر طاقتیں خطے میں اپنے مفادات کے وصول میں حایل رکاوٹوں کوہموار کرنے کے لیے ڈیورنڈ لائن کو پاکستان کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں ،لیکن یہ امر بھی قابل غور ہے کہمستقبل کا سپُرپاور چائینا جو پاکستان کا قریبی قابل اعتماد دوست ہے اور پاکستان کے گرم پانیوں کا طلب گار بھی ہے ، وہ پاکستان کو کسی بھی صورت کمزور نہیں ہونے دے گا،لیکن چائینا پر مکمل بھروسہ کرنا دانشمندی نہیں ہے کیونکہ سپُر طاقتیں اپنے مفادات کے لیے اپنی پالیسیاں کسی بھی وقت تبدیل کر سکتی ہیں ،لہٰذاپاکستان کو اس مسّلے کا حل از خود اپنے بل بوتے پر نکالنے کی کوشش کرنی چایہے،مستقبل میں رونما ہونے والی اس آفت کے بارے میں اگر حکومت ،عوام اور سٹبلشمنٹ ایک واضح اور جامع پالیسی وضع کرکے افغانستان کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کرے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ایک مضبوط ڈھال بناتے ہوئے عالمی طاقتوں امریکہ ،برطانیہ اور چایئنا کو مجبور کرکے وقت سے پہلے اس مسّلے کو حل کروانے کی کوشش کرے تو اُمید کی جاسکتی ہے کہ مستقبل میں اس مسّلہ کے سبب پاکستان کو درپیش ہونے والیپیچیدگیاں اور مشکلات کافی حدتک کم ہو سکتی ہیں،

تحریر :جان عالم سوات
janalam@live.com

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......