پاکستانی زبانیں، مشترک لسانی و ادبی ورثہ

Submitted by Badshah Munir … on Sun, 01/17/2010 - 13:56

کتابوں پر تبصرہ

نام: پاکستانی زبانیں، مشترک لسانی و ادبی ورثہ   مولفیں: ڈاکٹر انعام الحق جاوید/ عبداللہ جان عابد
سال اشاعت: ۲۰۰۹ء    صفحات: ۵۸۷     قیمت: ۳۸۰ روپے
پبلشر: شعبہ پاکستانی زبانیں،علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد    تبصرہ: بادشاہ منیر بخاری
 
زیر تبصرہ کتاب دراصل شعبہ پاکستانی زبانیں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے ایک کانفرنس میں پڑھے گئے مقالات کا مجموعہ ہے۔ یہ شعبہ اس مقصد کے لیے قائم کیا گیا تھا کہ پاکستان میں جو ۷۲ زبانیں بولی جاتی ہیں ان پر تحقیق ہو اور ان زبانوں پر علمی کام کو تقویت ملے۔ اس مقصد کے لیے اس شعبہ کے مختلف زبانوں کے لیے کورس واضح کیے گئے مگر بدقسمتی سے کورس بنانے والوں نے علم لسانیات کو چھوڑ کر ادب کے طرز پر کورس بنا ڈالے اور اندھوں کے اس دیس میں آج تک کسی نے نہیں پوچھا کہ اگر یہ زبانوں کا شعبہ ہے تو ا س میں کسی ماہر لسانیات کو اب تک کیوں نوکری نہیں دی گئی اور لسانیات کا کوئی کورس کیوں نہیں بنایا گیا۔ علم لسانیات کی روشنی میں ملک کی زبانوں کا مطالعہ کیوں شروع نہیں کیا گیا مگر ارباب حکم اقتدار کو اپنے جھگڑوں سے فرصت نہیں۔ پھر بھی یہاں چند اچھے اداروں کی طرح کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے۔ یہ کتاب بھی دراصل اس کچھ نہ کچھ کا حصہ ہے۔ کتاب میں پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی، براہوی، سرائیکی، ہندکو، پہاڑی، گوجری، بلتی، کھوار، بروشسکی اور شمالی علاقہ جات کی دوسری زبانیں کے لسانی و ادبی اشتراک پر مقالے شامل کیے گئے ہیں۔
کتاب میں موجود مقالات علم لسانیات کے اُصولوں کے مطابق تو نہیں ہیں لیکن اس کتاب کا یہ فائدہ ضرور ہے کہ اس سے پاکستان بھر کی کچھ نمائندہ زبانوں کے بارے میں بُنیادی معلومات دستیاب ہو جاتی ہیں اور ان زبانوں میں تخلیق ہونے والے ادب سے بھی اُردو کا قاری آگاہی حاصل کر لیتا ہے۔
کتاب میں ڈاکٹر فوزیہ جنجوعہ کا لکھا ہوا یونٹ شمالی علاقہ جات کی دوسری زبانیں کے عنوان سے شامل کیا گیا ہے، جبکہ اس یونٹ میں ساری زبانیں چترال کی ہیں اور چترال شمالی علاقہ جات میں نہیں ہے بلکہ صوبہ سرحد کا ایک ضلع ہے۔ اس یونٹ میں دئیے گئے اعداد و شمار اور معلومات غلط ہی نہیں بلکہ گمراہ کن ہیں۔
کتاب شائع کرنا ایک نہایت ہی مستحسن عمل ہے، اسے جاری رہنا چاہیئے مگر جب ادارے کسی مقصد اور ترویج کے لیے کتابیں شائع کرتی ہیں تو پہلے ادارے کو اپنے مقاصد کا تعین کرنا چاہیئے پھر ان مقاصد کو سپورٹ کرنے والے عوامل کی تلاش کرنی چاہیئے اس تلاش کے بعد ان عوامل کو سائنسی اُصولوں کے مطابق اپنے مقصد کے لیے کام میں لانا چاہیئے، ہمارے ملک میں سیمیناروں اور کانفرنسوں کا مقصد یہ رہ گیا ہے کہ چند ایک صفحے لکھے جائیں جنہیں ڈائس پر آکر پڑھا جائے اور چند روپے لے کر شہیدوں میں نام لکھوا کر اگلے کسی سیمینار یا کانفرنس کا انتظار کیا جائے۔ کانفرنس اور سیمینار ان لوگوں کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں جو تحقیق کرتے ہیں اور اپنے تحقیق کو کانفرنسوں اور سیمیناروں میں تجزیہ کے لیے پیش کرتے ہیں۔ پھر ان مقالوں کو چھاپنے والوں کی ذمہ داری اس سے بھی دگنی ہو جاتی ہے کہ وہ ان کی تحقیق پر مزید تحقیق کریں یا کروائیں اور کوئی ایسی چیز پیش کریں جس سے سیکھنے والوں یا نئے تحقیق کرنے والوں کے لیے آسانی بہم پہنچے۔ مگر ہمارے ہاں اس کلچر کی ابھی ابتداء نہیں ہوئی چونکہ ہمارے ہاں مشاعروں کا رواج رہا ہے اس لیے ہم کانفرنسوں اور سیمیناروں کو بھی مشاعرہ سمجھ لیتے ہیں۔
اس کتاب کی ایک اچھی بات یہ ہے کہ ایک کتاب میں بہت ساری زبانوں کے بارے میں چند بکھری ہوئی باتوں کا پتہ چلتا ہے۔ جبکہ اس طرح کی کتاب کے لیے پہلے سے ایک خاص پیڑن بنایا جاتا ہے، جس میں تحقیق کرنے والے ایک جیسے معلومات درج کرتے ہیں اور آخر ان معلومات کو یکجا کرنے کے کوئی نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے۔ اب وہ وقت آگیا ہے کہ وہ ادارے جو پاکستان کی زبانوں پر کام کر رہے ہیں وہ اپنا قبلہ درست کر لیں اور زبانوں کے بارے میں سائنٹیفک اپروچ کے ساتھ کام کا آغاز کریں۔ اس مقصد کے لیے تربیت یافتہ ماہرین لسانیات کی خدمات حاصل کی جائیں۔ اور تحقیق کے لیے ایک یکساں اور معیاری سٹائل شیٹ بنائی جائے۔ جس پر سب یکساں عمل کریں تو یقیناً چند برسوں میں پاکستانی زبانوں کے بارے میں ساری بُنیادی معلومات دستیاب ہوں گی۔
شعبہ پاکستانی زبانیں وہ واحد شعبہ ہے جہاں زبانوں پر کام کرایا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں بولی جانے والی ۷۲ زبانیں اس انتظار میں ہیں کہ ان پر کام ہو ان زبانوں کا لسانی ورثہ محفوظ ہو، یہ کتاب اس ورثہ کو محفوظ کرانے کی ایک کوشش ہے جس کے لیے اس کے مرتبین داد کے مستحق ہیں۔
 

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......