میرزا عبدالقادر بیدل کی شخصیت و شاعری پر اک نظر

Submitted by Badshah Munir … on Sun, 01/10/2010 - 07:08

میرزا عبدالقادر بیدل کی شخصیت و شاعری پر اک نظر

 

 

بادشاہ منیر بخاری

Abstract

Mirza Abdul Qadir Biadeel is the great Persian poet of the Greater India. All the classic Urdu poets influence by his art, style and thoughts. This research article is biographical picture of Biadeel in chronological order indicating – Birth, Education, Poetic Faculty and Philosophy. It is brief but concentrated composition.

 

میرزا عبدالقادر بیدل فارسی کے عظیم شاعر و مفکر ہیں، ان کی شاعری کی گونج ہندوستان سے نکل کر عجم میں بھی سنی گئی اور وہاں کے شعر و ادب پر بھی اپنے اثرات چھوڑ گئی ان کے دور میں فارسی شاعری میں فکر کم اور فن کی نمائش زیادہ ہوتی تھی جس کی بناء پر فارسی شاعری نے مصنوعی پن کا غلاف اوڑھ لیا تھا، بیدل نے فارسی شاعری کو اس غلاف سے نجات دلائی اور فارسی کو پھر سے علم و دانش سے روشناس کرایا، اگر چہ وہ بھی دستور زمانہ سے دامن نہ بچا سکے اور مشکل گوئی کی طرف بھی راغب ہوئے لیکن ان کی مشکل گوئی میں بھی فراست کی راہیں ڈھونڈی جاسکتی ہیں۔ اُردو کے کلاسیک شعراء نے بیدل سے بہت فیض پایا ہے، اس مقالے میں اس عظیم شاعرکی شخصیت و فن پر روشنی ڈالی جائے گی۔

میرزاعبدالقادر بیدل کا سال پیدائش ۱۰۵۴ھ ہے جو شمسی تقویم کے مطابق ۲۹ فروری ۱۶۴۴ء سے شروع ہو کر ۱۷  فروری ۱۶۴۵ء کو ختم ہوا۔

بیدل کے والد ماجد میرزا عبدالخالق کے ایک دوست مولانا محمد قاسم درویش تھے۔ انہوں نے تاریخ ولادت کے دو مادے نکالے جنہیں بعد میں بیدل نے نظم کر دیا۔

بہ سالے بیدل بملک ظہور   زفیض ازل تافت چون آفتاب

بزرگے خبر داد زمولدش کہ ہم “فیض قدس” است وہم “انتخاب”

۵۴۔۵۱           ۵۴۔۵۱

بیدل کے مقام ولادت کی کئی روایتیں ہیں۔ لیکن صحیح یہی ہے کہ میرزا پٹنہ میں پیدا ہوئے جسے بعد ازاں شہزادہ عظیم الشان کے عہد حکومت میں عظیم آباد کہا گیا۔ میرزا قلندر کی نگرانی میں بیدل کی تعلیم مکمل ہوئی۔ قرآن مجید کے بعد وہ عربی صرف و نحو پڑھنے لگے۔ مولانا شفیع فرماتے ہیں:

“ نشتر سخن میں ہے کہ دس سال کی عمر میں کافیہ ختم کیا۔ ساتھ ساتھ فارسی نظم ونثر کی تعلیم جاری تھی۔ پھر “شرح جامی” شروع کی مگر تھوڑے ہی عرصے کے بعد تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوگیا”۔(۱)

میرزا نے کم سنی ہی میں شعر گوئی شروع کر دی تھی۔ “تذکرہ حسینی” میں ان کی ایک رباعی منقول ہے جو انہوں نے اپنے کسی ہم جماعت کے متعلق کہی تھی۔

ہرگہ یارم در سخن می آید     بوئے عجبش ازدہن می آید

این بوئے قرنفل است یا نکہت گل یارائحہ مشک ختن می آید(۲)

مولانا محمد شفیع “مرحوم نشترسخن” کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ میرزا بیدل کو علم دین، ریاضیات اور علوم طبیعی میں کامل دسترس حاصل تھی۔ تصوف، طب، نجوم، رمل، تاریخ اور موسیقی میں بھی پوری مہارت بہم پہنچائی تھی۔ خوشگو نے لکھا ہے کہ میرزا کو پوری مہا بھارت حفظ تھی۔ ترکی بھی خوب جانتے تھے۔ بزرگوں کی صحبت اور کتب صوفیہ سے اس قدر استعداد پیدا کرلی تھی کہ تمام سرزمین شعر میں تخم تصوف کاشت کیا۔ مشرب توحید سے اس قدر آشنا تھے کہ ان کی ہجو و ہزل بھی ذوق درویشانہ سے خالی نہ تھی”۔(۳)

ابتداءمیں میرزا نے رمزی تخلص پسند کیا تھا۔ پھر “گلستان” میں شیخ سعدی کا یہ مصرعہ پڑھا:۔

بیدل از بے نشان چہ گوید باز

میرزا کے ماموں ظریف خاں نے غالباً ۱۰۷۵ھ میں وفات پائی۔ جیسا کہ بیدل کے ایک قطعہ تاریخ سے پتہ چلتا ہے۔ مولانا محمد شفیع مرحوم فرماتے ہیں کہ میرزا بیدل نے ابتدائے شباب ہی میں ملازمت کر لی تھی۔

“شاہجہان بادشاہ کا دوسرا بیٹا شاہ شجاع ۱۰۵۰ھ سے ۱۰۷۰ھ تک بنگال کا گورنر رہا۔ میرزا اس کی سرکار میں ملازم ہوگئے۔ ۱۰۷۰ھ میں شاہ شجاع کو قید کیا گیا۔ تب میرزا کی عمر سولہ سال کے قریب تھی”۔(۴)

“میرزا کو تصوف میں تخصص حاصل تھا، ان کا شاگرد خوشگو لکھتا ہے کہ تصوف میں انہیں غلو تھا اور اسے بہترین علوم سمجھتے تھے۔ والہ داغستانی کہتے ہیں کہ میرزا عارفانِ محقق اور کاملانِ مدقق میں سے تھے۔ مشرب توحید کی چاشنی ان کے رحیقِ کلام سے ظاہر اور مذاق تصوف کی شیرینی اور ان کی شکر گفتاری سے ہویدا تھی۔ مسئلہ توحید کی تحقیق میں وہ یگانہ تھے۔ اور ترک وتجرد میں سرآمدِ زمانہ”۔(۵)

خوشگو کا بیان ہے جب محمد شاہ فرماں روائے ہند سادات بارہہ کے اقتدار کا خاتمہ کرکے دہلی پہنچا تو آواخر محرم ۱۱۳۳ھ میں میرزا بیمار ہوئے۔ چار پانچ روز بخار رہا۔ بخار جاتا رہا تو میرزا نے غسل کیا۔

گویا سمجھنا چاہیئے کہ ۲۶ یا ۲۷ محرم ۱۱۳۳ھ (۱۶یا ۱۷نومبر ۱۷۲۰ء کو بخار آیا۔ یکم یا ۲ صفر (۲۱ یا ۲۲ نومبر) کو غسل کیا۔ ۳ صفر (۲۳ نومبر) بروز چہارشنبہ شام کے وقت بخار عود کر آیا۔ رات کے وقت نواب غیرت خاں بہادر صلابت جنگ، جو میرزا کے دوستوں میں سے تھے۔ تیمارداری کی غرض سے پاس رہے، رات کو یہ کیفیت رہی کہ کبھی غشی کی کیفیت طاری ہوجاتی اور کبھی ہوش و حواس بحال ہو جاتے تھے۔ غشی زائل ہو جاتی تو میرزا زور سے ہنستے۔ نا اُمیدی تو رات ہی کو ہوگئی تھی۔ ۴ صفر بروز پنج شنبہ) ۱۱۳۳ھ (مطابق ۲۴نومبر ۱۷۲۰ء) کی صبح طلوع ہوئی تو حالت غیر تھی۔ دن چڑھے چھ گھڑیاں گزری تھیں (دو گھنٹے اور چوبیس منٹ) کہ:۔

“روح پر فتوح ان زندہ بہ عیش سرمدی ازآشیانہ تن بال و پرا فشاندہ بہ ساکنان عرش معلی سایہ انداخت و بہ وصال حقیقی کامیاب گردید۔ رحمت اللہ علیہ”۔(۶)

خوشگو کا بیان ہے کہ میرزا نے اپنا کلام “چہار مصراعی” لکھوا لیا تھا۔ یعنی ایک ایک سطر میں دو شعر تھے۔ اور اس کا وزن کیا تو چودہ سیر نکلا۔ میرزا نے ترازو کے دوسرے پلڑے میں دھاتیں رکھیں یعنی چاندی سونا اور وہ خیرات کیں، اور ساتھ ہی فرمایا۔

“اہل نہ اولاد خود را وزن کردہ تصدیق دھند از آبخاکہ نتیجہ بیدلاں ہمیں نتائج طبع می باشد، من ہم خیریت آہنا ازخدا خواستم۔ امید کہ قبول شود”۔(۷)

خوشگو کے بیان کے مطابق اس مجموعے میں ننانوے ہزار اشعار تھے اور دیوان کا یہی نسخہ تھا جو عرس کے موقع پر نکالا جاتا تھا۔

میرزا کا کلام جہاں سے چھپا ہے اس کی سرسری کیفیت درج ذیل ہیں:۔

۱) کلیات بیدل، مطبع نولکشور، اس میں جہارعنصر، رقعات، نکات واشارات کے علاوہ غزلیات کا انتخاب تھا۔ یہ نسخہ ایک سے زیادہ مرتبہ چھپا۔

۲) دیوان بیدل، مطبوعہ بمبئی، اس میں بھی بیدل کے دیوان کا انتخاب چھپا۔ ساتھ نکات، اشارات اور مثنوی محیط اعظم تھی۔

۳) دیوان بیدل، کشمیری بازار کے ایک تاجر نے نہایت ناقص کاغذ پر چھاپا تھا اور دوسرے منتخب مجموعہ کلام سے الگ شعر بھی تھے۔

۴) کلیات، مطبوعہ بمبئی، دو ضخیم جلدوں میں چھپا تھا۔

۵) دیوان بیدل، امیر حبیب اللہ خاں فرماں روائے افغانستان کے چھوٹے بھائی امیر نصرا للہ خان کو بیدل کے کلام سے خاص وابستگی تھی۔ انہوں نے ایک جماعت فراہم کی اور بیدل کے اشعار کے مکمل مجموعہ ردیف وار بڑی تقطیع پر چھاپنا شروع کیا۔ ابھی پہلا ہی حصہ جو ردیف دال تک تھا، چھپا تھا کہ امیر حبیب اللہ شہید کر دیئے گئے۔ امیر نصر اللہ خاں کو ان کا جانشین بنا دیا گیا۔ کابل میں امیر شہید کے تیسرے فرزند امان اللہ خان نے اپنی بادشاہی کا اعلان کر دیا۔ امیر نصر اللہ خان نظر بند ہوئے۔ اسی حالت میں انہوں نے وفات پائی اور بیدل کے اشعار کی طباعت کا معاملہ ادھورا رہ گیا۔

۶) کلیات بیدل، مطبوعہ کابل، یہ چار ضخیم جلدوں میں ہے، جس کی سرسری کیفیت یہاں پیش کی جارہی ہے۔

جلد اول غزلیات

پہلی جلد غزلیات کی ہے جس کے ۱۱۹۸ صفحے ہیں۔ ہر صفحے میں اٹھائیس، ۱نتیس یا تیس اشعار ہیں۔ اس لئے سمجھا جا سکتا ہے کہ اس جلد کے اشعار چونتیس پینتیس ہزار سے کم نہ ہوں گے۔ کئی زمینیں ایسی ہیں جن میں چار چار، پانچ پانچ غزلیں کہی ہیں۔ لیکن کسی بھی غزل کو پڑھنا شروع کریں لیکن احساس نہیں ہو گا کہ جدت و ابداغ فکر کی تیزی ماند پڑگئی ہے۔ بعض مضامین سے میرزا کو خاص دل بستگی تھی اسے جا بجا مختلف صورتوں میں پیش کرتے جاتے ہیں اور ہر جگہ نیا انداز ملے گا۔

جلد دوم قطعات قصائد و رباعیات

اس جلد کے اشعار کا حساب مشکل ہے۔ مثلاً پہلا ترکیب بند انتیس بندوں کا ہے اور ہر بند کے شعر بائیس ہیں۔ دوسرا ترجیع بند اکتیس بندوں کا ہے اور اس کے بھی ہر بند کے اشعار بائیس ہی ہیں۔ گویا ان دونوں کے مجموعی شعر تیرہ سو سے زیادہ ہیں۔ پھر نعتیں ہیں، مناقب ہیں، مدحیہ اور تاریخی قطعات ہیں، قصیدے ہیں، رباعیات، مستزادات، تاریخی رباعیاں وغیرہ ہیں۔ ایک عنوان ہے “رباعیات بہ قید واقعہ، پھر چھوٹی چھوٹی مثنویاں ہیں، صرف رباعیات والے حصے کے صفحات ۴۳۶ ہیں اور ہر صفحے پر کم از کم نو رباعیاں ہیں۔ گویا محض ان کی تعداد کچھ کم چار ہزار ہے۔ مستزاد کی صورت میں رباعیاں، تاریخی رباعیاں اور رباعیات بقیہ واقعہ الگ ہیں۔

جلد سوم مثنویاں

جلد سوم صرف مثنویوں پر مشتمل ہے۔ بڑی مثنویاں چار ہیں:۔

    (۱) نسخہ عرفان (۲) طلسم حیرت (۳) طور معرفت   

    (۴) محیط اعظم جس کا ایک نام ساقی نامہ بھی ہے۔

خوشگو نے “نسخہ عرفان” کے اشعار گیارہ ہزار بتائے ہیں۔ یہ میرزا کی طویل ترین مثنوی ہے۔ خوشگو کا بیان کہ میرزا بیدل:۔

“ برآن نازے کرد، چنانچہ اکثر از زبان مبارکش شنیدہ ام کہ آنچہ ما داریم نسخہ عرفان است مگر آن رابہ مدت سی سال بہ تمام رسایند۔ سراسر گفتگوئے تصوف ومعارف دارد”۔

اس کے متعلق ابواب و فصول کے عنوان بھی منظوم ہیں۔ مثنوی کا آغاز جس عنوان سے ہوتا ہے، یہ ہے

عقل وحس، سمع و بصر، جان وجسد

ہمہ عشق است ھو اللہ احد

دوسری مثنوی “طلسم حیرت” کے اشعار سفینہ خوشگو میں چار ہزار بتائے گئے ہیں۔ غالباً اتنے ہی ہوں گے۔ تیسری مثنوی “طور معرفت” ہے جس کے اشعار خوشگو نے تین ہزار لکھے ہیں۔ چوتھی مثنوی “محیط اعظم” کے اشعار خوشگو کے نزدیک دو ہزار ہیں۔ لیکن اصلاً چھ ہزار کے قریب ہیں۔

گویا ان چار بڑی مثنویوں کے اشعار چوبیس ہزار کے قریب ہونگے۔ چھوٹی چھوٹی مثنویاں مثلاً “کیمیا”، “میل” سب کو اکٹھا کر لیا جائے تو خیال ہے کہ اشعار پچیس چھبیس ہزار ہوجائیں۔

جلد چہارم

آخری جلد “چہار عنصر”، “رقعات”، اور “نکات” کا مجموعہ ہے۔ ان کتابوں میں اشعار بھی ہیں اور نثریں بھی۔ کیفیت یہ ہے۔

چہار عنصر ۳۴۴ صفحات۔ رقعات ۱۵۶ صفحات۔ نکات ۱۶۲ صفحات

چہار عنصر اور رقعات میں نثریں زیادہ ہیں، اشعار نسبتاً کم ہیں۔ لیکن نکات میں اشعار زیادہ ہیں۔ صرف نکتہ کے زیر عنوان حکیمانہ ومتصوفانہ انداز کی نثر لکھتے ہیں۔ پھر اپنے تصور کے مطابق اسی کی تشریح نظم میں کرتے ہیں جن میں غزلیں بھی ہیں جو عموماً بڑی بحروں میں ہیں اور مخمسات بھی۔

میرزا کی شاعری

۱۔ میرزا کی بہت بڑی خصوصیت ان کی قادر الکلامی ہے اور ایسی قادر الکلامی جسکی مثالیں بہت کم ملتی ہیں وہ نہایت زود گو تھے اور زود گوئی میں بھرتی کے الفاظ و تراکیب سے محفوظ رہنا سہل نہیں لیکن میرزا کے اشعار میں بھرتی کی کوئی مثال نہ مل سکے گی۔ ہر شعر بہ اعتبار مضمون ہی نہیں۔ بہ لحاظ اسلوب بیان بھی ان کے خاص رنگ کا ہوگا اور اس میں جدت اور نوی کا کوئی نہ کوئی پہلو ضرور ملے گا۔ وہ خود کہتے ہیں کہ بعض اوقات ایک ایک دن میں پانسو شعر کہے ہیں۔ میرزا کے رنگ کے پانسو شعر محض قلم سے لکھ لینا بھی بہت بڑا کارنامہ ہے اور شعریت کے اعتبار سے میرزا کے خاص انداز کے پانسو معیاری شعر کہہ لینا تو اللہ تعالٰی کے عطا کردہ ملکہ سخن کا ایک نادر کرشمہ ہے۔

۲۔ قادر الکلامی کا ایک روشن ثبوت یہ بھی ہے کہ جن اصناف سخن میں بعض دماغ سوختگان ادب نے عمریں گزار کر قلیل سی متاع پیدا کی ہے۔ جسے قرآن حکیم کی اصطلاح میں “بضاعتِ مزجاة” سمجھنا چاہیئے۔ میرزا نے ان اصناف میں اپنے رنگ کی چیزیں جا بجا بکھیری ہیں۔

۳۔ فروغ ادب کے اعتبار سے میرزا کا ایک عظیم القدر کارنامہ ہے کہ بیان کے سینکڑوں اسالیب پیدا کئے۔ اس باب میں شاید کوئی بھی شاعر میرزا کے برابر ادب کی خدمت گزاری کا مدعی نہیں ہوسکتا۔ لمبی بحروں میں بھی آپ کو ایک لفظ بھرتی کا نہ ملے گا۔ ان بحروں میں “صنعتِ ترصیع” سے کام لینا تو یقیناً ایک عجیب کرامت ہے جس سے قدرت نے میرزا کو حصہ وافر عطا کیا تھا۔ پھر ہر شعر معنوی خوبیوں کے علاوہ محض الفاظ کی موسیقیت کے اعتبار سے بھی وجد آفریں ہے۔ کوئی خوانندہ، معنویت کی تہہ تک پہنچے یا نہ پہنچے لیکن بار بار شعر پڑھنے اور گنگنانے سے باز نہیں رہ سکتا۔

۴۔ کہیں احساس نہ ہو گا کہ انہوں نے شعر کہتے وقت ضرور فکر کی زحمت اٹھائی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شعر کی طرف متوجہ ہوتے ہی کوئی دریچہ کھل جاتا تھا جس سے “نزول” سیل کی طرح جاری ہو جاتا اور وہ کاغذ پر لکھتے جاتے تھے۔

۵۔ پھر میرزا کا کلام نرے زور تخیل کی کرشمہ فرمائیوں کا مرقع نہیں بلکہ بلا مبالغہ اخلاقی و دینی حقائق و معارف کا گنجینہ ہے ہر قدم پر آپ کو کوئی نہ کوئی ایسی چیز ضرور ملے گی جسے بنیادی انسانی قدروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

۶۔ میرزا کے کلام میں دعائیہ اشعار بھی خاصے ہیں جن کا ایک ایک لفظ دُعا میں ڈوبا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ سید احمد شہید بریلوی جو اشعار عموماً پڑھا کرتے تھے ان میں میرزا بیدل کا شعر بھی شامل تھا۔

تو کریم مطلق ومن گداچہ کنی جزاین کہ بخوانیم

درِدیگرے بنماکہ من بہ کجاروم چو برانیم(۸)

بیدل کا مولد عظیم آباد پٹنہ لکھنے والے سب سے پہلے تذکرہ نگار میر غلام علی آزاد بلگرامی ہیں۔ ان کی ولادت ۲۵ صفر ۱۱۱۶ھ (۲۸ جون ۱۷۰۴ء ہے) یعنی وہ بیدل کے خورد سال معاصر ہیں۔

شاد عظیم آبادی اُنیسویں صدی کے اواخر میں اپنی تصنیف نوائے وطن مطبوعہ ۱۸۸۵ء میں کہتے ہیں:۔

میرزا عبدالقادر تخلص بیدل خاص عظیم آباد کے متوطن تھے۔ اگلے لوگوں سے سُنا ہے کہ میرزا محلہ پٹن دیوی میں رہتے تھے۔ اورینٹل لائبریری یانکی پور پٹنہ کی فہرست مخطوطات(۹) فارسی کا اس ضمن میں بیان بھی ان تذکرہ نگاروں کی تائید کرتا ہے۔ میرزا عبدالقادر بیدل ولد میرزا عبدالخالق تورانی الاصل چغتائی، ارلاس قبیلہ سے تھے۔ عظیم آباد پٹنہ میں ۱۰۵۴ھ (۱۶۴۴ء) کو پیدا ہوئے۔ لفظ “انتخاب” سے ان کی تاریخ ولادت نکلتی ہے۔

میرزاعبدالقادر بیدل کا رنگ نظم و نثر نرالا اور اسلوب نگارش خاص ہے۔ نظم میں یہ بیدل کا اپنا سبک بن گیا ہے۔ نثر کی طرز نگارش بھی ان کے ساتھ مخصوص ہو کر رہ گئی ہے اور انہی پر ختم ہوگئی ہے۔ بیدل کو فارسی زبان اور اس کی مصطلحات پر مکمل عبور تھا۔ دقت پسندی اور بلند پروازی کا ایک ایسا امتزاج ان کے ہاں ملتا ہے کہ شاید ہی کہیں اور دیکھنے میں آیا ہو۔ انہوں نے نظم و نثر کا انداز ہی بدل دیا ہے۔ ابوالفضل اور فیضی کے بعد یہ نیا دور شروع ہوتا ہے۔ جس سے مستقبل میں چل کر تین عظیم شاعر متاثر ہوئے ہوئے غالب، گرامی اور اقبال۔ مگر ابوالفضل اور فیضی کسی کو متاثر نہ کر سکے۔ اگرچہ ان کے نظم و نثر کے انتخاب کالجوں اور اسکولوں میں پڑھائے جاتے ہیں۔

بیدل شرع کا پابند تھا اور تصور کو اس سے باہر نہیں سمجھتا تھا۔ کہتا ہے:۔

تانہ گروند خاک جادۂ شرع

گرہمہ منزل اند گمراہ اند

گرامی کی فارسی شاعری اقبال اور غالب سے ٹکر لیتی ہے۔ اگر چہ اس کا کلام ان کے مقابلے میں کتنا ہی مختصر کیوں نہ ہو مگر پھر بھی وہ بیدل کے اثر کا معترف ہے۔ کہ سب کچھ اسی سے سیکھا ہے۔ فکری معنویت جب قلبی واردات کے پیکر میں ڈھل کر نمایاں ہوتی ہے تو انداز بیان خالص علامتی ہو جاتا ہے۔ کتنے انگریزی خواں ہونگے جو دو تین مرتبہ پڑھ لینے کے بعد اس بات کا دعویٰ کر سکیں کہ وہ سب کچھ سمجھ گئے ہیں۔ زبان پر نکتہ چینی بہت آسان ہے مگر تخیل کو الفاظ کی گرفت میں لانا اور ان کو مناسب تراکیب میں ڈھالنا بے حد مشکل ہے۔ مفکر کا انداز تکلم عموماً مشکل اور پیچیدہ ہوگا، خصوصاً فلسفہ اور تصوف ریختہ میں بیان نہیں کئے جا سکتے۔ ہمارے عشقیہ شاعروں کی نگاہیں سطح پر پہنچ کر رک جاتی ہیں اور بطون حقیقت کا سفر کرنے کے لئے ان کی زبان ساتھ نہیں دیتی۔ باطن کی گہرائیوں کو ادا کرنے کے لئے زبان کے کچھ اور ہی آداب ہیں۔ اس کے رموز اور اشارات بڑے مختلف ہیں جن لوگوں کو یہ حقیقت معلوم نہیں ہے بس وہی اعتراض کرتے ہیں۔

غالب، گرامی اور اقبال نے بیدل کے کلام کا مطالعہ بڑی گہری نظر سے کیا ہے اور اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ بلکہ اس کا تتبع بھی کیا ہے۔ کیا عقائد میں اور کیا طرز بیان میں اقبال بیدل کو مرشد کامل بھی کہتے ہیں۔ نہ صرف اقبال نے اپنے فقر اور مومن کا تخیل بیدل سے لیا ہے بلکہ تصوف کی جس روش پر چل کر بیدل نے زندگی کے حقائق کو آشکارا کیا ہے اقبال بھی انہی کے بتائے ہوئے اُصول پر کاربند رہا ہے۔ اقبال کی ایک نظم کے آخری تین شعر ہیں:۔

مذہب ہے جس کا نام وہ ہے اک جنون خام

ہے جس سے آدمی کے تخیل کو انقاش

کہتا مگر ہے فلسفہ زندگی کچھ اور

مجھ پر کیا ہے مرشد کامل نے راز فاش

“باہر کمال اندکے آشفتگی خوش است

ہر چند عقل کل شدہ بے جنون مباش”

مرشد کامل سے مراد یہاں بیدل ہے اور آخری شعر بھی بیدل ہی کا ہے جو ظاہر کر رہا ہے کہ اقبال بھی بیدل کے فلسفۂ حیات سے بچ کر نکل نہیں سکے۔

ڈاکٹر صاحب نے جنون کو عشق سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ جنوں عشق کے ساتھ بھی وابستہ ہوسکتا ہے اور عقل کے ساتھ بھی۔ بیدل سراسر عقل کا معتقد اور قائل ہے وہ اس میں عشق کو دخل انداز ہونے نہیں دیتا۔ ہم یہاں اقتباس بیدل کے کلام سے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ بیدل کا فکر اس ضمن میں نکھر کر سامنے آجائے۔ فرماتے ہیں: نکتہ؛

“ روح انسانی شاہدے است لاریبی کہ جمال استعدادش ازبی نقابی ہائے جوہر عقل پیداست و آفتاب کمالش ہمان ازومیدن صبح ادراک لامع وہویدا۔ عقل سرچشمہ ایست طراوش ایجاد معنی حیا۔ وحیا آئینہ ازحقیقت ایمان چہرہ کشا۔ اگر عقل درعرصہ فہم ربوبیت نمی تاخت ہیچ کس سرتسلیم عبودیت نمی انداخت”۔(۱۰)

ڈاکٹر عبدالغنی صاحب نے جنون اور عشق کو بہم معنی سمجھا ہے۔ ان سے اختلاف یہ ہے کہ پلاٹس (Platts) کے لغت میں جنون کے معنی ہیں (Loss of Reason) اور جامع اللغات مصنفہ خواجہ عبدالحمید میں بھی جنون کے معنی اُردو میں اسی مفہوم کا ترجمہ ہے۔ عشق کے متعلق بھی پلاٹس اور جامع اللغات ایک ہی معنی بتاتے ہیں۔ یعنی Passion of Love اب آپ اندازہ لگائے کہ عشق اور جنون ہم معنی کس طرح ہو گئے۔ بیدل نے جنوں کا لفظ لگن اور لگاؤ کے معانی میں استعمال کیا ہے اور یہ بات مندرجہ بالا اقتباسات سے واضح ہو جائے گی کہ بیدل عقل کا مداح ہے۔ بیدل کے تصوف میں عشق کا تصور خارج ہے اور یہی درحقیقت اصلی اسلامی تصوف ہے جو حضرت جنید بغدادی پر آکر ختم ہو گیا۔ عقل اور عشق کا مسئلہ بڑا قدیم ہے اور بڑا پیچیدہ۔ مغربی فلسفہ میں اس فلسفہ نے کئی دور آزمائے ہیں اور وہاں اس مسئلہ کی حیثیت Reason and Emotion کی رہی ہے۔ مسلمان فلاسفر نے بھی یہ تاثر قبول کیا جو کہ سراسر غیر اسلامی تھا۔ درحقیقت یہی عشق حافظ کی گوسفندی کی بنیاد ہے۔ اقبال نے رومی کے تتبع میں اس پر زور دیا ہے۔ اور دیگر صوفیا نے بھی وہیں سے عشق کی راہ اختیار کی ہے۔ جنوں میں عقل گم ہوجاتی ہے۔ مجنوں مرفوع القلم ہے اور جو مرفوع القلم ہو اس کی شخصیت کا کیا اعتبار؟

اقبال کے بعد ہم بیدل کا اثر غالب پر دیکھتے ہیں۔ غالب کا بھی یہی حال رہا ہے۔ شروع شروع میں غالب نے بھی بیدل کا تتبع کیا اور اس کے انداز میں طبع آزمائی کی۔ چنانچہ غالب کی مشکل پسندی بھی بیدل ہی سے مستعار ہے مگر جب بہت ہاتھ پاﺅں مارے تو محسوس کیا کہ یہ کوئی آسان کام نہیں۔ چنانچہ خود کہتے ہیں:۔

طرز بیدل میں ریختہ کہنا

اسداللہ خاں قیامت ہے

اس نسخہ میں ہمیں چند اشعار ملتے ہیں جو غالب نے بیدل سے متاثر ہو کر کہے ہیں۔ ہم صرف چند ایک اشعار پر اکتفا کرتے ہیں۔

بفیض بیدلے نومیدی جاوید آسان تر

کشائش کو ہمارا عقدہ مشکل پسند آیا

اسد ہر جا سخن نے طرح باغ تازہ ڈالی ہے

مجھے رنگ بہار ایجادی بیدل پسند آیا

وہ نفس ہوں کہ اس مطرب دل نے مجھ سے

ساز پر رشتہ پئے نغمہ بیدل باندھا

آہنگ اسد میں نہیں جز نغمۂ بیدل

عالم ہمہ افسانہ ما دارد، و ما، ہیچ

دل کارگاہِ فکر و اسد بے نوائے دل

یاں سنگ آستانہ بیدل ہے آئینہ

بیدل کے شگفتہ تخیل میں ایک ندرت ہے جس کے اندر افکار کی موجیں ٹھاٹھیں مار رہی ہیں وہ کبھی ساحل کے اس طرف ٹکراتی ہیں اور کبھی اس طرف اور کبھی ساحل کو پار کر کے دور نکل جاتی ہیں پھر لوٹ آتی ہیں، اُبھرتی ہیں اور فکر کی تہوں سے موتی نکال کر بکھیر دیتی ہیں۔ وہ اپنا سینہ ہی نہیں کائنات کا سینہ بھی چاک کر دینے میں تامل نہیں کرتا تاکہ تخلیق کائنات کے اسرار و رموز کو آشکارا کر دے۔

بیدل نے فارسی کے علاوہ عربی، ترکی اور اُردو زبانوں میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔ اول الذکر دونوں زبانوں میں ان کے تحریر کردہ اشعار کلیاتِ بیدل کے بعض قلمی نسخوں میں موجود ہیں۔ انہوں نے اپنے دور کے ادبی تقاضوں یا اُردو زبان کی روز افزوں مقبولیت یا تفنن طبع کے طور پر اُردو میں بھی چند اشعار قلم بند کئے ہیں جو شمالی ہند کے تقریباً سبھی قدیم و جدید تذکرہ نویسوں نے اختلاف نسخ یا الفاظ کی تقدیم و تاخیر کے ساتھ نقل کئے ہیں۔ بعض غیر معتبر ادبی مورخین نے زبانی روایات کی بناء پر بیدل کے چند اشعار بغیر سند کے لکھ دئیے ہیں جن کے بارے میں موجودہ تحقیقات نے ناقابل تردید دلائل سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچا دی ہے کہ یہ اشعار بیدل سے منسوب کئے گئے ہیں۔

وسط ایشیاء کے متعدد معروف شعراء نے بیدل کے فلسفیانہ افکار، متصوفانہ تصورات اور ترقی پسندانہ معاشرتی نظریات سے گہرا اثر قبول کیا ہے۔ اُنیسویں صدی کے بعض شاعروں نے اپنے دور کی فرسودہ روایات، معتقدات اور مختلف النوع انحطاط پذیر اقدار کے خلاف اپنے خیالات کے لئے بیدل کے پیچیدہ انداز بیان کو اختیار کیا تاکہ مقتدر اور دیگر متعلقہ طبقوں کے احتساب سے اپنے آپ کو بچایا جا سکے۔ چند شاعر ایسے بھی ہیں جنہوں نے بیدل کا تتبع کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ لیکن انہوں نے اپنے عہد کے مادی تقاضوں کے تحت بیدل کے صوفیانہ خیالات سے اپنے دامن کو تر نہیں ہونے دیا۔ مزید برآں انقلاب روس کے بعد جب ۱۹۲۴ء میں تاجکستان کی خود مختار جمہوریت قائم ہوئی تو جدید تاجیکی ادب کے پیشروﺅں نے اشتراکی نظام کے مخصوص نظریات کی روشنی میں بیدل کا مطالعہ کیا اور ان کے افکار کو اپنے ہاں کے نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

طرز بیدل کی پیروی بیدل کی زندگی ہی میں شروع ہو گئی تھی اور ان کی وفات کے بعد بھی بیشتر شاعر ان کے انداز پر شعر کہنا اپنے لئے طرۂ امتیاز سمجھتے تھے۔ لیکن وسط ایشیاء میں اُنیسویں صدی کی ابتداء ہی سے مقلدین بیدل کا ایک باقاعدہ دبستان قائم ہو گیا۔ ان شعراء کے کلام کے سرسری مطالعہ ہی سے یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ اس دور میں تقلید بیدل جنون کی سی صورت اختیار کر گئی تھی اور ان کی پیروی کو اس زمانے کا بلند پایہ شعری معیار خیال کیا جاتا تھا۔ اس طبقے میں خو قند کے بہت سے شاعروں کے نام قابل ذکر ہیں مثلاً جنید اللہ مخدوم حاذق، محمود مخمور، محمد شریف گل خانی لسانی آدینہ محمد معدن، مرزا صادق قانع اور سلطان خواجہ عدد (م ۱۲۵۲)، (۱۸۰۰۔۱۸۲۶) کے درباری شاعری مرزا محمد صادق اور وسط ایشیاء کے عبدالواحد سریر (۱۸۱۰۔۱۸۸۶) فرقت، عیسٰی مخدوم، واضح وغیرہ بھی اسی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں، اسی صدی میں شعراء کا ایک ایسا اعتدال پسند طبقہ بھی موجود تھا۔ جو مجموعی لحاظ سے بیدل کی عظمت کا معترف تھا۔ لیکن طرز بیدل کی بے مقصد پیروی کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتا تھا۔ اس مکتب خیال کے شعراء میں احمد مخدوم دانش (۱۸۲۷۔ ۱۸۹۷ء) کا نام قابل ذکر ہے۔ جس نے تاجیکی ادب میں ایک نئے اسلوب کی بنیاد ڈالی اور اس کی ترویج و ترقی می کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ اس نے اپنی تحریروں میں بیدل کا ذکر نہایت عزت و احترام سے کیا اور تاجیکی ادب کی تاریخ میں بیدل کو ایک عالی مرتبت شاعر تسلیم کیا ہے۔ لیکن بیدل کی اندھی تقلید کی سخت مخالفت کی ہے۔ روسی تاجیکی ادب کے بانی صدر الدین عینی نے روایتی عاشقانہ شاعری کی مخالفت کے باوجود معاشرتی موضوعات اور طنزیہ تحریروں میں بیدل کے انداز کو اپنایا ہے۔ اس کے علاوہ محمد ظفر خان جوہری (۱۸۶۰ء۔۱۹۴۵ء) نے اپنی عاشقانہ شاعری میں بیدل کی شاعرانہ خوبیوں کو خوش اسلوبی سے سمویا ہے۔

افغانستان کی طرح وسط ایشیاء میں بھی تصانیف بیدل کو بڑی خوبصورتی سے شائع کیا گیا۔ دیوان بیدل اور اس کے منتخبات مثنویات بالخصوص “عرفان” کے تراجم اور رباعیات کے متون اشاعت پذیر ہوئے۔ “عرفان” کے انداز پر بعض شعراء نے مثنویاں بھی تصنیف کیں اور اس کے فکری پہلوﺅں کا بالتفصیل تجزیہ کیا گیا۔۱۱

میرزا عبدالقادر بیدلکی ولادت ۱۰۵۸ھ میں بعہد شاہ جہان عظیم آباد (پٹنہ) میں ہوئی اور اس نے محمد شاہ رنگیلے تک کا زمانہ پایا۔ ۱۱۲۳ھ میں ۸۵ سال کی عمر میں شہر دلی کے اندر وفات پائی اور وہیں دفن کیا گیا۔ کہتے ہیں اس کی قبر کا نشان ابھی تک موجود ہے۔ بیدل بچپن ہی میں یتیم ہو گیا تھا۔ چچا نے پرورش کی اور زندگی فقر و افلاس میں گزری۔ بیدل درویش منش انسان تھا اس وقت کے اہل تصوف میں اس کا ایک مرتبہ تھا لوگ اسے صاحب کرامت ولی سمجھتے تھے۔ امراء و مرسلین کی نگاہوں میں بھی میرزا کی قدر و منزلت تھی مگر اسے اپنا گوشہ عافیت ترک کر کے آستانہ اہل جاہ پر جانا منظور نہ تھا۔ نواب آصف الدولہ نے دکن سے بلا بھیجا تو بیدل نے اس کے جواب میں یہ لکھ دیا۔

دنیا اگر دہند نہ خیزم زجائے خویش

من بستہ ام حنائے قناعت بپائے خویش

بیدل کو جو روایات شاعری ورثہ میں ملی تھیں ان میں غزل کا رواج سب سے زیادہ تھا۔ صائب، کلیم اور غنی کا مثالیہ رنگ فضائے غزل پر چھایا ہوا تھا۔ غزل اپنا خلوص اور جوش نظیری کے بعد کھو چکی تھی صائب وغیرہ کی غزل محض خشک مثالیت تھی جس میں مواد پر ہیئت کا غلبہ تھا۔ بیدل نے ہیئت تو وہی اختیار کی جو رائج الوقت تھی مگر اس میں مواد کی جو کمی تھی اسے بہت کچھ پورا کر دیا۔ صائب اور غنی وغیرہ کی شاعری کا ہیئت کے لحاظ سے تو ایک اسلوب ہے۔ مگر مواد کے لحاظ سے اس کا کوئی سانچہ نہیں۔ بیدل کے ہاں ہیئت کی یک رنگی کے علاوہ فکر کی ہم آہنگی بھی موجود ہے اور وہ اس محور کے گرد اس پابندی کے ساتھ گھومتا ہے کہ اس کی یکسانیت قاری کے ذہن کو تھکا دیتی ہے اس کی مثالیت نہیں، بلکہ اس کا ہر شعر ایک معین طرز فکر کا حامل ہوتا ہے اور یہی چیز بیدل کا امتیازی نشان ہے۔ موازنہ کرنے اور مثالیں پیش کرنے سے مضمون بہت طویل ہو جائے گا۔ مختصر یوں کہہ سکتے ہیں کہ ان کے ہاں سانچہ تو ہے تو مگر مواد نہیں۔ اِدھر اُدھر سے کوئی خام مال ملتا ہے اسے اس سانچے میں ڈھالتے ہیں۔ بیدل کے پاس سانچہ بھی اپنا ہے اور مواد بھی اپنا۔

میرے خیال میں بیدل کا اسلوب فکر اپنے قریبی پیش روؤں میں سے اگر کسی سے کچھ میل کھاتا ہے تو وہ نظیری ہے۔ نظیری کی غزل میں بھی وہ مخصوص تعمق اور ثقاہت پائی جاتی ہے۔ جو بیدل کی شاعری کی خصوصیت ہے مگر نظیری کے ہاں تعمق اور ثقاہت پر شعریت غالب ہے اور بیدل کے تعمق نے شعریت کو دبا رکھا ہے۔ نظیری کی مثالیت متوازن اور داخلی قسم کی ہے اور جذبات کی آنچ نے اس کی شعریت کو قائم رکھا ہے۔ وہ لطیف جذبات و کیفیات کو محسوسات میں متشکل کر دینے میں کمال رکھتا ہے اس طرز کی پوری شاعری میں یہ اس کی منفرد خصوصیت ہے۔ بیدل کی غزل میں خارجی قسم کی بے تاثیر مثالیت ہے جس پر ہیئت کا اہتمام اور فلسفیانہ تعمق غالب ہے۔

تخیل کے لحاظ سے بیدل کا مرتبہ بہت اونچا ہے۔ اس کا حکیمانہ تفکر ساری فارسی شاعری میں ایک خاص چیز ہے۔ مرزا غالب ایسا نکتہ سنج اور مشکل پسند شاعر جسے بقول خود سیدھی بات میں مزا نہیں آتا۔

سخن سادہ دلم رانہ فربید غالب

نکتہ چند ز پیچیدہ بیانے بمن آر

حافظ کی غزل اگر “سہل ممتنع” ہے تو بیدل کی شاعری کو “دشوار ممتنع” کہنا چاہیئے۔ سبک بندی کی پیچیدہ بیانی اور مبالغہ بیدل کے کلام میں پورے عروج تک پہنچ گیا ہے۔

ابوالمعانی میرزا عبدالقادر بیدل “سبک ہندی” (اصفہانی) میں “شیوۂ خاص” کے شاعر اور چند فکر انگیز فارسی رسالوں کے مصنف ہیں۔ ان کی تصانیف میں مضامین تازہ، دقت خیالی، بلند فکر اور حقائق دلپذیر کا بحر مواج مبرھن ہے۔ بیدل کی با قناعت و قنوت زندگی بھی قابل مطالعہ ہے۔ دقتِ بیان اور رفعت اندیشہ کی بناء پر ان کا کلام شایان شان شیوع نہ پا سکا۔ پھر بھی حالیہ صدی میں برصغیر پاکستان و ہند(۱۲)، افغانستان(۱۳) اور روس(۱۴) کے دانشمندوں نے بیدل شناسانی پر کمر ہمت باندھی اور اس ضمن میں لکھی جانے والی تصانیف کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ کابل یونیورسٹی کے شعبہ تصنیف وتالیف نے “کلیات نظم ونثر بیدل” کی چار ضخیم(۱۵) وعریض جلدیں چھاپ کر ایک مستحسن کارنامہ انجام دیا ہے۔

 

حوالہ جات

۱۔ مجموعہ نغز جلد دوم ۔ ص: ۱۷۹

۲۔ تذکرہ حسین۔ ص: ۷۴

۳۔ مقالات دینی وعلمی حصہ دوم۔ ص: ۲۸

۴۔ ایضاً ۔ ص: ۲۹

۵۔ مقالات دینی وعلمی حصہ دوم۔ ص: ۲۸

۶۔ سفینہ خوشگو

۷۔ سفینہ خوشگو

۸۔ میرزا عبدالقادر بیدل از مولانا غلام رسول مہر ص ۴۹۳ مشمولہ “جریدہ” جامعہ کراچی شمارہ ۳۰

۹۔ شگفتہ اور مردانہ وار تخیل از لفٹنٹ کرنل خواجہ عبدالرشید، ص ۵۶۸ مشمولہ “جریدہ” جامعہ کراچی شمارہ ۳۰

۱۰۔    میرزا عبدالقادر بیدل کی حیات و تصانیف از محمد اکرم چغتائی ص ۵۹۴ مشمولہ “جریدہ” جامعہ کراچی شمارہ ۳۰

۱۱۔    نقوی۔ دکتر سید علی رضا۔ تذکرہ نویسی فاریسی در ہند و پاکستان۔ ص ص ۴۲۶ تا ۴۲۸

۱۲۔    فہرست لائبریری۔ جلد سوم۔ زیر شمارہ ۔ ۸۳۱

۱۳۔    عبداللہ اختر، بیدل (لاہور ۱۹۵۳ء) ڈاکٹر عبدالغنی۔ سیرت بیدل (انگریزی) اور روح بیدل (اُردو)     مطبوعہ ۱۹۶۰ء، ۱۹۶۸ء (لاہور)۔ محمد عطاء الرحمن عطا کاکوی: حیرت زار، مطبوعہ پٹنہ (ایوان اُردو)

۱۴۔    خلیل اللہ خان خلیلی: فیض قدس، افکار گرامی بیدل: ڈاکٹر صلاح الدین سلجوتی بیدل چہ می گوید: فیض محمد خان فیضی۔

۱۵۔    صدر الدین عینی: عبدالقادر بیدل ۱۹۵۳ء تاشقند)، خالدہ عینی: بیدل و داستان عرفان او کابل ۱۳۴۳۔ ۱۳۴۴ ش؛ جلد۱، غزلیت، ج ۲ قطعات، رباعیات وغیرہ، ج ۲ مثنویات اور ج ۴ کبت منشور

 

کتابیات

۱۔ یٰسین خاں نیازی؛ میرزا عبدالقادر بیدل، اورینٹل کالج میگزین، ج ۸، ع ۱۴ اگست ۱۹۳۲ء، ۴۶۔۶۵، ج ۹ ع ۱ (نومبر ۱۹۳۲ء) ۶۵۔ ۷۷، ج ۹، ع ۲ (فروری ۱۹۳۲ء) ۱۳۔ ۴۲

۲۔ عبدالودود، قاضی: بیدل اور تذکرۂ خوشگو۔ معارف۔ ج ۴۹، ع ۵ (مئی ۱۹۴۲ء) ۳۵۷۔ ۳۷۶ ج۵ ع ۱ (جولائی ۱۹۴۲ء) ۳۹ ۔۵۲

۳۔ سلیمان ندوی، سید: میرزا بیدل کیا عظیم آبادی نہ تھے؟ معارف ج ۵۸ ع ۲ (اگست ۱۹۴۶ء) ۸۵۔ ۹۵ (نیز حیرت زار ۴۳۔ ۵۷)

۴۔ عبدالغنی، ڈاکٹر: میرزا عبدالقادر بیدل پر اپنے عہد کے اثرات مخزن، اکتوبر ۱۹۴۹ء، ۲۳۳۔ ۲۴۲

۵۔ تذکرہ بیدل، اورینٹل کالج میگزین، جون ۱۹۵۳ء “دروج” ۳۳۵۔ ۳۸۴۔

۶۔ مرزا بیدل کی سیرت و شخصیت، مجلہ انجمن عربی و فارسی دانش گاہ پنجاب، مئی و اگست ۱۹۵۹ء، ۴۴، ۹۸

۷۔ بیدل اور غالب، ادبیات (چکوال ۱ جولائی ۱۹۶۲ء “دروج” ۱۳۵۔ ۱۴۱

۸۔ بیدل کی ایک جمالیاتی علامت ادب لطیف اپریل ۱۹۶۲ء، نگار پاکستان اگست ۱۹۶۲ء “دروج” ۱۶۰۔۱۹۰

۹۔ کلام بیدل میں معنی خیز علامتیں، ساقی، فروری ۱۹۶۲ء و “دروج” ۳۰۹۔۳۳۲

۱۰۔    بیدل اور حباب: ایک مطالعہ، مجلہ انجمن عربی و فارسی، دانشگاہ پنجاب، مئی ۱۹۶۳ء فروری ۱۹۶۴ء “دروج” ۱۵۹۔ ۱۹۱

۱۱۔    عابد علی عابد، سید: غالب اور بیدل، نئی تحریریں، لاہور، نمبر ۱

۱۲۔    غلام سرور: بیدل، ہلال، ج ۴ ش ۴ (۱۳۲۵) ۵۴۔ ۵۷، ۴۱۳

۱۳۔    یاسین رضوی: عبدالقادر بیدل، ہلال، ج ۱۴ ش ۸۔ ۱۴۔ ۲۰

۱۴۔    آصف علی: کلام بیدل پر ایک اڑتی ہوئی نظر، ارمغان آصف از آصف علی مرحوم مع مقدمہ ڈاکٹر خواجہ احمد فاروقی دہلی: ۱۹۶۶ء۔ ۷۷۔ ۱۰۴

۱۵۔    مجنون گورکھپوری: کچھ بیدل کے سلسلے میں، پردیسی کے خطوط۔ دہلی ۱۹۶۶ء۔ ۱۲۶۔ ۱۸۳

۱۶۔    ڈاکٹر عبدالغنی: غالب اور بیدل: جنرل آف ریسرچ (دانشگاہ پنجاب لاہور) ج ۴ ش ۱ (جنوری ۱۹۶۹ء) ۳۳۳۔ ۳۶۴ “فیض”

۱۷۔    شروانی، حبیب الرحمن خاں، دیوان بیدل کا نسخہ بے بدل، معارف ج ۳۳ ج ۱ (جنوری ۱۹۳۴ء) ۴۴۔۴۵

۱۸۔    بیدل اور غالب کی ایک مشترکہ علامت، اقبال ج ۱۹ ش ۴ (اپریل، جون ۱۹۷۲ء) ۵۸۔ ۶۹

۱۹۔    غلام حسن مجددی، بیدل شناسی متشمل براء دار حیات شخصیات افکار، خصوصیات اشعار و منتخبات آثار ابوالمعانی بیدل، دو جلد در یک جلد، کابل، ۱۳۵۰ ش (بیدل شناسی)

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......