مسلمانوں کی تباہ حالی کا پسِ منظر۔۔۔

Submitted by atifsaeedicmap on Fri, 07/22/2011 - 12:47

قارئےن کرام! بظاہر تو ہم اپنے آپ کو مسلمان کہلواتے ہےں، نام بھی مسلمانوں والے ہےں اور کہلواتے بھی مسلمان ہےں، ہمارے نام سے پہلے محمد بھی لگتا ہے اور ہمارا نام احمد بھی ہے اور ہمارا نام علی بھی ہے، ہمارا نام ابوبکر بھی ہے، ہمارا نام عمر بھی ہے، عثمان بھی اور علی بھی ہے۔ کہلواتے ہم حسین بھی اور ہماری بیٹیوں کے نام فاطمہ بھی ہےں اور عائشہ بھی، خدیجہ بھی اور آمنہ۔ مگر ستم ظریفی ےہ ہے کہ آج ہم نے نہ تو نامِ محمد کی لاج رکھی ہے اور نہ ہی نام ابوبکر و عمر و عثمان و علی۔ نہ تو ہم چہرے سے ان جیسا بن سکے اور نہ ہی ہم اپنے قول و فعل و عمل سے ان جیسا بن سکے۔ آج ہم کہلواتے تو پیروکارِ محمدﷺ ہےں۔ مگر حضور پاکﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں اور ان کی تعلیمات کو ہم نے غلافوں اور خوبصورت کپڑوں میں لپیٹ کر اونچی اونچی الماریوں میں بند کرکے رکھ دیا ہے۔ وہ کتاب اللہ جو ہماری رہنمائی اور ہماری تربیت کےلئے نازل کی گئی اور جس کتاب کے بارے میں میرے پیارے آقاﷺ نے فرمایا ہے کہ ےہ کتاب تا قیامت آنے والے مسلمانوں کے رہنمائی ہے۔ اس کو ہم نے صرف اور صرف گھروں میں باعث برکت کےلئے رکھا ہوا ہے اور ہم صرف اتنا کرتے ہےں کہ اس کو چومتے ہےں اور چوم کر خوبصورت غلافوں میں لپیٹ کر الماریوں میں بند کرکے رکھ دیتے ہےں۔ ہمیں نا تو فرمان اللہ کا پاس ہے اور نہ ہی ہمیں قول مصطفیﷺ سے کچھ محبت۔ ہم تو صرف اور صرف امریکہ کے غلام ہو چکے ہےں۔ ہمارے لےے تو امریکا کا قول ہی سب کچھ ہے۔
قارئےن کرام! آج ہمارے علماءاور ہمارے مفتیان کرام خطاب کرتے ہوئے اس بات کا ادراق کرتے ہےں کہ ہمارے معاشرے میں تباہی و بربادی کا باعث بھارتی میڈیا اور بھارتی فلمیں ہےں۔ میں ان مفتیان کرام سے بڑے ادب سے عرض کرنا چاہوں کہ بھارت نے آکر ہمیں نہےں کہا کہ بھارتی چینل اپنے گھروں میں چلاﺅ، بھارتی فلمیں اپنے بچوں اور بچیوں کو دکھاﺅ، یا بھارتی نے آکر ہمیں نہےں کہا کہ ہمارے کلچر کو ہمارے رہن سہن کے طریقوں کو اپنے گھروں میں لاگو کرو۔ ےہ ہماری قوم کا وطیرہ ہے کہ کرتی سب کچھ خود ہے اور الزام لگا دیتی ہے بھارت اور امریکا پر۔ آج ہماری پوری کی پوری نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہو چکی ہے۔ ہماری بچیاں اور بچے اسلامی لباس تو دور غیر اسلامی لباس کو بھی آج شرما رہے ہےں۔ پنٹ شرٹ پہننے میں کوئی برائی نہےں ہے کہ مگر ہماری نوجوان نسل پنٹ شرٹ بھی ایسے طریقے سے پہنتی ہے جسے دیکھ کر وہ انگریز بھی شرما جاتے ہےں اور سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہےں جن کا ےہ لباس ہے۔
قارئےن کرام! آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے دین اسلام کے اصولوں پر چلیں اور اللہ اور اس کے رسولﷺ نے جو ہمیں لباس اور رہنے سہنے کا طریقہ بتایا ہے اس پر عمل پیرا ہو کر اپنی زندگیوں کو سنواریں۔ آج ہمارے معاشرے میں بے حیائی اور برائی اتنی عام ہو چکی ہے کہ گھر سے باہر نکلیں تو ہر طرف بغیر پردہ عورتیں گھومتی ہوئی نظر آتی ہےں اور مرد اور عورتیں آپس میں ایسے محو گفتگو ہوتے ہےں جیسے ان کے درمیان میں کوئی پردہ ہی نہ ہو۔ ہماری یونیورسٹیوں اور کالجز میں فحاشی اور برائی کو اتنا عام کیا جارہا ہے کہ آج تو ہمیں خود کو مسلمان کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ ماں کی گود کے بعد ایک بچہ جو کچھ سیکھتا ہے وہ اس کی درسگاہ ہوتی ہے اور اگر ہمارے سکولوں اور کالجوں میں اسلامی تعلیم اور شرم و حیا کی بجائے غیر اسلامی تعلیمات اور بے حیائی اور بے شرمی کی تعلیم دی جائےگی تو ہماری نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار نہ ہوگی تو اور کیا ہوگی۔
قارئےن کرام! آج ہمارے والدین کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور اپنے بچوں اور بچیوں کو غیر اسلامی تعلیمات کی بجائے اسلامی تعلیمات کی طرف راغب کرنا ہوگا اور انہےں اسلامی لباس اور پردہ کی طرف توجہ دلانی ہوگی۔ اگر ہم نے اپنی نوجوان نسل کی صحیح تربیت نہ کی تو وہ وقت دور نہےں جب ہمارا نام بھی شمار نہےں ہوگا قوموں میں۔ کیونکہ جو قومیں اپنا کلچر اور لباس بھلا کر دوسری قوموں کے لباس اور رہن سہن کو اپنا لیتی ہےں ان کا نام بھی نہےں رہتا قوموں کی فہرست میں۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے مغلےہ دور میں مغلےہ حکمرانوں نے اسلامی تعلیمات اور کلچر کو چھوڑا تو ان کا حشر کیاہوا۔ سروں تک کو قلم کر دیئے گئے اور سینکڑوں سالوں تک ہمیں انگریزوں کی غلامی کرنا پڑی اور صرف غلامی ہی نہےں کتنی ماﺅں بہنوں اور بیٹیوں اور نوجوانوں کی قربانیوں اور خون ریزی کے بعد پھر ہمیں آزادی کی دولت نصیب ہوئی۔ ایسا نہ ہو کہ ہم غیروں کے کلچر میں اس حد تک ڈوب جائےں کہ ہمیں اپنی شناخت ہی نہ رہے اور اس کی سزا ہمیں پھر بھگتنی پڑے۔ اس لئے خدارا اپنے کلچر ، مذہب کو بدنام نہ کیجئے۔ حیا اور غیرت کا دامن اپنے ہاتھوں سے مت چھوڑئےے۔

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......