مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح اورطب یونانی

Submitted by hakimkhalid on Fri, 07/29/2011 - 12:55

مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح اورطب یونانی
تحریر:حکیم قاضی ایم اے خالد

مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح تیس جولائی اٹھارہ سو تیرانوے کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔دو سال کی عمر میں والدہ مٹھی بائی اور دس سال کی عمر میں والد جناح پونجا کی شفقت سے محروم ہوئیں۔ عظیم خاتون راہنما نے انیس سو بائیس میں کلکتہ یونیورسٹی سے دندان سازی کی تعلیم مکمل کی۔ انیس سو انتیس میں اپنے بڑے بھائی محمد علی جناح کی زوجہ کے انتقال کے بعد ان کا گھر سنبھالنے کا بیڑہ اپنے نازک کندھوں پر اٹھا نے کا فیصلہ کیا۔ قیام پاکستان سے قبل کئی شہروں میں خواتین کے تعلیمی مراکز قائم کئے۔مادر ملت فاطمہ جناح اپنے بھائی اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے شانہ بشانہ نظریہ قیام پاکستان کی جدوجہد کاحصہ رہیں۔محترمہ فاطمہ جناح کی شخصیت کا سحر اور لگن تھی کہ برصغیر کے گلی کوچوں میں قیام پاکستان کی جدوجہد میں خواتین بھی شامل نظر آئیں۔ انیس سو چالیس میں تقسیم ہند کی تاریخ ساز قرارداد کی منظوری کے وقت محترمہ فاطمہ جناح بھی لاہور میں قائد اعظم کے ہمراہ تھیں۔مادر ملت کوقائد اعظم محمد علی جناح اورحضرت علامہ اقبال کی طرح طب یونانی سے گہرا لگاؤ تھا۔
محترمہ فاطمہ جناح نے 1956 میں کراچی میںایک طبی تنظیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ'' طب اسلامی اور اس کا تحفظ ایک مسلمہ امر ہے اگرچہ طب اسلامی کی روشنی طب مغرب کی مصنوعی چمک کے سامنے دھندلا گئی ہے تاہم آج بھی ہمارے عوام اس طریقہ علاج کو پسند کرتے ہیں ۔یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ کوئی بھی فن حکومت کے تعاون اور امداد کے بغیر بلندیوں کو نہیں چھو سکتا ۔طب اسلامی(یونانی)عوام کی عادات و مزاج کے عین مطابق ہے اس خصوصیت نے اس طریقہ علاج کو ہر آزمائش میں کامیاب کیا ہے۔ اس لئے اس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جائے ۔پاکستان میں اس کیلئے ہر دروازہ کھلا رہنا چاہئے طبی ہسپتال طبی شفا خانے اور تجربہ گاہیں بالکل ان ہی خطوط پر جن پر طب مغرب کو یہ سب سہولتیں فراہم کی گئی ہیں مہیا کی جائیں تاکہ امراض اور ادویات پر تحقیقات کی جائیں ''۔
لیکن آج نصف صدی سے زائد گذرنے کے باوجود طب یونانی' اسلامی کی حالت انتہائی ابتر اور سنگین تر ہے۔کسی اور سے کیا گلہ کریں'محترمہ فاطمہ جناح کے نام لیوا اور اپنے آپ کو جانشین کہنے والی مسلم لیگ ن کی حکومت نے بھی طب یونانی کے قومی ورثہ کے تحفظ کیلئے کسی قسم کا کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا اس سلسلے میں اگر کوئی قانون سازی کی بھی گئی ہے تو وہ محترمہ فاطمہ جناح کی خواہشات کے برعکس ہے ۔محترم مجید نظامی صاحب نے خودانحصاری کی جو راہ مسلم لیگ کی قیادت کو دکھائی تھی آج وہ اسے بھول چکے ہیں۔اس وقت ہم اپنے مسئلہ صحت کے حل کیلئے کلی طور پراغیار کے رحم و کرم پر ہیں زیادہ تر ایلوپیتھک ادویات اور ویکسینیشن خود تیار کرنے کی بجائے قیمتی زرمبادلہ خرچ کرکے منگوائی جارہی ہیں حالانکہ مقامی طریق علاج کی ترویج و ترقی اور مسئلہ صحت میں خود انحصاری کیلئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن بھی گذشتہ کئی دہائیوں سے ہدائت کرتی چلی آ رہی ہے لیکن ہنوز دلی دور است۔لیکن اگر دلی یعنی بھارت کو دیکھیں تو بھارت میںآیورویدک اور سدھا طریقہ علاج کے ساتھ ساتھ طب یونانی( اسلامی )کوبھی مکمل اہمیت دی گئی ہے اور اسے باقاعدہ سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔اس سلسلے میںسینٹرل کونسل فار ریسرچ آیورویدک اینڈسدھا(36یونٹس) سینٹرل کونسل فار ریسرچ ان یونانی میڈیسن(25یونٹس)اور دیگر حکومتی ادارے قائم ہیں جہاں ہیپاٹائٹس'ایڈز'برص(پھلبہری)سمیت بیسیوں پچیدہ اور(ایلوپیتھک طریقہ علاج کے مطابق) ناقابل علاج امراض کا کامیاب یونانی علاج کیا جا رہا ہے۔
لیکن ہمارے ہاں اس امر کا فقدان ہے دیگر تمام شعبوںاور اداروں کی تعمیر میں کوتا ہیوں کے ساتھ ساتھ ہم اپنی قوم کے مسئلہ صحت کے حل کیلئے ابھی تک اغیار کے محتاج ہیں حالانکہ قائد اعظم محمد علی جناح نے 1942ء میں طلبائے طبیہ کالج دہلی سے خطاب کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ''جب زمام اختیار مسلمانوں کے ہاتھ آئے گی تو وہ تمام علوم و فنون اسلامیہ کے ساتھ طب اسلامی (یونانی)کے تحفظ و بقا کا بھی خیال رکھیں گے کیونکہ یہ ایک بہترین قومی ورثہ ہے اور اس کی حفاظت قوم کا فرض ہے۔''
اچھے معاشروں میں عوام کی صحت کی فکرعوام سے زیادہ حکومتوں کو ہوتی ہے یونانی طریقہ علاج برصغیر میں ثقہ نامور حکیموں کے توسط سے معتبر اور موثر رہا ہے حکیم محمد اجمل خان 'شہید پاکستان 'شہید فن طب حکیم محمد سعید'حکیم محمد حسن قرشی'حکیم عبدالرحیم اشرف 'حکیم نیر واسطی سمیت دیگر نامور حکماء نے اسے باقاعدہ فن اور سائنس کا درجہ عطا کیا 'یہ حکومت کا کام تھا کہ وہ یونانی طریق علاج کے اداروں کو ریگو لرائزکر کے طب یونانی کی سرپرستی کرتی ۔طبی دواسازی کی صنعت کو ہر ممکن سہولیات بہم پہنچا کریونانی ادویات کے کلینیکل ٹرائل کے بعد ان کے لئے مناسب پیکنگ 'ریکارڈنگ اور مارکیٹنگ کا میکنزم ڈیولپ کرتی۔لیکن ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دباؤ اور ان سے وابستہ مفاد پرست سرکاری عناصر (بیوروکریسی )کے زیر اثر اس شعبہ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔چنانچہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ''عطائیت ''کو فروغ حاصل ہوا ناقص طبی نظام تعلیم کی وجہ سے نیم حکیم اور حکمت و طب سے نابلد افراد و ادارے چور دروازوں سے اس فن میں داخل ہو گئے اس وقت سکل ڈویلپمنٹ کونسل (ایس ڈی سی ) کے شیلٹر تلے حکومت خود عطائیت کو فروغ دے رہی ہے سکل ڈویلپمنٹ کونسل سے الحاق شدہ جعلی اور غیر قانونی طبی ادارے پندرہ بیس ہزار روپے کے عوض آلٹرنیٹو میڈیسن کی آڑمیں الیکٹروہومیوپیتھی 'آکوپنکچر'طب مفرد اعضاء 'علاج بالغذا'فزیو تھراپی 'نیچرو پیتھی 'ہربل کنسلٹنٹ 'طب نبوی ۖاور حکیم وحکمت کے ایک سالہ ڈپلومہ کی اسناد فروخت کرکے ملک میں ہزاروں جعلی ڈاکٹروں اور جعلی حکیموں میں اضافہ کا باعث بن رہے ہیں۔آئین پاکستان کے مطابق ملک میں تین طریقہ ہائے علاج طب یونانی 'ہومیوپیتھک اور ایلوپیتھک رائج ہیں۔آلٹرنیٹو میڈیسن کی پریکٹس کیلئے بھی ان تینوں میں سے کسی ایک میں کوالیفائڈ ہونا ضروری ہے حکومتی اداروںنیشنل کونسل فار طب'نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی اور پی ایم ڈی سی 'سے رجسٹرڈ معالجین ہی پریکٹس کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ تمام طبی اداروں کی جاری کردہ اسنادو رجسٹریشن جعلی اور غیر قانونی ہے لیکن اس کے باوجودانسانی جانوں سے کھیلنے کے غیر آئینی و غیرقانونی لائسنس دینے کا کام جاری ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یونانی ادویات کی آڑ اور صرف دولت کی ہوس میں غیر معیاری دواسازی(تحقیقاتی رپورٹنگ کے مطابق اس میں وفاقی و صوبائی وزارت صحت کے اہلکاران اور افسران بھی ملوث ہیں) کو عروج حاصل ہوا اور فن طب انحطاط پذیر ہوتا چلا گیا۔حکومت ہر شعبے میں اپنی ہی بے حسی اور لاپرواہی کے نتائج کو قانون بنانے کے اعلان میں چھپاتی ہے لمبے چوڑے بلند و بانگ دعووں کا اعلان کرتی ہے اور نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات رہتا ہے شائد دونمبر حکیموں کی طرح ہمارے حکمران بھی ایسے ہی ہیں لہذا رعایا کیسے صحتمند ہو؟
اس وقت عالمی ادارہ صحت(WHO) کی رپورٹوںکے مطابق دنیا کی 86فیصد آبادی اور پاکستان کی 76فیصد آبادی ہربل (یونانی) ادویات استعمال کرتی ہے ۔باوجود اس کے طب یونانی کو کسی بھی ہیلتھ پالیسی اور اسکیم میں شامل نہیں کیا جاتا یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی ہیلتھ پالیسی اور اسکیم مکمل کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو پاتی۔
حکومت یونانی طریق علاج کو قواعدو ضوابط کے تحت منظم اوراس طریق علاج میں در آنے والی خامیوں کو دور کر کے عوام کے مسئلہ صحت کو حل کرنے کیلئے ایک بنے بنائے نیٹ ورک سے استفادہ حاصل کر سکتی ہے۔اور اس کا دائرہ کار دیہاتوں تک بڑھا سکتی ہے جہاں ایلوپیتھک ڈاکٹر جانے سے کتراتے ہیں۔یہاں یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ ایلوپیتھک طریق علاج کے برعکس طب یونانی کسی مرض کیلئے دواساز ادارے کی سربند دوائی دینے کا نام نہیں۔کسی ایک یا دو اجارہ دارطبی دواساز اداروں کی ترقی طب یونانی کی ترقی ہرگز نہیںہے ۔ہر اچھا طبیب دواسازی کے فن پر بھی عبور رکھتا ہے لہذا طبیب کی ذاتی دواسازی پر قدغن لگانے کیلئے ملکی دواساز اداروںاور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ایماء پر ڈرگ ایکٹ 1976ء کوبھی طب یونانی 'آیورویدک 'ہومیوپیتھک اور دیگر غیر ایلوپیتھک میڈیسن ایکٹ کے ہمراہ لاگوکرنے کی کوششیں کی گئیں جسے کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان سمیت دیگر تنظیموںاور ملک بھر کے اطباء نے ناکام بنا یا۔
اس وقت جبکہ پنجاب حکومت ہومیو پیتھ اور حکماء کو اپنے مخصوص شعبہ کی ادویات استعمال کرنے کا پابند بنانے اورضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کے لئے قوائد و ضوابط تشکیل دینا چاہتی ہے کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اس اقدام کی بھرپور حمائت کرتی ہے تاہم یہ امید بھی رکھتی ہے کہ طب یونانی کے فروغ کیلئے عمائدین پاکستان کے مطابق اسے بھی وہ تمام سہولیات بہم پہنچائے گی جو اجارہ دار غالب طریق علاج یعنی ایلوپیتھک کو ودیعت کی گئی ہیں ۔ یاد رکھنا چاہئے کہ صحت پالیسیوں کے ثمرات عوام خصوصاً دیہاتی آبادی کو تبھی پہنچ سکیں گے جب تمام ہیلتھ پالیسیوں اور اسکیموں میں طب یونانی کو بھی شامل کیا جائے گاطب یونانی اور اس کی صنعت دواسازی کو فروغ دینے سے پاکستان اپنا قومی مسئلہ صحت حل کرنے کے ساتھ ساتھ کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ بھی کما سکتا ہے۔طب یونانی(اسلامی) کا زوال ایک بہت بڑی سازش ہے۔جس میںبیوروکریسی کے ساتھ ساتھ'' سامراج'' اصل رکاوٹ ہے۔اگر حکومت نے اس سلسلے میںخود انحصاری کی راہ نہ اپنائی اور اپنے اس ورثہ کی حفاظت نہ کی تو بعید نہیں کہ آئندہ آنے والے وقت میں پاکستانیوں کو یونانی(ہربل ) میڈیسنزکے لئے بھی ''ملٹی نیشنل کمپنیوں کا محتاج ہونا پڑے۔اس حوالے سے دیگر وزراء اعلی کے ساتھ ساتھ پنجاب کے وزیر اعلی کو خاص طور پرفوری طورپرنوٹس لینا چاہئے اورقائدین تحریک پاکستان خصوصاً مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی خواہشات کے مطابق سرکاری سرپرستی میں طب یونانی کی ترویج و ترقی کیلئے ہنگامی بنیادوں پرعملی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔
٭…٭…٭
٭تحریر مصنف کا حوالہ دے کر شایع و نشر کی جا سکتی ہے۔٭
حکیم قاضی ایم اے خالد(میڈیکل جرنلسٹ) تمغہ خدمات طب 'گولڈ میڈلسٹ'فاضل طب و الجراحت' رجسٹرڈ معالج قومی طبی کونسل اسلام آباد وفاقی وزارت صحت حکومت پاکستان 'بانی چیئر مین پاکستان طبی جرنلسٹس کونسل 'سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان' ینگ مسلمزا نٹرنیشنل 'چیئرمین پاکستان جسٹس مشن چیف ایڈیٹر پندرہ روزہ امن عالم انٹرنیشنل' ماہنامہ ورلڈ پیس انٹرنیشنل' وائس آف طب لاہور' مضمو ن نگار نوائے وقت لاہور 'نمائندہ خصوصی روشنی ٹی وی لاہور'ریڈیوسکائی لائن (نیدرلینڈ)' چینل سیون (جاپان)ٹاک آف دی ورلڈ (امریکہ) فیلالوپ (جرمنی) اور دیگر کئی انٹرنیشنل اخبارات و رسائل' نیوز ایجنسیز و الیکٹرانک میڈیا اور سماجی' طبی مذہبی و ادبی تنظیموں سے منسلک ۔
٭رابطہ: 32 ۔ ذیلدار روڈ اچھرہ لاہور۔54600 پاکستان۔٭
فون04237570354: فیکس 37571659 042-
موبائل 03334222129:
qazimakhalid@gmail.com
http://hakimkhalid.blogsome.com/
http://healthnewspaper.co.cc/

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......