لوڈشیڈنگ

Submitted by M.A.W.درد on Fri, 08/05/2011 - 12:00

کچھ ہی روز پہلے حکومت نے یہ اعلان جاری کیا تھا کہ لوڈشیڈنگ میں ماہ رمضان کے دوران کمی کی جا سکتی ہے .مگر عملی طور پر لوڈشیدڈنگ میں ٥٠ فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے . رمضان کے پہلے دن سے ہی دیکھنے میں آیا کہ لوڈشیڈنگ کا دوراںیہ کم نہیں بلکہ مزید بڑھا دیا گیا ہے اور نہ صرف بجلی بلکہ گیس لوڈشیڈنگ بھی عین ظہر اور عصر کے وقت ہی کی جاتی ہے .اور ستم تو یہ ہے کہ جو صاف پینے کا پانی ٹیوب ویل سے فراہم کیا جاتا ہے وہ بھی بند کر دیا جاتا ہے .ایک تو بجلی پانی کے چلانے کے مقرّرہ وقت میں کاٹ دی جاتی ہے اوپر سے ٹیوب ول پر مقرّر لوگ دھوکہ دہی سے کام لیتے ہیں .مغرب کی آذان ہوتے ہی پانی کھول دیا جاتا ہے اور پندرہ منٹ کے بعد کاٹ دیا جاتا ہے ،پھر ہر چھ ماہ بعد لوگوں سے بھاری بل وصول کیۓ جاتے ہیں اور پانی ندارد، کسی نے سچ ہی کہا تھا کہ بجلی اور گیس کے لوڈشیڈنگ سے توقع ہے کہ کوئی تیسری قسم کی لوڈشیڈنگ جنم لیگی.خیر چھوڑیں کونسا صاف پانی ہمارا حق ہے ،آتے ہیں گیس کی طرف حکومت کی حکمت عملی کے تحت سارا سال گیس عوام کے لیے بآسانی دستیاب ہوگی صرف ماہ رمضان کے دوران افطاری کے وقت کاٹ دی جائے گی .سخت سردی کے موسم میں تو شاید گیس کہیں 'منجمد' ہوتی ہو اس لیے دستیاب نہیں ہوتی مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ سخت گرمی کے موسم میں اسے کیا ہوتا ہے اور وہ بھی رمضان کے مہینے میں ،خدا ہی بہتر جانتا ہے . بات کرتے ہیں بجلی کی ،ہر ماہ دیکھنے میں آتا ہے کہ بجلی کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں اور فراہمی معطل کر دی جاتی ہے .میں آپ کو اپنے علاقے کے لوڈشیڈنگ کا شیڈول دکھاتا ہوں اس کے بعد آپ ہی فیصلہ کریں ،رات کے ١٢ بجے بجلی کاٹ دی جاتی ہے ایک بجے سے لیکر ٣ تک پنچ کا پندرہ پیکج اون ہو جاتا ہے اور لوگوں کی نیندیں حرام کردی جاتی ہیں ،اس کے بعد ٦ تک یہی جاری رہتا ہے ، پھر ایک ایک گھنٹے کا شیڈول شام ٤ بجے تک ہر ٢ گھنٹوں کے بعد لوڈشیدڈنگ ہوتی ہے جوسردی اور گرمی دونوں کا نارمل معمول بن گیا ہے ،٤ بجے کے بعد جو ہوتا ہے اس کا تو مزہ ہی کچھ اور ہے ایک گھنٹہ لوڈشیڈنگ اور ایک گھنٹہ آنکھ مچولی ،اور پھر یہی صبح تک جاری رہتا ہے.اگر حساب لگایا جائے تو بجلی کی کل فراہمی ٨ گھنٹوں سے بھی کم ہے ،رمضان کے مہینے میں دورانیہ کم کرنے کے بجاےٴ مزید بڑھا دیا جاتا ہے ،معمول کہ اوقات کے سات سات ہر گھنٹے کے اگاہز پر پندرہ سے ٢٠ منت لوڈشیڈنگ ہوتی .ہے ،مہینے کے آخر میں جو بل ہمیں دکھاے جاتے ہیں وہ ہمارے تھوڑی ہٹے ہیں .مالداروں سے رشوت لیکر ان کے بل کم کر دیئے جاتے ہیں اور ان کے صرف شدہ یونٹس ہم غریبوں پر لاد دیئے جاتے ہیں.اوپر سے بجلی کی آنکہ مچولی سے لوگوں کی ہزاروں مالیت کی قیمتی اشیاء جل جاتی ہیں ، ظلم بھی برداشت کرنا پڑتا ہے ہزاروں روپے کے بل بھی ادا کرنے پڑتے ہیں اور ان کی قیمتی چیزیں بھی جل جاتی ہیں. ایک روزے دار پر اس سے بڑا ستم اور کیا ہو سکتا ہے کہ اسے سارا دن سخت گرمی میں بغیر بجلی کے رہنے پر مجبور کیا جائے پانی اور گیس بند کرکے بھوک اور پیاس سے مارا جائے،لوگوں کا صبر و تحمل اور حکومت کا ظلم و ستم دیکھ کر تو وہ شعر یاد اتا ہے کہ:
ادھر آ ستمگر ہم ہنر آزمایئں
تو تیر آزما ہم جگر آزمایئں
آخر میں میں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ عوام کو یہ بات سمجھائی جائے کہ سارے بحران اسی دورحکومت میں کیوں آتے ہیں،اگر حکومت عوام کو بحرانوں کے سوا کچھ نہیں دے سکتی تو اس کا ہٹ جانا ہی بہتر ہے ، اس لیے مزید عوام سے جھوٹے وعدے نہ کیۓ جایئں کیوں کہ وہ اب عوام کو مزید دھوکہ نہیں دے سکتے .

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......