اسامہ بن لادن کے بعد

Submitted by Iqbal Jehangir on Fri, 05/20/2011 - 16:38

دنیا ،پاکستان کو القاعدہ اور طالبان کا گڑھ اور دہشت گردی کا مرکز سمجھتی ہے اور یہ کچھ غلط بھی نہ ہے۔ دنیا بھر کے دہشت گرد پاکستان میں موجود ہین۔ "ہر کوئی شمالی وزیرستان میں ہے،وہان عرب ہین ،ازبک ہین ،تاجک ،انڈونیشی ،بنگالی، پنجابی ،افغان ، چیچن اور سفید جہادی ۔ یورپین جہادی" کامران خان ممبر پارلیمنٹ، میران شاہ۔ "تقریبا ۱۰ ہزار غیر ملکی جہادی شمالی وزیرستان میں ہیں"( ڈیلی ڈان)
وہان القائدہ ہے،طالبان ہین، پنجابی طالبان ہین ،حقانی نیٹ ورک ہے،حرکت جہاد اسلامی ہے،لشکر جھنگوی ہے وغیرہ وغیرہ ۔ اسامہ بن لادن اور اس کے ساتھی غیرملکی دہشت گرد شمالی وزیرستان پر قبضہ کئے بیٹھے ہیں اور انہون نے پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کو خطرے مین ڈال دیا ہے۔ درحقیقت ہمارے ناعاقبت اندیش سیاست دان پورے پاکستان کو دہشت گردوں کے قبضے میں دینا چاہتے ہیں۔ مگر انشاء اللہ ایسا نہیں ہو گا اور جلد شمالی وزیرستان پر دوبارہ پاکستان کی عملداری قائم کی ہو گی۔
اسامہ کی موت سے القائدہ کی طرف سے شروع کیا ہوا ، دہشت گردی و قتل و غارت گری کا ایک باب اختتام پزیر ہوا۔ القائدہ اور طالبان کے وجود مین آنے پہلے پاکستان مین تشدد اور دہشتگردی نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ القائدہ نے طالبان کے ساتھ مل کر قتل و غارت گری کا ایک بازار گرم کر دیا، کاروبار کا خاتمہ ہو گیا،مسجدوں،تعلیمی اداروں اور بازاروں مین لوگوں کو اپنی جانوں کے لالے پڑ گئے اور پاکستان حیرت و یاس کی تصویر بن کر رہ گیا۔ دہشت گردی کی وجہ سے ہمارے ہاں سرمایہ کاری بند ہو گئی ہے۔ بڑے بڑے کاروباری لوگ اغوا ہونے کے خدشہ سےخوفزدہ ہو کر ملک چھوڑ گئے ۔ شہریوں کا احساس تحفظ ختم ہو گیا ۔ پاکستانی معیشت تباہ ہو گئی اور اس کو ۴۵ ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
حقیقت ہے کہ اس دہشت گردی کا زیادہ نشانہ خود مسلمان بنے۔ صرف پاکستان میں 35ہزار سے زیادہ انسان دہشت گردوں کی کارروائیوں کا نشانہ بنے۔سعودی عرب‘ یمن‘ سوڈان‘ عراق اور متعدد دیگر مسلمان ملکوں میں ان گنت افراد جان سے گئے۔ اسامہ خود تو ختم ہو گئے مگر پاکستان لئے دہشت گردی اور نفرتوں کے اثرات چھوڑ گئے‘ جو نہ جانے کب تک ہمیں مشکلات میں مبتلا رکھیں گے۔
ہمارے ہان دہشت گردوں سے بڑا مسئلہ وہ خودسر اور ناعاقبت اندیش سیاست دان ہین‘ جو معاملات کو سمجھے اور جانے بغیردہشت گردوں کی اندھا دھند حمایت کرتے رہے ہیں۔
تشدد اور دہشت گردی کا راستہ کبھی آزادی اور امن کی طرف نہیں لے جاتا۔ تشدد کرنے والے بھی اسی طرح کے انجام اور سلوک سے دوچار ہوتے ہیں‘ جو وہ اپنے مخالفوں کے ساتھ روا ر کھتے ہیں۔
اسامہ اور القائدہ لازم ملزوم تھے، اس کے جانے سے القائدہ کی ریڑہ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور اس کا خاتمہ یقینی ہو گیا۔ یہ کیسا جہاد ہے کہ اسامہ میدان جنگ سے دور ایبٹ ٓباد کے ایک پر تعیش بنگلے مین چھپا بیٹھا تھا۔مزید براں قتل و غارت گری کرنے والوں کی زندگی لمبی نہیں ہوتی اور ان کی موت اسی طرح واقع ہوتی ہے۔
اُسامہ بن لادن کی یمنی بیوی اِمل نے دوران تفتیش حکام کو بتایاہے کہ2007ءمیں ایبٹ آباد میں بلال ٹاﺅن منتقل ہونے سے پہلے القاعدہ کے رہنماءاپنے خاندان کے ساتھ ضلع ہری پور میں ہزارہ کے قریب ایک گاﺅں چک شاہ محمدمیں مقیم تھاجہاں وہ سب تقریباً اڑھائی سال تک قیام پذیر رہے ۔ گویا اسامہ کم وبیش آٹھ برس سے ہری پور اور ایبٹ آباد میں رہائش پذیر تھا۔ اسامہ ہماری ناک کے نیچے ایبٹ آباد مین ۵ سال سے چھپا ہیٹھا تھا اور ہمین کچھ پتا نہ تھا۔گزشتہ سوموار کو امریکی اسپیشل فورسز کی طرف سے کیا جانے والا آپریشن، جس میں اسامہ بن لادن ہلاک ہوا، اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑ گیا ہے۔ اب چونکہ پاکستان ملٹری انکوائری کررہی ہے ،تمام حقائق اس کے نتیجہ مین منظر عام پر آ جائیں گے۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا کہ انہوں نے ایک خط میں وزیراعظم پاکستان سے اعلیٰ عدالتی کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے جس میں نہ صرف ان سے کہا گیا ہے کہ یہ کمیشن پاکستان میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی موجودگی اور دو مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن کے مکمل حقائق کا پتہ چلائے بلکہ اس معاملے سے نمٹنے میں سول اور عسکری حکام کی ناکامی کا بھی جائزہ لے۔
رحمن ملک نے زور دے کر کہا ہے کہ اسامہ کو پاکستانی ایجنسیوں نے تحفظ بہم نہ پہنچایا ہوا تھا اور انہین اس کے بارہ میں کچھ علم نہ تھا۔ وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ اُسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی انٹیلی جنس کی ناکامی ہے انٹیلی جنس ناکامی کا مطلب دہشت گردوں کوتحفظ فراہم کرنا نہیں ہوتا۔سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے کہا ے کہ اسامہ بن لادن کو کسی پاکستانی ایجنسی نے پناہ نہیں دی۔
دہشت گرد گروپوں کے ساتھ نرم رویہ اب ہرگز قابل قبول نہ ہوگا۔ صرف اور محض اس لئے کہ ان سے ریاست کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ حقائق تبدیل ہوچکے ہیں، اگر یہ عسکریت پسند کسی اور کیلئے خطرہ ہیں تو وہ ہمارے لئے بھی خطرہ ہین۔ کوئی اچھا اور برا دہشت گرد نہیں ہوتا، دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے۔ہمیں اپنی سرزمین دہشتگردی کی کارروائیوں کے لئے ہرگز ہرگز استعمال کرنےکی اجازت نہیں دینی ہوگی۔اور ہمیں جہادی عناصر کو نکیل ڈالنی ہو گی۔ایک طویل عرصے سے ہم اپنی قامت سے بڑھ چڑھ کر باتیں کرتے آ رہے ہیں، اب آئندہ یہ کسی طرح بھی ممکن نہ ہوگا۔
بہرحال اس واقعے کے بعد پاکستان کا امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف تعاون و تعلق کو ختم نہیں ہونا چاہئے، وہ اس لئے کہ پاکستان War against Terror میں امریکہ کا Strategic partner ہے۔ پاکستان کو امریکہ کی ضرورت ہے۔ دہشت گردوں کا پیچھا کرنا پاکستان اور امریکا کامشترکہ مقصد ہے اور دونوں ملکوں کو مل جل کر اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف کاروائی کرنی چاہئیے۔
پاکستان ایک ایسا ملک جس میں بدقسمتی اور مصائب پہلے ہی زائد از ضرورت ہین،ہم اس نام نہاد مجاہداسلام اسامہ بن لادن اور اس کی عنایات سے ہم محفوظ ہی رہتے تو اچھا تھا۔ جب تک وہ زندہ تھا تو ہمارے لیے ایک درد ِ سر تھا ، اُس کی موت کسی طوفان سے کم نہ ہے۔اسامہ نے ہمیں زندگی میں بھی نقصان پہنچایا تھا اور اُس کے موت پر آج ہم احمقوں کی طرح اپنا سا منہ لیے کھڑے ہیں۔
اسامہ کی ہلاکت سے طالبان کے فنڈز کے ذرائع معدوم ہو گئے اور القائدہ کا طالبان مین اثر و رسوخ کم ہو کر رہ جائے گا۔ مگر ابھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت سا کام کرنا باقی ہے۔
یہ درست ہے کہ القائدہ اسامہ بن لادن کی حیات ہی میں غیر متعلق ہو کر رہ گئی تھی ۔ تیونس اور مصر مین جمہوری انقلابات اور عرب ممالک مین جمہوری عمل کے لئے عمومی بیداری کی وجہ سے القائدہ کے پر تشدد نظریات کو کوئی پزیرائی حاصل نہ ہوئی جو القائدہ کے لئے بڑا دہچکا ثابت ہوا اور یہ عضو معطل ہو کر رہ گئی تھی۔
ہم اسامہ کے مشکور ہین, جس نے اپنی حماقت کی وجہ سے معلومات کی ایک کھیپ پیچھے چھوڑی ہے اور معلومات کا بڑا ذخیرہ بھی امریکیوں کے ہاتھ آ گیا ہے جسے ایک چھوٹی لائبریری کہنا بے جا نہ ہو گا۔۔ کہ اس مین بے شمار مواد ، کاغذات، ٹیپس،فون نمبرز اور کمپیوٹر و یو اس بی(USB Drives) ڈسکس شامل ہین جو کہ القائدہ کے خفیہ سیلز اور پاکستان اور دوسرے ملکوں میں چھپے القائدہ کے ارکان کی خفیہ پناہ گاہوں اور ان کو ڈھونڈ نکالنے مین بڑی ممد و معاون ثابت ہونگی ، اور دوسری جانب اب امریکا یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ پاکستان نے اس کا کس قدر ساتھ دیا ہے ، اس کے پاس اب تمام حقائق و شواہد بھی موجود ہیں ۔
ہم تو ڈوبے ہین صنم تمہیں بھی لے ڈوبیں گے۔
اسامہ بن لاڈن سالہا سال سے پاکستان مین تھا اور طالبان نے اسے تحفظ فراہم کیا ہوا تھا۔ لگتا ہے انہیں نے پیسے کی خاطر اسامہ کی مخبری کر دی اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنے والا اپنے انجام کو پہنچا۔ اب القائدہ کے دوسرے چھوٹے موٹے لیڈران ،طالبان سے خوفزدہ رہین گے۔ طالبان نے پیسے کی خاطر اسامہ کو بیچ ڈالا اور اب ڈرامے بازی کر رہے ہین۔
میرے خیال مین اسامہ کے ٹھکانہ کے اخفا کے معاملہ مین الاظواہری اور پاکستانی طالبان ،دونوں ملوث ہین۔ ظواہری ،اسامہ سے مصر کے معاملہ پر بیان نہ دینے کی وجہ سے ناخوش تھا۔ یاد رہے مصری ہونے کی وجہ سے ظواہری کی مصر سے جذباتی وابستگی ہے۔ ظواہری اقتدار کا بھوکا ،لالچی اور غیر وفادارشخص ہے اور ہمیشہ مصریوں کو آگے لانے کی کوشش میں رہتا ہے۔ مزید بران اگر الظواہری کی گذشتہ ۵ تقریروں کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ظواہری اپنے آپ کو ایک بڑے رول کے لئے پوزیش position)کر رہے ہین۔یہ ظواہری گروپ تھا جس نے اسامہ کو قائل کیا کہ وہ قبائلی علاقہ چھوڑ کر ایبٹ آباد منتقل ہو جائین۔ سیف العدل،کی ایران سے واپسی پر ،اسامہ کو ختم کرنے کا ایک منصوبہ بنایا گیا۔ اسامہ کی ہلاکت سے پہلے ہی القائدہ مین پھوٹ پڑ چکی تھی اور القائدہ دو گروپوں میں تقسیم ہوچکی تھی۔ القائدہ کا تکفیری گروپ اسے کنٹرول کر رہا تھا۔ ظواہری مصر کی اسلامک تحریک کا دوست نہ ہے۔
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگ ملت، ننگ دیں، ننگ وطن
یہ شعر ملک و ملت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والے انہی دو غداروں میر جعفر اور میر صادق کے متعلق ہے، آج بھی دنیا ایسے ہی بدبخت اور روسیاہ غدار موجود ہیں جن پر یہ شعر صادق آتا ہے ۔مسلمانوں مین میر صادق اور میر جعفر جیسے لوگوں کی کمی نہ ہے، عباسی وزیر، ابن علقمی منگولوں سے مل گئے اور سقوط بغداد کا سبب بنے۔ ہمیشہ اس قبیل کے لوگوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا۔اسامہ بن لادن بھی اپنے بھیدیوں کی وجہ سے مارا گیا۔ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے۔
میرے خیال میں یہ لوگ ہین الظواہری اور طالبان جنہوں نے ذاتی جاہ و اقتدار ، حسد ،مخاصمت اور پیسے کے لالچ مین اسامہ کی مخبری کر دی۔اپنے آپ کو پاک صاف ظاہر کرنے کے لئے طالبان اب ڈرامہ بازی کر رہے ہین۔
اسامہ کے جانے سے القائدہ کے مصری اور دوسرے گروپوں مین جانشینی کا جگھڑا اٹھ کھڑا ہو گا اور الظواہری ، جانشین بننے کی پوری کوشش کرے گا۔ ظواہری ، اسامہ کو عبداللہ عظام کی طرح اپنی امارت کی راہ کا روڑا سمجھتا تھا۔ وہ اسامہ سے اس لیئے ناراض تھا کہ اسامہ نے مصر کے معاملہ پر کوئی بیان جاری نہ کیا تھا۔ ظواہری، اسامہ کی طرح القائدہ کو متحد نہ رکھ سکے گا اور نہ دوسرے گروپ اس کو اپنی بیعت دیں گئے، کیونکہ وہ ظواہری کو اسامہ کی ہلاکت کا ذمہ دار سمجھتے ہین۔
ہر ناکامی کے پیچھے ایک کامیابی چھپی ہوتی ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کی خفیہ ادارے آیندہ القائدہ اور طالبان کے دہشت گردوں کو پکڑنے کے لئے ،انہیں نئی جگہوں و ٹھکانوں میں تلاش کریں گے۔
اسامہ کی ہلاکت مین گرم تعاقب ( Hot pursuit) کے بین الاقوامی قانون کے نظریہ پر عمل کیا گیا ہے، آ ئیندہ اس قانون کی نئی نئی جہتیں ، تشریحات اور اچھے و برے استعمال دنیا کے مختلف ملکوں و علاقوں میں سامنے آئینں گئے۔
امریکہ نے ایبٹ آباد میں آ کر ہمارا کچھ نہیں بگاڑا۔ وہ اپنا ملزم اٹھانے آئے تھے اور اٹھا کر لے گئے۔ یہ درست ہے کہ ہماری آزادی و خودمختاری کو ختم کرنے کی پہل اسامہ بن لادن اور دوسرے غیر ملکی جہادیوں نے کی تھی ۔ کیا یہ ہماری ریاست کی ذمہ داری نہ ہے کہ ہم تمام غیر ملکی جہادیوں کو پاکستان سے نکال باہر کریں؟ اور ہم نے کس حد تک اس ذمہ داری کو نبھایا ہے۔ غیر ملکی جہادی،القائدہ اور حقانی نیٹ ورک کے لوگ پاکستان مین ویزا لے کر نہیں آئے تھے ۔ اور نہ ہی غیر ملکی جہادیوں کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت پاکستان کی ہے۔
اسامہ تو مر گیا مگر القائدہ ابھی زندہ ہے اور زخمی شیر کی مانند ہے اور خطرناک ہین۔ یہ درست ہے کہ اسامہ کی موت سےا لقائدہ کے جنگجو اور دوسرے لیڈر پژمردہ، پست حوصلگی اور انتشار کا شکار ہیں اور اپنی پناہ گاہوں مین دبکے بیٹھے ہین اور پکڑے جانے کے خوف سے نئی پناہ گاہوں کی تلاش مین ہیں۔ اس سے پہلے کہ القائدہ اپنے آپ کو دوبارہ منظم کرے، یہی موقع ہے ان پر کامیاب اور کاری وار کرنے کا،تاکہ دہشت گردی کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائے اور پاکستان مین امن و چین کا بول بالا ہو۔

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......