حکومت کا ٹرمپ کارڈ

Submitted by mshoaibfarooq89 on Tue, 11/25/2008 - 08:43

عوامی سیاسی شعور کسی بھی آمر یا نام نہاد جمہوریت کے علمبرداروں کے سروں پر لٹکتی ہوئی ننگی تلوار ہے کیونکہ جب کسی ملک کی عوامی اکثریت سیاسی طور پر باشعور ہو جائے تو حکومت کے لیئے خطرات بڑھ جاتے ہیں ، ہر حکومت اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیئے کچھ غیر انسانی اور منفی ہتھکنڈے ضرور استعمال کرتی ہے اور ان پر پردہ ڈالنے کے لیئے مختلف اقدامات بھی اٹھاتی ہے مگر جیسے مقولہ ہے کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیئے سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں مگر اس جھوٹ کا پردہ پھر بھی فاش ہوکر رہتا ہے، بالکل اسی طرح حکومت کے منفی اقدامات اور ان کے محرکات بھی عوام پر عیاں ہوکر رہتے ہیں ۔
یہاں اس بات کا ذکر تو میں بے جا ہی سمجھوں گا کہ ملک معاشی بحران سے گزر رہا ہے کیونکہ اس فقرے کی بازگشتِ مسلسل سے ہمارے کان پک چکے ہیں ۔ تاہم اس بحران اور اس کے پس پردہ حقائق ضرور پریشان کن ہیں ، یہاں سب کے علم میں ہونے کے باوجود میں تین اہم ترین بحران زدہ اشیا کا ذکر کرنا چاہوں گا ، تیل ، بجلی اور آٹا ، تین بنیادی انسانی ضروریات اس وقت بحران کے زیر اثر ہیں ، ان میں سب سے مضحکہ خیز بحران میری نظر میں بجلی کا ہے کیونکہ علاقائی سطح پر اگر دیکھا جائے تو ہمارا میانوالی کا علاقہ ایک پسماندہ علاقہ تصور کیا جاتا ہے ، ترقی کی شاہراہ پر ہماری رفتار نسبتاً کم ہے ، اور اس کی بنیادی وجہ ہمارے رہنما ہیں تاہم یہ ایک الگ موضوع ہے جو عنوان ہذا سے مطابقت نہیں رکھتا ، علاقے کی پسماندگی کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس پسماندہ علاقے میں بھی پچھلے دس پندرہ دنوں سے لوڈ شیڈنگ نہ ہونے کے برابر ہے ، بقول وفاقی وزیر پانی وبجلی ، پورے ملک میں صرف کراچی میں ہی دو سے اڑھائی گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے، باقی ملک میں کوئی لوڈ شیڈنگ نہیں خیر اس ضمن میں یہ پہلو خاصا مضحکہ خیز اور حیران کن ہے کہ ایک طرف تو بجلی کا شدید ترین بحران موجود ہے اور دوسری طرف اچانک دس پندرہ دن کے لیئے لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ بھی کردیا جاتا ہے، یہاں ، میانوالی میں ، پچھلے دس پندرہ دن کوئی خاص قابل ذکر لوڈ شیڈنگ نہیں ہوئی مگر پچھلی سہہ پہر سے لے کر آج صبح تک غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوچکا ہے، اور کل سے لے کر آج تک سات سے آٹھ گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہوچکی ہے، اب میری ادنیٰ رائے کے مطابق اس کی دو وجوہات ہی ہوسکتی ہیں ایک وجہ تو کسی احمقانہ پالیسی میکر کے بیوقوفانہ مشورے اور دوسری وجہ عوام کو غیر یقینی صورتحال میں رکھنا ، لوگوں کو بنیادی اشیا ئ کے بحران کی چکی میں پسا کر قومی اور ملکی مسائل سے ان کی نظر ہٹا دینا، یہاں اگر حکومت کو بالکل پاک صاف قرار دے دیا جائے اور کہا جائے کہ حکومت بیچاری پر واقعی اس بحران کا بوجھ ہے تو یہ کسی بیوقوف پالیسی میکر کا کیا دھرا ہے۔ جو بجلی کی ڈیمانڈ اور سپلائی برابر ہونے پر لوڈ شیڈنگ مکمل طور پر روکنے کا مشورہ دے دیتا ہے، جس کا نتیجہ اچانک غیرمتوقع آٹھ سے دس گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر منتج ہوتا ہے، لہٰذا اس کا تو ایک ہی حل ہے کہ ڈیمانڈ اور سپلائی برابر ہونے کے دنوں میں بھی تین یا چار گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ جاری رکھی جائے تاکہ اچانک ہونے والی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے بچا جاسکے ۔ مگر میرا نہیں خیال کہ واپڈا اور حکومت کے کرتا دھرتائوں کی عقل اتنی بھی مائوف ہوسکتی ہے کہ وہ اتنی موٹی سی بات کو نہ سمجھ پائیں ۔اب آتا ہوں دوسری اور اہم وجہ کی طرف، جو یہ ہے کہ عوام کو جان کے لالے ڈال کر ان کے سیاسی شعور کے قفس عنصری سے روح کے پرندے کو آزاد کردینا، اس بات کی وضاحت ایک سادہ سی مثال سے کی جاسکتی ہے کہ ایک طرف آپ پر کوئی بندوق تان کر کھڑا ہوجائے اور دوسری طرف آپ کی املاک اور آپ کے پڑوس کے گھروں کو آگ لگا دی جائے تو آپ سب سے پہلے کس کو بچائیں گے ؟ یقینا جان بچانا آپ کے لیئے اولین ترجیح ہوگی ۔اس وقت آپ کی نظر نذر آتش قیمتی املاک پر کہاں جائے گی ؟ بالکل اسی طرح تیل، بجلی اور آٹے جیسی بنیادی اشیا ئ کے بحران کی وجہ سے ہم باجوڑ ، سوات اور خودکش حملوں کے نتیجے میں ناحق مرنے والوں کی معصوم شہادتوں کو بھول چکے ہیں ، ہمیں اپنی جان کے لالے کچھ اس طرح ڈال دیے گئے ہیں کہ سیاسی شعور کی دولت ہمارے ہاتھوں سے ریت کے ذروں کی مانند پھسلتی جارہی ہے۔بجلی اور تیل کا بحران حکومت کا ٹرمپ کارڈ ہے جو وہ عوام کے سیاسی شعور کے خاتمہ کے لیئے استعمال میں لا رہی ہے۔ مگر اسے حکومت اور عقل مند حکام کا بھولپن ہی کہیے، کیونکہ عوام کے پاس پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا جیسی حکومت محتسب قوتیں موجود ہیں اس لیئے عوام کے سیاسی شعور کے خاتمہ کے لیئے حکومت کو یا تو بجلی اور کیبل کا مکمل طور پر خاتمہ کرنا ہوگا یاریڈیو اور اخبارات پر پابندی لگانا ہوگی، یا پھر اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی انگریز حکومت کی طرح پھر کوئی قانون زبان بندی یا (Gagging Act)متعارف کرانا ہوگا کیونکہ ان بیوقوفانہ ہتھکنڈوں سے حکومت کی نا پختگی عوام پر آشکار ہوتی ہے۔

Hakoomat ka triumph card is an urdu article by Mohammad Shoaib Farooq Qureshi about political tactics of government of pakistan.

Guest (not verified)

Sat, 10/23/2010 - 15:17

asalamu alykum

mujy aap ky dono articles bohat pasand aey hain. aap ka andaz e beyan bohat acha hai. main MSC Mass Communication ki student ho. keya aap mujy apni mazeed tehrerain ya apni pasandeeda tehrerain mail kar sakty hain. maira email address note kar lain.

Naila_khan40@yahoo.com

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......