مدرسہ دارالعلوم غالبیہ

Submitted by saeed afridi on Sun, 09/28/2008 - 21:27

بنیاد پرستی کی تعلیم دینے والے مدرسوں کی فصلِ گُل ہے کہ تھمنے میں ہی نہیں آرہی۔ جہاں دیکھو اُودے اُودے ، نیلے نیلے ، پیلے پیلے پیرہن۔ یہ تو ہماری مہربانی ہے کہ انہیں فصلِ گُل سے تشبیہ دی ورنہ ۔۔۔ خیر چھوڑئیے منہ کا ذائقہ کیوں خراب کریں؟
ہم تو کبھی کبھی یہ سوچتے پائے جاتے ہیں کہ کیوں نہ پاکستان میں ادبی مدرسوں کی بنیاد ڈالی جائے۔ مصرعۂ طرح ہم دیئے دیتے ہیں۔
ایک ایسا مدرسہ جس میں فقہۂ میر و درد کی تعلیم دی جائے۔ جہاں کلامِ غالب ، کلامِ ذوق اور بالِ جبریل حفظ کرائی جاتی ہو۔امام غالب رحمتہ اللہ علیہ کے کلام کی تشریح و تفسیرکا جہاں انتظام ہو۔جہاں تمام اصنافِ سخن سے متعلق صحیح روایات کی جمع وتدوین پر بیسیوں طلبا ئ مصروفِ کار ہوں۔جہاں سیاسیات، سماجیات، عمرانیات، معاشیات اور نفسیات پر پڑنے والے ادب کے اثرات کا جائزہ لیا جائے۔
جس میں ایک طرف ’’ادب برائے ادب‘‘ تو دوسری جانب ’’ترقی پسند ادب‘‘ اور ’’مزاحمتی ادب ‘‘ کے شعبے بھی ہوں۔جہاں دنیا بھر سے گیارہ گیارہ گز کے اہلِ زبان آکر طلبائ سے خطاب کریں۔ جہاں جمعرات کے جمعرات یا پھر کسی بھی دِن اردو ادب کی کُتبِ عالیہ کا ختم کرایا جاتا ہو۔ ایک نئی شروعات کے لیے۔ اس ختم کا تمام زبانی ثواب کُتبِ عالیہ کے مصنّفین اور خالقین کو جبکہ نقد اِن کی نسلوں اور اولادوں میں تقسیم کیا جائے۔ جہاں دنیابھر سے چیدہ چیدہ ادب درآمد کر کے انہیں اُردو کے قالب میں ڈھالا جائے۔
ادارے کا اپنا ذاتی چھاپہ خانہ ہو۔ کمپوزنگ او ر پُروف ریڈنگ سے لے کر طباعت و جلد سازی تک کے تمام مراحل یہیں طے ہوں۔ کتابوں کی فروخت سے ہونے والی آمدن اُن ادیبوں اور شاعروں میں تقسیم ہو جو کہتے ہیں :۔
فکرِ دنیا میں سرکھپاتا ہوں
میں کہاں اور یہ وبال کہاں
مضمحل ہو گئے قویٰ غالب
وہ عناصر میں اعتدال کہاں
مدرسہ، کُھلنے اور بند ہونے کے اوقات سے بے نیاز، چوبیس گھنٹے کُھلا رہے ۔ البتہ صبح صبح ہماری ملکی تعلیمی روایات کی رو سے اجتماعی دُعا کا اہتمام ضرور ہو۔جس میں مَہ، ساغر، ساقی اور مَہ خانے کے استعاروں میں علم ، تعلیم اور درسگاہ کی باتیں ہوں۔دُعا کے چند بول یوں بھی ہوسکتے ہیں۔
یہ ساغر لبوں سے لگاؤپیو
پیو خود ہمیں بھی پِلاؤ پیو
نہ کافر کوئی ہے نہ ملحد یہاں
سبھی گیت مِل کر یہ گاؤ پیو
نہ جیتے نشہ آج کی بزم میں
نشے کو مسلسل ہراؤ پیو
حرم تو نہیں ہے جو خاموش ہو
ذرا شور غُل بھی مچاؤ پیو
اب ایسا بھی کیا ہے تکلّف یہاں
خود اپنی بھی جانب بڑھاؤ پیو
تمہیں ہی چلانا ہے کَل مَہ کدہ
ابھی سے یہاں دِل لگاؤ پیو
ویسے تحصیلِ ادب کے لیے شراب کی حیثیت نصاب کی سی نہیں ۔ لیکن کچھ ایسے ادیب اور شعرائ ضرور ہیں جو کہتے ہیں:۔
پھر دیکھئے اندازِ گُل افشانیٔ گفتار
رکھ دے کوئی پیمانہ و صہبا میرے آگے
لہٰذا بہتر ہے کہ ان کے لیے ایک چھوٹا سا بار کیفے ٹیریا کے ساتھ کھولا جائے ۔ یہ بار اُن ادیبوں اور شاعروں کے لیے بھی ہو گا جو کہتے ہیں کہ
مَہ سے غرض نشاط کس روسیاہ کو ہے
اِک گونہ بے خودی مجھے دِن رات چاہیے
اُردو ادب پر غالب کے گہرے اثرات کے پیشِ نظر مدرسے کا نام ہو گا۔ ’’مدرسہ دارالعلوم غالبیہ ‘‘۔ مدرسہ چونکہ غالب کے نام سے موسوم ہے ، اس لیے غالب کی حکایاتِ مَہ کو سامنے رکھتے ہوئے مہتمِ اعلیٰ کے لیے جناب منیر نیازی سے بہتر کوئی امیدوار نہیں ہو سکتا تھا ۔ لیکن افسوس کہ ایک اور بڑا شاعر رُخصت ہؤا۔
’’حق مغفرت کرے ، عجب آزاد مَرد تھا‘‘
اب اگر فراز صاحب تحریری طور پر یہ یقین دہانی کرا دیں کہ وہ اپنا آفس بار(Bar)سے کم از کم دو فرلانگ دُور رکھیں گے ۔ تو ان کے نام پر سنجیدگی سے سوچا جا سکتا ہے۔
ارے۔۔! ہم ایک بات تو بُھول ہی گئے ۔ مدرسہ ہو اور اسلحہ نہ ہو ۔ کیونکر ممکن ہے؟ہمارے اس مدرسے کا اسلحہ وہی ہو گا جو محمد(ص) نے ہمیں دیا تھا۔ ’’اقرائ‘‘۔ یہ وہی اسلحہ ہے جسے بعد میں امام ابو حنیفہ ، ابنِ رُشد ، والٹیئر ، اقبال اور برٹرنڈ رسل نے استعمال کیا تھا۔

نام مصنف۔ سعید احمد آفریدی۔۔۔۔ فون نمبر۔081-2854619
پتہ۔اے ۔580۔اے، ون سٹی ، بروری روڈ کوئٹہ

Hi, I am sending you my own article “ Madrisa darul uloom Ghalibia”. Please receive & inform me. This article is in “Inpage 2.4” format.

Saeed Ahmed Afridi
Quetta.

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......