کبھی بھول کر نہ آنا میری سرحدوں کی جانب

Submitted by lalikjan on Sun, 09/21/2008 - 19:13

یہ دس اور گیارہ ستمبر کی درمیانی رات تھی۔دشمن وطن کو ہر طرف منہ کی کھانی پڑی تھی۔شاید ہی کوئی محاذ ہوگا جہاں دشمن کو اپنی جارحیت کا جواب کٹھے دانتوں کی صورت نہ ملا ہو۔اس کے ڈنگ سے رنگ نکال دیا گیا تھا۔کہیں سے یہ اطلاع ملتی کہ فضائی حملے کا خطرہ ہے تو ہمارا ائرڈیفنس الرٹ فوراً چوکنا ہو جاتا۔جہاں دشمن کی زمینی نقل و حرکت کااشارہ ملتا ، زمینی دستے فوراً اپنے جوہر دکھاتے اور پھر صورتحال یکسر تبدیل ہو جاتی۔انہی حالات میں فضائیہ اور بری فوج باہمی تعاون و روابط کے ساتھ اپنے اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

جنگ کے دوران متعدد ایسے مشن ہوتے ہیں جو کہ تمام مسلح افواج کو باہمی تعاون سے سر انجا م دینے ہوتے ہیں۔ بری ،بحری اور ہوائی افواج باہمی روابط اور تعاون سے اپنے مشن سرانجام دیتے ہیں۔ ایسے مشن ،،کلوز سپورٹ مشن ،،کہلاتے ہیں۔ ا یسے ہی حالات میںسیالکوٹ سیکٹر میںخفیہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ دشمن سیالکوٹ پر قبضہ کرنے کا مذموم ارادہ رکھتا ہے۔رات کا دوسرا پہر تھا ۔ ایسی صورتحال میں زمینی دستوں کے لیے یہ مشکل تھا کہ دشمن کے دستوں کی بھر پور نشاندہی کر سکیں۔انکے لئے رکاوٹ بن سکیںیا مکمل طور پر انکا دفاع کرسکیں۔سیالکوٹ کی جغرافیائی صورتحال اس نوعیت کی تھی کہ وہاں پر زرعی رقبہ، جنگلات اور ندی نالے بہت زیادہ ہیں۔ایسے میں دشمن کہیں سے بھی چھپ چھپا کر پیش قدمی کرسکتا تھا۔نہایت غور و خوض کے بعد یہ جنگی حکمت عملی اختیار کی گئی کہ رات کے اس پہر علاقے میں روشنی کے گولے پھینکے جائیںاور ان گولوں کی نشاندہی پر بم گرائے جائیں۔یہ دشمن کو دھمکانے ، ڈرانے اور پیش قدمی سے باز رکھنے کا ایک حربہ تھا۔ایک خطرہ یہ تھا کہ ہماری بمباری ہمارے اپنے دستوں کو نقصان پہنچانے کا سبب نہ بن جائے۔ رات کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں اپنے دستوں کو حرکت میں لانا دشمن کو انکی نشاندہی کر سکتا تھا یا انکو چوکنا کرنے کا سبب بنتا۔

پاک آرمی کی طرف مسلسل اس اہم مشن کی تکمیل کا کہا جا رہا تھااور جب اس مشن کو عملی طور پر کیا جا رہا تھاتو کسی ایسے ہواباز کا انتخاب ضروری تھا جو اس علاقے سے باخبر ہو۔ سکواڈرن لیڈر رئیس اے رفیع کو پہلا مشن اُڑنا تھا جبکہ فلائٹ لیفٹننٹ اختر بطور نیوی گیٹر اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ریڈیو ٹرانسمیٹر پر زمین پر موجود رابطہ آفیسر کو صورتحال سے باخبر کیا گیا۔اس سے مطلوبہ معلومات وصول کی گئیں اور پھر اس خطرناک مشن کیلئے حکمت عملی وضع کی گئی۔یہ نہایت خطرناک صورتحال تھی اگر صبح ہونے کا انتظار کیا جاتا تو دشمن کے مذموم عزائم ----- جارحانہ طریقہ کار اور بدنیتی پر مبنی ارادوں کا انجام سیالکوٹ کی سرزمین کو خطرے میں ڈالنا تھا اور اس کا خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا تھا۔ایک نالہ جو کہ دشمن کی نقل و حرکت کے لئے مرکز خیال کیا جا رہا تھا اس کو بمباری کے لئے چنا گیااور یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس کے ایک طرف پاکستانی دستے موجود ہیں اس لیے نہایت مہارت کے ساتھ بمباری کی جائے۔

سکواڈرن لیڈر رئیس اے رفیع، اپنے ساتھی نیوی گیٹر فلائٹ لیفٹننٹ اختر کے ہمراہ پشاور سے B-57 طیارے میں اُڑے تاکہ مقررہ کردہ ہدف کو نشانہ بنایاجا سکے۔دھڑکتے دلوں اور پر خطر حالات میںانہوں نے اہداف پر روشنی کے گولے پھینکے اور پھر اپنے بم گرادیے۔ان کی اس کاروائی کا نتیجہ پر خطر تھا۔ایک انجانا خوف تھاکہ کہیں یہ بم اپنے دستوں کو نقصان نہ پہنچادیں ۔دشمن کی صفوں کو پچھاڑنے کا تجربہ تو انوکھا ہوتا ہے مگر اپنوں کے لہو کی تڑپ کس سے برداشت ہوتی ہے ۔یہی سوچ ان ہوا بازو ںکے لئے وجہ پریشانی تھی۔ سکواڈرن لیڈر رئیس اے رفیع، اپنے ساتھی نیوی گیٹر فلائٹ لیفٹننٹ اختر کے ہمراہ متعدد بمبنگ مشنوں میں حصہ لے چکے تھے ۔بم گرانے کا یہ تجربہ انوکھا تھا۔ بم گرانے کے بعد سکواڈرن لیڈر رئیس نے ایک جذباتی انداز میں مشن کی کامیابی کیلئے زمین پر موجود رابطہ افسر سے استفسار کیا۔اور پھر ملنے والی خبر نے ان جانبازوں کے چہروں پر خوشیوں کے بادل بکھیر دیے۔بم اپنے اہداف پر لگے تھے۔رابطہ افسر بھی خوشی و جذبات کے ملے جلے احساسات کے ساتھ انکو مبارکباد دے رہا تھا دشمن کی اس کاروائی کو روکنے کیلئے دوسرے نمبر پر موجود ہواباز نے بھی اپنے بم گرائے اور پھر یہ کاروائی صبح تک جاری رہی۔ علی الصبح پاک فضائیہ کے F-86 طیاروں نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں اور براہ راست نظر آنے والے اہداف کو تباہی و بربادی کا سبق سکھایا ۔

پاک فضائیہ نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحییتوں کے بل بوتے پر ایک نئی تاریخ رقم کی اور دشمن پاکستان کو نہ بھولنے والا سبق سکھایا۔وہ سبق شاید کچھ اس طرح تھا!
جو بہادری کے کیڑے کبھی سر میں کلبلائیں ،
تو یہ جان لینا کہ سنی تھی یہ صدائیں
کھبی بھول کر نہ آنا میری سرحدوں کی جانب ۔۔۔۔۔
میری سرحدوں کی جانب کبھی بھول کر نہ آنا
بلاشبہ پاک فضائیہ کے اس براہ راست معاونتی مشن (Close Support Mission) کا نتیجہ تھا کہ اس رات دشمن ارض پاک پہ ایک انچ بھی آگے نہ بڑھ سکا۔یہی حوصلوں کی معراج ہے یہی ہماری پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا مظہر ہے اور یہی جنگ ستمبر کے وہ سنگ میل ہیں جو ہمارا سرمایہ افتخار ہیں۔

فلائنگ آفیسر زاہد یعقوب عامر
زاہد یعقوب عامر
عامر ہائوس کالیکی منڈی تحصیل و ضلع حافظ آباد
ph 0333 5153370
zahid.aamir@yahoo.com

This article is about the heroic role of PAF in 1965 war. PAF contributed alot in national defence. This article is basically about close support of PAF with Pak Army. PAF Heroes played their role with great traditions and historic fashion.Alam,Rafiqui,Yunus,Munir and many more,,,,, these are the figures who gave unforgetable lesson to Indian Forces and became a shield of iron for the arial boundries of motherland,,,,,,,well done Pak Fazaya.

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......