ڈاکٹر عافیہ صدیقی

Submitted by yasmeen Iman on Fri, 09/05/2008 - 05:38

ڈاکٹر عافیہ صدیقی
برطانوی صحافی خاتون ریڈلی نے اپنی زندگی کے 11دن طالبان کی قید میں گزارے تھے اورطالبان کے حسنِ سلوک کی وجہ سے ریڈلی نے اسلام قبول کیا۔اب وہ ایک مکمل مسلمان بن چکی ہے۔ماہ جولائی 2008ئ کو ریڈلی نے میڈیا کو بتایا کہ افغانستان کے بکرام ہوائی اڈے پر موجود عقوبت خانے میں ایک پاکستانی خاتون قید تنہائی کاٹ رہی ہے۔اس نے مزید بتایا کہ بکرام کے بندی خانے میں صرف ایک خاتون قید ہے جس کی رات کو چیخیں سنائی دیتی ہیںتو وہاں موجود دوسرے قیدیوں کے دل لرزااُٹھتے ہیں ۔وہ خاتون دوسرے قیدیوں کے لئے ایک بھوت بن چکی ہے۔میں نے جب یہ بیان ریڈلی کا پڑھا تو میرا دل خون کے آنسو رونے لگا اور میں سوچنے لگی کہ پاکستانی شہریت رکھنے والی خاتون کے ساتھ کس طرح امریکی ظالم سلوک کر رہے ہیں اور اسے کس گناہ کی سزا دی جارہی ہے؟ایک عورت امریکہ کے لیے کس طرح دہشت گردبن سکتی ہے؟ایک مسلمان خاتون پر آج تک کتنے ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ چکے ہیں؟قارئین کرام آپ تصور کریں کہ ایک مشرقی روایات کی علمبردار مسلمان خاتون کس طرح غیر مسلم کفار کے سامنے التجائیں کرتی ہوگی اور ان سے ضرور یہ سوال پوچھتی ہوگی کہ مجھے پاکستانی شہریت رکھنے والی اور مسلمان خاتون ہونے کی وجہ سے اذیتیں دی جارہی ہیں۔اس کا قصور صرف یہی ہے کہ وہ مسلمان ہے،اب تو وہ اپنی سابقہ یاداشت کھو چکی ہے اور نفسیاتی مریض بن چکی ہے ۔اس کے دل میں یہ خواہش انگڑ ائی لیتی ہو گی کہ شاید کوئی پاکستانی مرد محمد بن قاسم(رح) کی شکل میں آئے اورمجھے کفار کی قید سے آزاد کرادے کہ اُسے مسلمان مردوں سے یہی توقع ہے۔
اسے کیا معلوم کہ تمام پاکستانی آج ،اتنے بے بس ہو چکے ہیں کہ وہ اپنے حکمرانوں کے سامنے احتجاج تک نہیں کر سکتے،اور تمام پاکستانی سیاستدان اور حکمران اتنے بے بس اور لاچار 61سالہ تاریخ میں پہلے کبھی نہ تھے جتنے آج امریکہ کے سامنے ہیں اور بھیگی بلی بنے بیٹھے ہیں اور یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ اب کیا حکم ہے میرے آقا!پاکتانی حکمرانو تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو مجھے یاد ہے کہ جب ایک صحافی ڈینیل پرل کو کراچی میں قتل کر دیا گیا تھا تو اس وقت امریکہ کے حکمران حرکت میں آگئے تھے اور بالاخر اس کے قتل کا ذمہ دار ایمل کانسی کو ٹھہرایا گیا اور پھر پاکستانی حکمرانوں کی بے حسی اس وقت تمام دنیا کے میڈیا کو دیکھنے کو ملی جب ایمل کانسی کر پکڑ کر امریکہ کے حوالے کر دیا گیا اور اسے زہر کے ٹیکے لگا کر قتل کر دیا گیا ۔ کسی پاکستانی حکمران نے اس کے قتل پر احتجا ج نہ کیا۔ آج جبکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کفار کی قید میں ہے اور پاکستانی حکمران خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں ۔ آخر کیوں ؟ اس سوال کا جواب شاید کسی کے پاس نہ ہو۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی 2مارچ 1972ئ کو کراچی میں پیدا ہوئی ۔ ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کرنے کے بعد بوسٹن یونیورسٹی اور میلسی چیوسٹیس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ﴿MIT﴾ امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے نیورولوجی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔
عورت کا تعلق کسی بھی مذہب کے کسی بھی فرقہ سے ہو وہ تمام انسانوں کیلئے قابل احترام ہوتی ہے ۔ اس کی عزت کی حفاظت کرنا تمام انسانوں کا فرض ہے ۔ مسلمانو!اس وقت کو یاد کرو جب ایک عورت شام سے دمشق تک سفرکرتی اور وہ زیور سے آراستہ ہوتی تھی ۔ لیکن اس کی عزت ، جان ومال کو کوئی خطرہ نہ ہوتا تھا ۔ ایک دفعہ فاطمہ نامی خاتون نے بھی خط لکھا تھا جوکہ ابو غریب جیل میں قید ہے ۔ اس نے لکھا تھا کہ پاکستان میں کوئی مسلمان مرد موجود نہیں جو اسے کفار کی قید سے آزاد کرائے ۔
لیکن ہمارے حکمران اپنی کرسی اقتدار کو بچانے کیلئے وائٹ ہائوس امریکہ کا طواف کر رہے ہیں ۔
خدارا ابھی وقت ہے کہ اپنی حکومت کو بچانے کیلئے امریکہ بہادر کے پاس جانے کی بجائے پاکستانی عوام کی عدالت میں اپنے آپ کو پیش کر کے ایک مثال قائم کرو اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور پاکستان کے دوسرے کئی افراد جو امریکہ کی قید میں ہیں ۔ ان کی رہائی کیلئے ہر ممکن اقدامات کرو تاکہ تم پاکستانی عوام کے سامنے سرخروہو سکو۔
امریکہ کی خوشنودی کی خاطر بہت ہو چکا ۔ اکبر بگٹی کو قتل کر دیا گیا ، باجوڑاایجنسی میں 30اکتوبر 2006ئ کو امریکہ کی بمباری سے دینی مدرسہ ضیائ العلوم تباہ کر دیا گیا ۔
اور 83بے گناہ بچے شہید کر دیئے گئے ۔ لال مسجد آپریشن اسلام آباد سے تقریباً1800پاکستانی افراد امریکہ کے حوالے ہو چکے،مہمند ایجنسی میں موجود پاکستانی چیک پوسٹ پر امریکی حملہ سے ایک میجر سمیت 11فوجی جوان شہید ہو چکے۔سوات آپریشن مکمل ہو چکا ہے، خود کشیاں حد سے زیادہ مہنگائی کی پھنکارتا ہوا اژدھا پاکستانی عوام کو نگل چکا ۔
آج فیصلہ دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں کے ہاتھ میں ہے کہ دنیا میں دہشت گرد کون ہیں؟ایک طالبان کہ جن کے حسن سلوک سے برطانوی صحافی ریڈلی نے اسلام قبول کر لیا اور دوسرا امریکہ کہ جس کی دہشت گردی سے مسلم ممالک کو تباہ کیا جارہا ہے۔ افغانستان اور عراق پر امریکہ نے قبضہ کر لیا۔کفار کا دنیا کے مسلم ممالک پر قبضہ کرنا مشن بن چکا ہے۔آج 59اسلامی ممالک میں بسنے والے ایک ارب تیس کروڑ مسلمانوں کی غیرت اسلامی مکمل طورپر دفن ہو چکی ہے۔آج وقت ہے کہ 59اسلامی ممالک کے سربراہان مکمل اتحاد کر لیں اور کفار کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں ،تاکہ کسی کو جرات نہ ہو کہ وہ مسلمانوں کی غیرت اسلامی کو چیلنج کرسکے۔

یاسمین ایمان

This is an Urdu article about Dr affia sadique by Yasmeen Iman

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......