ضرورت

Submitted by Guest (not verified) on Wed, 03/26/2008 - 12:28

پاکستان میں حالیہ الیکشن کے بعد بھی حالات دن بدن ابتری، خلفشار اور بدامنی کی طرف بڑھ رہے ہیں. پاکستان کی تخلیق کے ابتدائی نو سالہ دور بغیر کسی ملکی آئین کے گزارا گیا حالانکہ اس وقت بڑے بڑے سیاسی چمپئن موجود تھے. سال 1956ئ میں پہلا آئین وجود میں آیا اور سال 1958ئ میں مارشل لائ نے اس کو ختم کر دیا اور ملک میں منظم انداز میں فوجی آمریت متعارف کروائی گئی دس سال بعد ایوبی آمریت کو جنرل یحییٰ کی آمریت سے بدلا گیا پھر ملک کو دو ٹکڑے کر دیا گیا جبکہ ہمسایہ ملک میں آغاز سے فوجی آمریت سے شعوری و فکری بنیادوں پر دور رہتے ہوئے سیاسی نظام متعارف کروایا اور نافذ العمل کیا گیا جبکہ ہمارے حزب اقتدار اور حزب اختلاف نے برطانوی اور امریکی سامراج سے راہ و رسم و تعلقات کو اتنی گہری اور وسعت دی کہ ہر دونے ان تعلقات کے سہارے اقتدار میں آنے اور قائم رہنے کیلئے اس پالیسی کو بنیادی و لازمی قرار دیا جو آج تک قائم ہے۔

دراصل ملک کے تمام سیاسی و مذہبی لیڈر امیرطبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس لئے کر رہے ہیں کہ موجودہ صورت حال جوں کی توں قائم رہے وہ کنویں سے مردار کتے کو نکالنے کی بجائے نوے یا چند ڈول نکال کر پاک و صاف کرنے پر اکتفا کرنے والے ہیں۔ وہ امیر و غریب، کام کرنے والے کو کام نہ کرنے والے مزدور کسان اور مڈل کلاس، جاگیردار و سرمایہ دار، ملاں ملٹری لارڈز پر مبنی طبقاتی نظام کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں عدالتی بحران کے بعد معاشی، اقتصادی اور سماجی و طبقاتی بحران پوری طرح پنجے گاڑھے ہوئے ہے،ملک کی موجودہ صورت حال کے بارے میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ملک پاکستان کے نو کروڑ باشندے غربت کی لکیر سے کہیں نیچے سسک رہے ہیں. ان نو کروڑ لوگوں میں سے نصف چوبیس گھنٹے میںایک بار کھانا کھاتے ہیں. اس ملک کے تین چوتھائی لوگ بیمار ہیں۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان دس گیارہ ممالک میں ہے جن میں مہلک بیماریاں خطرے کی لکیر کو چھو رہی ہیں. ٹی بی واپس آ چکی ہے۔ اس وقت ایک کروڑ سے زائد لوگ اس خوفناک بیماری کا شکار ہیں۔ زیابیطس میں پاکستان ساتویں نمبر پر ہے۔ کینسر، ہیپاٹائٹس اور امراض قلب میں پاکستان تیسرے ، چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہے۔ ہر سال صرف انٹرنیشنل کمپنیاں پاکستان میں 55 ارب روپے کی دوائیں بیچتی ہیں۔ پاکستان میں 98ئ میں 28 لاکھ 58 ہزار 7 سو 15 بوڑھے تھے اب ان کی تعداد 34 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ یہ تمام لوگ 65 سے 70 سال کے ہیں۔ 70 سال سے اوپر کے 95 فیصد بوڑھے افراد دوائوں پر زندہ ہیں۔ اور 45 فیصد لوگوں کی دوا اور ڈاکٹر دونوں تک رسائی نہیں. ایک طرف یہ صور تحال ہے جس میں دس برسوں میں دوائوں کی قیمتوں میں ساڑھے سات سو فیصد اضافہ ہوا، کم سے کم اضافے کی شرح بھی 221 فیصد ہے۔ وہ دوا جو 1992ئ میں چھ روپے میں آتی تھی وہ اب 21 روپے میں مل رہی ہے۔ ایک سو 10 روپے کی دوائی اب ساڑے سات سو روپے کی ملتی ہے۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس میں زندگی بچانے کی 156 دوائوں کی قیمتوں میں انتہائی خوفناک اضافہ ہوا جبکہ دوسری طرف حکومت سرکاری ہسپتالوں کو خود مختاری دیتی چلی جا رہی ہے۔ مریضوں کو ڈاکٹروں اور فارما سوٹیکل کے رحم و کرم پر چھوڑتی چلی جا رہی ہے. اس وقت دنیا میں 174 کے قریب غریب ممالک ہیں۔ پاکستان اس فہرست میں 39 ویں نمبر پر ہے، گویا غریب ممالک اس فہرست میں بھی پاکستان سے 135 کے قریب امیر ممالک ہیں ان 135 ممالک کے عوام پاکستانی عوام سے بہتر اور زیادہ کھاتے ہیں. تخمینوں کے مطابق اگر 5افراد کا گھرانہ انتہائی کفایت شعاری سے گزارہ کرے۔ وہ تین ہزار روپے کرائے کے مکان میں رہے۔ صرف ایک ہزار روپے کی بجلی جلائے﴿اگر مل جائے تو﴾، دو من آٹا﴿جو کہ موجودہ حالات میں تصور میں ہی لایا جاسکتا ہے﴾. پانچ کلو گھی. دس کلو چینی اور پندرہ سو روپے کی دوائیں وغیرہ استعمال کرے۔ بچوں کی فیس صرف نو سو روپے ہو تو اس گھرانے کو 35 ہزار چار سو روپے ماہانہ کی ضرورت ہے۔ ذرا تصور کیجئے اس ملک میں کتنے لوگ ہیں جو اس معیار تک پہنچ سکتے ہیں۔

یہ ہے اس ملک کی اصل تصویر لیکن ہم نہ جانے کس دنیا میں رہ رہے ہیں، ہم ناجانے کن لوگوں کو غریب سمجھ رہے ہیں ہماری نظر میں شائد وہ شخص غریب ہے جس کے پاس صرف ایک گاڑی ہے یا پھر وہ بیس تیس ہزار کے کرائے کے مکان میں رہتا ہے۔پاکستان دنیا بھر میں کسی بھی قابل فخر مقام پر فائز نہیں بلکہ بعض ایشوز پر تو صورت حال انتہائی افسوس ناک ہے۔صرف جنوبی ایشیائ میں ہی پاکستان تعلیمی پسماندگی کا شکار ہے۔

صاحبو! بھٹو نے باہر نکل کر آگ لگا دی، روٹی کپڑا اور مکان اس کا نعرہ تھا۔ لوگ بھٹو اور اس کے نعرے کے دیوانے ہو گئے، بھٹو جہاں قدم رکھ دیتا لوگ وہ وہ زمین چومنے لگتے۔ وہ جس گلاس میں پانی پیتا لوگ اس کی کرچیاں تک بانٹ لیتے۔ وہ جس طرف نکل جاتا لوگوں کا ایک سمندر اس کے ساتھ ساتھ موجزن ہو جاتا، بزرگ بتاتے ہیں جتنی مقبولیت بھٹو نے پائی وہ اس ملک میں قائداعظم کے سوا کسی کو نہیں ملی لوگ حقیقتاً بھٹو کو اپنا مسیحا، اپنا نجات دہندہ سمجھتے تھے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ بھٹو اقتدار میں آ گیا تو انہیں روٹی بھی ملے گی، کپڑے بھی اور چھت بھی، بھٹو آیا، بھٹو رہا اور پھر بھٹو چلا گیا لیکن نعرہ فقط نعرہ رہا، غریب غریب عوام ہی رہے، جس کے سر پر چھت نہیں تھی ، اس کا سر اسی طرح بے سایہ رہا، جس تن پر کپڑے نہیں تھے، وہ بدستور ننگا رہا اور جو ٹکڑے چن چن کر پیٹ بھرتا تھا وہ اسی طرح ’’روڑیوں‘‘ میں رزق تلاش کرتا رہا۔ بھٹو کے بعد بھی جتنے لوگ آئے وہ بھی غریب عوام کو روٹی، کپڑے اور مکان کا جھانسہ دیتے رہے ان کی آنکھوں میں بھی غریب عوام کے دکھ، غریب عوام کی تکلیف اور غریب عوام کی پریشانیاں چھبتی تھیں، وہ بھی ریڈیو اور ٹیلیویژن پر آنسو بہاتے اور آنسو پونچھتے تھے، لیکن مکان، کپڑا اور روٹی اسی طرح غریب عوام سے دور رہی، چینی، بحران اور اب آٹا بحران.بجلی کی لوڈشیڈنگ،30,40 بڑوں نے زرعی ملک کاآٹا ایسے چھپالیاجیسے رمضان المبارک کے بعد کھجوریںجیسے ایسے حا لات میں کن لوگوں نے آٹا سٹاک کر لیا اور اچانک 10 روپے فی کلو سے 32 اور اسی دن 40روپے فی کلو آنے کے باوجود غریب آٹا، آٹا کر رہے ہیں ۔ علاوہ ازیں زندگی کی بنیادی سہولتیں اسی طرح غریبوں کی دسترس سے باہر ہیں جس طرح آٹا۔زور و شور سے آنے والی نئی قیادت کے سامنے آج سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ عوام کے اندر سے بے یقینی ختم ہو جائے گی.؟ حقدارکوحق ملے گا.؟مظلوم کو انصاف ملے گا.؟ہرکوئی قانون کی نظر میں برابر ہوگا.؟بہتری کی طرف کے جانے والامعیشت پرمبنی نظام قائم ہو سکے گا.؟غریب،بے سہارااوریتیموں کی کفالت اورذمہ داری حکومت اپنے سر لے گی.؟کیاچھ لاکھ سے زائد افرادکی قربانیوںسے وجود میں آنے والے پاکستان کی 15 کروڑ عوام کو آٹا ملے گا.؟دیہاڑی دار مزدور کو روزی.بیمار کو صحت کے لیے ’’ سستی دوائی‘‘اور سہولیات.پڑھے لکھے نوجوانوںکے دلوں سے تنگدستی کا خوف جائے گا.؟

یقین کیجئے کپڑے اور مکان بہت پیچھے رہ گئے ہیں، لوگوں کی ضرورت تو اب صرف سردرد کی ایک گولی . دو وقت کی روٹی ملنا اتنا مشکل ہوگیا ہے کہ. درد کی ایک گولی، لوگ کھلے آسمان تلے تن کے دو کپڑوں میں بھی گزارہ کر لیں گے۔ خدا کے لئے لیڈر کوئی بھی آئے لوگوںکو رہنے کے لیے مکان نہیں دے سکتے ،دو وقت کی روٹی نہیں دے سکتے تو ان سے سردرد کی ایک گولی تو نہ چھینئے. یہ تو .؟

’’ ضرورت.؟ ‘‘
سوچ کے پر/ڈاکٹر اشفاق رحمانی

am Dr. Ashfaq Rehmani Write an Column it this Link with the reference of my brother who is the regular columnist in the same.So,net user and Read,s ,there are 1-Articles under attached folder for Editorial Page & your sweet personality.
i am regulaer columnist on AL-Qamar.org*www.alqamar.org & www.newsurdu.net
plz see attached & responce through email also
Thanks & Regard
Dr.Rehmani
pasrurmedia@hotmail.com
0301-4690032

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......