صاحبِ دل لوگ

Submitted by Guest (not verified) on Mon, 01/14/2008 - 18:25

ڈاکٹر محمد اکمل صاحب جنرل ہسپتال لاہور میں ’’نیورو سپیشلسٹ سرجن ‘‘ ہیں۔بقول اُن کے دماغ کے ’’پُرزے‘‘ کھول دینااُن کا منٹوں کا کام ہے۔ میں اِسے اپنی خوش قسمتی کے سوا کوئی نام نہیں دے سکتا کہ وہ روزنامہ ایکسپریس کے ریگولر قاری ہیں۔خوش قسمتی اس لئے کہ وہ اُن 5 فیصد جینئیس پاکستانیوں میں شامل ہیں جو اپنے وطن میں رہ کر عام عوام کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے ہوئے ہیں۔وہ بتا رہے تھے کہ انگلینڈ یا امریکہ میں اُن کے لئے سیٹل ہونا کوئی مس،لہ ہی نہ تھا ،لیکن اُنہوں نے ڈاکٹر بننے سے قبل یہ تہیہ کیا تھا کہ وہ ہمیشہ پاکستان میں اپنے ہی لوگوں میں رہیں گے،سو اب وہ اس پر عمل پیرا ہیں۔انہوں نے مجھے ایک ای میل ارسال کی تھی۔ انگریزی میں لکھی گئی ای میل کا ترجمہ ہُو بہُو ملاحضہ فرمائیں،لکھتے ہیں:’’ میں گزشتہ چھ ماہ سے روزنامہ ایکسپریس کا باقائدہ قاری ہوں۔اگر کسی دن ہاکر کوئی دوسرا اخبار پھینک جائے تو میں اسے فون کرکے اُس دن کا ایکسپریس ہی منگواتا ہوں،اور پڑھتا ہوں ۔اس سے روزنامہ ایکسپریس سے میری وابستگی کا آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں‘‘.قارئین کرام! اِس سے اگلی سطور میں انہوں نے میرے کالم کی تعریف کی تھی، انہوں نے اپنی تحریر میں یہ بھی اصرار کیا تھا کہ میں اِس ای میل کا تذکرہ اپنے کالم ’’دلِ آئینہ ساز ‘‘ میں کروں،لیکن ڈاکٹر صاحب سے معذرت کہ یہ اپنے منہ میاں مٹھو بننے والی بات ہو گی۔تاہم ڈاکٹر صاحب کی ای میل کے آخری الفاظ اس طرح ہیں:’’آپ ایلیٹ کلاس کا رائٹر بننے کے بجائے عوامی رائٹر بنیں،بڑے اور کرپٹ صاحبانِ ثروت کے تذکرے کرنے کے بجائے غریب عوام کے تذکرے کریں۔’ایک عجیب ریسرچ‘ اور ’ پانچ پرسنٹ‘ جیسے مزید کالم لکھیں تو اس قوم کے کئی مسائل حل ہونے کا آپ باعث بن سکتے ہیں‘‘۔

میں نے تو اپنے آپ کو کبھی اس طرح کا رائٹر خیال نہیں کیا کہ میری تحریریں ہمارے امیر یا کسی غریب طبقے کے مسائل حل کر سکتی ہیں،تاہم ڈاکٹر محمد اکمل صاحب جیسے پاکستان کے ایک بہت بڑے نیورو سپیشلسٹ سرجن کامیری تحریروں بارے تبصرہ میرے لئے ایک اعزاز کی بات تو ہے ہی،لیکن اس سے میرے اندر ایک جوش اور ولولہ بھی پیدا ہوا ہے ۔میں اپنی بہت ساری خامیوں کی طرف بھی متوجہ ہوا ہوں ۔مجھے برسوں پہلے داتا دربار کے باہر ایک مجذوب کی بات یاد آرہی ہے، جو اُس نے میری طرف متوجہ ہو کر کہی تھی کہ :’’اللہ نہ آسمان میں سما سکتا ہے،نہ زمین میں،نہ کُرسی میں نہ عرش میں،وہ صرف مخلوق کے دل میں سما سکتا ہے۔ اللہ کو جنگلوں بیابانوں میں نہیں بلکہ مخلوق کے اندر ڈھونڈو،کائنات کا حقیقی بادشاہ تمہیں دکھی دلوں کے اندر بیٹھا ہوا صاف نظر آئے گا‘‘.میں نے ای میل میں دئیے گئے موبائل نمبر 0321-4424245پر فون کیا تو ڈاکٹر محمد اکمل صاحب بول رہے تھے،تعارف کے بعد کہنے لگے:’’میرے ای میل میں لکھے گئے الفاظ پر آپ کو غُصہ تو ضرور آیا ہو گا؟‘‘. میں بھی چونکہ ایک پاکستانی ہوں ،اس لئے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کا دل رکھنے کے لئے کہا :’’ نہیں بالکل بھی مائنڈ نہیں کیا‘‘. کالم نگاری کا ایک بہت بڑا ایڈوانٹیج یہ بھی ہے کہ آپ کو ساری دنیا میں بہت اچھے دوست مل جاتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب اُس وقت کسی مریض کے دماغ کے آپریشن میں مصروف تھے،چونکہ میں نے موبائل ملانے سے قبل ’’ایس ایم ایس‘‘ کر دیا تھا کہ’’ میں ڈاکٹر مطلوب حسین ،کالم نگار روز نامہ ایکسپریس ہوں ،اور آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں ‘‘ ، تو انہوں نے آپریشن کے دوران ہی چند لمحے مجھ سے بات کر لی تھی ،اور پھر گفتگو کو مختصر کرتے ہوئے بولے :’’ڈاکٹر صاحب ! پرسوں دوپہر کے کھانے پر میں آپ کا انتظار کروں گا‘‘۔

ڈاکٹر صاحب نے مجھے صبح ہی صبح فون کر کے جگا دیا کہ :’’ گلبرگ والے میکڈولڈز میں شام چھ بجے تک پہنچ جائیے گا ‘‘. مجھے شکائت ہے کہ اکثر کاروباری حضرات ابھی تک انسانی مزاج سے شناسا نہیں ہوئے،لیکن میکڈونلڈز والے خوب آگاہ ہو چکے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آپ چند منٹ وہاں بیٹھنے اورایک دو برگر کھانے کے عوض صرف اس لئے کافی سارے پیسے دینے پر تیار ہو جاتے ہیں کہ وہ آپ کو بہت ہی اچھا اور صاف ستھرا ماحول مہیا کرتے ہیں۔میں سوچ رہا تھا کہ ڈاکٹر اکمل صاحب خود تو مجھے سادگی کا درس دے رہے تھے لیکن انہوں نے مجھے میکڈونلڈز میں دعوت دی تھی۔بعد میں انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ وہ خود تو بہت سادہ ہیں،لیکن مہمانوں کو ’’پروٹوکول‘‘ دینا بھی بہت ضروری خیال کرتے ہیں .ڈاکٹر اکمل صاحب کے ساتھ میری تقریباََڈیڑھ گھنٹہ تک بات چیت ہوئی.انہوں نے مجھے بتایا:’’ غریب اور بے سہارامریض کے صحت یاب ہونے پر مجھے جو عجیب قسم کی ر وحانی خوشی اور سرور حاصل ہوتا ہے ، وہ ایک کروڑ روپے پاکر بھی نہیں ہوتا‘‘. ان الفاظ کے اندر بھی نہ جانے کتنا سرُور اور نشہ تھا کہ میںان الفاظ کی گہرائی میں ڈوب گیا.وہ کافی دیر تک بولتے رہے اور میں اُن کے الفاظ کے سحر میں جذب ہوتا چلا گیا۔اُن کے الفاظ ،آواز اور دل موہ لینے والے لہجے سے مجھ پر سحرطاری ہوتا جا رہا تھا۔مجھے مجذوب کی باتیں ہو بہو صحیح لگ رہی تھیں کہ واقعی اللہ دکھی دلوں کے اندر بستا ہے۔اُن دکھی دلوںکی خدمت نے ڈاکٹر محمد اکمل صاحب کی شخصیت کے اندر بھی ایک انجانی جاذبیت ،کشش اور خوبصورت پیدا کر دی ہوئی ہے.صرف میں ہی نہیں ،آپ بھی کبھی جنرل ہسپتال کے نیوروسرجری کے شعبہ میں جا کر اُن سے ملیں تو وہ عام ڈاکٹروں سے بہت ہی مختلف لیکن پُر کشش شخصیت نظر آئیں گے۔ میں ہزاروں انسانوں سے مل چکا ہوں ،لیکن مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ وہ اُن چند لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے مجھے اپنی ظاہری اور باطنی دونوں حیثیتوں میں متاثر کیا ہے.میں اُن کی ایسی تعریف کبھی نہ لکھتا اگر مجھے پتہ نہ چلتا کہ انہوں نے امریکہ اور برطانیہ جیسے ملکوں میں جاکر بہترین زندگی بتانے کے بجائے اپنے ہی لوگوں کے لئے اپنی زندگی کو وقف کر رکھا ہے. مجھے اُ ن کی اور باتوں کے علاوہ اس بات نے بھی بہت ہی زیادہ متاثر کیا کہ وہ اپنی پرائیویٹ پریکٹس بالکل بھی نہیں کرتے. بلکہ سارا وقت ہسپتال میں ہی گزار دیتے ہیں۔پاکستان کا اتنا بڑا نیوروسپیشلسٹ سرجن ہونے کے باوجودا نہوں نے سالہاسال تک ’’سی ڈی 70 ، 90 ماڈل موٹر سا ئیکل‘‘ کی جان نہ چھوڑی تھی .اور پھر آج سے دو سال قبل ، ایک دن اُن کے والد محترم نے بڑے ہی غُصے کے ساتھ انہیں ڈھائی لاکھ روپے تھماتے ہوئے کہا تھا :’’ بیٹا ! تمہیںاپنا نہیںتوہمارے سٹیٹس کا ہی کچھ خیال کر لو ،اور کم از کم ایک پرانی کھٹارا سی گاڑی اِن پیسوں سے ہی خرید لو‘‘۔

قیمتی ہمیشہ انسان ہی ہوتے ہیں۔دنیا میں ایسے انسانوں کی کمی بھی نہیں جو اپنا تن من دھن سب کچھ عوام کے لئے وقف کر چکے ہیں.اسی طرح ہماری دنیا﴿پاکستان﴾﴾میں بھی صرف .160/ارب کے قرضے معاف کرانے والے.کروڑو ں کے گھپلے اور کرپشن کرنے والے ہی نہیں.بلکہ ڈاکٹر محمد اکمل جیسے صاحبِ دل اور انسانوں سے محبت رکھنے والے لوگ میں رہائش پذیر ہیں.اللہ اِن سب کو خوش رکھے۔﴿بشکریہ: روزنامہ’’ایکسپریس‘‘﴾۔(yymatloob1@yahoo.com)

صاحبِ دل لوگ
تحریر: ڈاکٹر مطلوب حسین ﴿دلِ آئینہ ساز﴾

Guest (not verified)

Tue, 02/01/2011 - 21:12

I strictly recommend not to hold back until you earn enough amount of money to buy all you need! You can just take the home loans or auto loan and feel yourself comfortable

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......