سانخہ لال مسجد نے پاکستانی سیاست پر گہرے اثرات کیوں چھوڑے ؟ کالم ۔ زبیر احمد ظہیر

Submitted by imkan on Tue, 08/12/2008 - 16:33

سانخہ لال مسجد نے پاکستانی سیاست پر گہرے اثرات کیوں چھوڑے ؟ کالم ۔ زبیر احمد ظہیر

[email protected]

خودکش حملوں کا خاتمہ کیسے ہوگا؟ کسی بھی ملک کیلے اسکی نظریاتی اورعسکری قوتوں کا باہمی تصادم نیک شگون نہیں ہوتایہ دو طاقتیں ملک کی بقاء اور سلامتی کی ضامن ہوتی ہیں۔ فوج جغرافیائی سرحدوںجبکہ نظریاتی طاقت فکری سرحدوں کی نگہبانی کرتی ہے۔نظریاتی طاقت کسی بھی ملک کی وہ وحدت ہے جس کی انگلیوں میں پوری قوم کی نبض ہوتی ہے ظاہر ہے اتنی کشش صرف مذہب میں ہی ہوسکتی ۔دنیا کا کوئی ملک ان دو طاقتوں سے خالی نہیں نظریاتی طاقت کی اہمیت فوجی طاقت سے کسی طور کم نہیں، نظریاتی سرحدوں کی تبدیلی ملک کی جغرافیائی سرحدیں بدل دیتی ہے ۔

جب ہندوستان کی نظریاتی سرحدوں میں دراڑ پڑی اور فکری طاقت ہندومسلم اختلافات میں تبدیل ہوگئی صدیوں سے قائم ہندوستان متحد نہ رہ سکا اور اس کی نظریاتی سرحدوں کی تبدیلی نے بالآخر 565 ریاستوں کے متحدہ ہندوستان کوتقسیم کر دیا ،خود پاکستان نظریاتی تقسیم سے دولخت ہوا ،لسانی تعصب کی وجہ سے نظریاتی طاقت اپنا توازن قائم نہ رکھ سکی، نظریات کی اس تبدیلی نے جغرافیائی سرحدیں بدلنے میں ذرا دیر نہ لگائی اور مشرقی پاکستان ٹوٹ کر بنگلہ دیش بن گیا۔

مذہبی افراداورفوج دونوں میں حب الوطنی کی قدر مشترک ہوتی ہے ان دونوںکا یہ اشتراک ملک کی بقا اور سلامتی کاضامن ہوتا ہے اگر نظریاتی اور عسکری طاقت کا تصادم ہوجائے تو ملک داخلی عدم استحکام کا شکارہوجایا کرتے ہیں ہمارے ملک کا پہلا مارشل لا ء ایک فوجی جنرل اسکندر مرزا نے لاہور میں لگایا یہ ختم نبوت جیسی حساس مذہبی تحریک کو کچلنے کیلئے تھا قیام پاکستان کے 6سال بعد 1953ء میں یہ وہ پہلا موقع آیا جب نظریاتی اور عسکری قوتوں میں ٹکراؤ پیدا ہوا ختم نبوت کے دس ہزار کارکن شہید ہوئے ، ملک د اخلی عدم استحکام کا شکار ہو گیاوہ دن آج کا دن پھر فوجی حکومتوں سے ہماری جان نہ چھوٹ سکی۔ آج صدر مشرف کا مذہبی طبقہ مخالف ہے انہیں افغانیوں ، پاکستانیوں کا قاتل سمجھتا ہے ، انہیں معاف کرنے کو تیار نہیں پاکستان پر براوقت آئے تو انکی دشمنی اچانک ہمدردی میں بدل جائے گی اوریہ لوگ سب سے پہلے فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونگے ۔نظریاتی طاقت کی یہی حب الوطنی اسے ملک کی دوسری طاقت بنادیتی ہے۔

فوج اور مذہبی افراد کا یہ ٹکراؤ ایک بار پھر 9/11سے شروع ہوا جس نے افغانستان پر حملے سے شدت اختیار کرلی ۔امریکہ کی دہشتگردی کے خلاف جنگ جب عملاً عالم اسلام کے خلاف جنگ بنی اور افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ پاکستان میں مذہبی قوتوں کے خلاف جنگ بن گئی تو ردعمل میں اسلام اور مذہب کو بچانے کی فکر نے شدت اختیار کرلی ، امریکہ کے خلاف ساری دشمنی کا نزلہ پاکستان پر گر گیا پھر بم دھماکوں اور خود کش حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا، نہ جانے اس آڑ میں کس کس ملک نے گن گن کر بدلہ لیا اس کا نزلہ مذہبی افراد پر گرا جس نے مذہبی قوتوں سے حب الوطنی کی سندچھین لی اور ملزم بنا دیا ۔شک، الزام اور بیرونی دباؤ سے شروع ہونے والے اس سلسلے نے بے شمار شہریوں کی جان لے لی۔ طالبان کی کمر ٹوٹی نہ اتحادی افواج کو فتح ملی مگر پاکستان نقصان میں نیٹو اورافغانستان سے بڑھ گیا ۔

ہمیں بھارت جیسی دنیا کی تیسری ابھرتی طاقت کی دشمنی ورثے میں ملی مگر ہم نے خود مختاری پر آنچ نہ آنے دی۔ جب ہماری سب سے بڑی سرحد کو خطرہ لاحق ہوا ،ہم نے روس جیسے سپرپاور ملک سے ٹکر لے لی ،2ہزار 5سو کلومیٹر طویل وہ سرحد آج امریکہ کی وجہ سے ہمارے لیے غیر محفوظ ہوگئی ہے اب اس سرحد پر ہمیں 4خطروں کاسامنا ہے ۔ڈیورنڈ لائن کے اس پار بھارت کی مداخلت بڑھ گئی ہے شمالی اتحاد اور افغان فوجی ریشہ درانیوں میں دن رات مصروف ہیں نیٹو افواج کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی اور طالبان کی انتقامی کارروئیوں کاخوف ان 4خطرات نے ہمیں مسلسل گھیر رکھا ہے ، جہاں ہم نے تین جنگوں میں ایک سپاہی کھڑانہ کیا آج ہم نے وہاں 90ہزار فوج تعینات کردی ہے اس سرحد کے تحفظ کیلئے ہم نے 9سوفوجیوں کی قربانی دی اورالقاعدہ کے 600جنگجو کو گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیے۔ آج اسی سر حد کی وجہ سے امریکا نے ہماری مشکلات میں اضافہ کردیا ہے جس نے روس توڑ کر امریکا کو سپر پاور بننے میں مدد دی ۔ہم نے جانی، مالی اوردہشت گردی کا جو نقصان اٹھاناتھا اٹھا لیا مگر دن بدن بڑھتے امریکی مطالبات نے ہماری نظریاتی اور عسکری قوتوں کے درمیان جودیوار بنادی ہے اس سے ملک کی بقا اور سلامتی کو سخت خطرہ لاحق ہے اگر آج پھر مشرقی پاکستان کی طرح ہماری نظریاتی سرحد تقسیم ہوتی ہے ہم مزید کسی بنگلہ دیش کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ ہم مصر ،الجزائر، تیونس اور ترکی کی مثالوں کو فراموش نہیں کرسکتے جہان فوج توغالب آگئی لیکن داخلی استحکام آج تک واپس نہ لاسکی ۔ شاہ ایران نے مذہبی قوتوں کوکچلنے کے لیے فوج استعمال کی اورظلم کی انتہا کردی عوام نے مظلوم کا ساتھ دیا اور مذہبی قوتوں نے غلبہ حاصل کرلیا ۔ایرانی انقلاب کی طرح آج پاکستان میں بھی مذہبی قوتیں مظلوم بنادی گئیں ہیں ،پاکستان میں مذہبی قوتیں کمزور اور فوج غالب ہے یہاں عام حالات میں انقلاب نہیں آسکتا ۔

حکومت مخالف عوامی ا ضطراب کی اس نازک حالت میں اگر امریکہ قبائلی علاقوں میں بمباری کرتارہا یا امن معائدے کے ٹوٹنے کے اعلان کے بہانے پاکستان کے کسی بھی علاقے پر بمباری کر دے مذہبی انقلاب کی راہ ہموار ہونے میں دیر نہیں لگے گی عالمی استعماری قوتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ ملک کی ان دوطاقتوں کو آپس میں لڑوا دیاجائے مسلم ممالک میں مذہبی عنصر عوام پر غالب ہوتا ہے اس لیے ان دو طاقتوں کاٹکراؤ خوفناک ہوتاہے یہ تصادم مذہبی حلقوں کے لیے بھی نقصان دہ ہے انہیں امریکہ اور فوج دو محاذوں سے مخالفت کا سامنا ہے ،کوئی جنگ خواہ وہ فکری ہو یا فوجی دو محاذوں پر تنہا نہیں لڑی جاسکتی ۔امریکہ کی جنگ بھی مذہبی عنصر سے خالی نہیں اس تاثر کو صدر بش کے صلیبی جنگ کے نعرے نے تقویت دی ۔امریکہ کو کسی فوج سے خطرہ نہیں اسے خطرہ اگرہے تو اپنی نظریاتی طاقت کاہے جو مسلسل کمزور ہورہی ہے ، مذہب سے دوری نے اس فکری انتشار کو مزید گہرابنادیا ہے لہذا امریکہ جب کبھی ٹوٹے گاکسی فوج سے نہیں بلکہ نظریاتی تقسیم سے ٹوٹے گا،امریکہ نے اس فکری انتشار کے خطرے کو قبل از وقت بھانپ لیا اوراس سے بچنے کے لیے اس نے دہشتگردی کے نام پر جنگ شروع کردی یوں نظریاتی انتشارکے شکار عوام کی توجہ جنگی محاذوں پر لگا دی جب یہ جنگ بے مقصد ہو کر ناکام ہونے لگی تو توہین آمیزخاکوں کا خالصتاً مذہبی مسئلہ اٹھایا گیا پھرپوپ بینیڈیکٹ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرڈالی تب ہندوستان کے اسلام مخالف مذہبی پیشواؤں نے بھی گواہی دے دی کہ عیسائیت کو اسلام سے خطرہ ہے اسی لیے پوپ کا لہجہ مسلمانوں کے لیے سخت ہوگیا ہے امریکہ نے اپنی عوام کو نظریاتی انتشار سے بچا لیا اورورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کوبیرونی قرار دیا جس نے قوم کے حب الوطنی کے جذبے کو مضبوط بنا دیا،امریکا نے اپنی نظریاتی سرحدیں محفوظ بناکر ہماری نظریاتی سرحدیں غیر محفوظ بنا دی ہیں ۔

سانحہ لال مسجد نظریاتی اور عسکری قوتوں میں تصادم کی سنگین شکل بن کر سامنے آیا ۔ معمولی بات بگڑ کر بتنگڑ بن گئی ۔مساجد کی شہادت نے مذہبی حلقوں کی نظر میں بابری مسجد کی یاد تازہ کر دی ۔اگر مولانا عبدالعزیز کی برقعے میں توہین نہ کی جاتی تو علامہ غازی غیرت میں آکر نہ ڈٹتے ۔اگر حکومت اس پہلی غلطی کی طرح جان بحق طالبات کی میتیں دینے میں تاخیر نہ کرتی اس تاخیر سے میتوں کی توہین کا پہلو نکل آیا ،گرفتاربچیوں کے نقاب کی توہین ہو گئی یہ حکومت کی دوسری غلطی تھی ۔ حکومت نے لال مسجد میں نماز کی اجازت بروقت نہ دی ، سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود جامعہ خفضہ اورجامعہ فریدہ کو اہل مدارس کے سپرد نہ کیاگیا یہ حکومت کی تیسری غلطی تھی ۔ ان تینوں غلطیوں نے رائے عامہ حکومت کے خلاف کردی ان غلطیوں کا حکومت نے کوئی تدارک نہ کیا یہ عوامی غصہ الیکشن میں نکل گیا ایسے وقت میں جب مذہبی حلقوں سے جاری تصادم رائے عامہ کی نظر میں عوام سے تصادم بن گیا ہے پانچ چھ سالوں کی جلتی پر تیل کامزید چھرکاؤ نظریاتی اور عسکری قوتوں میں تصادم کی خودکش حملوں کی شکل میں ایسی راہ ہموارکر گیا ہے جو اب تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔آج خودکش حملوں کواگر کوئی ایک شخصیت روک سکتی تو وہ مولانا عبدالعزیز کے سوا اور کوئی نہیں،حکومت انکو رہا کرے جامعہ خفضہ اورجامعہ فریدہ انکے حوالے کرے اور قبائلی علاقوں میں آپریشن بند کر ے خود کش حملے روک سکتے ہیں۔

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......