پہچان

Submitted by Guest (not verified) on Mon, 03/31/2008 - 06:13

وہ تاریخ کا انتہائی دلچسپ کردار تھا.وہ حافظ قرآن تھا اور قرآن مجید کو الناس سے الم تک اُلٹ پڑھ سکتا تھا.وہ دونوں ہاتھوں سے یکساں طاقت سے لڑتا تھا.لوگ اُسے انتہائی خونخوار سمجھتے تھے.وہ جو ملک فتح کرتا اس کے تمام مردوں کو ذبحہ کر دیتا تھا.عورتوں کو لونڈیاں اور بچوں کو غلام بنا لیتا تھا.قبضہ کے بعد سارے شہر کو جلا کر راکھ کر دیتا تھا.وہ چنگیز خان کی طرح کھوپڑیوں کے مینار بھی بناتا تھا.وہ ظلم و ستم کے ساتھ علم و فن کا بھی بڑا شیدائی تھا.وہ فاتح کی حیثیت سے جس ملک میں داخل ہوتا وہ اس کے تمام عالموں،فاضلوں اور ماہرین فن کو امان دے دیتا تھا.وہجنگ کے بعد ان عالموں کے ساتھ مناظرہ کرتا،ان کی گفتگو سے لطف اندوز ہوتااور انہیں بھاری مراعات دے کر اپنے شہر’’سبز‘‘ بھجوا دیتا تھا.وہ ان عالموں،فاضلوں کے لیے تا مرگ شاندار وظیفہ بھی دیتا تھا.وہ اپنے ہدف ملک کے بادشاہ کو اطاعت قبول کرنے کی پیشکش کرتا تھا،اگر بادشاہ یہ پیشکش قبول کرنے سے انکار کرتا یا پیشکش مسترد کرتا تو وہ اس ملک پر حملہ کر دیتا اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا.سپاہی کئی کئی دنوں تک قتل و غارت کرتے،لوٹتے اور جب ان کا دل بھر جاتا تو وہ اپنے سپاہیوں سے کہہ کر اس شہر کو آگ لگوا دیتا.اس نے اپنی زندگی میں 54 ملک برباد کئے.

اس نے اپنی آپ بیتی بھی لکھی.تجزیہ نگاروں،محققین کے مطابق اس کتاب کا شماردنیا کی بہترین کتابوں میں ہوتا ہے.یہ کتاب سب سے پہلے ترکی زبان میں لکھی گئی.اور سب سے پہلے فرانسیسی میں شائع ہو ئی.تاہم اب تک اس کتاب کا 70 سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے.اردو میں یہ کتاب ’’میں ہوں تیمور‘‘ کے نام سے شائع ہو ئی.تیمورلنگ کا تعلق سمرقند سے تھا،وہ سمرقند کے قریب ایک گاوں’’کیش‘‘ میں پیدا ہوا،اس کے والدین معمولی درجے کے زمیندار تھے،وہ جوان ہوا تو وہ سپاہی کی حیثیت سے فوج میں بھرتی ہو گیا.چند ماہ بعد اس نے سپہ سالار کو قتل کر دیا اور فوج کی عنان سنبھال لی.یہ ایک چھوٹے درجہ کے امیر کی جوف تھی.بادشاہ تیمور کی خداداد صلاحیتوں سے ڈر گیا.اس نے تیمور سے جان چھڑانے کی کوشش کی ،تیمور کو امیر کی سازشوں کی بھنک پڑگئی لہذا اس نے امیر سے بھی جان چھڑالی اور وہ خود بادشاہ بن گیا.یہ اس کی پہلی بادشاہت تھی اس کے بعد وہ گھوڑے کی بیٹھ پر بیٹھا اور اس نے آدھی دنیا روند ڈالی،1403 میں جب اس کا انتقال ہوا تو وہ فاتح عالم اور تیمور دی گریٹ بن چکا تھا۔

ادبی تنظیم ’’روش‘‘ کے جنرل سیکرٹری ، ناموروقد آور دانشور شخصیت محمد نواز کھرل سچے اور کھرے آدمی ہیں۔قلم کے جائز استعمال کو’’ جہاد افضل‘‘ کہتے ہیں۔ادب کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کر نے والوں .قلم کو لفافے کے لیے چلانے والوں.خودغرضی اور منافقت کا سہارا لینے والوں.کو ملک کا سب سے بڑا دشمن قرار دیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ امیر تیمور ہو یا مفتوح بادشاہ،جاپانی سلطنت کا شاہ ہو یا ہیرو شیما کو برباد کرنے والا امریکی صدرہو،اسامہ ہو یا بش،ہر جنگ بادشاہوں کے درمیان انا.بہادری.اور کشور کشائی کی جنگ ہوتی ہے۔دونوں ایک دوسرے کو مات دینا چاہتے ہیں۔الرحیم ٹی سٹال ،پرانی انار کلی ﴿فوڈ سٹریٹ﴾پرجاوید قاسم کے ساتھ بیٹھے ہو ئے محمدنواز کھرل کی گفتگو جاری تھی.انہوں نے کہا تیمور تاریخ میں فاتح عالم کہلوانا چاہتا تھا جبکہ دوسرے بادشاہ اس کے ارادوں کی راہ میں رکاوٹ بن رہے تھے،سوال جنگوں کے بعد اقتدار کا نہیں بلکہ جنگی سانحات ہیں۔دو بادشاہوں کی اناجب آپس میں ٹکرا تی ہے تو ہیروشیما،ناگاساکی سے بڑے سانحات رونما ہوتے ہیں۔محمود غزنوی،جے پال سے ٹکرایا لیکن اس کا نقصان ہندوستان کے ان ہزاروں بے گناہ شہریوں کو پہنچا جنہوں نے جنگ چھیڑی تھی نہ وہ یہ جنگ روک سکتے تھے۔ظہیر الدین بابر اور ابراہیم لودھی دونوں مسلمان تھے،دونوں کی انا ٹکرائی اور لاکھوں معصوم لوگ مارے گئے،ہمایوں اور شیر شاہ سوری کی لڑائی میں بھی ہزاروں بے گناہ.صدربش اور ملا عمر کی جنگ کا نقصان بھی لاکھوں بے گناہ افغانی اٹھا رہے ہیں۔بش اورصدام کی لڑائی.اسامہ اور امریکی تہذیب کا ٹکراو.ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے بے گناہوں کی ابھی تک آنے والے آہئیں.ہٹلر اور چرچل کی لڑائی سے لے کر بش اور ایرانی تیل کی لڑائی دراصل حرص و حوص کی لڑائی ہے.حقیقت یہ ہے کہ ہمارے حکمران ،ہماری رولنگ کلاس کا تعلق لوگوں کے اس گروہ سے ہے،جن کی آنکھیں اور جن کے معدے حرص و حوص زدہ ہیں،یہ لوگ کبھی سیر ہوں گئے؟

میں محترم نواز کھرل کی باتوں سے مکمل اتفاق کرتا ہوں،مجھے یونان کاایک عجیب کردار یاد آرہا ہے۔ تاریخ اسے نسل انسانی کا سب سے بڑا متوکل اور سب سے بڑا قناعت پسند دانشور کہتی ہے۔اس کے پاس ایک کتا تھا،اس کتے کی نسبت سے لوگ اسے ’’کلبی‘‘ کہتے تھے۔دیوجانس کلبی اس کا پورا نام اور یہ ارسطو اور سکندر اعظم کے دور کا بڑا فلسفی تھا۔کلبی ایک دن دوپہر کے وقت ہاتھ میں چراغ لے کر ایتھنز کی گلیوں میں گھوم رہا تھا،کسی نے اس سے پوچھا ’’دیوجانس تم چراغ لے کر کیا تلاش کر رہے ہو‘‘اس نے مسکرا کر جواب دیا’’میں آدمیوں کے ہجوم میں انسان تلاش کر رہا ہوں‘‘کلبی کی درویشی اور سادگی پورے یونان میں مشہور تھی.وہ عموماََ شہر سے باہر رہتا تھا.اسے کھانے کے لیے کچھ مل جاتا تو کھا لیتا تھا بصورت دیگر فاقے کرتا اور اللہ کا شکر ادا کرتا.وہ کسی حد تک توحید پرست بھی تھا،اس کا کہنا تھا اس کائنات کی تما چیزیں دیوتاوں نے بنائی ہیں،لیکن دیوتاوں کو کس نے بنا یا ہے.وہ کہتا تھا جس طاقت نے دیوتا بنائے ہیںوہی اس کائنات کا اصل مالک ہے،اور میں اس مالک کو ماننے والا ہوں.وہ کہا کرتا تھا کہ دنیا کا سامان و اسباب انسان کی اصل طاقت نہیں،بلکہ یہ انسان کو اصل خوشی سے محروم کر دیتا ہے۔دیو جانس جب شہر سے نکل کر جنگل میں آباد ہوا تو کسی نے اس سے پوچھا’’تمھیں جنگلی جانوروں سے ڈر نہیں لگتا‘‘اس نے مسکراتے ہوئے کہا ’’انسان کا دشمن انسان ہے جانور نہیں،انسان کو جانوروں سے نہیں انسان سے خطرہ ہے۔دیوجانس آخری عمرمیں توکل اور قناعت کی انتہائی سیڑھی چڑھ گیا،ایک دن وہ ندی کے کنارے پانی پینے گیا،وہاں اس نے دیکھا ایک جانور جنگل سے ٹہلتا ہوا نکلا،ندی کنارے پہنچا،پانی پر جھکا،پانی پیا اور ٹہلتا ہوا جنگل میں واپس چلا گیا۔دیوجانس نے سینے پر ہاتھ مارااور کہا’’تف ہے تم پر ایک جانور بھی توکل میں تم سے کتناآگے ہے ،تم اور اس نے اپنا واحد اثاثہ پیالہ پتھر پر مارااور کرچیاں تک اُٹھا کر ندی میں پھنک دیں۔ایک دن سردیوں کی سنہری دوپہر تھی،دیوجانس کلبی دوپ میں لیٹا ہواتھا،ایتھنز کا ایک ہرکارہ اس کے پاس آیا اور اسے خوشخبری سنائی’’مبارک ہو،سکندراعظم پوری دنیا فتح کرنے کے بعد واپس ایتھنز آرہا ہے،اس پر دیوجانس بولا’’انسان قناعت پسند ہو تو وہ مٹی کے پیالے کے بغیر بھی،اور اگر وہ حریص ہو جائے تو یہ پوری کائنات بھی اسے اس کے لیے چھوٹی ہے‘‘پچاس پچاس گاڑیوں.چار چار جہازروں.سو،سو ایکڑ کے محلات.چالیس چالیس کروڑ کے سرکاری فنڈز ہونے کے باوجود ’’خواہشوں کا غلام بادشاہ،حکمران طبقہ،ایک آزاد شخص کی کو ئی خدمت نہیں کر سکتا۔

’’پہچان.؟‘‘
سوچ کے پر/ڈاکٹر اشفاق رحمانی
am Dr. Ashfaq Rehmani Write an Column it this Link with the reference of my brother who is the regular columnist in the same.So,net user and Read,s ,there are 1-Articles under attached folder for Editorial Page & your sweet personality.
i am regulaer columnist on AL-Qamar.org*www.alqamar.org & www.newsurdu.net
plz see attached & responce through email also
Thanks & Regard
Dr.Rehmani
pasrurmedia@hotmail.com
0301-4690032

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......