وطیرہ

Submitted by Guest (not verified) on Wed, 03/26/2008 - 12:25

٭.9/11 کے واقعے کے بعد امریکا نے دوست یا دشمن کی چوائس پر پاکستان کی طرف ہاتھ بڑھایا، دنیا جانتی ہے کہ امریکا کے مقاصد کیا تھے. امریکا نے 9/11 کی ذمہ داری القاعدہ پر ڈالی، افغانستان پر اس وقت طالبان کی حکومت تھی، اسامہ بن لادن اور اس کے ساتھی بھی افغانستان میں قیام پذیر تھے. امریکی صدر بش نے طالبان حکومت سے اسامہ بن لادن کو امریکا کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ طالبان نے اس مطالبے کو ماننے سے انکار کر دیا یوں طالبان بھی امریکا کے نشانے پر آگئے۔ یہیں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا.امریکا نے پاکستان سے اس جنگ میں تعاون طلب کیا اور ’’تم ہمارے دوست ہو یا دشمن کی دھمکی بھی دی، جو ہم نے .؟ پاکستان نے اس وقت کی نزاکت اور سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے امریکا کی طرف ہاتھ بڑھا دیا۔ افغانستان امریکی جارحیت کا نشانہ بنا، ایک بار پھر امریکی بربریت، وحشت اور طاقت کا اندھا دھند استعمال ہوا تو ہیروشیما، ناگاساکی جیسا سانحہ ہر زبان پر آگیا، خیر امریکی جارحیت کے بعد طالبان کی حکومت ختم ہو گئی، لیکن دہشت گردی کیخلاف جنگ کا اختتام نہ ہوا۔ اس کے بعد امریکا نے عراق پر بھی چڑھائی کر دی، دہشت گردی کی جڑوں کو ایران کے ساتھ ملانے کے لئے اب بھی جوڑ توڑ جاری ہے، تاہم افغانستان اور عراق میں امریکی فوجیں موجود ہیں بلکہ اتحادی بھی. دہشت گردی کیخلاف جنگ جاری اور نہ جانے . پاکستان اس صورت حال میں بری طرح پھنسا ہوا ہے۔ افغانستان کے حالات پاکستان کو براہ راست متاثر کر رہے ہیں۔ افغانستان میں طالبان حکومت تو ختم ہو گئی لیکن اس کی مزاحمت کا خاتمہ نہ ہو سکا۔ ادھر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوئیں کہ دہشت گردی ایک نیا رخ اختیار کرگئی. پاکستان کو قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کرنا پڑا جس کے نتائج اب سب کے سامنے آرہے ہیں۔ سانحہ لال مسجد سے سانحہ راولپنڈی تک، جلائو گھیرائو سے سانحہ جی پی او چوک لاہور تک۔نیوی وار کالج ہو پاکستان کا پینٹاگون،لاہور کا لنڈا بازار ہو یا اسلام آباد کا ہوٹل، پاکستان میں بم دھماکے اور خودکش حملے روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں ادھر امریکی پالیسی ساز پاکستان پر دبائو بڑھا رہے ہیں کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مزید اقدامات کرے۔ پاکستان کے اندرونی حالات اور دہشت گردی کے نیٹ ورک کی موجودہ صورتحال پر امریکی دبائو کو مزید برداشت نہ کرتے ہوئے صدر مملکت جنرل ﴿ر﴾ پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں پہلی بار سخت لہجہ اپنایا جب ایک فرانسیسی اخبار ’’فگارو‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ امریکا پاکستان کو مزید امداد نہیں دینا چاہتا تو پھر اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کے لئے دوسرا حلیف تلاش کرنا ہو گا۔ انٹرویو میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر ہو گی، علاوہ ازیں جرمنی کے اخبار ’’ ڈرسپیگل‘‘ اور نیوز ایجنسی AFP سے بھی گفتگو کی اور دہشت گردی کے علاوہ اندرون ملک حالات کا بھرپور ذکر کیا۔
حالیہ دنوں میں تو امریکا کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے خواہش مند ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدواروں نے بھی کہا ہے کہ وہ برسر اقتدار آکر پاکستان کے اندر القاعدہ کیخلاف کارروائی کریں گے۔ مغربی میڈیا پر پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے حوالے سے بھی بے بنیاد پروپیگنڈا جاری ہے۔ ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کے سربراہ محمد البرادی نے بھی دھمکی آمیز لہجہ استعمال کیا اور کہا ہے پاکستان کے ایٹمی اثاثے انتہا پسندوں کے کنٹرول میں جا سکتے ہیں، ایسے میں جنرل پرویز مشرف کا یہ سخت لہجہ کسی حد تک درست بھی ہے کہ اگر دوست بن کر چلے تھے تو بھی کامیابیوں کے بعد بھی شک؟صدر مملکت نے امریکی میڈیا، لیڈروں کے انہی رویئے کو مدنظر رکھ کر امریکی پالیسی ساز اداروں کو واضح پیغام دیا ہے۔ علاوہ ازیں افغانستان میں مقیم اتحادی افواج نے پاکستان کے اندر داخل ہو کر کارروائی کی تو اسے حملہ تصور کیا جائے گا اور اس کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی جسے بیانات سے شاید امریکا کو اپنی اوقات یاد آگئی ہے۔ پاکستان جس خطے میں واقع ہے وہاں بھارت اور چین کی صورت میں دو بڑی ایٹمی قوتیں موجود ہیں پاکستان بھی ایک ایٹمی طاقت ہے۔ اس جغرافیائی پوزیشن کاتقاضا ہے کہ امریکا کے پالیسی ساز کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے پاکستان متاثر ہو اور اگر پاکستان متاثر ہوتا ہے تو بقول صدر صاحب ہمارے ہاتھ اپنی سلامت ہیں۔ امریکا نے گزشتہ 6سال میں پاکستان کو نوارب ڈالر کے قریب امداد دی۔ اس امداد کا نصف سے زائد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مد میں دیا گیا، یعنی پاکستان کو تقریباً چار ارب ڈالر کی امداد ملی، باقی دہشت گردی کیخلاف جنگ کی نذر ہو گئی، امریکا کو یہ کیوں نظر نہیں آتا کہ اتنی معمولی امداد کے لئے پاکستان کو کتنی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی رہی ہے۔ صدر مشرف نے اگر سخت لہجہ استعمال کیا ہے تو امریکی پالیسی سازوں کے رویوں اور سب کچھ کرنے کے بعد بھی ’’کچھ بھی نہیں‘‘ جیسے الفاظ کے بعد کیا ہے۔ امریکا کے پالیسی ساز یہ بات بھول رہے ہیں کہ افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا ذمہ دار امریکا ہے یا پھر حامد کرزئی اور ان کے ساتھی، وہاں اگر القاعدہ اور طالبان موجود ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کرنا بھی اتحادی اور افغانوں کا کام ہے۔ پاکستان کو اس معاملے میں کیوں گھسیٹا جا رہا ہے، یہ کسی حد تک ممکن ہے کہ پاکستان میں عوامی سطح پر افغانوں سے ہمدردی کا جذبہ موجود ہو مگر زمینی حقائق تو ان کے سامنے ہیں۔ ہاں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جو گڑ بڑ موجود ہے اس پر پاکستان کے پاس طاقت بھی ہے اور وہ اس کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت بھی رکھتا ہے اور اس میں امریکا کو دخل دینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ پاکستان کا خالصتاً اندرونی معاملہ ہے، ان علاقوں میں اگر کچھ طالبان یا مزاحمت کار موجود بھی ہیں تو اس پر پاکستان خود ہی کارروائی کرنے کا اختیار رکھتا ہے اور پاکستان اس معاملہ میں بہت کچھ کر بھی رہا ہے، امریکا کو نظر کیوں نہیں آتا؟ یہاں یہ بات بڑی واضح ہے کہ امریکی صدارتی امیدواروں اور مغربی ذرائع ابلاغ نے حقائق کا ادراک نہ کیا تو پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں سرد مہری آسکتی ہے اور یہ بھی بڑا واضح ہے کہ پاکستان جیسا مضبوط اور مربوط لائحہ عمل والا مقامی اتحادی ان کو اس خطے میں اور کوئی نہیں مل سکتا۔ پاکستان کو اگر دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا تعاون چاہئے تو اسے حاکمانہ رویہ ترک کرنا ہو گا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ امریکا جو حکم دے پاکستان اسے من وعن تسلیم کرتا چلا جائے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں امریکا کو پاکستان کے نقطہ نظر پر اتفاق کرنا ہو گا۔ امریکا کے پالیسی سازوں کو وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا کے ماحول اور ثقافت کو سمجھنا چاہئے۔ اس معاملہ میں پاکستان ہی ان کے لیے بہترین مددگار ثابت ہو سکتا ہے مگر اس کے لئے امریکی پالیسی سازوں کو دھونس اور دھمکی کا لہجہ ترک کرنا ہو گا۔ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں جو شکوک وشبہات پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے انہیں ختم کرنا ہو گا، اگر امریکا یہ چاہتا ہے کہ پاکستان اس کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بن کر وہ کردار ادا کرے جو افغانستان میں افغان انتظامیہ کر رہی ہے تو پھر ایسا ممکن نہیں ہو گا۔ نائن الیون کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں آخری حد تک جاکر امریکا کا ساتھ دیا، اپنے ہی شہریوں پر بمباری بھی کی.لاپتہ افراد کیس بھی اسی جنگ پر امریکا کا ساتھ دینے کی کڑی ہے. یہ قربانیوں کی وجہ ہی ہے کہ آج پاکستان کے کونے کونے پر دھماکے اور خودکش حملے ہو رہے ہیں. ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی رہنما بینظیر تک محفوظ نہ رہ سکیں. پوری قوم شدید اعصابی کچھائو کا شکار ہے. پاکستانی ایٹمی اثاثوں کے تحفظ کے حوالے سے تشویش زدہ ہو چکے ہیں مگر امریکا کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر ہر ملک کو دبانے کی کوشش کرتا ہے اسلامی ملکوں کے حوالے سے تو امریکا کا رویہ خالصتاً تعصب پر مبنی ہے۔ صدر مملکت نے درست کہا ہے کہ ہمارے معاشی حالات اب بہتر ہیں۔ امریکا کو اپنا وطیرہ بدلنا ہو گا۔.ہر وہ ملک جو ترقی کی راہ میں گامزن ہے اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا وطیرہ. اسلامی مملکت کو دہشت گردی کی لسٹ میں شامل رکھنے کا وطیرہ. امن وامان تباہ کرنے کی وحشت وبربریت والی پالیسی پر گامزن رہنے کا وطیرہ. خوشحال لوگوں سے خوشحالی چھین کر انارکی پھیلانے اور خوف کی فضائ قائم کرنے کا وطیرہ. ہر ملک کو ہیروشیما اور ناگاساکی، افغانستان اور عراق بنانے کا وطیرہ . اگر امریکی صدر نے یہ وطیرہ نہ بدلا اور مغربی میڈیا نے مسلمانوں کے خلاف اور خاص طور پر پاکستان کے خلاف اپنا یہ ’’جارحانہ وطیرہ‘‘ نہ بدلا تو اسلامی ملکوں کے کئی جنرل مشرف اٹھ کھڑے ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، اگر دنیا میں امن کا قیام چاہتے ہیں تو پاکستان کی دہشت گردوں کے خلاف جاری پالیسیوں کو ہی تسلیم کرنا ہو گا، اگر ایسا نہ کیا گیا تو.؟

’’وطیرہ.؟‘‘
سوچ کے پر/ ڈاکٹر اشفاق رحمانی
i am Dr. Ashfaq Rehmani Write an Column it this Link with the reference of my brother who is the regular columnist in the same.So,net user and Read,s ,there are 1-Articles under attached folder for Editorial Page & your sweet personality.
i am regulaer columnist on AL-Qamar.org*www.alqamar.org & www.newsurdu.net
plz see attached & responce through email also
Thanks & Regard
Dr.Rehmani
pasrurmedia@hotmail.com
0301-4690032

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......