Chand Muafian Aur Bhi Wajib Hain Hazoor

Submitted by Atif Aliem on Fri, 02/29/2008 - 07:49

چند معافیاں اور بھی واجب ہیں حضور!

کالم بعنوان: آہٹ
عاطف علیم

ہم ٹھہرے ذلتوں کے مارے لوگ، راندہ درگاہ اورمردود حرم۔ہماری یہی اوقات کہ ہم پر حکم مسلط کئے جائیں، ہمیں کوڑوں کی شوکر سنا کر ڈرایا جائے اور اطاعت پر مجبور کیا جائے۔ہمارا یہی نصیب کہ ہمیں انسانوں کی ایسی نسل قرار دیا جائے جو انسانی حقوق حاصل کرنے کے لائق ہی نہیں ۔ہمارا یہی مقدور کہ جب دل چاہے ہمیں دہشت گرد قرار دے کر ہم پر میزائل برسا دئیے جائیں اور اگر سوئے اتفاق ناشتہ پسند کا نہ ملا ہو توہمیں کارپٹ بمباری کا سزا وار ٹھہرا دیا جائے۔ہم تو اس لائق ہیں حٖضور کہ ہم سے بات کرنا مقصود ہو تو گن شپ ہیلی کاپٹر بطور ایلچی روانہ کئے جائیں اور اگرہم سے کوئی معاملہ کرنا ٹھہرے تو بعنوان لشکر کشی کیا جائے۔
شاید آپ کے علم میں ہو حضور! کہ ہم اس دھرتی کے جنے، ہم پنجابی، پختون، بلوچ اور سندھی صدیوں، قرنوں سے غلامی کا جوا گردن میں ڈالے اپنے دن کو رات میں بدلنے کے جتن کیا کرتے ہیں ۔ہمارے لئے زندگی کا مفہوم اس کے سوا کیا ہے کہ محنت بو کر بھوک کاٹی جائے۔ہمارے لئے سیاست کے معنی اس کے سوا کیا ہیں کہ ہر دم ہیبت حاکم سے لرزا جائے۔ ہم تو اپنی نیم انسانی حالت پر قانع ہیں کہ اس کے سوا ہم نے کچھ اور دیکھا ہی نہیں ہے۔ہم جیسے صابر شاکر بندوں سے ، ہم جیسے فدوی طبع لوگوں سے کس بات کی معافی؟ہم سے تو کبھی کسی نے طلب کئے بھی معافی نہ مانگی اور آپ بے طلب معافی کے طالب ہیں؟
جناب آصف زرداری صاحب! ہم مان گئے آپ واقعی مہان ہیں،بہت بڑے دل والے ہیں جو آپ ہمارے بلوچ بھائیوں سے کھلی معافی کے خواست گار ہیں۔خدا آپ کے درجات بلند کرے۔ آپ کے اور آپ کے نئے دوست میاں نواز شریف صاحب ہمیشہ صاحب اقبال رہیں لیکن براہ کرم معافی کا ذکر نہ ہی چھیڑیں تو بہتر ہے کہ بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی۔
جناب زرداری صاحب!آپ نے پاکستانی قومیتوں اور سرکار پاکستان کے بی ہاف پر بلوچستان میں روا رکھی جانے والی ریاستی دہشت گردی اور حقوق کی پامالی پر معافی مانگ کر یقینا بڑے ظرف کا ثبوت دیا ہے۔اپنی تاریخ کے ہر ہر لمحے میں ہمارے حکمرانوں نے بلوچ عوام کے خلاف جو ناقابل تلافی جرائم کئے ہیںان کا یہ کم از کم مداوا ہے۔آپ سے پہلے کسی کو ان سے معافی مانگنے کی توفیق نہ ہوئی لیکن آپ کس کس سے کس کس بات کی معافی مانگیں گے کہ یہاں تو معاملہ تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم والا ہے۔ان گذرے ساٹھ باسٹھ سالوں میں ہمارے خلاف اتنے بڑے بڑے جرم کئے گئے ہیں کہ ہمارے حکمران طبقوں کا لمحہ لمحہ معافی مانگتے گذرے تو بھی یہ باب ختم ہونے والا نہیں ہے۔
اگر آپ اہل سرکار کی جانب سے معافی مانگنے پر آ ہی گئے ہیں تو کیوں نہ اس کا سلسلہ اس ملک کے روز اول سے شروع کیا جائے جب ہندوستان کی تقسیم کے وقت سرحد کے دونوں اطراف بے گناہ انسانوں کو تاریخ عالم کی بدترین دہشت گردی کا شکار بنایا گیا۔لاکھوں لوگ اپنی جانوں سے گئے، جانے کون کون پامال ہوا اور جانے کس کس نے انسانیت کے ماتھے پر کالک ملی لیکن آج تک کسی جانب سے حرف معافی نہیں آیا۔اس پار والے اس پار والوں سے معافی مانگیں نہ مانگیں، ان کا ظرف لیکن ہمیں تواپنے حصے کے جرائم کا اقرار کرتے ہوئے اس پار والوں سے معافی مانگنی ہے۔اور پھر جناب آصف زرداری صاحب! پنجابی اور مہاجر اشرافیہ کے گٹھ جوڑ نے بنگالیوں کے ساتھ کیا کیا نہ کیا۔لیکن ایک ان دونوں پر کیا موقوف ۔کون قومیت ایسی تھی جس نے خاموش رہ کر بنگالیوں کی نسل کشی میں شریک جرم ہونے کا اعزاز حاصل نہ کیا؟۔ہم سب پر تاریخ کی جانب سے یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ ہم سرکاری سطح پر اہل بنگال سے معافی کے خواستگار ہوں۔شاید ہمارے اس عمل سے بنگالیوں کے دل میں کچھ ٹھنڈک اترے اور ان کے دلوں کی تلخی میں تھوڑی کمی آئے۔
جناب زرداری صاحب! پرانی باتوں کو اگر فراموش کر بھی دیا جائے تو نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران عوام کے خلاف کئے جانے والے بھیانک جرائم کے بارے میں کیا خیال ہے؟۔غضب خدا کا راتوں رات پوری کی پوری پختون قوم کو دہشت گرد بنا کر پیش کر دیاگیا۔ لال مسجد کا خونی باب رقم کیا گیا۔غیر ملکی مفادات کو تقویت پہنچانے اور ان سے اقتدار کی جزائے خیر چاہنے کیلئے دہشت گرد تخلیق کئے گئے اور انہیں انسانی بستیوں میں دہشت اور ہلاکت پھیلانے کیلئے کھلا چھوڑ دیا گیا۔صد شکر کہ ایک امید بھرا دور شروع ہونے کو ہے لیکن اب بھی ہزاروں خاندان اپنے سینوں پر اپنے پیاروں کی تصویریں لٹکائے در بدر پھر رہے ہیں۔ستم بالائے ستم یہ کہ انہیں جس در سے انصاف کی توقع تھی ،وہ در ہی بند کردیا گیا۔جس نے ان کے زخموں کا مداوا کرنے کی ٹھانی اسے بچوں سمیت قید سخت میں مبتلا کردیا گیا۔اب اگر معافی کی بات چلی ہے تو ان سب کا بھی حق ہے کہ نئی آنے والی سرکار ان سب لوگوں سے بھی معافی مانگے اور انہیں انصاف دلانے میں ان کی مدد کرے۔
یہ تو ہوئے چند واقعات جن کی جلد یا بدیر ذمہ داروں کو معافی مانگنا ہی ہوگی لیکن اس کے سوا بھی تو ہم پر بہت سے ستم ہوئے۔ہمارے حکمرانوں نے روز اول سے ہمیں جعلی تصورات، جعلی خیالات، جعلی محبتوں اور جعلی نفرتوں کی بھینٹ چڑھایا۔ہمیں ویژن سے محروم کرنے کیلئے ہمارے سروں جہالت کے آہنی ٹوپ پہنائے گئے۔ہمیں بے سمت رکھنے کیلئے ہم پر جعلی لیڈر مسلط کئے گئے۔ہمیں الجھائے رکھنے کیلئے قومیتوں کے درمیان شکوک کی دیواریں کھڑی کی گئیں۔ہمیں جمہوریت اور انسانی آزادیوں سے محروم رکھنے کیلئے ایک منظم قوم کی بجائے بھیڑوں کے ہجوم میں بدلا گیا۔بنام حکومت ہم پر طاقتور مافیا ز چھوڑے گئے۔ اگر حدیث دل کھولنے بیٹھیں زرداری صاحب! تو طلسم ہوشربا کا باب کھل جائے گا ۔ہم کس کس بات کا تذکرہ کریں اور کس کس بات کی معافی کے طلب گار ہوں؟۔
اس وقت ہم بحیثیت قوم تاریخ کے ایک نازک اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں۔یہی وہ وقت ہے جب ہمیں کچھ باتیں طے کرنی ہیں اور کچھ فیصلوں تک پہنچنا ہے۔ہمارے حکمران طبقوں نے ہمارے ساتھ جو طرز حکمرانی اختیار کیا وہ کچھ ایسا تھا کہ اگر ہم اپنی کتاب تاریخ کو نچوڑیں تو اس میں سے انسانی لہو کے ساتھ ساتھ ذلتوں، محرومیوں، مکروہ ترین استحصال اور جبر مسلسل کے سوا کچھ نہ نکلے گا۔حالیہ چندبرسوں نے معاملات کو اتنا گھمبیر کردیا ہے کہ اب پرانے انداز میں معاملات کے چلنے کی کوئی صورت ہی نہیں رہ گئی ۔اب تو یوں ہے کہ اگر ہمیں ایک جغرافیائی اکائی میں اکٹھے مل کر رہنا ہے۔اگر ہمیں ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی بننا ہے اور اگر پاکستان کی چاروں اکائیوں کو باہم مربوط رکھنا ہے تو ہمیں کھلے دل کے ساتھ اپنی اپنی زیادتیوں کا اعتراف کرنا ہوگا اور صدق دل کے ساتھ معافی مانگنی ہوگی ۔اس کے ساتھ ہی ایک ایسا طرز حکومت اپنانا ہوگا جس میں کوئی کسی کا استحصال نہ کرسکے، کوئی کسی کو جان، مال اور عزت سے محروم نہ کرسکے۔
جناب آصف علی زرداری صاحب! آپ کے الفاظ سے ہمیں حوصلہ ہوا ہے کہ ہم ایک نئے دور کی ابتدا کرنے جارہے ہیں ۔ایسا دور جو انسانیت کی حقیقی قدروں سے عبارت ہوگا۔ہم آپ سے کچھ نہیں مانگتے ، صرف یہ چاہتے ہیں کہ معافی تلافی کی جس روش کا آپ نے آغاز کیا ہے اسے ایک مستقل قدر کی حیثیت سے رواج دینے میں اپنا کردار ادا کیجئے۔یہی گڈ گورننس کی واحد صورت ہے اور یہی ہمارے مینڈیٹ کی حقیقی روح ہے۔

:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

محترم بھائی
آپ کے ایک ایک لفظ میں سچائی ہے اور ایک ایک لفظ حقیقت کا آئینہ دار ہے ہم نے بلوچوں کو کتنے زخم دئیے ہم نے سندھ کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھا ہم نے پنجاب کے نچلے طبقے کو کس قدر روندھا اور ہم نے پٹھانوں کو کتنا نقصان پہنچایا یہ سب کسی کی ایماء پر مگر یہ جزبات خوامخواہ تو ٹھنڈے نہیں ہونگے لہٰذا ہم شرمندہ ہیں

Piare Bhai Arif Mahi!
Thank u for your kind concideration, Yes, u r right, Now, while the political scenerio of our country has been changed we must also have to change our attitude towards forsaken and down trodden people.
I am a regular columnist of Daily Express, U can also read me in the paper or can also find me on a website: www.bbcone.net.
Atif Aliem

Piare Bhai Arif Mahi!
Thank u for your kind concideration, Yes, u r right, Now, while the political scenerio of our country has been changed we must also have to change our attitude towards forsaken and down trodden people.
I am a regular columnist of Daily Express, U can also read me in the paper or can also find me on a website: www.bbcone.net.
Atif Aliem
atif.aliem@gmail.com

Guest (not verified)

Wed, 11/10/2010 - 18:46

The loan seem to be important for people, which would like to start their own company. As a fact, that is easy to receive a commercial loan.

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......