5 Percent

Submitted by Guest (not verified) on Wed, 01/09/2008 - 07:27

(ع) پانچ پرسنٹ
تحریر: ڈاکٹر مطلوب حسین ﴿دلِ آئینہ ساز﴾
آج جدید ریسرچ کی بدولت’’ انٹر نیٹ ‘‘نے پوری دنیا کو گلوبل ولیج کی حیثیت دے رکھی ہے۔اگر آپ انٹر نیٹ استعمال کرتے ہوں ، اور ’’گوگل‘‘ پر ایک نام ’’ثاقب علی عتیل‘‘ لکھ کر ’’ سرچ ‘‘ کریں تو اِ س نام کی بیشمار انٹرنیشنل ویب سائیٹس کھلتی چلی جائیں گی۔دراصل ثاقب علی عتیل، نفسیات کی دنیا میں ایک انٹرنیشنل پر سنلٹی کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔دنیا کی کئی درجن یونیورسٹیوں کے طلبائ و طالبات اور اساتذہ کرام اُن کے ریسرچ آرٹیکلز سے استفادہ حاصل کرتے ہیں۔ وہ نفسیات کی دنیا کا ایک بڑا نام ہیں۔ اسی مضمون پر ایک انٹرنیشنل ویب سائیٹ بھی چلا رہے ہیں.گذشتہ روز میرے موبائل پر ایک کال رسیو ہوئی۔ کال کرنے والے نے اپنا تعارف اس طرح کرایا:’’اسلام علیکم﴿وعلیکم السلام جواب دیا گیا﴾! ڈاکٹر صاحب !میں ساہیوال سے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ریوینو آفیسر ثاقب علی عتیل بول رہا ہوں‘‘. اُن کا لہجہ بڑا ہی جولی قسم کا تھا ،سو میں نے بھی ازراہِ مذاق کہا ’’پھر تو آ پ خوب اوپر کی کمائی اکٹھی کرتے ہوں گے؟‘‘۔ثاقب صاحب کا قہقہ بلند ہوا اوراُسی جی دار لہجے میں بولے :’’ڈاکٹر صاحب میں نے اوپر کی کمائی کو جائز بنا لیا ہے‘‘.میں نے کہا ’’ایں.‘‘ ۔پھر خود ہی بولے:’’ دراصل میں رشوت نہیں لیتا،بلکہ اپنی ایک انٹرنیشنل ویب سائیٹ چلاتا ہوں ،جس سے مجھے کم و بیش ایک لاکھ روپے ماہانہ مل جاتے ہیں‘‘۔
میں نے اُن سے انٹرنیٹ کے ذریعے پیسے کمانے کا طریقہ دریافت کیا۔اور بھی بہت سی مزیدار باتیں ہوئیں. گفتگو کے اسی تسلسل میں کہنے لگے:’’ مطلوب صاحب !آپ نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ قرآن میں ہر قسم کے فارمولے موجود ہیں،حالانکہ میرے خیال میں قرآن ایک ثواب و عذاب کی کتاب ہے ‘‘۔ میں اُ ن کی بات غور سے سن رہا تھا، کہنے لگے :’’ کروڑو ں مسلمان غریب ہیں ، قرآن میں امیر ہونے کا کوئی فارمولہ بھی ہو گا ؟، آپ ڈھونڈ کر انہیںکیوں نہیں بتا دیتے؟‘‘.واقعی اُن کی بات میں بڑا وزن تھا۔ایک انتہائی ذہین اور دانشور شخصیت کے ساتھ گفتگو کے بعد فون تو بند ہو گیا ، لیکن میرے اندر ایک وائبریشن سی پیدا کر گیا۔میں اگلے بیشمار گھنٹے اس آئت پر غوروفکر کرتا رہا :﴿ترجمہ﴾ ’’ جو ﴿مال ﴾ بھی تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اس کا اجر ضائع نہیں ہو گا ‘‘۔ قرآن کی ہر آ ئت ایک مکمل ’’قانون ‘‘ ہے ، اس لئے یہاں بھی یہ قانون واضح ہے کہ جب روپیہ پیسہ انسانی فلاحی کاموں پر خرچ کیا جائے گا تو آمدنی میں بھی اُسی تناسب سے اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ علمائ کرام فرماتے ہیں کہ دنیا میں دس گنا بڑھتا ہے اور آخرت میں ستر گنا۔ یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ مسلم یا غیر مسلم جو بھی اس قانون پر عمل کرے گا ،اس کے لئے میدان کھلا ہے۔
کچھ عرصہ قبل چند یہودی افراد سے گفت و شنید کے بعد مجھ پر یہ حقائق منکشف ہوئے تھے کہ یہودی قوم اپنی آمدنی کا 20 فیصد، انسانی فلاحی کاموں پر خرچ کرتی ہے۔کئی ہزار سال وہ اس اصول پر کاربند ہے ۔سو نتیجہ ساری دنیا کے سامنے ہے۔ صرف ایک کروڑ یہودی پوری دنیا کی %60دولت﴿اثاثوں﴾ کے مالک ہیں۔بین الاقوامی معاشی اصولوں کے مطابق بھی سرمایہ مارکیٹ میں لانے سے دولت کا دائرۂ وسعت پھیلتا ہے۔امیر کبیر لوگوں کی سرگرمیوں پر ذرا ایک نظر ڈالتے ہیں۔
ارب پتی52 سالہ امریکی ٹی وی میزبان ’’ اوپراہ وِ نفرے‘‘ سالانہ ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ بے سہارا بچوں پر خرچ کرتی ہیں.مشہورِ زمانہ فٹبال کلب ’’ اے سی میلان‘‘ کے مالک ، اٹلی کے سابق وزیرِاعظم ’’ سِلوِیا بَرلسکونی‘‘ ٹاپ ٹین میں شامل ہیں۔فلاحی کاموں پر سالانہ70کروڑ ڈالر خرچ کرتے ہیں.رَپرٹ مرڈاچ ’’ایڈیلیڈ نیوز‘‘ ، ’’ دی سن‘‘ ، ’’ نیوز آف دی ورلڈ‘‘ ، ’’نیویارک ٹائمز‘‘ ، ’’ٹونٹئتھ سنچری فاکس ‘‘ اور’’فاکس ٹی وی‘‘ کے مالک ہیں۔ ہر سال دس کروڑ ڈالر سے زیادہ کی رقم غریب عوام پر خرچ کرت دیتے ہیں. مشہورہنگری نژاد امریکی ارب پتی یہودی ’’جارج ساروز‘ ‘ بھی ہرسال بیس کروڑ ڈالر سے زیادہ غریب ممالک کے لوگوں پر خرچ کرتے ہیں . ’’کمپیوٹرپرسنیلٹی ‘‘ بِل گیٹس کی دولت کا اندازہ96/ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ وہ اب تک 27 /ارب ڈالر﴿ پاکستان کے کل بجٹ سے بھی تین گنا زیادہ﴾کی رقم انسانی فلاحی کاموں پر خرچ کر چکے ہیں۔اپنے ایک آرٹیکل میں ’بل گیٹس ‘ نے لکھا تھا :’’مجھے اتنی خوشی دنیا کا سب سے امیر انسان بن کر نہیں ہوئی جتنی خوشی خدا کی راہ میں خرچ کر کے ہوتی ہے‘‘.رئیل اسٹیٹ سے و ا بستہ پاکستان کے ایک سب سے امیر فرد نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ اُن کی دولت میںاضافہ کا رازیہ ہے کہ وہ اپنے اصل منافع کا 33فیصد حصہ ہمیشہ غریبوں پر خرچ کردیتے .دولت آنے سے قا رُونیت آ تی ہے یا پھر عُثمانیت۔دولت مند بننے کا ہر کوئی خواہش مند ہے لیکن ’’عثمان‘‘ کوئی نہیں بنناچاہتا. حضرت عثمان (رض) نے ایک موقع پر دو ہزار اونٹوں پر لدا ہوا غلہ عام لوگوں میں تقسیم کر دیا تھا، آج اس کی قیمت 2 کروڑروپے بنتی ہے۔ایک دوسرے موقع پر انہوں نے ایک کنواں آٹھ ہزار دینار میںخرید کر مدینہ کے لوگوں کے لئے وقف کر دیا تھا ، یہ بھی آج کے حساب سے کم و بیش 4 کروڑ روپے بنتے ہیں۔
قارئین کی دلچسپی کے لئے یہ بھی عرض کردوں کہ مجھے اب تک 29 خواتین و حضرات نے ’’ 5 پرسنٹ‘‘ والے فارمولہ کے تجربات سے آگاہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سال ایکسپریس میں 22 فروری کو میرا ایک کالم ’’امیر ہونے کا ایک کامیاب نُسخہ‘‘ کے عنوان کے تحت شائع ہواتھا۔میں نے اس میں ’’اللہ کے ساتھ 5 پرسنٹ شراکت والا فارمولہ‘‘ متعارف کرایا تھا ،کہ جس پر عمل کر کے ہم سے پہلے ہمارے اسلاف بھی فائدہ اُٹھاتے رہے ہیں۔کئی درجن قارئین کرام نے مجھے کالم اور فارمولہ کی پسندیدگی سے آگاہ کیا تھا۔میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ یہ فارمولہ 100 فیصد نتائج دیتا ہے، اور آ ج تک ناکامی سے دو چار نہیں ہوا ۔ چنانچہ بہت سے لوگوں نے کہا تھا کہ وہ یہ فارمولہ ضرور آزمائیں گے۔ الحمد لللہ29 خواتین و حضرات کی گواہی ایک بہت بڑی کامیابی کی دلیل ہے،جس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔سب قارئین نے تقریباََ ملتے جُلتے خیالات کا اظہار کیا ہے کہ انہوں نے جب سے اپنی ملازمت یا کاروبارکے اصل منافع کا 5 فیصد انسانی فلاحی کاموں پر ، مستقل طور پر خرچ کرنا شروع کیا ہے ،ا ن کی آمدنی میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ملازمت والوں کی تنخواہیں بڑھ گئیں ، گھر میں خیر برکت ہو گئی ، اور کاروبارکر نے والوں کے کاروبار میں ترقی اور تیزی آگئی۔ ﴿ جو قارئین کرام روزنامہ ایکسپریس میں شائع شدہ میرے کسی پرانے کالم کا مطالعہ کرنا چاہیں تو وہ اپنا ای میل ایڈریس مجھے سینڈ کردیں ، میرے کالم ایک’’ خاص پراسس ‘‘ کے تحت انہیں مل جائیں گے۔جو لوگ یہ سہولت نہ رکھتے ہوں وہ کسی لائبریری سے اخبار کی پرانی فائلوں سے استفادہ کر سکتے ہیں، یا پھر میری کتاب کا انتظار فرمائیں﴾۔
yymatloob1@yahoo.com

Guest (not verified)

Thu, 12/23/2010 - 03:08

That’s not really easy to finish custom papers and I propose to buy essay about this good topic using the writing service.

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......