WOH GHARI TO AAKAR RAHEY GI

Submitted by Atif Aliem on Sun, 05/18/2008 - 10:50

وہ گھڑی تو آکر رہے گی
عاطف علیم
روزنامہ ایکسپریس
atif.aliem@gmail.com
خیال تھاکہ عوام کا فیصلہ جادو کی طرح سر چڑھ کر بولے گا۔اٹھارہ فروری کے بعد مطلع صاف ہوگا تو ایک نیا سورج اگے گا اور کہرے کی ماری ہوئی فصل امید نئی حدت پاکر پھر سے لہلہا اٹھے گی۔صدیوں سے کچلی ہوئی مخلوق خدا سر اٹھا کر جینے کے قرینے سے سرشار ہوگی ۔معلوم ہوا کہ تجزیوں کی بنیاد برسر زمین حقائق پر نہیں ہماری بے تابانہ خواہشات پر استوار تھی۔معلوم ہوا کہ ہم نے دریا تو پار کرلیا لیکن اس کے آگے نرم دھوپ میں اونگھتا ہوا پتن نہیں تھاکہ جس میں سے پھوٹتی پگڈنڈی پر ہم پاؤں رکھتے اور نئی منزلوں کی دھن میں چل پڑتے۔وائے افسوس وہ پتن نہیں ایک اور دریا کا ساحل تھا۔اب اس دریا کے پار اتریں گے تو جانیں کتنے اور دریا ہم خستہ تنوں کی ہمتوں کو للکارتے ملیں گے۔سو صاحبو! تیاری پکڑو کہ ہمیں پھر سے کھولتے ہوئے پانیوں میں قدم رکھنا ہیں اور ہم نہیں جانتے کہ ہمارے تھکے ہوئے جسم ایک اور دریا کی شوریدگی برداشت کر پاتے ہیں یا نہیں۔ہم ناتواں ہیں لیکن ہمیں صدیوں کا کفارہ ادا کرنا ہے۔ ہم بے خطا ہیں لیکن ہمیں ان جرائم کا حساب دینا ہے جو ہمارے پچھلوں نے کئے۔
اب جس نئے بحران میں ہمیں دھکیلا گیا ہے ہم اس سے بچ کر گذر سکتے تھے اگر وہ لوگ جنہیں ہم نے منتخب کرکے بھیجا تھا ایک بار ان آنکھوں میں جھانک لیتے جن میں صدیوں کی پیاس تحریر ہے ، جن میں دریاؤں کی شوریدگی سما چکی ہے اور وہ جنون بھی جو ریت کے ہر قلعے کو مسمار کرنے کیلئے بے تاب ہے۔اگر وہ ایک بار ان آنکھوں میں جھانک لیتے تو شاید انہیں قلعے کے مکینوں اور ان کے پشت بانوں کے ساتھ کئے جانے والے عہد و پیماں ہیچ دکھائی دیتے۔تب شایدوہ گھاٹے کا سودا کرنے سے باز رہتے۔اتنی سمجھ تو ان میں بہر حال ہے کہ جان لیتے کہ ان کا اپنا فائدہ کہاں ہے، زندہ انسانوں کی آرزوؤں کے ساتھ وابستہ رہنے میں یا مردہ لاشوں کو ’’آئینی جواز ‘‘ کا کفن پہنانے میں ؟۔ہماری خوش فکری اپنی جگہ لیکن تجربے کی بات ہے کہ انہوں نے ایسا نہیں کرنا تھا۔ایسا کرنا ان کے طبقاتی مفادات سے لگا ہی نہیں کھاتا ۔انہوں نے پہلے کب ایسا کیا جو وہ اب کرتے ۔یوں بھی ماضی کے مقابلے میں ان کے دامن پر داغوں کی بہار کچھ زیادہ ہے۔ایک بچہ بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ جب حریف کمزور ہو تو اسے اخلاق کی مار نہیں ماری جاتی۔سازشوں کا جواب آئیں بائیں شائیں میں نہیں دیا جاتا،ایک فیصلہ کن حملہ کیا جاتا ہے اور قصہ تمام کیا جاتا ہے وگرنہ وہ سنبھل کا اٹھے گا اور آپ کا قصہ تمام کردے گا۔البتہ میچ فکسنگ یا نورا کشتی کا معاملہ ہو تو الگ بات ہے۔ہم بد نیتی کی بات نہیں کرتے کہ اصل بات کم ہمتی کی ہے یا سمجھوتے کی ان زنجیروں کی جنہوں نے نئی نویلی حکومت کے پاؤں میں من بھر کا سیسہ بھر رکھا ہے۔انہوں نے حملہ کرنے میں پہل نہیں کی اور نتیجہ یہ کہ جس نے طاقت پکڑنی تھی وہ طاقت پکڑ چکا۔اب تو صرف یہ دیکھنا باقی ہے کہ وہ آپ کے ساتھ کیا معاملہ کرتا ہے۔آپ بیٹھے حساب کرتے رہیے کہ انصاف پہلے ہے یا روٹی۔آپ بیٹھے خود کو جھانسا دیتے رہیے کہ پارلیمنٹ اپنے فیصلے خود کرنے کی مجاز ہوچکی ہے اورآپ بیٹھے ساحل پر دو جمع دو پانچ لکھتے رہیے۔خسارہ آپ کے نصیب میں لکھا جاچکا ہے۔اس خسارے کا بار بھی آپ ہی کو اٹھانا ہوگا ۔اس میں کوئی دوسرا آپ کا شریک نہیں ہے۔
حملہ کرنے میں تاخیر کرنا یا اس سے گریز کیلئے عذر تراشنا کوئی پہلی بار نہیں ہوا ہے۔اس سے پہلے بھی ہمارے سیاستدان ایک مہلک غلطی کرچکے ہیں۔یہ موقع تھا قیام پاکستان کے فوری بعد کا جب ہمارے ساتھ آزاد ہونے والے بھارت میں حملہ کرنے میں پہلی کی گئی اور ایک ہی ہلے میں جاگیرداری کا قلع قمع کرکے ان تمام سوتوں کو خشک کردیا جن سے ریاست کی انتظامی مشینری قوت حاصل کرکے مسلح ادارے کے ساتھ گٹھ جوڑ بناتی ہے اور حق اقتدار پر قبضے کے دائمی حقوق حاصل کرلیتی ہے۔جواہر لال نہرو اور اس کے ساتھی نرے سیاست دان نہ تھے ، قوم کے نباض بھی تھے ۔وہ جانتے تھے کہ اگر ان قوتوں کو پھولنے پھلنے کا موقع دیا گیا جن کا مفاد ریاست کی پسماندگی میں پنہاں ہوتا ہے تو آنے والے تمام ادوار میں سیاست قوتیں طفیلی بن کر ان کے رحم و کرم پر پڑی رہیں گی۔ہمارے پاس کیا تھا، لے دے کر ایک محمد علی جناح؟لیکن وہ تو اپنی توانائیوں کی آخری بوند تک ایک نئی مملکت کی بنیادوں میں بھر چکے تھے۔وہ کتنے روز اور جیتے اور کوئی انہیں کتنے روز اور جینے دیتا؟وہ تو اپنا فرض پورا کرگئے لیکن ان کے بعد بچ رہنے والے کھوٹے سکے اپنا کام دکھانے کیلئے آزاد ہوگئے۔ یہ زیادہ تر وہ لوگ تھے جن کی سیاست دو دو ٹکوں کے ’’صاحب بہادروں‘‘ کی قدم بوسی سے زیادہ کچھ نہ تھی۔کاش وہ بے خبر جان سکتے تھے کہ وہ وقت قدم بوسی کا نہیں جارحانہ انداز میں سیاسی حکمت عملی اپنانے کا تھا۔وہ بیچارے عوام دشمن قوتوں پر حملہ کرکے ریاست پر عوام کے اقتدار کو مضبوط کیا کرتے کہ وہ خود ان قوتوں کے پالے ہوئے تھے یا ان کے مفادات کے نگہبان تھے۔انہوں نے عافیت اسی میں تلاش کی کہ ریاستی مشینری اور طاقت ور ادارے کے گٹھ جوڑ کو مضبوط ہونے دیا جائے۔وہ قدم بوسی کے خوگر تھے سو انہیں یہی کرنا تھا ، گورا صاحب نہیں تو براؤن صاحب ہی سہی۔
آج جو کچھ معاملات درپیش ہیں یہ اسی تاریخی عمل کا تسلسل ہیں۔درست کہ قوم کی زنبیل میں نو مارچ 2007 کی بیداری بھی موجود ہے اور وکلا کی عظیم الشان جدوجہد کی تابندگی بھی ماند نہیں پڑی۔یہ بھی درست کہ تبدیلی کی خواہش بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔لیکن ساتھ ہی ہم نے یہ بھی دیکھ لیا ہے کہ ریاست پر قابض روایتی گٹھ جوڑ کی طاقت بھی اپنی جگہ پر موجود ہے۔اس گٹھ جوڑ کو توڑنے کا ایک اور سنہری موقع مصلحت پرستی کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔قریب آتی منزل کچھ اور دور ہوگئی ہے لیکن تاریخ کی کتابیں ہمیں ایک خوش کن خبرد ے رہی ہیں کہ کسی بھی سازش یا کسی بھی ٹیکنالوجی کی مدد سے سمندر سے اٹھتی بڑھتی لہروں کو واپس نہیں دھکیلا جاسکتا۔ وقت اپنے دامن میں حادثے اور انقلابات لئے آگے کو بڑھتا رہتا ہے۔ثبات اگر میسر ہے تو صرف تغیر کو سو تبدیلی تو آکر رہے گی ۔ فی الوقت بریکنگ نیوز یہ ہے کہ ابھی نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی۔ابھی سسی فس کے سامنے کھودنے کو ایک پہاڑ پڑا ہے۔ابھی جانے کتنی آندھیاں اٹھنی باقی ہیں اور ابھی اہل صفاء کی آنکھوں میں جانے کتنی ریت سمانی باقی ہے لیکن کون جانے وقت کے دامن میں ابھی کچھ بریکنگ نیوز اور بھی ہوں، آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو تقویت پہنچانے والی۔جنہوں نے خسارے کا سودا کرنا ہے شوق سے کریں۔ان سے پہلوں نے بھی خسارے کا سودا کیا اور نوزائیدہ مملکت کو بے یقینی اور عدم استحکام کے حوالے کردیا۔یہ بھی ایسا کرنا چاہتے ہیں تو شوق سے کریں لیکن یہ ضرور یاد رکھیں کہ ابھی کھیل تمام نہیں ہوا ۔ابھی بہت سے ایکٹ باقی ہیں۔ولن بیچارہ کتنے ایکٹ اور نکال جائے گا۔نجات دیدہ و دل کی گھڑی کو تو آکر رہنا ہے۔اگر اب نہیں تو آئندہ کبھی سہی۔سہولت سے نہیں تو بصد خرابی بسیار سہی۔

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......