MOHAMMAD IBRAHIM KA KHOON RAIGAAN NA JAE

Submitted by Atif Aliem on Wed, 05/28/2008 - 20:41

محمد ابرہیم کا خون رائیگاں نہ جائے
عاطف علیم
atif.aliem@gmail.com
قبائلی علاقوں میں اور کچھ اگتاہو نہ ہو نائن الیون کے بعد گرما گرم خبروں کی کھیتی ضرور ہری بھری رہتی ہے۔ ان دنوں کے بعد خبروں کی گرم بازاری اور ملکی و غیر ملکی میڈیا کی علاقے پر یلغاردیکھ کر قبائلی علاقوں کے بہت سے پڑھے لکھے نوجوانوں کو بھی صحافت کو بطورکیرئر اپنانے کا شوق چرایا۔پاکستان کے غیر پختون شہری علاقوں اور بیرون ملک سے آنے والے صحافیوں کیلئے قبائلی علاقوں میں جگہ جگہ خطرات کی بارودی سرنگیں موجود تھیں۔وہ مقامی زبان اور روایات سے بھی آشنا نہ تھے لہٰذا انہیں ایسے مقامی نوجوانوں کی ضرورت تھی جو پہاڑی غاروں میں گھس کر خبریں چرانے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس سے منسلک مقامی نوجوان صحافیوں نے اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کیلئے جس غیر معمولی جفاکشی اور جرات کا مظاہرہ کیا وہ کچھ انہی کا حصہ ہے۔اس ماحول سے متاثر ہوکر اس نوجوان نے بھی اپنی ڈگری بغل میں دبائی اورصحافت کے خار زار میں قدم رکھ دیا۔
سوکوئی چھ سال پہلے کی بات ہے کہ پشاور میں روزنامہ ایکسپریس میں وہ لمبا تڑنگا قبائلی نوجوان داخل ہوا۔اس کا چہرہ بھٹی میں پگھلتے ہوئے آہن کی طرح سرخ تھا اور اس کی نیلی آنکھوں میں سنگلاخ پہاڑوں کے تنگنائے سے نکل کر کھلے میدانوں میں آنکلنے والے پانیوں ایسا سکون تھا۔فاٹا کے دوسرے پڑھے لکھے نوجوانوں کی طرح اس کے دل میں بھی کچھ کردکھانے کا عزم تھا۔یوں بھی یہ نوجوان پیشہ ورانہ حوالے سے ہر اعتبار سے موزوں تھا۔سو روزنامہ ایکسپریس نے اسے اپنے دامن میں سمو لیا۔بعد میں جب ایکسپریس نیوز کا اجرا ہوا تو محمد ابراہیم اس کے ساتھ وابستہ ہوگیا۔کہا جاتا ہے کہ یہ سادہ دل اور سادہ مزاج نوجوان اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔اسے اپنے لئے مراعات درکار تھیں نہ اسے گاڑیوں میں گھومنے کا شوق تھا۔اس کے پاس ایک پرانی موٹر سائیکل تھی جسے وہ اپنی نقل و حرکت کیلئے کافی سمجھتا تھا۔دل کا حال تو وہی جانے لیکن گمان ہے کہ وہ بھی اپنے کئی ایک ساتھیوں کی طرح اپنے علاقے کو آگ اور خون کے کھیل سے محفوظ رکھنے کیلئے اپنے تئیں جہاد میں مصروف تھا۔اس جہاد میں اس کا واحد اثاثہ اس کا توشہ جاں اور واحد ہتھیار اس کا قلم تھا ۔
دنیا کے ہر صحافی کا مسئلہ ’’ سکوپ مارنا‘‘ ہوتا ہے کہ کوچہ صحافت میں خود کو دوسروں سے ممتاز کرنے اور زیادہ کارآمد ثابت کرنے کا یہ مجرب نسخہ مانا جاتا ہے۔ گذشتہ دنوںمحمد ابراہیم نے بھی چاہا کہ معمول کی خبر نگاری سے بڑھ کر کچھ کیا جائے۔فاٹا میں امن کی بحالی کیلئے جاری مذاکرات اور ان مذکرات کو سبوتاژ کرنے کیلئے ڈمہ ڈولا پر کی جانے والی بمباری کے بعداسے خیال آیاکہ دوسری جانب کے خیالات تک بھی براہ راست رسائی حاصل کی جائے۔اس نے جاں توڑ کوششوں کے بعد عسکریت پسند گروہ کے ترجمان مولوی عمر تک رسائی کرلی اور انٹرویو کی درخواست کی جسے ردو کد کے بعد منظور کرلیا گیا۔
یہ بائیس مئی کی ایک گرم صبح تھی جب اس نے اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے گلاب گالوں کو بوسہ دیا اور کیمرہ گلے میں ڈال کر نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہوگیا۔وہ پرجوش تھا کہ وہ اپنے اور اپنے ادارے کیلئے ایک اہم انٹرویو کرنے جارہا ہے۔یہ انٹرویو اسے امکانی طور پر وہ شہرت اور عزت دے سکتا تھا جس کا وہ عرصے سے متلاشی تھا۔کہانی کے اس موڑ پر راوی کو یک لحظہ سکوت اختیار کرکے اپنے تخیل کو مہمیز دینا پڑے گی کیونکہ اسے آگے بڑھنے کیلئے کوئی شہادت میسر ہے نہ شواہد اس کی مددکو موجود ہیں۔ ہوا یہ ہوگا کہ جب وہ اپنا کام مکمل کرکے واپس آرہا تھاتو اس کے گلے میں جھولتے کیمرے میں کوئی اہم فوٹیج محفوظ ہوگی ۔یہ فوٹیج ایکسپریس نیوز پر چل جاتی تو شاید کوئی نئی بات سامنے آجاتی یا کوئی ایسا انکشاف ہوا کے دوش پر بکھر جاتا جو کسی کے ’’قومی مفاد‘‘ سے متصادم ٹھہرتا۔ شاید جنگ کے شعلوں سے اپنے برفیلے ہاتھ تاپنے والے کسی گروہ کوسن گن مل گئی ہو کہ محمد ابراہیم کے پاس ایسا ’’خطرناک‘‘ مواد موجود ہے جو امن کی برکھا برسانے میں مدد گار ثابت ہوسکتا ہے،واللہ عالم۔
خیر، تو محمد ابراہیم طویل اور مشکل سفر سے تھکا ماندا گھر کو لوٹ رہا تھا کہ عنائت کلی بائی پاس کے کسی موڑ پر نقاب پوشوں کی رائفلوں کا سرد آہن اس کا منتظر تھا۔اس کی موٹر سائیکل جونہی جائے واردات پر پہنچی نقاب پوش اس پر پل پڑے۔اس کا کیمرہ اور موٹر سائیکل اس سے چھین لئے گئے اور سرد آہن سے نکلتی آگ اس پر اگل دی گئی۔آناً فاناً آٹھ معصوم بچوں کی آنکھوں میں ہمیشہ کیلئے حیرت اور دکھ نے ڈیرہ ڈال دیا ۔ایک نوجوان پردہ دار خاتون کے ہاتھ سے اپنے ہم سفرکا ہاتھ جدا ہوگیااور تاریک راہوں میں مارے جانے والوں کی فہرست میں ایک اور نام کا اضافہ ہوگیا۔
اگلے روز راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب کے بینر تلے محمد ابراہیم کیلئے ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا۔اس میں شریک صحافی حضرات بہت کچھ جانتے ہوئے بھی اپنی سادہ لوحی میں یا شاید روٹین کی بے تاثیر نعرے بازی کی عادت کے تحت صحافت کو آزاد کرنے اور محمد ابراہیم کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کررہے تھے۔ مظاہرے کے تمام شرکاء محمد ابراہیم کے قاتلوں کی شناخت کے حوالے سے تو کسی ابہام کا شکار نہیں تھے لیکن کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا کہ اسے زندہ رہنے کے حق سے کیوں محروم کیا گیا؟۔زیر گردش سوال یہ تھا کہ مقتول محمد ابراہیم سے کیمرہ وغیرہ چھین لیا جانا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن اسے جان سے مارنا کیوں ضروری تھا؟۔یہ سوال تب بھی پوچھا گیا جب حیات اللہ کو نہایت سفاکانہ انداز میں موت کے گھاٹ اتارا گیا اور تب بھی جب کامل مشہدی کے نام پر سرخ سیاہی سے لکیر پھیری گئی۔گذشتہ چند سالوں کے دوران محمد ابراہیم سمیت انتیس پاکستانی صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران زندہ رہنے کے حق سے محروم کئے جاچکے ہیں۔ہر باریہی سوال سامنے آیا کہ نقاب پوش ہمیشہ صحافیوں کی تاک میں کیوں رہتے ہیں؟
محمد ابراہیم کا قتل بھی واضح طور پر ٹارگٹ کلنگ کے زمرے میں آتا ہے۔اس کی وجہ اس کے سوا کوئی اور نہیں کہ نقاب پوشوں کو تفویض کئے جانے والے فرائض میں محض سچ کے پھیلاؤ کو روکنا نہیں ہے بلکہ مغربی دارالحکومتوں میں پائے جانے والے اس تاثر کو پختہ کرنا ہے کہ پاکستان دنیا کا خطرناک ترین ملک ہے۔اس تاثر کا سکہ جمانے کیلئے ایک صحافی کی جان سے بڑھ کر اور کیا چیز کارآمد ہوسکتی ہے۔اگر محض یہ مقصود ہوتا کہ ابراہیم کو سچ پھیلانے سے روکا جائے تو اس بے ضرر آدمی سے کیمرہ چھین کر اور اسے ڈرا دھمکا کر یہ کام بخوبی کیا جاسکتا تھا۔ لیکن باجوڑ کی بد نصیب مٹی کو اس کے خون سے لالہ رنگ کرنا ضروری سمجھا گیا تو صرف یہ ثابت کرنے کیلئے کہ یہاں ہر وہ شخص اپنے آپ کو خطرے میں سمجھے جو معاملات کی تہہ تک پہنچنے کیلئے بے چین ہے۔
ایکسپریس میڈیا گروپ نے اپنے شہید جانباز کے بیوی بچوں کے گذارے کیلئے ایک خطیر رقم کا اعلان کیا ہے۔سیفمانے بھی بقدر ہمت ان کے آنسو پونچھنے کی سعی کی ہے۔یہ ایک قابل ستائش عمل ہے لیکن اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ میڈیا کے تمام گروپ اپنے چھوٹے چھوٹے کاروباری مفادات سے بالا تر ہوکر یک جان ہوجائیں تاکہ نقاب پوشوں کو آئندہ کسی محمد ابرہیم کو خون میں نہلانے سے پیشتر سو بار سوچنا پڑے۔

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......