Aazmaish Dar-o-Rassan Ki

Submitted by Atif Aliem on Wed, 05/28/2008 - 20:32

آزمائش دارو رسن کی
عاطف علیم
atif.aliem@gmail.com
کوئی کچھ بھی کہے لیکن سیدھی سادھی، خدا لگتی بات یہ ہے کہ ہم ایک جذباتی بحران کے مہیب گرداب میں پھنس چکے ہیں ۔اگر مزید کوئی حادثہ ا پیش نہ آئے اور قوم کو کسی مزید اعصابی جھٹکا برداشت نہ کرنا پڑے تو شایدہم جیسے تیسے معاشی اور سماجی بحرانوں پر قابو پاہی لیں لیکن یہ بھی ہے کہ ایک جذباتی ہیجان زدگی کی حالت میں ہم بہتری کے مواقع سے کیسے فائدہ اٹھا پائیں گے؟ ۔خیر، یہ جذباتی بحران کچھ ایسی انہونی بھی نہیں ہے کہ صرف ہمی کو اس کا سامنا ہے۔ ہم سے پہلے اپنے اپنے ادوار میں جاپان اور جرمنی جیسے طاقتور ملک اس گرداب میں پھنسے اور زور لگا کر نکل آئے، گمان کیا جاسکتا ہے کہ ہم بھی اپنے پاؤں کے ساتھ لپٹے پانی کے سانپوں کو جھٹک کر پھینک دیں گے اور کنارے آن لگیں گے۔کاش بات اتنی ہی سیدھی ہوتی۔ جاپان اور جرمنی کی کیس سٹڈی یوں ہے کہ جب یہ دونوں ملک عظیم جنگوں میں حزیمت سے دوچار ہونے کے بعد سیاسی، معاشی ، اخلاقی اور روحانی حوالوں سے کھنڈرات میں بدلے تو انہوں نے نیا جنم لیا۔کیوں؟ اس لئے کہ ان کے پیچھے صدیوں پرانی تہذیبی اور علمی اقدار تھیں۔اس سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے اپنی شناخت نہیں کھوئی تھی۔جرمن تو وہ ہیں جنہوں نے روم کی چکاچوند بجھ جانے کے بعد فلسفے اور دانش کی میراث سنبھال رکھی تھی۔توجن کے پیچھے تاریخ کا طویل سفر ہو اور جن کی لائبریریاں آباد ہوں،چھوٹے موٹے جذباتی بحران ان کا کیا بگاڑتے؟آج یہ دونوں ملک جی ایٹ کے معزز رکن ہیں اور اپنے قلم سے ساڑھے چھ ارب انسانوں کا مقدر رقم فرمایا کرتے ہیں۔لیکن ہم؟
ہاں، ہمارا معاملہ البتہ تھوڑا مختلف ہے۔یوں کہ تاریخی میراث اور شناخت کے جھنجھٹ سے تو ہم پاکستان کے وجود میں آتے ہی ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی اور شیخ اکرام اینڈ کمپنی کی مہربانی سے فارغ ہوگئے۔شناخت کا کانٹا تو نکلا لیکن ہمارے حکمران گروہوں کے دائمی اقتدار پر آگہی اور علم و دانش کے خطرات بدستور منڈلا رہے تھے۔سو اس سے بھی وہ بخوبی نمٹے۔انہوں نے سوچنے اور فکر کرنے کی روایت کو شروع میں ہی بحر عرب کی لہروں کے سپرد کردیا۔فکری پسماندگی کو فروغ دینے کے بیک اپ پلان کے تحت تعلیمی درس گاہوں کو ازقسم اکھاڑوں میں تبدیل کردیا گیا اور دوسری جانب یہ اہتمام کیا گیا کہ شرح خواندگی کی نسبت تناسب کچھ یوں ہو کہ ہم دنیا میں جھینپے جھینپے پھرتے رہیں۔اس کے بعدسوال درپیش ہوا کہ اس مٹی کا کیا کریں کہ زرخیز بہت ہے۔ہمارے واحد نوبل انعام پانے والے سائنسدان سے لے کر حمزہ علوی اور علی عباس جلالپوری تک ایک سے ایک جید دانشور اور فکری دنیا کا پیغامبر پڑا تھا، ان کا کیا کیا جائے؟ان کا بندوبست یہ ہوا کہ ان نام والوں کو اپنے وطن میں بے نام کردیا گیا اور وہ بیچارے ایک ایک کرکے اپنے تبحر علمی کو سینے سے لگائے اگلے جہان کو سدھارے۔اب یہ ہے کہ ’’ بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں‘‘۔
فکری پسماندگی کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ ساتھ اس کے رنگ پھیکے پڑتے جاتے ہیں اور قوم آہستہ آہستہ سوچنے کے عمل کی طرف پلٹنے لگتی ہے۔گویا خطرہ باقی تھا کہ قدم کبھی نہ کبھی راہ پالیں گے اور نگاہیں کبھی نہ کبھی سرنگ کے پار ٹمٹماتے ہوئے دئیے کی لو کو اپنے دامن میں بسالیں گی۔اس کا حل بھی ہمارے ذہین حکمران طبقوں کے پاس موجود تھا کہ ایک جانب اس قوم کا دھیان دماغ سے ہٹا کر پیٹ پر لگا دیا جائے اور دوسری جانب تہہ در تہہ ذہنی الجھاوؤں کا اہتمام کیا جائے۔دماغ کو پیٹ کے ساتھ نتھی کرنے کیلئے یہ کیا گیا کہ نااہلی اور معاشی بدمعاشی کو سکہ رائج الوقت بنا کر ریاست کو اتنا نڈھال کردیا گیا کہ وہ لوگوں کے مسائل حل کرنے کے قابل ہی نہ رہے۔رہے ذہنی الجھاوے تواس کیلئے کٹھ ملائیت ، بے مغز قیادت اور ڈرائنگ روم دانشوری کے ہاتھ میں معاملات سونپ دئیے گئے۔اس سب کے بعد ہم جذباتی بحران میں نہ پھنستے تو اور کیاکرتے؟
درست کہ ہم ایک فکری گرداب میں پھنس چکے ہیں اور پانی کے سانپ ہمارے پاؤں سے لپٹے ہوئے ہیںلیکن اس کے باوجود شاید خدا ہم سے مایوس نہیں ہوا۔ریاست پر قابض حکمران طبقوں اور ان کے طفیلیوں کے باعث ہم بھوک سے نڈھال ہیںاور آنے والے کل کے دامن میں ہمارے لئے ڈراوے ہی ڈراوے ہیں لیکن اس کے باوجود تبدیلی کی ایک اٹل خواہش نے ہمارے رگ و پے میںتلاطم برپا کررکھا ہے۔کوئی نہ مانے تو اس کی مرضی لیکن حقیقت یہی ہے کہ تبدیلی کی اس خواہش کا سہرا اس حرف انکار کے سر بندھتا ہے جو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا نصیب ہوا۔تاریخ کا پہیہ جو ایک وقت میں لگتا تھا کہ جامد ہوچکا ہے اس حرف انکار کی بدولت پھر سے رواں ہوچکا ہے۔لیکن یہ کافی نہیں ہے، وقت کے پہیے کو واپس موڑنے والی قوتیں ابھی تک فیصلہ کن حیثیت کی حامل ہیں اور ہم اپنی ہیجان زدگی میں کسی راہ پر رواں ہونے کی بجائے گرداب میں چک پھیریاں لگائے جارہے ہیں۔اس سے باہر نکلنے کیلئے ہمیں ذاتی مفادات اور ادنیٰ نوعیت کی مصلحتوں سے پاک سیاسی قیادت تو خیر درکار ہے لیکن ساتھ ہی ہمیں ایک فکری قیادت کی بھی ضرورت ہے جو ہمیں جذباتی بحران سے نکلنے کی راہ سجھا سکے۔اس حوالے سے کم از کم ایک خوشخبری تو ہمارے پاس ہے کہ بدلتے ہوئے حالات کے جبر کے نتیجے میں ہمارے پاس ایک مضبوط میڈیا وجود میں آچکا ہے۔اپنی تمام تر کمزوریوں اور کوتاہیوں کے باوجود اس میڈیا کو عوام کا بھرپور اعتماد بھی حاصل ہے۔سو حکومتیں چاہیں نہ چاہیں فکری راہنمائی کا علم پاکستانی میڈیا کے ہاتھ میں آچکا ہے۔یہ رتبہ بلند اسے یونہی نہیں ملا ہے۔قربانیوں کی ایک لازوال داستان بھی اس کے ہمرکاب ہے۔کون بھول سکتا ہے ان جانبازوں کو جنہوں نے سچ کی راہ میںہنس ہنس کوڑے کھائے۔کون بھول سکتا ہے جاوید خان کوجو جامعہ حفصہ کے فاتحین کی گولیوں کا نشانہ بنا ۔کون بھول سکتا ہے حیات اللہ خان کی دردناک موت کو اور کون بھول سکتا ہے اس جوان رعنا محمد ابراہیم خان کو جو نقاب پوشوں کی بربریت کا نشانہ بنا؟۔
پاکستانی میڈیا کا ٹریک ریکارڈ بہت حوصلہ افزا سہی لیکن اس کے سامنے ابھی دار و رسن کی اصل آزمائش آنے والی ہے کہ آزمائش کا سزا وار وہی ٹھہرتا ہے جو آزمائش کا حوصلہ اور سرخرو ہونے کی قوت رکھتا ہے۔اس حوالے سے میڈیا کیلئے ضروری ہوگا کہ وہ خود کو از سر نو منظم کرے۔اسے اپنی بہت سی موجودہ کمزوریوں پر قابو پانا ہوگا اور نئے جذبوں سے اپنا دامن بھرنا ہوگا۔ایکسپریس نیوز سے وابستہ مقتول صحافی محمد ابراہیم کی شہادت ایک رلا دینے والا سانحہ ضرور ہے لیکن جس طرح اس بے گناہ خون نے قومی منظر نامے میں ہلچل مچائی ہے اس سے اطمینان ہوتا ہے کہ اس پرجوش نوجوان کا خون رائیگاں نہ جائے گا۔میڈیا کو قوم کی فکری قیادت کے جس بلند مرتبے پر فائز ہونا ہے اس کا یہی تقاضا ہے کہ اس سے وابستگان کے ساتھ ہونے والی ہر زیادتی اور اس کے بہنے والے خون کا ہر قطرہ ریکارڈ پر رہے۔محمد ابراہیم جیسے جی دار صحافیوں کی قربانیاں ہی ہیں جو میڈیا اور عوام کے درمیان تعلقات کو مضبوط تر بنارہی ہیں۔انہی کے نتیجے میں اعتبار کی کونپل ایک مسکراتے ہوئے پھول میں تبدیل ہورہی ہے۔ میڈیا کیلئے لازم ہوچکا ہے کہ وہ اپنی ساکھ اور اعتبار کو مضبوط سے مضبوط تر بنائے کہ یہی وہ اثاثہ ہے جو میڈیا کو فکری قیادت کے دوران پیش آنے والی دارو رسن کی آزمائش پر پورا اترنے کے قابل بنائے گا۔

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......