Aasman Ko Tiddian Dikhai Nain Dateen

Submitted by Atif Aliem on Sat, 07/12/2008 - 09:32

آسمان کو ٹڈیاں دکھائی نہیں دیتیں
عاطف علیم

ٓ اصل بات بعد میں پہلے بد نصیب مسخروں کی بدنصیبی پر تین حرفی بات۔ان مسخروں کے اپنے ساتھ ہونے والا مسخرہ پن یہ ہے کہ انہیں کہانی کا ابتدائی حصہ تو یاد رہتا ہے لیکن انجام یہ بد نصیب ہمیشہ بھول جاتے ہیں اوریہیں سے مار کھا جاتے ہیں۔انہیں یہ تو خوب یاد ہے کہ ٹڈی نے جس کی آسمان کے ساتھ دشمنی پرانی ہے، جب دیکھا کہ آسمان اس کے سر پر گرا چاہتا ہے تو اس نے زمین پر لیٹ کر ٹانگیں اوپر اٹھادیں اور اپنے تئیں آسمان کو اپنی ناتواں ٹانگوں پر تھام لیا۔چلو یہاں تک تو ٹڈی نے اپنی مفروضہ دلاوری سے مسخروں کا دل خوش کردیا لیکن کہانی یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ انجام یہ ہے کہ اس کی ٹانگیں اٹھی کی اٹھی رہ گئیں، آسمان کو اس پر گرنا تھا سو وہ گر کر رہا۔افسوس وہ کہانی کا انجام بھول جاتے ہیں اور حماقتوں پر حماقتیں کئے جاتے ہیں۔نتیجہ یہ کہ ایک روز چپکے سے عوامی سیلاب کے کسی تند دھارے میں اپنے تمام تر مسخرانہ جلال سمیت بہہ جاتے ہیں۔
اور اب اصل بات، جو یہ ہے کہ میاں نواز شریف کے ساتھ کیا جانے والا نااہلی کا مسخرہ پن جن مسخروں نے کروایا ہے انہوں نے ٹڈی کے تاریخی انجام سے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے۔یہ بیچارے مسخرے تو اس قدر کور چشم ہیں کہ یہ بھی نہیں جان پائے کہ وہ جن پردوں کے پیچھے چھپ کر وار کرنے کے عادی ہیں اٹھارہ فروری کے بعد وہ تار تار ہوچکے ہیں۔اب چشم تماشا دلچسپی سے دیکھ رہی ہے کہ کون کون کس کس پردے کے پیچھے کیا کیاکررہا ہے۔یہ بھی مشاہدہ کیا جارہا ہے کہ کون اپنے لکھے لکھائے انجام سے بچنے کیلئے الٹے سیدھے ہاتھ پاؤں چلارہا ہے۔کون اپنی چالاکیوں اور چرب زبانیوں کے زور پروقت کو ٹالے جانے کی سعی بیکار میں مشغول ہے۔کون کس کا اتحادی ہونے کا ڈھونگ رچا رہا ہے اور کون کس کے ساتھ ایک ہی ہتھکڑی میں بندھا ہوا ہے۔ اگر پہلے تھوڑا بہت پردہ تھا تو نااہلی والے اس فیصلے نے سب کچھ آئینہ کردیا ہے۔
مذکور فیصلے کے پیچھے دماغ کسی کا بھی ہو اور یہ دیکھنے میں کیسا بھی ہو میں ذاتی طور پر اس فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہوں کہ یہ قدرت کی اس بھل صفائی مہم کاحصہ ہے جس کے تحت وقت کے بہاؤ میں رکاوٹ بننے والی بھل کو بالآخر صاف ہونا ہے تاکہ شفاف پانیوں کے دھارے اپنی راہ پاسکیں۔میاں نواز شریف کے خلاف اس ٹائپ کا فیصلہ آنا اس لئے بھی قرین قیاس تھا کہ انہوں نے بھل میں رہتے ہوئے اس کا حصہ بننے کی بجائے شفاف پانیوں کے ساتھ یاری لگانے کے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔اس فیصلے کے نتیجے میں طاقت کے موجودہ مراکز کے گرد پھیلے ابہام کے بادلوں کی دبیز تہیں بھی پتلی ہوجائیں گی اور واضح ہو جائے گا کہ کہاں کہاں کس کس ٹائپ کی گیم کھیلی جارہی ہے۔ یوں بھی یہ فیصلہ اپنے طور پرکوئی انوکھا اور مضحکہ خیز واقعہ نہیں۔ اس کی معنویت تک پہنچنے کیلئے ضروری ہے کہ اسے وقت اور واقعات کے تسلسل میں رکھ کر دیکھا جائے ۔ اگر پاکستانی سرزمین پر مغربی سرحدوں کی جانب سے ہونے والے حالیہ’’ ڈکلیئرڈ‘‘ حملے کے ساتھ اس کی پوشیدہ مماثلتوں کو تلاش کرنے کی زحمت گوارہ کی جائے تو اس فیصلے کی معنویت دو چند ہوجائے گی۔یہ محض اتفاق تو بہر حال نہیں تھا کہ نیٹو فوجوں کو عین لانگ مارچ کے دوران مہمند ایجنسی میں پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ کرنے کا حکم صادر کیا گیا تھا۔ظاہر ہے کہ کسی اشتعال یا بین الاقوامی سرحدوں کی خلاف ورزی کے بغیر اگر کوئی حملہ کیا جائے تو اس کا مقصد متعلقہ لوگوں تک کچھ پیغامات پہنچانا ہوتے ہیں۔سب جانتے ہیں کہ یہ سندیس کیا تھے، یہ کہ ہمارے بندے کو تنگ نہ کیا جائے اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو فعال کرنے کے بارے میں اگر کہیں کوئی سوچ پائی جاتی ہے تو اسے ذہن سے نکال دیا جائے اور یہ بھی کہ اٹھارہ فروری ایک مذاق تھا اسے مذاق ہی رہنے دیا جائے۔ان پیغامات کا نام نہاد دہشت گردی کیخلاف جنگ کے ساتھ براہ راست تعلق نہایت واضح ہے۔میاں نواز شریف کا مذکورہ حوالوں سے بے لچک موقف بھی اس امر کا متقاضی تھا کہ انہیں ہر صورت پارلیمان سے باہر رکھا جائے اور اگر ممکن ہو تو سیاست سے ہی باہر کردیا جائے۔
حکومتیں سیانی ہوتی ہیں، اپنا برا بھلا خوب پہچانتی ہیں ۔رعایا بیچاری بھلے کرلاتی پھرے انہیں بات انہی کی ماننا ہوتی ہے جو اس کا اقتدار قائم و دائم رکھنے کی ضمانت فراہم کرسکیں۔ہماری موجودہ حکومت میں بھی سیانوں کی کمی نہیں،پریس کانفرنسوں میں روا رکھی جانے والی خوش باشیاں ایک طرف لیکن عملاً انہیں بھی وہی لائن اپنانی ہے جو انہیں سدا سہاگن بننے میں مددگاردے سکے۔ایسی مجبوری نہ ہوتی تو اپنے المشہور ملک صاحب پاکستان پر ہونے والے اعلانیہ حملے سے صاف مکر کر لوگوں کو حیران ہونے کا موقع نہ دیتے۔
فیصلہ جو بہت پہلے کیا جاچکا تھا ابھی اس کا ایک حصہ سامنے آیا ہے جو میاں نواز شریف کی نااہلی کے بارے میں ہے ۔میاں شہباز شریف کے مقدر کا فیصلہ سنایا جانا ابھی باقی ہے ۔اس سلسلے میں فی الوقت ان کے سر پر کچے دھاگے سے بندھی تلوار لٹکانے کا حربہ اختیار کیا گیا ہے۔اس ادھورے فیصلے کے نتیجے میں پنجاب حکومت کو مفلوج بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔اس کے ساتھ ’’ آئینی امور‘‘ کے مخولیے ماہرین بھی میدان میں چھوڑ دئیے گئے ہیں جو یہ بحث کرتے پائے جارہے ہیں کہ میاں شہباز شریف کی راولپنڈی سے بلا مقابلہ کامیابی کے بعد انہیں بھکر کی بجائے اس سیٹ سے کامیاب تصور کیا جائے گا ۔یوں انہیں آئین کی شق فلاں کی ذیلی شق فلاں فلاں کے تحت دوبارہ وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھانا ہوگا ۔اس صورت میں وہ تیسری بار وزیر اعلیٰ بننے کے جرم کے مرتکب ہوجائیں گے لہٰذا گلیاں سنجیاں ہوجائیں گی اور کوئی مرزا یار ان میں للکارے مارنے کیلئے پھرا کرے گا۔واضح رہے کہ جس آئینی پیکج کا ڈھول پیٹا جارہا ہے اس میں زیر بحث 80 عدد شقوں میں تیسری بار والے معاملے کو بر بنائے مصلحت چھیڑنے سے گریز کیا گیا ہے۔ثابت ہوا کہ جب بھی انہیں اندھیرے میں سوجھتی ہے بہت دور کی سوجھتی ہے۔
کوئی ملاحظہ فرمائے اس سفاکانہ مذاق کو جو نہایت دھڑلے سے جاری ہے۔کہاں اٹھارہ فروری کے بعد یہ خوش فہمی کہ ہمارے سیاسی زعما تاریخ سے سبق سیکھ چکے ہیں اور اب وہ نہایت سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ مل کر گذرے سالوں کا گند صاف کریں اور کہاں یہ حال کہ جن پتوں پر عوام نے تکیہ کیا تھا وہی ہوا دینے لگے۔کاش وہ جان سکتے کہ کامرانی اسی کا نصیب بنتی ہے جو حملہ کرنے میں پہل کرے۔کنفیوژن، بے ہمتی، بے سمتی اور بیک وقت کئی کشتیوں پر سوار ہونے کے شوق نے اٹھارہ فروری کی پرجوش خوش خیالیوں کو اندیشوں اور بے یقینیوں کے تیزاب میں تحلیل کردیا ہے۔پارلیمنٹ کی بالادستی بجا لیکن کیسی پارلیمنٹ، جس میں مبینہ طور پر 86 فیصد عوام کے نمائندے کو عوامی نمائندگی کے حق سے محروم کردیا جائے؟
اور اب ٹڈی کو بار بار دیا جانے والا مشورہ کہ اگر وہ سوچنے سمجھنے اورسننے کی اہلیت سے یکسر محروم نہیں ہوگئی تو بہتر ہے کہ ہار مان لے اوراپنی ناتواں ٹانگوں کو سمیٹ کر وہاں چلی جائے جہاں اسے جانا چاہیے ورنہ آسمان گرنے پر آتاہے تو اسے ٹڈیاں دکھائی نہیں دیتیں۔

Guest (not verified)

Mon, 01/16/2012 - 10:59

you have got the writing skills, keep up this article writing.

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......