ہوئے تم دوست جسکے

Submitted by Guest (not verified) on Sat, 03/29/2008 - 01:35

آج کل پاکستان میں امریکے کے وزارت کارجہ کے دو بڑے ارکان حکومت کی آمد پر پاکستان میں عوام میں کافی تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا۔ نیگرو پونٹے نے اپنی تقریر میں پاکستان کو کلیدی حلیف key ally بار بار کہا۔ امریکہ کے صدر بھی یہی کہتے ہیں اور خود کو پاکستان کا دوست تو سبھی پچھلے صدر بھی کہتے آرہے ہین۔ مگر یہ کیسی دوستی ہے جو قربانیوں پر قربانیاں مانگتی رہتی ہے اور فرماں برداری کا مطالبی کرتی چلی آرہی ہے۔ پہلے دن سے امریکہ کا رویہ پاکستان، اسکے عوام اور حکام سے آقا اور غلام سا رہا ہے۔ پاکستان سے تو اپنے ہر موقف کی تاَئید کا مطالبہ کیا ہے مگر جب پاکستان کو امریکہ کی مدد یا زبانی تائید کی ضرورت ہوئی تو ہندوستان کا ساتھ دیا ہے۔ پاکستان کی سیاست میں کبھی خفیہ کبھی کھل کر مداخلت کی ہے اور عالمی تنازعات میں، خصوصا بھارت کے ساتھ ہمیشہ یا تو بھارت کی حمایت کی یا پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا۔

پاکستان کو بے دردی اور عیارانہ طور پر پہلے سویٹ یونین کے خلاف استعمال کیا، پھر اپنے ہی تیار کیے ہوئے طالبان کے خلاف استعمال کرکے پاکستان کو ایک ابدی دشمن فراہم کردیا۔ بی بی سی BBC کی ایما پر لکھے جانے والے ڈرامے “ٹائیگر اینڈ فوکس” Tiger and the fox کے مطابق ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی امریکہ کے دباوّْٰ میں دی گئی تھی۔ اکثر جمہوری حکومتوں کو معتل کروانے میں بھی تجزیہ نگار اور تاریخ داں امریکہ کے کردار کو مانتے ہیں۔

امریکہ کے پاس عراق میں جانے کا بہانا تو مبینہ ایٹمی ہتھیار تھے جس سے امریکہ کو خطرہ تھا مگر افغانستان جانے کی اسے کیا ضرورت تھی۔ جب امریکہ نے افغانستان میں فوجیں بھیجیں تو دنیا میں اکثر لوگوں کا کہنا تھا کہ اصل نشانہ پاکستان ہے، افغانستان صرف بہانہ ہے۔ اکثر یورپ کے اخبارات اور آزاد ریڈیوز پر بھی یہ تجزیہ سنا گیا۔ اسکے بعد جو کچھ ہوا اسنے اسے سچ کر دکھایا۔

پاکستان کو افغانستان کی پالیسی میں یو ٹرن لینے پر مجبور کرنے کے لئے دھمکیوں کے علاوہ دوسرے دباو کے طور پر بھارت کی فوجیں امریکے کے کہنے پر پاکستان کی سرحدوں پر لائی گئیں تھیں، یہ بھی سب جانتے ہیں۔ ان سب باتوں کے بعد بھی امریکہ یہ کہتا ہے کہ ہم اسکے کلیدی حلیف ہیں تو خدا کے واسطے ہمارا کوئی لیڈر اس سے یہ تو پوچھے کہ ذرا وہ اس لفظ کی پاکستانی قوم کو تشریح تو کردے۔ کیونکہ ہم مشرقی روائتوں کے حامل لوگوں کے نزدیک اس کو دوستی نہیں کہتے، کچھ اور کہتے ہیں۔

سیاستدان کہتے ہیں کہ ڈپلومیسی میں صاف صاف باتیں نہیں کہی جاتی، یہ جانتے ہوئے بھی کہ بھارت نے افغانستان میں پاکستان کی سرحدوں پر غالبا گیارہ کونسلیٹ قائم کر رکھے ہیں ڈپلومیسی کا تقاضہ ہے کہ ان سے پاکستان مخالف سرگرمیوں کا ذکر نہ کیا جائے۔ چاہے ہمارے بے گناہ عوام انکی حرکتوں کے نتیجے روزانہ مرتے رہیں۔ دوسری طرف میں بھارتی ٹی وی پر آئے دن دیکھتا ہوں کہ کس طرح وہ پاکستانیوں پر دہشت گردی کے منصوبے بنانے کا الزام لگاتے ہوئے پاکستانیوں کو پولیس کی حراست میں دکھاتے رہتے ہیں۔

کیا وقت نہیں آگیا کہ ڈپلومیسی میں جھوٹ اور مصلحتوں کو چھوڑ کر سچ بولا جائے اور ان غیر ملکی قوتوں سے بھی پوچھا جائے کہ جو کچھ وہ کررہے ہیں، کرنا بند کردیں۔

ایک طرف بھارت کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے دوسری طرف امریکہ سے “کی الائی” کی اصطلاح کا مطلب پوچھنے کی ضرورت ہے۔ تعلقات ریسی پروکل ہونے چاہئے، جیسا سلوک وہ ہمارے ملک کے پاسپورٹ ہولڈروں سے کرتے ہیں ویسا ہی ہمیں انکا پاسپورٹ رکھنے والوں سے کرنا چاہئے۔ جیسی مراعات کا مطالبہ وہ ہم سے کرتے ہیں ویسی ہی مراعات انہیں ہمیں دینی ہونگی۔ اگر انکو ہم پر شک ہے تو ہمیں ان پر کہین زیادہ شک ہے۔ پھر بم ہماری سرزمین پر پھٹ رہے ہین انکی زمین پر نہیں۔

یہاں اکثر سیاستدان اور معاشیات کے ماہر کہتے ہیں کہ وہ ہمیں پیسے دیتے ہیں، انکی امداد کے بغیر ہم جی نہیں سکتے۔ یہ کیسی امداد ہے جو سود درسود سمیت ہم پر مسلط ہوتی جارہی ہے اور اسکی وجہ سے ہم تباہی کی طرف گرتے چلے جارہے ہیں۔ ہماری معیشت خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے۔ یہ تو کوئی مدد نہ ہوئی۔ جتنی امداد امریکہ نے دہشت گردی کے نام پر آٹھ برسوں میں دی ہے اس سے کہیں زیادہ امریکہ ایک مہینے میں خرچ کررہا ہے {صرف افغانستان میں یومیہ سو ملین ڈالر}۔ پھر اس رقم کو 160 ملین [سولہ کروڑ] عوام پر تقسیم کیجئے تو فی کس جو رقم آتی ہے، کیا وہی ہماری وقعت ہے۔ اور کیا ہم اتنے ہی سستے ہیں؟

یہ تمام فیکٹس اینڈ فگر امریکہ کے سامنے رکھنے کا وقت آگیا ہے۔ پہلے وہ ماضی میں کی ہوئی ناانصافیوں کا جواب دے۔ اور دوستوں جیسا سلوک استوار کرے پھر دیکھے کہ مشرق کی تہذیب میں دوستی کا جواب کیسے ملتا ہے۔

میری طرح لاکھوں لوگوں کا ایمان ہے کہ صاف گوئی سے ہی معاملے حل کئے جاسکتے ہیں۔ ماضی میں امریکہ کی پالیسیوں سے پاکستانی عوام کو جو دکھ اور تکلیف پہنچی ہے اور پاکستان کی سرزمین کو جو خطرات لاحق ہوئے ہیں انک ترجمانی بغیر کسی لگی لپٹی کے کرنا ضروری ہے۔ صاف گوئی کو جواز بنا کر امریکہ ہمیں اگر پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کا اقدام کرتا ہے تو ذلت کی زندگی سے تو یہی بہتر ہے۔ مگر دنیا کی کوئی طاقت صاف گوئی کو فوج کشی کا جواز نہیں بنا سکتی۔

ماہرین، تجزیہ نگاروں، تاریخ دانوں اور وکلا اور بین اللاقوامی قوانین کے ماہرین پر مشتمل ٹیم سے تمام مظالم کا جو مسلمانوں اور بالخصوص پاکستان پر ہوتے رہے ہیں اور جن میں سپر پاوروں کا ہاتھ رہا ہے مطالعہ تیار کرکے شائع کیا جائے، اسکی بڑے پیمانے میں تشہیر کی جائے، ہر ممکن زبان میں ترجمہ شائع کئے جائیں اور اسکا عالمی سطح پر، ہوسکے تو اقوام متحدہ کی سطح پر جواب طلبی کی جائے۔ اور اس بات کو منوایا جائے کہ وہ کونسی قوتیں ہیں جنہوں نے اپنے مقاصد کے لئے دہشت گردی کو جنم دیا اور پھر جب انکا بنیادی مقصد پورا ہوگیا تو اسی کو جواز بنا کر دنیا پر اپنی ریاستی دہشت گردی مسلط کردی۔ جب تک اسکے اصلی اسباب اور اصلی خالق بے نقاب نہ ہونگے یہ بھیانک اور مجرمانہ، ننگ انسانیت فعل ہم سب کو تباہ کرتارہے گا۔

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......