!ہاتھ بھی حضور کے اور داڑھی بھی حضور کی

Submitted by Tahir Anjum Khan on Sat, 03/08/2008 - 11:47

ایک بادشاہ کا اصول تھاکہ جب بھی دربار میں کوئ کھیل تماشا یا کوئ گانا بجانا وغیرہ ہوتا تو وہ اپنی گود میں ایک رومال ڈال لیتا اور اپنے ہاتھوں کی انگلیان اپنی داڑھی میں مارتا رہتا۔کھیل ختم ہونے پر رومال لپیٹ کر رکھ دیا جاتا اور اگلے روز دربار لگنے پر رومال کھول کر دیکھا جاتا۔داڑھی کے جتنے بال رومال میں موجود ہوتے اتنی ہی اشرفیاں انعام کے طور پر تماشا دکھانے والے کو عطا کر دی جاتیں۔ایک دن ایک قوال وہاں آ نکلا۔اس نے خوب محفل سجائ۔ بادشاہ کو خوب مزہ آیا۔بادشاہ پر اس روز کچھ اتنا اثر ہوا کہ وہ اپنے آنسو نہ روک سکا۔اسی طرح باقی دنوں کی نسبت اس دن داڑھی میں اسکی انگلیاں بھی کافی تیز چلتی رہیں۔ قوال بھی یہ سوچ کر کہ" آج تو خوب بال گرینگے" کافی خوش اور خوب زور لگا رہا تھا۔بالآخر محفل اختتام کو پہنچی۔بادشاہ نے قوال کی خوب تعریف کرتے ہوئے کہاکہ"محافل تو اس نے بہت دیکھیں مگر ایسا لطف کبھی نہ آیا اور یہ کہقوال واقعی بڑے انعام و اکرام کا مستحق ہے۔" یہ کہتے ہوئے اس نے رومال حسب معمول لپیٹ کر ایک طرف رکھ دیااور سونے چلا گیا۔باقی درباری بھی سونے چلے گئے۔اب بچا قوال تو مارے خوشی کے اسے نیند کب آتی ہے۔بادشاہ نے نہ صرف اتنی تعریفیں کیں بلکہ داڑھی میں ہاتھ بھی تو آج بہت تیز چل رہا تھا۔بہت سارے بال گرے ہونگے بس یہی سوچ سوچ کر ساری رات آنکھوں میں کٹ گئ مگر صبح ہے کہ ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔آخر خدا خدا کر کے صبح ہو ہی گئ۔دربار لگا قوال کی بلائ ہوئ۔قوال خوشی خوشی حاضر ہوا، رومال کھلا کیا دیکھتا ہے کہ ایک بال بھی نہیں۔درباری بھی حیران کہ ایسا تو پہلے کبھی نہ ہواتھا۔سبھی پریشان تھے کہ قوال بے چارہ تو مفت میں رات بھر زور لگاتا رہا اور بادشاہ تو اصول توڑنے والا نہ تھا۔ کیا بنے گا آخر قوال کا؟ بادشاہ بھی اس صورت حال سے کافی مغموم اور بالکل چپ سادھے بیٹھا تھا۔ہر طرف ہو کا عالم، خاموشی ہی خاموشی۔
ادھر قوال کافی دیر کھڑاالتجا بھری نظروں سے ادھر ادھر دیکھتا رہا مگر جیسے سبھی کو سانپ سونگ گیا ہو۔ قوال حالات بھانپ گیا اور ہمت کر کے خاموشی کو توڑتے ہوئے آخر کار بادشاہ کو مخاطب کرتے ہوئے بولا"حضور کیا حکم ہے میرے لیے؟" بادشاہ نے قوال کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا "تم جیسا بد بخت انسان ہم نے اپنی زندگی میں کبھی نہ دیکھا" قوال یہ سن کر جیسے سٹپٹا سا گیا۔ بولا"بندہ اگر جان کی امان پائے توکچھ عرض کرے"۔ " آج تمہیں اجازت ہے کہو کیا کہنا چاہتے ہو؟ بادشاہ نے سوالیہ انداز میں اجازت دیتے ہوئے کہا۔قوال بولا "حضور کا اصول تو اپنی جگہ درست۔۔۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔۔ "کچھ تاخیر کے بعد پھر کہنے لگا "اصل بات تو یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔ داڑھی بھی حضور کی اور ہاتھ بھی۔ ورنہ اگر۔۔۔۔۔۔ داڑھی ہوتی حضور کی اور ہاتھ ہوتے میرے تو ساری کی ساری گود میں ہوتی"
طاہر انجم خان

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......