ھو

Submitted by Guest (not verified) on Tue, 04/22/2008 - 20:47

ھو کا تعارف
2.1 - تعارف
هُوَ عربی زبان کا لفظ ھے جس کے معنی ھیں “وہ” یا “وھی” اور یہ لفظ کسی شئے کی طرف اشارہ کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ھے۔ جیسے “ھو اللہ” یعنی وہ اللہ ھے۔ یا “ھو عبد القادر” یعنی وہ غوث پاک ھیں۔
عربی گرامر کے لحاظ سے یہ لفظ ھو اسم ضمیر یا پروناؤن (Pronoun) ھے۔ ابجد میں اس کے اعداد 11 بنتے ھیں (دیکھیں ضمیمہ)۔ قرآن پاک میں یہ لفظ اللہ جلّ شانہ کی شان بیان کرنے کیلئے بھی استعمال کیا گیا ھے۔ اللہ جلّ شانہ کے ننانوے ناموں میں سب سے پہلے یہ لفظ آیا ھے۔ بزرگان دین فرماتے ھیں کہ هُوَ اللہ جلّ شانہ کے اسماء کے لئے ویسا ھی ھے جیسے قرآن پاک کے لئے سورہ فاتحۃ ھے۔ یعنی جس طرح قرآن پاک کی ھر سورت سے پہلے سورہ فاتحۃ ھے اور قرآن پاک اس سورت سے شروع ھوتا ھے اسی طرح اسماء الہیہ “ھو” سے شروع ھوتے ھیں۔
2.2 - قریب و بعید
ھر زبان میں قریب یا دور کی چیزوں کی طرف اشارہ کرنے کیلئے الگ الگ الفاظ ھوتے ھیں۔ اردو میں قریب کی چیزوں کی طرف اشارہ کرنے کیلئے “یہ” اور دور کیلئے “وہ” استعمال کیا جاتا ھے۔ اسی طرح عربی زبان میں ھذہ، ذالک، ھو اور ھی وغیرہ استعمال کیا جاتا ھے۔
2.2.1 - ذالک الکتاب اور ھذا الکتاب
یہ ایک عجیب سی بات لگتی ھے کہ ایک ھی کتاب کیلئے قریب و بعید کا اشارہ کیا جائے۔ لیکن قرآن پاک نے خود اپنے لئے یہ دونوں لفظ استعمال کئے ھیں۔
ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ
(ترجمہ: وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں، اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو البقرہ۔ 2)
وَهَذَا كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ مُصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْآَخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَهُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ
(ترجمہ:اور یہ ہے برکت والی کتاب کہ ہم نے اُتاری تصدیق فرماتی ان کتابوں کی جو آگے تھیں اور اس لیے کہ تم ڈر سناؤ سب بستیوں کے سردار کو اور جو کوئی سارے جہاں میں اس کے گرد ہیں اور جو آخرت پر ایمان لاتے ہیں اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں، الانعام۔ 92)
بات دراصل یہ ھے کہ قرآن پاک کی مختلف شانیں ھیں۔ ایک کا تعلق اس کی عظمت اور بزرگی اور بلندی سے ھے۔ اس اعتبار سے قرآن پاک کی طرف ذَلِكَ کے لفظ سے اشارہ کیا گیا ھے کہ یہ وہ کتاب ھے جس کی عظمت اور بزرگی نہایت بلند ھے جہاں تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ اور دوسری شان کا تعلق اس کی برکت اور رحمت کے ساتھ ھے اور اس اعتبار سے یہ ھر ایک کے قریب ھے اس لئے اس کی طرف هَذَا کے لفظ سے اشارہ کیا گیا ھے۔ یعنی جب بات اس کے شرف اور عظمت کی ھوگی تو کوئی بلند سے بلند انسان بھی اس کی بلندی تک نہیں پہنچ سکتا۔ اور جب بات اس کی برکت اور کرم کی ھوگی تو یہ کتاب ھر ایک انسان کے قریب ھے۔
وہ شرف کہ قطع ھیں نسبتیں، وہ کرم کے سب کے قریب ھیں
کوئی کہدو یاس و امید سے وہ کہیں نہیں وہ کہاں نہیں
2.2.2 - ھی اور ھو
وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُو وَمَا هِي إِلَّا ذِكْرَى لِلْبَشَرِ (ترجمہ: اور تمہارے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور وہ تو نہیں مگر آدمی کے لیے نصیحت، المدثّر۔ 31)
2.3 - هُوَ اور “اللہ” کی وحدانیت کی ایک دلیل
ھمارے پروردگار کا ذاتی نام (اسم ذات “اللہ”) ھی وحدانیت کا حامل ھے۔ اسم اللہ کے حروف ایک ایک کر کے ھٹانے پر بھی آخری حرف تک اس کا نام اور ذات باقی رھتے ھیں۔ مثلًا اسم اللہ کا الف دور کرنے سے "للہ" رہ جائیگا۔ نام بھی پورا ھے اور ذات سے تعلق بھی موجود ھے۔ جیسے لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (ترجمہ: بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں)۔ اب "للہ" کا "ل" دور کرنے سے "له" رہ جائیگا۔ جیسے قرآن پاک میں ھے لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (ترجمہ: اسی کی مِلک ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے)۔ اب اس کی ذات سے تعلق بھی قائم ھے اور نام بھی ظاھر ھوتا ھے۔ اب "ل" ھٹانے سے "ہ" (هُوَ) باقی رہ جائیگا جیسے قرآن پاک میں ھے هُوَ اللَّه الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ(ترجمہ: وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں)۔ اب هُوَ جو ضمیر متصل ھے اپنی ذات کی طرف راغب ھے۔ پس ثابت هُوَا کہ باری تعالی کا نام ھی اپنی ھی وحدانیت کا علمبردار ھے۔ (ماخوذ از مظہر الایمان)
2.4 - وہ عکس هُوَ:
اگر لفظ هُوَ (ھ، و) کو انگریزی حروف کی طرح (بائیں سے دائیں کی طرف) پڑھا جائے تب بھی اس کے معنی میں کوئی تبدیلی نہیں ھوتی۔ کیونکہ یہ ھو سے وہ بن جاتا ھے۔یعنی و ہ = ھ، و۔ اور اردو زبان میں هُوَ کا معنی ھی “وہ” یا “وھی” ھوتا ھے۔
2.5 - ھ + و = هُوَ
اب هُوَ کے حروف (ھ + و) پر کچھ غور کرتے ھیں۔ پہلے “ھ” پر ایک نظر ڈال لیں۔ “ھ” عربی حروف تہجّی کا 27 واں حرف ھے۔ ابجد میں 5 واں حرف ھے اور اس کے اعداد بھی 5 ھی بنتے ھیں (دیکھیں ضمیمہ)۔ “ھ” لفظ ھادی کا پہلا اور لفظ اللہ کا آخری حرف ھے۔
"و” عربی حروف تہجّی کا 26 واں حرف ھے۔ ابجد میں 6 واں حرف ھے اور اس کے اعداد بھی 6 ھی بنتے ھیں (دیکھیں ضمیمہ)۔ “و” لفظ وارث، واحد کا پہلا حرف ھے۔ بعض لوگ “ھ” کو 26 واں اور “و” کو 27 واں حرف گردانتے ھیں۔

دوسرا باب
قرآن پاک میں هُوَ

بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَّجِيدٌ۔ فِي لَوْحٍ مَّحْفُوظٍ
ترجمہ: بلکہ وه کمال شرف والا قران ہے،لو ح محفوظ میں،
سورة البروج (آیت 21 اور 22)
2.1 - ‍قرآن پاک اور لفظ ھو
قرآن پاک میں لفظ هُو کئی طرح سے وارد ھوا ھے۔ پورے قرآن پاک میں 244 مرتبہ لفظ هُوَ، 160 بار وهُوَ، 16 بار لَهُو، 2 بار لھو (بمعنی لھو و لعب) آیا ھے۔ گویا مجموعی طور پر یہ لفظ 404 بار “وہ یا وھی” کے معنی ادا کرنے کیلئے آیا ھے۔
قرآن پاک میں لفظ هُو 426 آیات میں 481 بار وارد ھوا ھے۔
5 آیتیں ایسی ھیں بن میں لفظ ھو 3، 3 بار آیا ھے۔ اور 2 آیتیں ایسی ھیں جن میں لفظ وھو 3، 3 بار آیا ھے۔
اور صرف ایک آیت ایسی ھے جس میں لفظ لَهُو 2 بار آیا ھے۔ وہ آیت یہ ھے: إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ وَمَا مِنْ إِلَهٍ إِلَّا اللَّهُ وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (ترجمہ: یہی بیشک سچا بیان ہے اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک اللہ ہی غالب ہے حکمت والا، آل عمران۔ 62)۔ 16 آیتیں وہ ھیں جن میں ھو اور وھو ایک ساتھ آئے ھیں۔
2.2 - آیت شہادت
قرآن پاک کی صرف ایک آیت ایسی ھے جس میں کلمۂ ھو یعنی لَا إِلَهَ إِلَّا هُو 2 بار آیا ھے۔ اس آیت کو آیت شہادت کہا جاتا ھے کیونکہ اس آیت میں قرآن پاک کی سب سے بڑی شہادت موجود ھے۔ وہ آیت شہادت یہ ھے:
شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (آل عمران۔ 18)
ترجمہ: اور اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور عالموں نے انصاف سے قائم ہوکر اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا،
2.3 - قرآن پاک میں پہلا هُوَ:
فرآن پاک میں ھو کا لفظ سب سے سورة البقرة کی آیت نمبر 29 میں آیا ھے۔ اس مقام پر سورة البقرة کے فضائل کا ذکر مناسب معلوم ھوتا ھے۔
2.3.1 - فضائل سورة البقرة
اس سورة کی بڑی عظیم شان ھے اور احادیث مبارکہ میں اس کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ھے۔ اس کو سنام القرآن بھی کہا جاتا ھے۔ اسی سورة کی ایک آیت (یعنی آیت نمبر 255) فرآن پاک کی سب سے بڑی آیت ھے یعنی آیت الکرسی جو کہ عظمت و شان کے اعتبار سے سب سے بڑی آیت ھے۔ اور اسی سورة کی ایک آیت (یعنی آیت نمبر 282) طوالت کے اعتبار سے فرآن پاک کی سب سے بڑی آیت ھے۔ اس کی آخری آیات اور آیت الکرسی عرش کے خزانوں سے ھے۔ اس کی ھر آیت کے ساتھ اسّی (80) فرشتے نازل ھوئے ھیں۔ اس کی آخری دو آیتیں ایسی ھیں جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم محبّت فرماتے ھیں۔ جبریل علیہ السّلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ختم سورة البقرة پر آمین کہنےکی تلقین کی تھی۔
2.3.2 - ختم قرآن کا طریقہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ختم قرآن کا طریقہ یہ تھا کہ سورة النّاس کے بعد دوبارہ سورة الفاتحہ اور سورة البقرہ کی آیات وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ تک تلاوت کرنے کے بعد پھر ختم قرآن کی دعا کی جاتی تھی۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سلف صالحین کا ھمیشہ سے آج تک یہی طریقہ رھا ھے۔ اور کیوں نہ ھو کہ
جب چلے میرے محمد تو جہاں نے چلنا سیکھا
2.3.3 - سورة البقرة اور علم الاعداد کا ایک عجیب واقعہ:
جابر بن عبد الله بن رباب فرماتے ھیں کہ أبو ياسر بن أخطب یھودیوں کے ھمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورة البقرة کی ابتدائی آیات کی تلاوت فرمارھے تھے۔ تو ان کا بھائی حيي بن أخطب یھودیوں کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو الم ذلك الكتاب کی تلاوت کرتے سنا ھے۔ انھوں نے حیران ھو کر پوچھا کہ کیا واقعی؟ اس نے کہا “ھاں” پس وہ سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ھوئے اور اس بارے میں سوال کیا کہ کیا آپ پر الم ذلك الكتاب نازل ھوئی ھے؟ آپ نے ارشاد فرمایا “ھاں”۔ کہنے لگے کہ ھم پہلے نبیوں اور ان کی امّتوں کو نہیں جانتے اور نہ ان کی امّتوں اور دین کی مدّت جانتے ھیں سوائے آپ کے کیونکہ الف ایک، لام تیس اور میم چالیس ھوتے ھیں۔ یہ کل اکہتّر سال ھوئے۔ ھم کیوں ایسے دین کو اختیار کریں جس کا غلبہ اور امّت کی مدّت کل اکہتّر سال ھے۔ پھر وہ خود ھی کہنے لگے “کیا اس کے علاوہ اور بھی کچھ نازل ھوا ھے؟” آپ نےارشاد فرمایا “ھاں۔المص”۔ وہ کہنے لگے ”یہ اور زیادہ بھاری اور لمبا ھے کیونکہ الف ایک، لام تیس، میم چالیس اور ص نوّے ھوتے ھیں۔ اور یہ ایک سو اکسٹھ ھوئے۔کیا اس کے علاوہ اور بھی کچھ نازل ھوا ھے؟” آپ نےارشاد فرمایا “ھاں۔الر”۔ وہ کہنے لگے ””یہ اور زیادہ بھاری اور لمبا ھے کیونکہ الف ایک، لام تیس اور را دوسو ھوتے ھیں۔ اور یہ دو سو اکتّیس ھوئے۔ کیا اس کے علاوہ اور بھی کچھ نازل ھوا ھے؟” آپ نےارشاد فرمایا “ھاں۔المر”۔ وہ کہنے لگے ”یہ اور زیادہ بھاری اور لمبا ھے کیونکہ الف ایک، لام تیس اور را دوسو ھوتے ھیں۔ اور یہ دو سو اکہتّر ھوئے۔ اب آپ کا معاملہ پوشیدہ ھوگیا ھے۔” أبو ياسر بن أخطب نے اپنے بھائی حيي بن أخطب اور دوسرے یھودیوں سے کہا کہ “اب ان سب کو جمع کرلو۔ یہ سب ملا کر سات سو چونتیس ھوتے ھیں۔” وہ کہنے لگے “اب یہ کا معاملہ مشتبہ ھوگیا ھے۔” اس بارے میں سورة آل عمران کی یہ آیات نازل ھوئیں:
“هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آَيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آَمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ"
ترجمہ: وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری اس کی کچھ آیتیں صاف معنی رکھتی ہیں وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اشتباہ ہے وہ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ اشتباہ والی کے پیچھے پڑتے ہیں گمراہی چاہنے اور اس کا پہلو ڈھونڈنے کو اور اس کا ٹھیک پہلو اللہ ہی کو معلوم ہے اور پختہ علم والے کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے
2.3.4 - افضل القرآن
احادیث مبارکہ میں سورة البقرة کو أفضل القرآن اور آية الكرسي‏ کو آیت الاعظم کہا گیا ھے۔ جس گھر میں سورة البقرة کی تلاوت کی جاتی ھے اس میں شیطان داخل نہیں ھوتا۔
نوٹ: ضروری حوالوں کیلئے دیکھیں ضمیمہ۔ اس مختصر سی تمہید کے بعد اب آئیے ایک بار پھر اپنے موضوع کی طرف لوٹتے ھیں۔
2.4 - سورة البقرةمیں ھو اور وھو:
سورة البقرة 2
بسم الله الرحمن الرحيم
ترجمہ: اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحمت والا (1)
هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَوَاتٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (29)
ترجمہ: وہی ہے جس نے تمہارے لئے بنایا جو کچھ زمین میں ہے۔ پھر آسمان کی طرف استوا (قصد) فرمایا تو ٹھیک سات آسمان بنائے وہ سب کچھ جانتا ہے -

اس آیت مبارکہ میں کل 19 الفاظ ھیں۔ 19 کا عدد کسی شئے کی ابتداء (یعنی بسم اللہ) کو ظاھر کرتا ھے۔ اس آیت سے لفظ هُوَ کی ابتداء ھو رھی ھے۔ اس آیت میں 2 هُوَ موجود ھیں اور اس آیت کا نمبر 29 ھے جس کا مجموعہ (یعنی 9+2) 11 بنتا ھے۔ جو کہ آیت میں موجود هُوَ اور هُوَ کی طرف اشارہ کرتا ھے۔ یہ آیت نہ صرف یہ کہ قرآن پاک کی پہلی آیت ھے جس میں لفظ هُوَ آیا ھے بلکہ لفظ هُوَ سے شروع ھونے والی بھی پہلی آیت ھے. اس آیت میں سات آسمانوں (سَبْعَ سَمَوَاتٍ) کا ذکر ھے اور اس آیت میں کل سات واؤ موجود ھیں (6 ظاھر اور ایک مخفی) اور واؤ لفظ هُوَ میں موجود ھے۔ گویا سات واؤ سے سات آسمانوں کی طرف اشارہ کیا گیا ھے۔ یاد رھے کہ واؤ کے اعداد ابجد میں 6 ھیں۔ (دیکھیں نقشۂ حروف ابجد)
2.5 - قرآن پاک میں آخری هُوَ:
سورة الإخلاص 112
بسم الله الرحمن الرحيم
اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحمت والا (1)

قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ (1) اللَّهُ الصَّمَدُ (2) لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (3) وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ (4)
ترجمہ: تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے۔اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی
قرآن پاک میں سورة الإخلاص کا نمبر 112 (یا 2 + 11) ھے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ھے کہ کوئی ایک خاص لفظ 2 بار آیا ھے۔ آئیے کچھ غور کرتے ھیں۔ لفظ اللہ 2 بار، أَحَدٌ 2 بار اور وَلَمْ 2 بار آیا ھے۔ ان تینوں میں سے احد کی یہ شان ھے کہ یہ لفظ پہلی اور آخری دونوں آیتوں کے آخر میں آیا ھے۔ احد کے معنی ایک کے ھوتے ھیں۔ احد اور احد یعنی ایک اور ایک۔ اور یہ ایک اور ایک گیارہ یا بہ الفاظ دیگر هُوَ (5+6=11) کی طرف اشارہ ھے۔ گویا سورة الإخلاص لفظ هُوَ کا فیض ھے۔ یا سورة الإخلاص میں لفظ هُوَ کا فیض ھے۔

ایک اور نکتے کی طرف اشارہ کرتا چلوں۔ پہلی آیت کے لفظ أَحَدٌ سے آخری آیت کے لفظ أَحَدٌ کا ٹھیک گیارھواں لفظ بنتا ھے۔ احد سے احد کا نمبر گیارھواں ھے۔ اور یہ بھی کتنا حسین اتّفاق ھے کہ آخری آیت کے آخری 2 لفظوں (یعنی كُفُوًا أَحَدٌ) میں 2 الف ایک ساتھ آکر کھڑے ھوئے ھیں اور عددی هُوَ (11) کا منظر پیش کرتے ھیں۔ اور ھر آیت جس میں الف آیا ھے وہ اکیلا نہیں بلکہ 2 الف ایک ساتھ آئے ھیں۔

هُوَ والی آیت (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) میں کل 11 حروف اور 220 (یا 11*20) ابجدی اعداد ھیں۔ سورة الإخلاص کے کل حروف 47 ھیں جن کا مجموعہ (یعنی 4 اور 7) 11 بنتا ھے۔ کل سورت کے اعداد 1002 ھیں۔ کل الفاظ 15 ھیں، آیات کی تعداد 4 ھے اور ھر آیت دال (د) پر ختم ھوتی ھے۔ “د” کے اعداد 4 ھوتے ھیں۔ اگر هُوَ کے 11 اعداد میں “د” کے 4 اعداد بھی شامل کرلیں تو 15 کا عدد ظاھر ھوتا ھے۔ اور لفظ هُوَد (هُوَ=11 اور د=4) آشکار ھوتا ھے۔

آیئے اب سورة هود کے گلشن کی کچھ سیر کرتے ھیں جس کی طرف سورہ اخلاص اشارہ کر رھی ھے۔ اور شجر هُوَ کے کچھ پھولوں کی خوشبوؤں سے فیضیاب ھوتے ھیں۔
2.6 - سورة هود کا مختصر تعارف:
سورة هود قرآن پاک کی گیارھویں سورة ھے اور یہ گیارھویں سیپارے سے شروع ھوکر بارھویں سیپارے میں تمام ھوتی ھے۔ اس سورة میں کل 1947 الفاظ اور 123 آیات ھیں۔ گویا ھر آیت میں اوسطاً 15 الفاظ ھیں اور 15 کے عدد سے لفظ هُوَد (هُوَ=11 اور د=4) آشکار ھوتا ھے۔ اس سورة میں کل 6 بار ھو کا لفظ آیا ھے اور یہ محض اتفاق ھے کہ گیارھویں سپارے میں اس سورة کی 5 آیات ھیں اور بارھواں سپارہ چھٹی آیت سے شروع ھوتا ھے جو کہ ایک بار پھر ھو (ھ=5 اور و=6) کی بانب اشارہ کرتا ھے۔
اس سورة میں حضرت نوح، حضرت هُوَد، حضرت صالح، حضرت ابراھیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت لوط، حضرت شعیب اور حضرت موسی (علیھم السّلام) کا ذکر موجود ھے۔ جبکہ ان نو میں سے دو انبیاء کرام یعنی حضرت نوح اور حضرت هُوَد (علیھما السّلام) کا قصّہ تفصیل کے ساتھ آیا ھے۔
سورة هود میں قصۂ حضرت هود علیہ السلام کل گیارہ آیات (50 تا 60) میں بیان هُوَا ھے۔ 50 اور 60 کے صفر کو ھٹا دیا جائے تو 5 اور 6 کے اعداد ظاھر ھوتے ھیں جو کہ لفظ هُوَ (ھ=5 اور و=6) کے اعداد ھیں۔ سورة هود کے اختتام پر قرآن پاک کے 29،911 الفاظ مکمل هُوَئے ھیں۔
حدیث شریف میں آیا ھے کہ سورہ هُوَد نے مجھے بوڑھا کردیا۔
2.11.1 - شيبتني (سورہ) هود وأخواتها
حدیث شریف میں آیا ھے کہ سورہ هُوَد نے مجھے بوڑھا کردیا۔ ذییل میں جو احادیث مبارکہ پیش کی گئی ھیں ان کا لبّ لباب یہ ھے کہ سورہ هُوَد اور اسی کی مثل دوسری سورتوں (مثلا الواقعة، المرسلات، النّبا، التّکویر) نے مجھے بوڑھا کردیا۔ حوالوں کیلئے دیکھیں ضمیمہ۔
نیز حدیث شریف میں آیا ھف کہ جمعہ کے دن سورة هود پڑھا کرو۔
2.11.2 - حضرت ھود عليه السلام کا نسب مبارک
الإمام الحافظ أبو الفداء إسماعيل بن كثير بن كثير کی قصص الأنبياء میں حضرت ھود عليه السلام کا نسب مبارک اس طرح سے بیان کیا گیا ھے۔
هود بن شالخ بن أرفخشذ بن سام بن نوح عليه السلام.
اور یہ بھی کہا گیا ھے کہ
ويقال أن هوداً هو عابر بن شالخ بن أرفخشذ بن سام بن نوح،
ويقال هود بن عبد الله بن رباح الجارود بن عاد بن عوص بن إرم بن سام بن نوح عليه السلام. ذكره ابن جرير.
2.11.3 - حضرت ھود عليه السلام اور ان کی قوم
حضرت ھود عليه السلام کی قوم کا نام عاد تھا۔ عاد نام کی دو قومیں تھیں۔ ایک تو عاد ارم یا عاد اولی اور دوسری قوم عاد۔ قرآن پاک میں آیا ھے کہ أَلَمْ تَرَى كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ، ارَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۔
طوفان نوح کے بعد سب سے پہلے قوم عاد میں ھی بت پرستی کی لعنت شروع ھوئی اور ان کے بت صدا، وصمودا، وهرا تھے۔
صحيحين میں ھے کہ نصرت بالصبا، وأهلكت عاد بالدبور
قال الإمام أحمد: حَدَّثَنا وكيع، حَدَّثَنا زمعة بن صالح، عن سلمة بن وهرام، عن عكرمة، عن ابن عبَّاس قال: لما مرّ النبي صلى الله عليه وسلم بوادي عسفان حين حج قال: يا أبا بكر أي واد هذا؟ قال وادي عسفان. قال: لقد مرّ به ھود وصالح عليهما السلام على بكرات خطمها الليف، أزرهم العباء، وأرديتهم النمار يلبون يحجون البيت العتيق .
وقال محمد بن سعد كاتب الواقدي: أنبأنا هشام بن محمد بن السائب الكلبي، عن أبيه قال: أول نبي بعث إدريس، ثم نوح، ثم إبراهيم، ثم إسماعيل وإسحاق، ثم يعقوب ثم يوسف ثم لوط ثم ھود ثم صالح ثم شعيب، ثم موسى وهارون ابنا عمران، ثم إلياس النشبي بن العازر بن هارون بن عمران بن قاهث بن لاوى بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم عليهم السلام. هكذا قال: وفي هذا الترتيب نظر. وقال مكحول عن كعب: أربعة أنبياء أحياء، اثنان في الأرض إلياس والخضر، واثنان في السماء: إدريس وعيسى عليهم السلام۔
2.11.4 - عرب شریف کے انبیاء کرام
ابن حبان کی صحيح میں حضرت أبي ذر رضی اللہ عنہ سے انبیاء کرام کے ذکر کی ایک طویل حدیث میں آیا ھے کہ چار انبیاء کرام عرب شریف سے ھیں یعنی حضرت ھود عليه السلام، حضرت صالح عليه السلام ، حضرت شعيب عليه السلام اور ھمارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔
وفي صحيح ابن حبان عن أبي ذر في حديثه الطويل في ذكر الأنبياء والمرسلين قال فيه "منهم أربعة من العرب: هود، وصالح، وشعيب، ونبيك يا أبا ذر"۔
کہا گیا ھے کہ سب سے پہلے عربی بولنے والے حضرت ھود عليه السلام تھے۔ اور اسی طرح حضرت آدم اور حضرت نوح علیھما السلام کا نام بھی اس ضمن میں لیا جاتا ھے۔
2.11.5 - قبر حضرت ھود عليه السلام
حضرت علی فرماتے ھیں کہ حضرت ھود عليه السلام کی قبر مبارک یمن میں ھے۔ اور بعض لوگوں نے کہا ھے کہ دمشق میں ھے۔
وقدمنا حج هود عليه السلام عند ذكر حج نوح عليه السلام. وروي عن أمير المؤمنين علي بن أبي طالب أنه ذكر صفة قبر هود عليه السلام في بلاد اليمن. وذكر آخرون أنه بدمشق، وبجامعها مكان في حائطه القبلي يزعم بعض الناس أنه قبر هود عليه السلام. والله أعلم.
2.11.6 - سورة هود میں قصۂ حضرت هود علیہ السلام
وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا مُفْتَرُونَ (50) يَا قَوْمِ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى الَّذِي فَطَرَنِي أَفَلَا تَعْقِلُونَ (51) وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَى قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِينَ (52) قَالُوا يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آَلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ (53) إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آَلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ (54) مِنْ دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُونِ (55) إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آَخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (56) فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ مَا أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَيْكُمْ وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّي قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّونَهُ شَيْئًا إِنَّ رَبِّي عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ (57) وَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُودًا وَالَّذِينَ آَمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَنَجَّيْنَاهُمْ مِنْ عَذَابٍ غَلِيظٍ (58) وَتِلْكَ عَادٌ جَحَدُوا بِآَيَاتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا رُسُلَهُ وَاتَّبَعُوا أَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ (59) وَأُتْبِعُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ أَلَا إِنَّ عَادًا كَفَرُوا رَبَّهُمْ أَلَا بُعْدًا لِعَادٍ قَوْمِ هُودٍ (60)
ترجمہ: اور عاد کی طرف ان کے ہم قوم ہود کو کہا اے میری قوم! اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تم تو بڑے مفتری (بالکل جھوٹے الزام عائد کرنے والے) ہو (50) اے قوم! میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا، میری مزدوری تو اسی کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا تو کیا تمہیں عقل نہیں (51) اور اے میری قوم اپنے رب سے معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع لاؤ تم پر زور کا پانی بھیجے گا، اور تم میں جتنی قوت ہے اس سے زیادہ دے گا اور جرم کرتے ہوئے روگردانی نہ کرو (52) بولے اے ہود تم کوئی دلیل لے کر ہمارے پاس نہ آئے اور ہم خالی تمہارے کہنے سے اپنے خداؤں کو چھوڑنے کے نہیں نہ تمہاری بات پر یقین لائیں، (53) ہم تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارے کسی خدا کی تمہیں بری جھپٹ (پکڑ) پہنچی کہا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم سب گواہ ہوجاؤ کہ میں بیزار ہوں ان سب سے جنہیں تم اللہ کے سوا اس کا شریک ٹھہراتے ہو، (54) تم سب مل کر میرا برا چاہو پھر مجھے مہلت نہ دو (55) میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا رب ہے اور تمہارا رب، کوئی چلنے والا نہیں جس کی چوٹی اس کے قبضہٴ قدرت میں نہ ہو بیشک میرا رب سیدھے راستہ پر ملتا ہے، (56) پھر اگر تم منہ پھیرو تو میں تمہیں پہنچا چکا جو تمہاری طرف لے کر بھیجا گیا اور میرا رب تمہاری جگہ اوروں کو لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے بیشک میرا رب ہر شے پر نگہبان ہے (57) اور جب ہمارا حکم آیا ہم نے ہود اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو اپنی رحمت فرما کر بچالیا اور انہیں سخت عذاب سے نجات دی، (58) اور یہ عاد ہیں کہ اپنے رب کی آیتوں سے منکر ہوئے اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر بڑے سرکش ہٹ دھرم کے کہنے پر چلے، (59) اور ان کے پیچھے لگی اس دنیا میں لعنت اور قیامت کے دن، سن لو! بیشک عاد اپنے رب سے منکر ہوئے، ارے دور ہوں عاد ہود کی قوم، (60)

سورة هود میں قولِ هود علیہ السلام کے کل 99 (یعنی 11*9) الفاظ ھیں جو کہ اوپر الگ رنگ میں دکھائے گئے ھیں۔ یہ الفاظ حضرت هود علیہ السلام کی زبان اقدس سے ادا هُوَئے ھیں۔

یہاں یہ ذکر دلچسپی سے خالی نہ ھوگا کہ قصۂ حضرت هود علیہ السلام سورة هود کی کل گیارہ آیات میں بیان هُوَا ھے اور ان آیات میں کل 4 جگہوں پر حضرت هود علیہ السلام کا تذکرہ ان کے مقدّس نام سے آیا ھے جو کہ ایک مرتبہ پھر حضرت هود علیہ السلام کے مقدّس نام ھی کی جانب اشارہ کرتا ھے (یعنی گیارہ آیات اور 4 نام مقدّس جیسے هُوَ=11 اور د=4)۔ اور یہ ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہ ھوگا کہ ان آیات میں 2 جگہوں پر هُوَد اور 2 ھی جگہوں پر هُوَدا آیا ھے جس میں لفظ هُوَد پر الف کا اضافہ کیا گیا ھے۔ اس طرح سے 2 الف ایک مرتبہ پھر 11 کی یاد دلاتے ھیں۔

ان گیارہ آیات میں “ھ” کی تعداد 27 ھے۔ اور “ھ” عربی حروف تہجّی کا 27 واں حرف ھے۔
2.11.7 - قرآن پاک میں قولِ هود علیہ السلام
سورة هود 11
بسم الله الرحمن الرحيم
ترجمہ: اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحمت والا (1)

إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آَخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (56)
ترجمہ: میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا رب ہے اور تمہارا رب، کوئی چلنے والا نہیں جس کی چوٹی اس کے قبضہٴ قدرت میں نہ ہو بیشک میرا رب سیدھے راستہ پر ملتا ہے، (56)
"There is no creature He does not hold by the forelock. My Lord is on a Straight Path." (11:56)
آپ دیکھ سکتے ھیں کہ قولِ هود علیہ السلام میں لفظ هُوَ ٹھیک گیارھواں لفظ ھے اور یہ هُوَ دونوں طرف سے الف کے درمیان آیا ھے (إِلَّا هُوَ آَخِذٌ) جو کہ بذات خود 11 کی نشاندھی کرتا ھے کیونکہ الف کا ابجدی عدد ایک ھے اور الف اور الف، ایک اور ایک یعنی گیارہ کی نشاندھی کرتا ھے۔ اس مقام پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث شریف یاد آرھی ھے۔ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ھے کہ بندے کا دل رحمان کی دو انگلیوں کے درمیان ھے۔ وہ اسے جدھر چاھتا ھے پھیر دیتا ھے۔
عن أنس (رضی اللہ عنہ) قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكثر أن يقول يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك فقلت يا رسول الله آمنا بك وبما جئت به فهل تخاف علينا قال نعم إن القلوب بين إصبعين من أصابع الله يقلبها كيف يشاء
حوالہ: الجامع الصحيح للترمذي کتاب القدر
اس مقام پر ھماری دعا ھے کہ
1 رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
(ترجمہ: اے رب ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کر بیشک تو ہے بڑا دینے والا۔)
2 يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك
اس آیت کا نمبر 56 ھے جس کا مجموعہ (یعنی 5+6) 11 بنتا ھے۔ اور یہ ایک نہایت حیرت انگیز اتّفاق ھے کہ اس آیت میں آنے والے حروف کی تعداد 65 ھے جو ایک بار پھر 11 کی طرف رھنمائی کرتا ھے۔ یہ 56 ویں آیت لفظ هُوَ (6 اور 5) کا فیض ھے۔ اس آیت کے کل الفاظ 18 ھیں جو کہ اللہ جلّ شانہ کے ایک حسین نام حي (8 + 10 =18) کی طرف اشارہ کرتے ھیں۔ هُوَ اور حي میں جو لفظی قرب ھے اس سے ھر اردو دان بخوبی واقف ھے۔ اس آیت میں 3 بار “ھ” اور 3 ھی بار “و” آیا ھے۔

اس آیت کی بابت شیخ اکبر حضرت شیخ محی الدّین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ھیں کہ اللہ جلّ شانہ کا ھم پر یہ بہت بڑا احسان ھے کہ اس نے حضرت هود علیہ السلام کا یہ قول قرآن پاک میں ھمارے لئے نقل فرمادیا۔ (فصوص الحکم)
اور بخاری شریف میں اس آیت کے لفظ "آخذ بناصيتها" کی شرح میں لکھا ھے “في ملكه وسلطانه”۔
2.11.8 - سورة هود، هُوَ اور قوّت کا ذریعہ:
آیت 52 میں قوّت پر قوّت کا ذکر ھے۔ وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَى قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِينَ (52)
ترجمہ: اور اے میری قوم اپنے رب سے معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع لاؤ تم پر زور کا پانی بھیجے گا، اور تم میں جتنی قوت ہے اس سے زیادہ دے گا اور جرم کرتے ہوئے روگردانی نہ کرو (52)
2.7 - هُوَ اور 11 الفاظ کی واحد آیت
قرآن پاک میں 244 مرتبہ لفظ هُوَ اور 160 بار وهُوَ آیا ھے۔ اور قرآن پاک کی صرف ایک آیت ایسی ھے جو لفظ هُوَ سے شروع ھوتی ھے اور جس کے کل الفاظ بھی (هُوَ کے اعداد کی طرح) 11 ھیں۔ وہ آیت یہ ھے۔

هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَمِنْكُمْ مُؤْمِنٌ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (سورة التغابن۔ 2)
ترجمہ: وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا تو تم میں کوئی کافر اور تم میں کوئی مسلمان اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے، (2)

آپ دیکھ سکتے ھیں کہ هُوَ (11) کا مفرد عدد 2 ھے جو ایک اور ایک کو جمع کرکے حاصل کیا گیا ھے۔ اور هُوَ سے شروع ھونے والی اس آیت کا نمبر بھی 2 ھے جس میں 2 ھی قسم کے انسانوں (فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَمِنْكُمْ مُؤْمِنٌ) کا ذکر ھے اور باری تعالی کے بھی 2 ھی اسماء الحسنی (وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ) کا ذکر ھے۔ اور ساتھ ھی باری تعالی کے 2 ھی اسماء اشارہ (هُوَ اور الَّذِي خَلَقَكُمْ) اس آیت میں مذکور ھیں۔
2.8 - وھو اور 11 الفاظ کی 3 آیات
قرآن پاک کی 3 آیات ایسی ھیں جو وھو سے شروع ھوتی ھیں اور جن کے الفظ کی کل تعداد بھی 11 ھے۔ وہ آیات یہ ھیں:

1.وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (سورة الأنبياء۔ 33) ترجمہ: اور وہی ہے جس نے بنائے رات اور دن اور سورج اور چاند ہر ایک ایک گھیرے میں پیر رہا ہے۔
2.وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِبَاسًا وَالنَّوْمَ سُبَاتًا وَجَعَلَ النَّهَارَ نُشُورًا (سورة الفرقان۔ 47)ترجمہ: اور وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے پردہ کیا اور نیند کو آرام اور دن بنایا اٹھنے کے لیے ۔
3.وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاء إِلَهٌ وَفِي الْأَرْضِ إِلَهٌ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ (سورة الزخرف۔ 84) ترجمہ: اور وہی آسمان والوں کا خدا اور زمین والوں کا خدا اور وہی حکمت و علم والا ہے۔
2.8 - هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّه
فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنْبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا قَالَ يَا مَرْيَمُ أَنَّى لَكِ هَذَا قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (سورة آل عمران۔37)
ترجمہ: تو اسے اس کے رب نے اچھی طرح قبول کیا اور اسے اچھا پروان چڑھایااور اسے زکریا کی نگہبانی میں دیا، جب زکریا اس کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے اس کے پاس نیا رزق پاتے کہا اے مریم! یہ تیرے پاس کہاں سے آیا، بولیں وہ اللہ کے پاس سے ہے، بیشک اللہ جسے چاہے بے گنتی دے۔
2.9 - هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ
أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (سورة آل عمران۔165)
ترجمہ: کیا جب تمہیں کوئی مصیبت پہنچے کہ اس سے دونی تم پہنچا چکے ہو تو کہنے لگو کہ یہ کہاں سے آئی تم فرمادو کہ وہ تمہاری ہی طرف سے آئی بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
2.10 - هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآَنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (سورة المائدة۔ 8)
ترجمہ: اے ایمان والوں اللہ کے حکم پر خوب قائم ہوجاؤ انصاف کے ساتھ گواہی دیتے اور تم کو کسی قوم کی عداوت اس پر نہ اُبھارے کہ انصاف نہ کرو، انصاف کرو، وہ پرہیزگاری سے زیادہ قریب ہے، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ کو تمہارے کامو ں کی خبر ہے،
2.11 - هُوَ أُذُنٌ
وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ آَمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (سورة التوبة۔61)
ترجمہ: اور ان میں کوئی وہ ہیں کہ ان غیب کی خبریں دینے والے کو ستاتے ہیں اور کہتے ہیں وہ تو کان ہیں، تم فرماؤ تمہارے بھلے کے لیے کا ن ہیں اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور مسلمانوں کی بات پر یقین کرتے ہیں اور جو تم میں مسلمان ہیں ان کے واسطے رحمت ہیں، اور جو رسول اللہ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے،

دور و نزدیک کے سننے والے وہ کان
کان لعل کرامت پہ لاکھوں سلام
2.12 - ھو شفاء
آئیے اب ایک ایسی آیت کی طرف چلتے ھیں جس کے مفہوم سے اکثر لوگ نا آشنا ھیں۔ قرآن پاک کی ایک خصوصیت کی طرف پروردگار عالم یوں توجّہ مبذول فرماتا ھے:
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآَنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا (سورة الإسراء ۔ 82)
ترجمہ: اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے اور اس سے ظالموں کو نقصان ہی بڑھتا ہے،
یہ آیت مبارکہ قرآن پاک کی شفائی خصوصیات کی طرف رہنمائی کرتی ھے۔ اور کیوں نہ کرے، قرآن پاک کی پہلی ھی سورت “الفاتحہ” کا ایک نام “شافیہ” ھے جس کا مطلب ھے شفاء دینے والی۔
قرآن پاک دنیا کی وہ واحد کتاب ھے جس سے دنیا بھر کے مریضوں کو شفاء حاصل ھوتی ھے۔ بیمار روحیں، سقیم اجسام اور روگی دل اس کی برکت سے شفایاب ھوجاتے ھیں۔ اندھی آنکھیں اس کی مدد سے بینا ھوجاتی ھیں۔ زنگ آلود سینے آئینوں کی مانند چمک اٹھتے ھیں۔ الغرض امراض قدیم سے امراض جدید تک کا علاج اس میں موجود ھے۔ یہ شفاء کاملہ کی ایک ایسی شمع ھے جس کا اجالا ھر گھر اور ھر جگر میں اپنی روشنی بکھیر رھا ھے۔
بجھ گئیں جس کے آگے سبھی مشعلیں
شمع وہ لے کر آیا ھمارا نبی
(صلى الله عليه وسلم)
2.12.1 - تعویذات، دم درود، جھاڑ پھونک اور قرآن پاک
قرآن شریف کی آیت وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآَنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ (اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے) نے صاف اور واضح کردیا کہ اس کتاب مقدّس میں شفاء پنہاں ھے۔ شفاء کے عموم نے یہ واضح کردیا کہ کوئی سا بھی مرض کیوں نہ ھو، اس کتاب میں اس کی شفاء موجود ھے۔ حدیث شریف میں بھی اس شفاء کا تذکرہ موجود ھے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس بارے میں ایک حدیث شریف سے اپنی صحیح کو مزیّن کیا ھے۔ وہ نقل فرماتے ھیں:
عن أبي سعيد الخدري قال: كنا في مسير لنا فنزلنا، فجاءت جارية فقالت: إن سيد الحلي سليم، وإن نفرنا غيب، فهل منكم راق؟ فقام معها رجل ما كنا نأبنه برقية، فرقاه فبرأ، فأمر له بثلاثين شاة، وسقانا لبنا، فلما رجع قلنا له: أكنت تحسن رقية، أوكنت ترقي؟ قال: لا، ما رقيت إلا بأم الكتاب، قلنا: لا تحدثوا شيئا حتى نأتي، أو نسأل النبي صلى الله عليه وسلم، فلما قدمنا المدينة ذكرناه للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال: وما كان يدريه أنها رقية؟ اقسموا واضربوا لي بسهم (صحيح البخاري )
اس حدیث شریف کا لبّ لباب یہ ھے کہ صحابۂ کرام نے رقية (یعنی دم درود) کیا بلکہ اس دم درود پر بکریوں اور دودھ کا نذرانہ بھی وصول کیا اور نبی صلى الله عليه وسلم نے نہ صرف یہ کہ اسے برقرار رکّھا بلکہ اس میں اپنا حصّہ بھی لگایا۔ گویا اس کے جواز پر قیامت تک کیلئے اپنے عمل شریف سے مہر تصدیق ثبت فرمادی۔ اب کوئی ناھنجار اس پر زبان طعن دراز نہیں کرسکتا۔
یاد رکھیں کہ جب کوئی شخص الفاظ قرآنی یا حروف قرآنی سے کسی بیماری کا علاج کرتا ھے تو اس کو رقية (یعنی دم درود یا جھاڑ پھونک یا تعویذ) کہا جاتا ھے۔ یہ رقیّہ قرآن پاک اور حدیث شریف دونوں ھی سے ثابت ھے۔ بلکہ قرآن پاک کی آخری گیارہ آیات (یعنی سورة الفلق اور سورة الناس) کا نزول اور تلاوت ھی یھودیوں کے کئے ھوئے جادو کا توڑ بنا تھا جس سے کوئی مفسّر قران انکار نہیں کرسکتا۔ اگر اب بھی کوئی انکار پر قائم رھے تو اسے سوائے ازلی عناد کے اور کیا کہا جاسکتا ھے! اور وہ جو منع فرمایا گیا ھے وہ صرف کفریہ اور شرکیہ فقروں سے کیا گیا ھے (جو کسی مسلمان سے متصوّر نہیں) کیونکہ ان کی وجہ سے آدمی کا ایمان چلا جاتا ھے نیز کفر اور شرک میں کوئی شفاء نہیں بلکہ یہ تو خود ھی مہلک بیماریاں ھیں۔ جبکہ قرآن پاک کی ایات سے کہیں منع نہیں فرمایا گیا۔ اور منع بھی کیوں فرمایا جاتا جبکہ اس میں شفاء خود خدائے بزرگ و برتر نے رکھی ھے اور ببانگ دہل فرمایا گیا ھے کہ وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآَنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ۔ (اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے)
2.12.2 - رقیّہ اور اس کے طریقے
جب یہ بات ثابت ھوگئی کہ الفاظ قرآنی یا حروف قرآنی میں امراض کی شفاء موجود ھے تو ھر جائز طریقے سے کیا گیا رقیّہ جائز ھوگا۔ اس کی چند صورتیں ذیل میں دی گئی ھیں۔
1.آیات قرآنی پڑھ کر مریض (یا آسیب زدہ) پر پھونک ماردینا۔
2.آیات قرآنی پڑھ کر پانی یا کسی اور حلال اور پاک اور طیّب شئے (مثلا کھانے وغیرہ) پر دم کردینا۔
3.آیات قرآنی کسی کاغذ وغیرہ پر (بتاکید ادب) لکھ کر دینا۔
4.آیات قرآنی کو نقوش کی صورت میں لکھ کر دینا۔
5.مریض (یا آسیب زدہ) کو حسب بیماری کوئی آیت وغیرہ خاص تعداد میں ورد کیلئے دے دینا۔
6.یا اوپر بتائے گئے طریقوں میں سے ایک سے زائد طریقے پر عمل کرنا۔
اوپر بتائے گئے پہلے دو طریقوں کو دم کرنا کہا جاتا ھے۔ دوسرے دو طریقوں کو تعویذ کہا جاتا ھے اور پانچواں طریقہ ورد و وظائف کے ذریعے علاج کہلاتا ھے۔ یہ سب طریقے جائز ھیں اور صدیوں سے مسلمان اکابرین ان پر عمل کرتے آئے ھیں اور آج بھی عمل کر رھے ھیں۔ بلکہ انہوں نے تو اس علم پر مستقل کتابیں لکھ کر امّت مصطفی پر بڑا احسان کیا ھے۔ اور اس ضمن میں حضرت شیخ سلیمان بونی رحمت اللہ کی “شمس المعارف” تو بڑی معروف کتاب ھے۔جس کا جب دل چاھے اس کا مطالعہ کرسکتا ھے۔ اردو زبان میں اقبال نوری صاحب کی “شمع شبستان رضا” بھی اس موضوع پر ایک اعلی مقام رکھتی ھے جو مبتدین اور ماھرین دونوں ھی کی رھنمائی کرتی ھے۔
یاد رکھیں کہ اوپر بتائے گئے اعمال میں سے کوئی سا بھی عمل کسی بھی طرح سے کسی بھی وقت شرک میں داخل نہیں ھوتا کیونکہ شرک کسی غیر خدا کو خدائی کا مقام دینے کا نام ھے جبکہ دم درود میں تو خود اللہ وحدہ لاشریک کے مقدّس کلام سے استفادہ کیا جاتا ھے، کلام الہی کا شرک سے کیا واسطہ۔ یہ تو خود شرک کی جڑیں ھمیشہ کیلئے کاٹنے کیلئے نازل ھوا ھے۔ اب کسی عقل کے اندھے کو کلام الہی میں ھی شرک دکھائی دے تو اس میں کلام الہی کا کوئی قصور نہیں۔ قصور ھے تو ان آنکھوں کا ھے جن پر شرک کی عینک چڑھی ھوئی ھے یا اس بری عقل ناقص کا ھے جس پر مسلمانوں کو ھر صورت مشرک بنانے کا بھوت سوار ھے۔ خدا ایسے فضول جنون سے ھمیں اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین!
علم رقیّہ ایک مشکل علم ھے جو کسی استاد کے بغیر حاصل نہیں ھوتا۔ اسے سیکھنے کیلئے ایک حدیث شریف ضرور مدّ نظر رکھیں کہ “ھر امر میں اس کے ماھر سے مشورہ حاصل کرو۔”
چند مشہور نقوش اور تعویذات
ذیل میں چند نقوش دیئے جا رھے ھیں تاکہ ان سے اھل علم حضرات نفع اٹھا سکیں۔

شرح مزید کل علم طب ایک آیت میں
يَا بَنِي آَدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ (سورة الأعراف۔31)
۞ ترجمہ: اے آدم کی اولاد! اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو، بیشک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں،
2.12 - هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ
أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (سورة التوبة۔104)
ترجمہ: کیا انہیں خبر نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور صدقے خود اپنی دست قدرت میں لیتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔
2.13 - هُوَ يُطْعِمُنِي
وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ (سورة الشعراء ۔ 79)
وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ (سورة الشعراء ۔80)
ترجمہ: اور وہ جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے (79) اور جب میں بیمار ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے (80)
2.14 - ی

2.9 - ھ + و = هُوَ
آئیے اب هُوَ کے حروف (ھ + و) پر کچھ غور کرتے ھیں۔ پہلے “ھ” پر ایک نظر ڈال لیں۔ “ھ” عربی حروف تہجّی کا 27 واں حرف ھے۔ ابجد میں 5 واں حرف ھے اور اس کے اعداد بھی 5 ھی بنتے ھیں۔ “ھ” لفظ ھادی کا پہلا اور لفظ اللہ کا آخری حرف ھے۔
2.9.1 - “ھ” سے شروع ھونے والی مختصر اور طویل ترین آیتیں:
سورة طه کی 30 ویں آیت (هَارُونَ أَخِي:ترجمہ: وہ کون میرا بھائی ہارون،) “ھ” سے شروع ھونے والی سب سے مختصر آیت ھے۔ اس میں 2 الفاظ اور 8 حروف ھیں۔ اور “ھ” سے شروع ھونے والے لفظ ھارون میں بھی کل 5 ھی حروف ھیں۔

یہاں ایک بات عرض کرتا چلوں کہ قرآن پاک میں 11 بار حضرت هَارُونَ علیہ السلام کا تذکرہ ان کے نام کے ساتھ آیا ھے۔ جبکہ ایک بار “يَا أُخْتَ هَارُون" کا لفظ بی بی مریم کے بھائی کے لئے آیا ھے۔

سورة آل عمران کی 7 ویں آیت (هُوَ الَّذِيَ أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ في قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاء الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاء تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلاَّ اللّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُوْلُواْ الألْبَابِ ترجمہ: وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری اس کی کچھ آیتیں صاف معنی رکھتی ہیں وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اشتباہ ہے وہ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ اشتباہ والی کے پیچھے پڑتے ہیں گمراہی چاہنے اور اس کا پہلو ڈھونڈنے کو اور اس کا ٹھیک پہلو اللہ ہی کو معلوم ہے اور پختہ علم والے کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے) “ھ” سے شروع ھونے والی سب سے طویل ترین آیت ھے۔ اس میں 46 الفاظ اور 198 حروف ھیں۔ یہاں یہ ذکر دلچسپی سے خالی نہ ھوگا کہ اس آیت میں کل گیارہ بار “ھ” آیا ھے۔

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......