گوندنی والا تکیه

Submitted by TeamAdmin on Wed, 10/03/2007 - 01:49

مصنف ابھی بچه هی تھا که اس کے والد فوت هوگۓ۔ پندره برس کی عمر میں والده بھی انتقال کرگئیں۔ مصنف کا کوئ اور بھائ اور بھن بھی نهیں تھی۔ دنیا میں وه بالکل یکه و تنھا هوجانے کے احساس نے اسے سخت دل برداشته کردیا اور اس نے اپنا گھر بار چھوڑ دیا۔ کچھ تو اسے سیاحت کا شوق تھا اور پھر پیٹ پالنے کے لیے روٹی کمانا بھی ضروری تھا۔ چنانچه وه بهت سے ملکوں کی خاک چھانتا پھرتا رها۔ آخرکار، اس نے سمندر پار ایک ملک میں رهائش اختیار کرلی۔ اور چھوٹا موٹا کاروبار شروع کردیا۔ شادی بھی اس نے وهیں کی ایک عورت سے کر لی۔جس سے اس کے بچے بھی هوگۓ۔ کاروباری مصروفیات میں وه اسقدر پھنسا که اس ملک سے اس کا نکلنا مشکل هوگیا۔ کچھ عرصے بعد اسے چند اھم کاروباری امور کےلیے اپنے وطن جانے کی ضرورت پیش آئ۔ پھر وهاں اسے اپنی آبائ جائیداد کا بھی مسئله حل کرنے تھا۔ چنانچه وه وطن جانے کے لیے ریل کے طویل سفر کے بعد وه اپنے قصبے کے چھوٹے سے اسٹیشن پر اترا۔ اس نے بڑی مدت کے بعد اپنے آبائ وطن سرزمین پر قدم رکھے تھے۔ شدید سردی، سفر کی تھکاوٹ اور بے آرامی کے باعث اس کے دل میں مسرت و شادمانی کی وه کیفیت پیدا نه هوسکی، جو اتنی مدت کے بعد وطن کی سرزمین پر قدم رکھتے هوۓ اسے محسوس هونی چاهۓ تھی۔ اس کے دل میں وطن کی محبت کے وه جذبات بھی پیدا نه هوسکے، جو مدت بعد وطن واپس آنے والوں کے دلوں میں یقینی طور پر پیدا هوجایا کرتے هیں۔ وه اپنے آپ کو وهاں اجنبی محسوس کررها تھا۔

اسٹیشن سے اس نے هوٹل میں جانے کے لیے تانگه کراۓ پر لیا۔ جس میں ٹھھرنے کے لیے اسکے وکیل نے اسے کهه رکھا تھا۔ اسٹیشن سے باهر نکلتے هی مصنف نے محسوس کیا که قصبه پهلے سے بهت زیاده پهیل گیا هے۔جو علاقے اسکے بچپن کے زمانے میں اجاڑ و بنجر پڑے تھے، وهاں اب چھوٹے چھوٹے بازار بن گۓ تھے۔جن میں خاصی چهل پهل نظر آرهی تھی۔ تمام عمارتیں پخته اینٹوں کی بنی هوئیں تھیں۔ اگرچه کهیں کهیں اکا دکا کچے گھر بھی نظر آرهے تھے۔ اپنے قصبے کی اس ترقی کو دیکھ کر مصنف کے دل میں خوشی کا احساس هونے کے بجاۓ بیگانگی کا احساس بڑھ رها تھا۔ اسے کسی چیز سے بھی اپنا تعلق نظر نهیں آرها تھا۔ اسے اسٹیشن کے علاوه کوئ ایسی جانی پهچانی شے نظر نه آئ، جو اس کی پرانی یادوں کو تازه کرنے میں معاون ثابت هوتی۔ تھوڑی دیر بعد هوٹل آگیا، هوٹل میں اسے خاصا کھلا اور صاف ستھرا کمره دیا گیا۔ مصنف نے هاتھ منه دھویا، کچھ کھا پی کر آرام کرنے کی غرض سے لیٹ گیا اور کچھ هی دیر بعد وه نیند کی آغوش میں چلا گیا۔ دو گھنٹے بعد سوکر اٹھا تو اسکی طبعیت کسی قدر بحال هوچکی تھی۔ سفر کی تھکان بھی قدرے کم هوچکی تھی۔ وه لباس تبدیل کرکے قصبے میں گھومنے کے لیے نکل کھڑا هوا۔ اسکے قدم خود بخود اس علاقے کی طرف اٹھ رهے تھے، جهاں اس نے بچپن گزارا تھا۔ کچھ هی دیر بعد وه اس حویلی کے سامنے کھڑا تھا، جسے اس کے بزرگوں نے تعمیر کیا تھا۔ حویلی کی عمارت مخدوش حالت میں تھی۔ یوں معلوم هوتا تھا، که اس کی دیکھ بھال بالکل نهیں کی گئ تھی۔

حویلی کے سامنے چھوٹے چھوٹے چار پانچ بچے میلے کچیلے لباس پهنے گولیوں سے کھیل رهے تھے۔ ان میں سے ایک بچے نے جس کی صورت سے معصومیت ٹپک رهی تھی، نه جانے کس جذبه کے تحت مصنف کو دیکھ کر مسکرانا شروع کردیا۔ بچے کو معصوم سی هنسی هنستے دیکھ کر اس کا اپنا بچپن اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔ اسے اپنے وطن سے اب تک جس حد تک بیگانگی کا احساس هورها تھا، وه یک لخت ختم هوگیا، چھوٹے سے بچے کی معصوم سی هنسی نے مصنف کے دل میں اپنے وطن، قصبے اور محلے سے محبت و انس کے بےپناه جذبے کو بیدار کردیا۔ اس کا دل چاها، که وه باربار اپنے محلے میں گھومے پھرے اور اپنے بچپن کی معصوم یادوں کو تازه کرے، شدت جذبات سے اس کا دل بھر آیا، لیکن جلد هی اس نے اپنے اوپر قابو پالیا۔ مصنف کے گھر سے کچھ فاصلے پر ایک پرانا سا تکیه هوا کرتا تھا، جس میں گوندنی کے آٹھ دس پیڑ تھے، اسی لۓ اسے گوندنی والا تکیه کها جاتا تھا۔ بچے ان درختوں کی چھاؤں میں کھیلا کرتے تھے اور گوندنیان توڑ توڑ کر کھاتے تھے، تکیے کا سائیں بهت نیک دل آدمی تھا، وه بچوں کو گوندنیاں توڑنے سے منع نهیں کرتا تھا۔ لیکن اگر کوئ بچه درخت کی شاخ توڑ دیتا، تو وه ناراض هوجاتا تھا۔ کئ دوکانداروں نے اسے ان پیڑوں کا ٹھیکه لینے کیلیے سائیں کو معقول رقم کی پیشکش بھی کی، لیکن وه یه کهه کر که یه محلے کے بچوں کا مال هے، اس پیش کش کو ٹھکرا دیتا تھا، بچپن کی اپنی یادوں میں گم مصنف نے اس تکیے کا رخ کیا۔ هر طرف پخته اینٹوں کے گھر بنے تھے، لیکن تکیه کهیں بھی نظر نهیں آرها تھا، اچانک اس کا دل دھک سے ره گیا۔ اس تکیے کی جگه اسے ایک چار دیواری نظر آئ، جس کے دروازے سے ایک نو دس سال کا بچه باهر آرها تھا۔ اس نے اس بچے سے اس تکیے کے بارے میں پوچھا، تو اس نے لاعلمی کا اظھار کیا۔ اتنے میں وهاں سے ایک بزرگ سے شخص کا گزر هوا۔ مصنف نے ان سے گوندنی والے تکیے کے بارے میں دریافت کیا، تو انهوں نے بتایا که پندره سوله سال پهلے اس تکے کے متولی کے انتقال کے بعد اس تکیے کو ختم کردیا گیا تھا۔ کیونکه بعد میں جو لوگ تکیے پر قابض هوۓ وه کچھ اچھے کردار کے نهیں تھے۔ وهاں پر چرس و بھنگ پی جانے لگی تھی۔ تکیه بھی اچھی خاصی اوباشی کا اڈه بن گیا تھا۔ چنانچه قصبے کے لوگوں نے آپس میں مشوره کرکے اس تکیے کو ختم کرکے وهاں ایک اسکول قائم کردیا۔ تکیے کے بارے میں یه حال سن کرمصنف کے دل کو سخت رنج پهنچا۔ وه واپس اپنے هوٹل لوٹ آیا۔ تکیے کے ختم هوجانے کا اسکو بےحد رنج تھا۔ وهاں اسکا نال گڑا هوا تھا۔ اس نےسوچا که قصبے والوں کو جن حالات میں تکیه ختم کرنے پڑا ممکن هے که اپنے اس فیصلے میں وه حق بجانب هوں۔ مگر حقیقیت سے بھی انکار کرنا مشکل هے که وه تکیه غریب لوگوں کا غمگسار اور پورے قصبے کی تفریح گاه تھا۔ جس سے اب وه محروم کردیۓ گۓ تھے۔ اس نے سوچا که تکیے میں صبح الله الله کا ورد هوا کرتا تھا۔ قوالی کی محفلیں جما کرتی تھیں، پنجابی کے مشاعرے برپا هوا کرتے تھے، گوندنی کی شاخوں پر بیٹھے هوۓ تیتر سبحان تیری قدرت کهه کر چهکا کرتے تھے، کسی درخت کے نیچے کوئ ستار لے کر سیکھنے کی مشق کررها هوتا، تو کهیں لوگ بیٹھے چوپڑ کھیل رهے هوتے، کهیں کوئ هیر پڑھ رها هوتا، چھوٹے چھوٹے بچے گولیوں سے کھیل رهے هوتے۔

یه ۔ ۔ ۔ ۔ یه سب رونقیں اس تکیے کے دم سے آباد تھیں، اور سب سے بڑھ کر یه که اس تکیے کی جان اونچے اور لمبے قد والا نگینه سائیں جو اپنے گلے میں رنگ برنگے منکوں کی مالا ڈالے رکھتا، گرمی هو یا سردی، اس کے جسم پر ایک لباس هوتا کالے رنگ کا لباس، کبھی وه دیوانوں جیسی باتیں کرتا تو کبھی هوش مندوں کی سی۔ لیکن دونوں حالتوں میں وه چھوٹے بڑے کی خدمت کے لیے کمر بسته رهتا۔ مصنف هوٹل کے کمرے میں لیٹا اپنے ماضی کی گوندنی والے تکیے کی انهی خوش گوار یادوں میں گم تھا۔ شام هوچکی تھی۔ اسنے اپنے کمرے کی بتی بھی روشن نهیں کی تھی۔ کیونکه کمرے کی نیم تاریکی اس کو سکون بخش رهی تھی۔ گوندنی والا تکیه اپنی بھر پور گھما گھمیوں کے ساتھ اس کی نظروں میں پھر رها تھا۔

http://www.geocities.com/kurdupk/takya.htm

kashif farooq

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......