کیا امریکا حکومت سے مایوس ہو گیا ہے ‘‘ کالم ‘‘ زبیر احمد ظہیر

Submitted by imkanaat on Thu, 05/07/2009 - 16:40

کیا امریکا حکومت سے مایوس ہو گیا ہے ‘‘ کالم ‘‘ زبیر احمد ظہیر

کیا امریکا پی پی حکومت سے مایوس ہو چکا ہے ؟بظاہرتو ایسی کوئی بات نہیں اس وقت ملک کا منظر نامہ یہ ہے کہ سوات جیسے ایک چھوٹے سے ضلعے میں نظام عدل کا نفاذ کیا ہوا کہ ساری آفتیں ہم پر ٹوٹ پڑیں، پورا پاکستان خوف کے عالم میں مبتلاہو گیا ہے دارالحکومت اسلام تک میں طالبان کی آمد کے چرچے ہیں اور کراچی میں بھی طالبان کی آمد پر ہو ہامچی ہوئی ہے امریکااتنا مجبور ہو چکا ہے کہ اس نے براہ راست عوام سے طالبان کے خلاف مدد مانگ لی ہے طالبان کا دفاع کرنے والے اس افتاد سے تھک چکے ہیں ،میاں نواز شریف نے رخ پھیر لیا ہے اور یہاں تک کہ مولانا فضل الرحمان کی نظروں میں اسلام آباد اور طالبان کے درمیان صرف مارگلہ کی پہاڑیوں کا فاصلہ رہ گیا ہے ۔اے این پی جیسی کٹر سیکولر جماعت نے نفاذ شریعت محمد ی سے معاہدہ کیا اس کے دباؤ پر پی پی جیسی سیکولر ازم کی جانب جھکاؤ رکھنے والی حکومت نے یہ دباؤ جھیلا اور صدر نے نظام عدل ریگولیشن پر دستخط ثبت کر دیئے پھر جب مخالفت شروع ہوئی تو اے این پی سے پی پی تک سب کو امریکہ اوراس کے ہم خیال حلقوں کے طعنے کوسنے سننے کو مل رہے ہیں یہ ہمارے سیاسی منظر نامے کی ایک جھلک ہے جس میں حکومت ایک طرف ہے اور امریکا ایک طرف! ایک چھوٹے سے ضلعے میں کسی کوامن ہضم نہیں ہو رہا۔ امن کی بھاری قیمت پی پی اور اے این پی نے چکائی، ان کی ساکھ داؤ پر لگی یہ سب انہوں نے گوارا کر لیا ،پی پی اور اے این پی کا یہ فیصلہ ایسا ہے جس کی ستائش کی جانی چا ہیے مگر ستائش رہی ایک طرف ان کی سرزنش شروع ہوگئی ہے امن اتنا اہم معاملہ ہے کہ اس کی جو قیمت ہو اسے چکا کر حاصل کر لینا چاہئے یہی کچھ پی پی اور اے این پی نے کیا ۔سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ایک چھوٹے سے ضلعے میں نظام عدل سے کون ساطوفان اٹھ کھڑا ہواہے کہ ساری دنیا نے آسمان سر پر اٹھالیا ہے۔ اس معاملے کو سمجھنے کیلئے ہمیں بدلتے ہوئے نئے حالات اور سیاسی رجحانات کو سمجھنا ہوگا بات کوئی لمبی چوڑی نہیں اور فلسفہ کوئی افلاطون کا نہیں عام فہم سی بات ہے کہ پی پی کی حکومت ڈرون حملوںسے عوامی نقصان کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ان حملوں سے پی پی کی حکومت مشرف حکومت کا تسلسل دکھلائی دیتی ہے لہٰذا حکومت نے بتدریج اس معاملے پر احتجاج کرنا شروع کر دیا امریکا کو یہ احتجاج برالگا جب حکومت کی امریکانے ایک نہ مانی اور ٹال مٹول شروع کر دی تب پی پی کی حکومت نے سفارتی سطح پر احتجاج جاری رکھا امریکا سے جونمائندے آتے رہے حکومت کا کوئی نہ کوئی فرد دبے لفظوں میں امریکہ کو باور کرواتا رہا،آرمی چیف سے جس کی ملاقات ہوتی وہ بھی امریکاکوڈرون حملوں میں ہاتھ ہلکا رکھنے کا مشورہ دیتے رہے امریکا کو یہ بات ہضم نہ ہوئی چیف جسٹس کی بحالی سے امریکا کی رہی سہی امید بھی دم توڑ گئی امریکاکو ان سے خطرہ ہے کہ لاپتہ افرادکا معاملہ کسی نہ کسی وقت اٹھے گا ۔امریکا کو یہ تشویش بھی ہے کہ عراق جنگ ناکامی سے دوچار ہے اور دہشت گردی کی جنگ کا اگلا سارا دارومدار افغانستان پر ہے مگر افغانستان کی صورت حال بھی دن بدن بے قابو ہورہی ہے‘ لے دے کر امریکا کو اس جنگ کو جاری رکھنے کے لیے پاکستان کے کندھوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی حکومت مسلسل کوئی نہ کوئی معقول عذر لے آتی ہے حکومت نے اس وقت سب سے اہم مسئلہ جو امریکاکے سامنے اٹھا رکھا ہے وہ 35ارب ڈالر نقصان کا ہے یہ اتنی بڑی رقم ہے جسے امریکا نہ دے سکتاہے اورنہ اتحادیوں سے دلا سکتاہے اس مقصد کیلے امریکانے فرینڈ آف پاکستان کی تسلی دینے کی کوشش کی مگر وہ بھی اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مصداق اس سے زیادہ کرنے کی پوزیشن میں نہیںعالمی کساد بازاری کے اس دور میں فرینڈز نے جوکیا وہ غنیمت ہے مگر پاکستان کا یہ مطالبہ درست ہے کہ اسکا نقصان بڑھتاجارہاہے امریکا کے پاس اس وقت دہشت گردی کی طوطے والی رٹ کے سواء کچھ نہیں اس لیے امریکا نہ امداد دینے کی پوزیشن میں ہے اورنہ دہشت گردی کی جنگ سے فوری نکلنے کی پوزیشن میں ہے پاکستان کی حکومت نے جب اس کی یہ مسلسل ٹال مٹول والی پالیسی دیکھی تو اس نے قبائلی علاقوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا اور ڈرون حملوں پر احتجاج جاری رکھا مگر سوات کے معاملے کو کنٹرول کر لیا جس سے امریکا کو بلیک میل کرنے کا موقع ہاتھ سے جاتادکھائی دیا اب آپ اگر غور کریں تو سوات میں نظام عدل سے امریکا کو بظاہرکوئی خطرہ نہیں مگر امریکا کی چیخ و پکاراسکا شور وغوغااتنی تیزی اور قوت سے ہورہاہے کہ ایسالگ رہا ہے کہ سوات کانظام عدل نہ ہوا امریکا پر حملہ ہوگیاآپ غور کریں توآپ کو امریکا کے اس بیان میں کچھ نہ کچھ دکھلائی دے گاکہ امریکانے براہ راست عوام سے طالبان کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل کردی ہے حالانکہ امریکی فوج کے سربراہ کا یہ اعترافی بیان ریکارڈ پر موجودہے کہ پاکستانی عوام امریکا سے نفرت کرتے ہیں اس بیان میں انہوں نے سخت تعجب کا اظہار کیا تھا کہ پاکستانی عوام کی امریکاسے نفرت انہیں سمجھ نہیں آتی اب امریکانے اس ہی نفرت کرنے والی عوام سے طالبا ن کے خلاف مدد مانگ لی ہے امریکاکا طالبان کے خلاف مدد مانگنا اپنے اندر بہت سارے معانی سموئے ہوئے ہے یہ بیان بتلاتاہے کہ امریکا کی پی پی حکومت سے وابستہ امیدیں دم توڑ گئی ہیں یہ بیان جتلاتاہے کہ امریکا پاک فوج سے ناامید ہو چکاہے لے دے کر اب امریکاکے پاس جو کچھ بچتاہے وہ اپوزیشن اور سول سوسائٹی ہے یاوہ جماعتیں ہیں جن کے پاس عوامی حمایت ہے اس وقت امریکا کو عوامی حمایت کی ضرورت ہے یہ عوامی حمایت امریکاکو جن سے مل سکتی ہے انہیں امریکانے رام کر لیاہے عوامی حمایت کا 15 مارچ کو جو مظاہرہ ہوا اس میں نواز شریف کو سیاسی سپورٹ ملی عوامی حمایت اگر اس عوامی مظاہرے کا نام ہے تو یہ نواز شریف کے پاس ہے میاں نواز شریف کا یہ بیان کہ طالبان دیگر علاقوں میں آنے کے عزائم رکھتے ہیں اور ان کے بیانات میں تازہ اور اچانک آنے والی امریکی حمایت اس بات کی واضح چغلی کھارہی ہے کہ میاں نواز شریف وسط مدتی یا مڈٹرم الیکشن کوبھلانے کو تیار نہیںاورانہوں نے اس خواب کو حقیقت بنانے کا فیصلہ کر لیاہے اچانک طالبان کی سرگرمیاں اور تحریک نفاذ شریعت کی جانب سے جمہوری انتخابی نظام پر کلہاڑے کہیں نئے انتخابات کی ذہن سازی تو نہیں اگر یہ ساری کڑیاں جوڑی جائیں تو وہ منظر نظر آتاہے جب ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی کے فلور پر کہاتھا کہ مجھے سفید ہاتھی نے اقتدار سے بے دخل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اس کے بعد ایک مذہبی تحریک شروع ہوئی اور ذوالفقار علی بھٹو پھانسی چڑھا دیے گئے نظام عدل کی مخالفت اور حمایت پر ہمیں ایک اور مذہبی تحریک نظر آتی ہے پاکستان میں اقتدارکے انتقال کے راستے مذہبی ایشوزسے ہی شروع ہوتے ہیں کیا امریکاپی پی سے مایوس ہو چکا ہے اور اب جو کچھ ہوگا امریکا کی حمایت کیلئے ہوگا یہ سوال تاحال الجھا ہوا ہے۔
[email protected]

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......