کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا!!!

Submitted by Guest (not verified) on Tue, 07/29/2008 - 18:47

سامراجی قوتوں کے نام نہاد تجزیاتی و تحقیقاتی ادارے پاکستان ایسے ممالک کے وژن اور ڈائریکشن سے محروم لوگوں کے سطحی جذبات کا مزاق کس طرح اڑاتے ہیں، اس کی ایک تازہ ترین مثال امریکہ کی ری پبلیکن پارٹی کے تھنک ٹینک ’’انٹرنیشنل ری پبلکن انسٹیٹیوٹ‘‘ کا وہ ’’سروے‘‘ ہے جس میں ﴿غالباً﴾ بالائی پنجاب کے کسی ’’غیرت مند و محب وطن‘‘ شہر کے دوہزار ’’باشعور‘‘ افراد کی اصول پسند آرائ کی روشنی میں، معزول ججز کی بحالی اور صدر مشرف کے مواخذہ کے نام پر جاری سیاسی ڈرامہ کے کرداروں کو تھپکی دینے کے انداز میں نواز شریف، ڈاکٹر عبدالقدیر اور جسٹس افتخار کو علی الترتیب ’’پاکستان بھر‘‘ کی مقبول ترین اور بایں ہمہ جنرل پرویز مشرف ، پرویز الٰہی اور شجاعت حسین کو ناپسندیدہ ترین شخصیات قرار دیا گیا ہے۔
اس بحث کو حساب دانوں پر چھوڑتے ہوئے کہ آئی آر آئی نے پاکستان کی کم و بیش پندرہ قومی سطح کی شخصیات کو جس حساب سے ’’فی صد ووٹ‘‘ عطا کئے ہیں، ان کا مجموعہ ایک صد ﴿100﴾ کی بجائے ایک ہزار (1000) کے قریب جا پڑتا ہے، اب یہ بھی کوئی ریاضی دان یا ماہر تجزیہ نگار ہی بتا سکتا ہے کہ امریکہ کے اس اہم ترین ’’تحقیقاتی و تجزیاتی ادارے‘‘ نے کہیں دانستہ طور پر پاکستانیوں کی حساب فہمی کا ٹھٹھا تو نہیں اڑایا؟
پاکستانی میڈیا میں جہاں ایک طرف مذکورہ ’’سروے‘‘ کے حوالے سے ’’اصول پسند‘‘ سیاست دان، سائنس دان اور منصف کی علی الترتیب مقبولیت اور ان کے حریفوں کی عدم مقبولیت کی ’’واضح‘‘ وجوہات پر طویل و عریض مذاکرہ جات جاری ہیں، وہاں سب سے معنی خیز تبصرہ اس پر کیا ہے روزنامہ ’’جنگ‘‘ کے خبر نگار خصوصی ﴿23جولائی2008﴾ نے جس کے مطابق’’انٹرنیشنل ری پبلکن انسٹی ٹیوٹ نے وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمن کو صدر پرویز مشرف، احسن اقبال، مولانا فضل الرحمن، بیت اللہ محسود اور اسامہ بن لادن سمیت متعدد سیاسی و مذہبی رہنمائوں سے زیادہ مقبول قرار دیا ہے۔‘‘
درپیش سنگین معاشی بحران اور ملکی سا لمیت کو درپیش واضح خطرناک صورتِ حال پر سنجیدہ مباحث کی بجائے بار بار آزمائے سیاست دانوں کی ’’اصولی‘‘ قلابازیوں پر حاصل کردہ امپورٹڈ مقبولیت جیسی لا یعنی مذاکرہ بازی کے ذریعے پہلے سے فرسٹیٹڈ ’’قوم‘‘ کو مزید ہیجان و خلجان میں مبتلا کر دینے کی اس ’’قومی روش‘‘ کے باعث ہی غالباً بی بی سی نے حسبِ عادت اور ’’حسبِ ضرورت‘‘ ہمارا ایک بار پھر یہ کہہ کر مذاق اڑایا ہے کہ ’’پاکستان کی سمت گم ہوگئی، دشمن کون ہے کوئی نہیں جانتا ‘‘۔ ﴿دیکھئے روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘ مورخہ 14جولائی2008ئ﴾۔
کیا خوب کہا ہے بی بی سی نے پاکستان کی صورتِ حال پر اپنے اس تبصرے میں کہ ’’مشرقی پاکستان نہ سہی لیکن 1971ئ میں مغربی پاکستان کے تمام ادارے، وسائل اور آبادی کا ایک بڑا حصہ ملک کے ساتھ تھا یا اس کے کنٹرول میں تھا۔ قوم پر پوری طرح واضح تھا کہ دشمن کون ہے اور کتنا طاقتور ہے۔ مسئلہ اگر تھا تو صرف یہ کہ اس دشمن سے کیسے نمٹا جائے۔ لیکن ٹارگٹ واضح ہونے کے باوجود بد نیتی کے سبب ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ آج 2008ئ میں نمٹنے کی بات تو ایک طرف رہی، یہی طے نہیں ہو پا رہا کہ دشمن اصل میں ہے کون، وہ اندر ہے کہ باہر، کب وار کرے گا اور کیسے کرے گا۔ ملک کس راستے پر ہے اور راستہ کہاں جا رہا ہے؟‘‘
راستے کی بات چل نکلی ہے تو سنیے اہلِ نظر، مشرق کا وہ دانائے راز، وہ دیدہ ور جسے دنیا علامہ المشرقی (رح) کے نام سے جانتی ہے، کوئی نصف صدی سے اوپر ہوچلا، کہہ چکا کہ ò راہے کہ بہ منزل نہ رسانند کفر است
کفر توکہتے ہی راہ راست سے بھٹک جانے اور بے سمت ہوجانے کو ہیں۔ پھر بھی ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم ’’اسلامی نظریاتی ماڈل ریاست‘‘ کے ایمان پرور شہری ہیں۔
چیخ چیخ کر بتلاتا رہا، جتلاتا رہا اور سمجھاتا رہا مشرق کا یہ مصلح اعظم پہلے ہند اور پھر ﴿تقسیم ہندکے بعد﴾ پاکستانی ’’مسلمانوں‘‘ کو کہ وہ غلط راستے پر چل رہے ہیں۔ لیکن ’’قوم‘‘ نے سن کے نہ دیا۔
اور آج اندر، باہر، اپنے، غیر سب چلا رہے ہیں، تسلیم کر رہے ہیںکہ یہ ’’قوم‘‘ راہ گم کردہ ہے۔ اختلاف ہے تو صرف بھٹک جانے کے عین وقت کے تعین پر۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ’’ابتدائے آفرینش‘‘ سے تو کسی کی دانش فلسفہ بگھارتی ہے کہ اس کا آغاز فوجی آمروں کی سول معاملات میں مداخلت سے ہوا۔ کسی کے خیال میں بربادی و تباہی کا آغاز موجودہ ’’ڈکٹیٹر‘‘ کی طرف سے ’’منتخب حکومت‘‘ کا تختہ الٹنے سے ہوا اور کوئی دور کی کوڑی لاتا ہے کہ ہمارا پہلا وزیراعظم سوویت یونین کی دعوت ٹھکرا کر امریکہ یاترا کو نہ جاتا تو یہ برے دن دیکھنے نہ پڑتے۔ ایک اچھوتا خیال یہ بھی ہے کہ قدرت بانی ٔ پاکستان کو اتنی جلدی اٹھا نہ لیتی تو آج ہم ایک کامیاب و خود مختار ملک ہوتے۔ اور اس ندرت خیال کے توکیا کہنے کہ ہماری معاشی و اقتصادی غلامی کا آغاز امریکی گندم اور پھر امریکی قرضہ بطور ’’امداد‘‘ وصول کرنے سے ہوا۔
نہیں مانتا تو یہ تلخ حقیقت کوئی نہیں مانتا کہ ہم آزاد ہوئے ہی نہیں۔ ہوا صرف اتنا تھا کہ جنگِ عظیم دوم کے دوران ہمارے سابقہ حکمران ’’برطانیہ عظمیٰ‘‘ نے چودہ ملین پونڈ روزانہ کے حساب سے جو قرضہ اپنے اتحادی اور اسلحہ کے تاجر ’’امریکہ بہادر‘‘ سے حاصل کیا تھا، اسی کے عوض وہ جاتے جاتے اپنی اس سابقہ نو آبادی ﴿کالونی﴾ کو اس نئے ٹریڈ امپیریلسٹ کے حوالے کر گیا، کشمیر، دریائوں کے سر چشمے ﴿پانی﴾ اثاثہ جات اور انتقال آبادی ﴿و فسادات﴾ جیسے تنازعات کی بنیاد رکھ کرکہ ’’نو آزاد‘‘ ہر دو ممالک مسلسل ’’حالت جنگ‘‘ میں مبتلا رہیں اور اسلحہ کے تاجر کی مستقل منڈی بنے رہیں۔ اب ایسے میں کونسی ’’قومیت‘‘ ، کیسی معاشی خوشحالی، کہاں کی آزادی اور راست روی کا تعین کیونکر ؟؟ مگر مانے گا کون یہ کہ
ò بات تو سچ ہے پر بات ہے رسوائی کی

اس ’’تلخ سچ‘‘ سے نظریں چرائے رکھنے کا ہی نتیجہ ہے کہ رسوائی تو ہمارا مقدر ٹھہرا ہی، ’’دائمی غلامی‘‘ بھی اب ہمارے در پر دستک دے رہی کہ بی بی سی کے محولہ بالا تبصرہ کے مطابق ’’امریکہ وہ سود خور ہے جو قسط کے عوض اب گھر کی چار دیواری کی اینٹیں لے جانے کے لیے ٹریکٹر ٹرالی لے آیا ہے‘‘ اور یہ کہ ’’عرب سرمایہ کار گھر کے فرنیچر، برتن، برقی سامان اور پائپ کی بولی لگانے والوں میں شامل ہیں اور بھارت دو انگلیاں منہ میں ڈال کر سیٹی بجاتے ہوئے اس نوٹنکی سے لطف اندوز ہورہا ہے۔ ‘‘ òسنتا جا شرماتا جا
اور ہم ہیں کہ اس بات پر بغلیں بجا رہے ہیں کہ ناروے اور امریکہ میں بھی پٹرول کی قیمت روز بروز بڑھ رہی ہے۔ اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت انڈیا کی پارلیمنٹ بھی ہارس ٹریڈنگ سے آزاد نہیں۔ گویا کہ
ò ایک ہم ہی نہیں تنہا محفل میں تری رسوا
اس شہر میں ہم جیسے دیوا نے ہزاروں ہیں
چلئے! اب ہماری کل ملی دانش کے ایک دو اور نادر نمونے بھی ملاحظہ فرمائیے!
معروف صحافی، تجزیہ نگار اور مسلم لیگ ﴿ن﴾ کے دانشور ایم این اے ایاز امیر ﴿جنہوں نے خود اپنے الفاظ میں موجودہ انتخابی پراسیس اور سیاسی نظام پر ہزار تحفظات کے باوجود ’’احتجاجی‘‘ طور پر الیکشن 2008ئ میں حصہ لیا﴾ روزنامہ ’’جنگ‘‘ مورخہ 25جولائی 2008ئ میں ’’قوم‘‘ کو در پیش حالیہ سیاسی و معاشی بحران اور ملکی سلامتی کی دگرگوں صورتِ حال بارے حقائق سے آگاہ کرنے والوں کو ذہنی طور پر شکست خوردہ اور عقلی طور پر ’’بونے‘‘ قرار دے رہے ہیں، مثال پیش کر رہے ہیں، جنگِ عظیم اول ﴿1918ئ﴾ کے شکست خوردہ ترکی کی جو یونان کے ہاتھوں ذلت آمیز ہزیمت اٹھانے کے باوجود پھر سنبھل گیا، اتاترک مصطفی کمال پاشا کی مثالی قیادت و حکیمانہ سیادت کی بدولت۔ یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ پاکستان میں دور دور تک کوئی مصطفی کمال پاشا دکھائی نہیں دے رہا، دلاسے دے رہے ہیں آنجناب حالات سنبھل جانے کے، امیدیں دلا رہے ہیں انقلاب کی، یہ بتلائے بغیر کہ یہ سب کچھ کسی مصلح، کسی ریفارمر، کسی انقلابی رہنما کے بغیر کیونکر ہوگا اور کیسے؟؟
اسی طرح پیپلز پارٹی کے کے سابق دانشور رہنما اور آج کے صاحب اسلوب تجزیہ نگار شفقت محمود روزنامہ ’’جنگ‘‘ ہی میں ﴿26جولائی2008﴾ گورننس کے بحران کو ہمارا اصل مسئلہ قرار دے رہے ہیں، ترقی پسندی کے زعم میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں چلنے والی حالیہ ’’مارکسی اور اسلامی‘‘ تمام تر تحریکوں سے ایک سی امید باندھتے ہوئے کہ ’’مقصد ان سب تحریکوں کا ایک ہی ہے یعنی معاشرے کے نچلے اور پسے ہوئے طبقات کیلئے ایک بہتر زندگی کا خواب !!!‘‘ کیا دور کی کوڑی لائے ہیں موصوف، فرماتے ہیں ’’ابھی وقت ہے کہ حکومت ضروری اقدامات کرے بصورتِ دیگر انقلابی فوج ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ قبل اس کے کہ وہ ہم پر حملہ کرنے کی پوزیشن میں آجائے ہمیں تمام اصلاحی تدابیر اختیار کر لینی ہوںگی۔‘‘ کیا لا جواب انکشاف ہے ماشائ اللہ! کہ ہمارے حالات انقلاب کو دعوت دے رہے ہیں لیکن حکومت گڈگورننس کا بندوبست کرلے تو انقلاب کا ’’خطرہ‘‘ ٹل سکتا ہے!! گویا انقلاب نہ ہوا، دشمن ملک کی حملہ آور فوج ہوئی جو بہتر دفاع کے انتظامات کو دیکھتے ہوئے حملہ کئے بغیر پلٹ جائے گی، اسے کہتے ہیں
’’پاپوش میں لگائی کرن مہتاب کی‘‘
ایسے نابغہ روزگار دانشوروں کو کون یہ سمجھانے کی جرأت کر سکتا ہے کہ اتاترک کسی ’’قوم‘‘ میں پیدا ہوا کرتے ہیں اور گڈگورننس کی توقع بھی کسی ’’قوم‘‘ کی ’’منتخب حکومت‘‘ سے ہی کی جاسکتی ہے، بھیڑ بکریوں کے گلوں سے سنبھل جانے کی توقع اور چرواہوں سے معجزوں کی اُمید ہمیشہ خواب و خیال میں غلطاں رہنے والے ہی رکھا کرتے ہیں۔
اگر یہاں واقعی ’’قوم‘‘ بس رہی ہوتی تو بہت پہلے اپنا ’’اتاترک‘‘ بھی دریافت کرلیتی، اپنا راستہ بھی سیدھا کر چکی ہوتی اور خود اپنی قیادت کو گڈ گورننس کی راہ پر چلا لیتی۔ کسی بین الاقوامی نشریاتی بدمعاش کو جرأت نہ ہوتی کہ اسے راہِ راست پر چلنے کے نسخے بتلائے اور نہ کرزئی جیسے کسی بچہ سقہ میں ہمت کہ اسے دھمکیاں لگاتا پھرے۔
ہاں، اگر کوئی یہ جاننا چاہے کہ بھیڑ بکریوں کا یہ گلہ ایک ’’قوم‘‘ کے قالب میں کیسے ڈھل سکتا ہے؟ اندریں حالات درست ترین راہ عمل کیا ہے؟ اتاترک کہتے کسے ہیں اور اتا ترک نے ایک زخم خوردہ، شکستہ ’’قوم‘‘ کو سنبھالا کن خطوط پر چل کر دیا؟ انقلاب کسے کہتے ہیں اور گڈگورننس کس چڑیا کا نام ہے؟؟ تو یہ کالم نگار اسے دعوت دیتا ہے کہ مشرق کے دانائے راز، دنیا بھر میں اپنے وقت کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے انسان، قوانین فطرت کے شارح اعظم اور صحیفہ فطرت کے مفسر اعظم علامہ عنایت اللہ خان المشرقی کے حضور جواب کا خواستگار ہو، جن کا یہ برملا دعویٰ ہے کہ
ò مری حکمت رہے گی چل کے ہر گوشے میں دنیا کے
مگر رک رک کے سمجھے گا بشر آخر پناہ یہ ہے
دماغوں میں یہ روشن کردیا ہے میری حکمت نے
کہ دنیا اب نہیں ہے چیستاں منزل کی راہ یہ ہے!!

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......