کاشف فاروق کی جانب سے پطرس بخاری کامضمون لاھور کا جغرافیه مکمل

Submitted by Guest (not verified) on Sun, 10/21/2007 - 09:52

لاهور کا جغرافیه

تمهید
تمهید کے طور پر صرف اتنا عرض کرنا چاهتا ھوں که لاهور کو دریافت ھوۓ اب بهت عرصه گزر چکا ھے۔ اس لیے دلائل و براهین سے اس کے وجود کو ثابت کرنے کی ضرورت نهیں۔ یه کهنے کی اب ضرورت نهیں که کرے کو دائیں سے گھمایۓ حتی که هندوستان کا ملک آپ کے سامنے آکر ٹههر جاۓ۔ پھرفلاں طول البلد، عرض البلد کے مقام القطاع پر لاهور کا نام تلاش کیجیۓ۔ جهاں یه نام کره پر موقف ھو، وهی لاهور کا محل وقوع ھے۔ اس تحقیقات کو مختصر مگر جامع الفاظ میں بزرگ یوں بیان کرتے هیں که لاهور، لاهور ھے۔ اگر اس پتے سے آپ کو لاهور نهیں مل سکتا تو آپ کی تعلیم ناقص اور آپ کی ذهانت فاتر ھے۔

محل وقوع
ایک دو غلطیاں البته ضرور رفع کرنا چاهتا ھوں که لاهور پنجاب میں واقع ھے، لیکن پنجاب اب پنج آپ نهیں رها، اس پانچ دریاؤں کی زمین میں اب صرف ساڑھے چار دریا پهتے هیں اور جو نصف دریا هے وه تو اب بهنے کے قابل نهیں رھا۔ اسی کو اصطلاع میں راوی ضعیف کهتے هیں۔ ملنے کا پته یه هے که شهر کے قریب دو پل بنے ھوۓ هیں، ان کے نیچے ریت میں یه دریا لٹا رهتا ھے، بهنے کا شغل عرصے سے بنا ھے یه بتانا مشکل ھے اس لیے شهر دریا کے کنارے پر واقع ھے یا بائیں کنارے پر، لاهور تک پهنچنے کے لیے کئ راستے هیں، لیکن دو ان میں سے بهت مشهور هیں ایک پشاور سے آّتا ھے دوسرا دهلی سے، وسطی ایشیا کے حمله آور پشاور کے راستے، اور یوپی کے حمله آور دھلی کے راستے وارد ھوتے هیں۔ اول الذکر اهل سیف کهلاتے هین اور غزنوی یا غوری تخلص کرتے هیں اور اس میں ید طولٰی رکھتے هیں۔

حدود و اربع
کها جاتا هے که کسی زمانے میں لاهور کا جغرافیه حدود و اربع بھی ھوا کرتا تھا، لیکن طلباء کے سهولت کے لیے میونسپلٹی نے اسے منسوخ کردیا ھے اب لاهور کے چاروں طرف لاهور هی لاهور واقع هے۔ اور روز بروز واقع تر ھورھا هے۔۔۔۔۔۔۔ ماهرین کا اندازه ھے که دس بیس سال کے اندر اندر لاهور ایک صوبے کا نام ھوگا۔ جس کا دارالخلافه پنجاب ھوگا۔ یوں سمجھیۓ که لاهور ایک جسم هے جس کے هر حصے پر ورم نمودار ھورھا ھے لیکن هر ورم مواد فاسد سے بھرا ھے، گویا یه وسیع عارضه ھے جو اس جسم کا لاحق ھے۔

آب و هوا
لاهور کی آّب و ھوا کے متعلق طرح طرح کی روایات مشهور هیں، جو تقریباً سب غلط ھیں، حقیقت یه هے که لاهور کے باشندوں نے حال هی میں یه خواهش ظاهر کی تھی که اور شهروں کی طرح همیں بھی آب و ھوا دی جاۓ، میونسپلٹی بڑی بحث و تمحیص کے بعد اس نتیجے پر پهنچی که اس ترقی کے دور میں جبکه دنیا میں کئ ممالک کو هوم رول مل رھا ھے اور لوگوں میں بیداری کے آّثار پیدا ھوارهے هیں، لاهور کی یه خواهش ناجائز نهیں بلکه همدردانه غور و حوض کی مستحق هے۔ لیکن بدقسمتی سے کمیٹی کے پاس ھوا کی قلت تھی، اس لیے لوگوں کو هدایت کی گئ که مفاد عامه کے پیش نظر اهل شهر پر ھوا کا بے جا استعمال نه کریں بلکه جهاں تک ھوسکے، کفایت شعاری سے کام لیں۔ چنانچه لاهور میں عام ضروریات کے لیےھوا کی بجاۓ گرد اور خاص خاص حالات میں دھواں استعمال کیا جاتا ھے۔ کمیٹی نے جابجا دھواں اور گرد کے مهیا کرنے کے لیے لاکھوں مرکز کھول دیۓ هیں، جهاں یه مرکبات مفت تقسیم کیۓ جاتے هیں، امید کی جاتی هے که اس سے نهایت تسلی بخش نتائج برآمد ھوں گے۔

بھم رسانی آب و ھوا کے لیے ایک اسکیم عرصے سے کمیٹی کے زیر غور ھے، یه اسکیم نظام سقے کے وقت چلی آتی ھے، لیکن مصیبت یه هے که نظام سقے کے اپنے ھاتھ کے لکھے ھوۓ مسودات بعض تو تلف ھوچکے هیں، اور جو باقی هیں ان کے پڑھنے میں بهت دقت پیش آّرهی ھے، اس لیے ممکن ھے که تحقیق و تدقیق میں بھی چند سال اور لگ جائیں، عارضی طور پر پانی کا یه انتظام کیا گیا هے که فی الحال بارش کے پانی کو حتی الوسع شهر سے باهر نکلنے نهیں دیتے، اس میں کمیٹی کو بهت کامیابی ھوئ ھے۔ امید کی جاتی هے که تھوڑے هی عرصے میں هر محلے کا اپنا ایک دریا ھوگا جس میں رفته رفته مچھلیاں پیدا ھوں گی۔ اور هر مچھلی کے پیٹ میں ایک انگوٹھی ھوگی جو راۓ دهندگی کے موقع پر هر راۓ دهنده پهن کر آۓ گا۔

نظام سقے کے مسودات سے اس قدر ضرو ثابت ھوا ھے که پانی پهنچانے کےلیے ایک نه ایک دن یه گیسیں ضرور مل کرپانی بن جائیں گی۔ چنانچه بعض تلوں میں اب بھی چند قطرے روزانه ٹپکتے هیں، اهل شهر کو هدایت کی گئ ھے که اپنے اپنے گھڑے تلوں کے نیچے رکھ دیں تاکه عین وقت پر تاخیر کی وجه سے کسی کی دل شکنی نه ھو، شهر کے لوگ اس پر بهت خوشیاں منارهے هیں۔

ذرائع آمدورفت
جو سیاح لاهور تشریف لانے کا اراده رکھتے هیں ان کو یهاں کے آمد و رفت کے ذرائع کے متعلق چند ضروری باتیں ذهن نشین کرلینی چاهیں، تاکه وه یهاں کی سیاحت سے کماحقه اثر پزیر ھوسکیں، جو سڑک بل کھاتی ھوئ لاهور کے بازاروں میں سے گزرتی ھے، تاریخی اعتبار سے بهت اهم ھے، یه وهی سڑک ھے جو شیر شاه سوری نے بنوائ تھی۔ یه آثار قدیمه میں شمار ھوتی ھے اور بے حد احترام کی نظروں سے دیکھی جاتی هے۔ چنانچه اس میں کسی قسم کا ردودبل گواره نهیں کیا جاتا۔ وه قدیم تاریخی گڑھے اور خندقیں جوں کی توں موجود هیں جنهوں نے کئ سلطنوں کے تختے الٹ دۓ تھے۔ آج کل بھی کئ لوگوں کے تختے یهاں الٹتے هیں۔ اور عظمت رفته کی یاد دلا کر انسان کو عبرت سکھاتے هیں۔ بعض لوگ زیاده عبرت پکڑنے کے لیے ان تختوں کے نیچے کهیں کهین دو ایک پیسے لگا لیتے هیں اور سامنے دو هل لگا کر ایک گھوڑا ٹانگ دیتے هیں۔ اصطلاح میں اس کو تانگه کهتے هیں، شوقین لوگ اس پر موم جامه منڈھ لیتے هیں تاکه پھسلنے میں سهولت هو اور بهت زیاده عبرت پکڑی جاسکے۔ اصل اور خالص گھوڑے لاهور میں خوراک کے نام آتے هیں، قصابوں کی دونوں پر انهیں کا گوشت بکتا ھے اور زین کس کر کھایا جاتا ھے۔ تانگوں میں ان کے بجاۓ بناسپتی گھوڑے استعمال کۓ جاتے هیں بناسپتی گھوڑے شکل و صورت میں دم دار ستارے سے ملتے جلتے هیں۔ کیونکه ان گھوڑوں کی ساخت میں دم زیاده اور گھوڑا کم پایا جاتا ھے حرکت کے وقت اپنی دم کو دبا لیتا ھے، اور ضبط نفس سے اپنی رفتار میں ایک سنجیده اعتدال پیدا کرتا ھے تاکه سڑک کا هر تاریخی گڈھا اور تانگے کا هر هچکوله اپنے نقش پر ثبت کرتا جاۓ، اور آپ کا هر ایک قدم لطف اندوز ھوسکے۔

قابل دید مقامات
لاهور میں قابل دید مقامات مشکل سے ملتے هیں، اسکی وجه یه هے که لاهور کی هر عمارت کی بیرونی دیواریں دوهری بنائ جاتی هیں۔ پهلے اینٹوں اور چونے سے دیواریں کھڑی کردی جاتی هیں پھر اس پر اشتهار کا پلستر کردیا جاتا ھے۔ جو دبازت میں رفته رفته بڑھ جاتا ھے۔ شروع شروع میں چھوٹے سائز کے مبهم اور غیر معروف اشتهارات چپکا دیے جاتے هیں، مثلاً اهل لاهور کو مژده یا اچھا سستا مال، اس کے بعد اشتهاروں کی باری آتی هے، جن کے مخاطب اهل علم و سخن فهم لوگ هوتے هیں مثلاً گریٹ درزی هاؤس یا سٹوڈنٹس کے لیے نادر موقع، یا کهتی هے هم کو خلق خدا غائبانه کیا۔ رفته رفته گھر کی چار دیواری مکمل ڈائرکٹری کی صورت اختیار کرلیتی ھے، دروازے کے اوپر بوٹ پالش کا اشتهار دائیں طرف تازه مکھن ملنے کا پته درج ھے، بائیں طرف حافظ کی گولیوں کا بیان ھے، اس کھڑکی کے اوپر انجمن خدام ملت کے جلسے کا پروگرام ھے، اس کھڑکی پر مشهور لیڈر کے خانگی حالات باوضاحت بیان کردۓ گۓ هیں۔ عقبی دیوار پر سرکس کے تمام جانوروں کی فهرست هے اور اصطبل کے دروازے پر مس نغمه جان کی تصویر اور ان کے حالات گنوا رکھے هیں۔ یه اشتهارات بڑی سرعت سے بدلتے رهتے هیں اور هر نیا مژده اور نهر نئ دریافت یا ایجاد یا انقلاب نسیم کی ابتلا چشم زدن میں هر ساکن چیز پر لیپ کردی جاتی هے، اسی لیے عمارتوں کی ظاهری صورت هر لمحه بدلتی رهتی ھے، اور انکو پهچاننے میں خود شهر کے لوگوں کو بڑی دقت پیش آتی هے۔

لیکن جب سے لاهور میں دستور رائج ھوا ھے که بعض اشتهاری کلمات پخته سیاهی سے خود دیوار پر نقش کردیۓ جاتے هیں یه دقت بهت حد تک رفع ھوگئ ھے، ان دائمی اشتهاروں کی بدولت اب یه خدشه باقی نهین رھا که کوئ شخص اپنایا اپنے کسی دوست کا مکان صرف اس لیے بھول جاۓ که پچھلی مرتبه چارپائیوں کا اشتهار لگا تھا اور لوٹتے وقت تک وهاں اهالیان لاهور کو تازه اور سستے جوتوں کو مژده سنایا جارھا ھے چنانچه اب وثوق سے کها جاسکتا ھے که جهان بحرف جلی محمد علی دندان ساز لکھا ھے وهاں ڈاکٹر اقبال رهتے هیں، خالص گھی کی مٹھائ امتیاز علی تاج کا مکان ھے، کرشنا بیوٹی کریم شالامار باغ کو اور کھانسی کا مجرب نسخه جهانگیر کے مقبرے کو جاتا ھے۔

صنعت و حرفت
اشتهاروں کے علاوه لاهور کی سب سے بڑی صنعت رساله سازی ھے اور سب سے بڑی انجمن سازی ھے، هر رسالے کا نمبر خاص نمبر هوتا ھے، اور عام نمبر صرف خاص خاص موقعوں پر شائع کیۓ جاتے هیں۔ عام نمبر میں مس سلوچنا اور مس کجن کی تصاویر بھی دی جاتی هیں۔ اس سے ادب کو بهت فروغ ملتا ھے اور فن تنقید ترقی کرتا ھے۔ لاهور کے هر مربع انچ میں ایک انجمن موجود ھے، پریزیڈنٹ البته چوڑے هیں۔ اس لیے فی الحال صرف دو تین اصحاب هیں، چھ اهم فرض ادا کررهے هیں چونکه ان انجمنوں کے اغراض و مقاصد مختلف ھیں، اس لیے بسا اوقات ایک هی صدر صبح کسی مذهبی کانفرنس کا افتتاح کرتا ھے سه پهر کو کسی سینما کی انجمن میں مس نغمه جان کا تعارف کراتا ھے اور شام کو کسی کرکٹ ٹیم کے ڈنر میں شامل ھوتا ھے۔ اس سے ان کا مطمع نظر وسیع رهتا ھے۔ تقریر عام طور پر ایسی هوتی ھے جو تینوں موقع پر کام آسکتی هے، چنانچه سامعین کو بهت سهولت رهتی هے۔

پیداوار
لاهور کی سب سے مشهور پیداوار یهاں کے طلباء هیں جو بهت کثرت سے پاۓ جاتے هیں، اور هزارون کی تعداد میں وساور کو بھیجے جاتے هیں فصل شروع سرما میں بوئ جاتی هے، اور عموماً اواخر بهار میں پک کر تیار ھوتی هے، طلباء کی کئ قسمیں هیں، جن میں چند مشهور هیں۔ قسم اول جمالی کهلاتی هے، یه عام طور پر درزیوں کے یهاں تیار ھوتے هیں، بعد ازاں دھوبی اور پھر نائ کے پاس بھیجے جاتے هیں۔ اور اس عمل کے بعد کسی ریستوران میں ان کی نمائش کی جاتی هے۔ غروب آفتاب کے بعد هی سینما یا سینما کے گرد و نواح میں۔

رخ روشن کے آگے شمع رکھ کر وه یه کهتے هیں
ادھر جاتا ھے دیکھیں یا ادھر آتا ھے پروانه

شمعیں کئ ھوتی هیں، لیکن سب کی تصویر ایک البم میں جمع کرکے اپنے پاس رکھ چھوڑتے هیں اور تعطیلات میں ایک ایک کو خط لکھتے هیں۔

دوسری قسم جلالی طلباء کی ھے، ان کا شجره جلال الدین اکبر سے ملتا ھے۔ اسلیے هندوستان کا تخت و تاج ان کی ملکیت سمجھا جاتا ھے۔ شام کے وقت چند مصاحبوں کا ساتھ لیۓ نکلتے هیں اور جو دو سخا کا خم لنڈھاتے پھرتے هیں، کالج کی خوراک انهیں راس نهیں آئ، اس لیے هوسٹل میں فردکش نهیں ھوتے۔

تیسری قسم خیالی طلباء کی هے یه اکثر روپ، اخلاق، اور آواگون، اور جمهوریت پر باواز بلند تبادله خیالات کرتے پاۓ جاتے هیں، اور آفرینش اور نفسیاتی غیبی کے متعلق نۓ نۓ نظریۓ پیش کرتے رهتے هیں۔ صحت جسمانی کی ارتقاء انسانی کے لیے ضروری سمجھتے هیں۔ اس لیے علی الصباح پانچ چھ ڈنیٹر پیلتے هیں، اور شام کو هوسٹل کی چھت پر گھرے سانس لیتے هیں۔ گاتے هین لیکن بے سرے هوتے هیں۔

چوتھی قسم خالی طلباء کی هے، یه طلباء کی خالص ترین قسم ھے، ان کا دامن کسی قسم کی آلائش سے تر ھونے نهیں پایا۔ کتابیں، امتحانات، مطالعه اور اسی قسم کے خدشات کبھی ان کی زندگی میں داخل نهیں ھوتے جس معصومیت کو لے کر وه کالج پهنچتے هیں، اس آخر تک ملوث نهیں ھونے دیتے اور تعلیم اور نصاب اور درس کے هنگاموں میں اسی طرح زندگی بسر کرتے هیں، جس طرح بتیس دانتوں میں زبان رهتی هے۔

پچهلے چند سالوں سے طلباء کی ایک اور قسم بھی دکھائ دینے لگی هے، لیکن ان کو اچھی طرح دیکھنے کے لیے محدب شیشے کا استعمال ضروری ھے۔ یه وه لوگ هیں جنهیں ریل کا ٹکٹ نصف قیمت پر ملتا ھے، اور اگر چاهیں تو اپنی انا کے ساتھ زنانے ڈبے میں سفر بھی کرسکتے هیں۔، اور انکی وجه سے اب یونیورسٹی نے کالجوں پر شرط عائد کردی ھے که آئنده صرف وهی لوگ پروفیسر مقرر کیۓ جائیں۔ جو دودھ پلانے والے جانوروں میں سے ھوں۔

طبعی حالات

لاهور کے لوگ بهت خوش طبع هیں۔

سوالات کے جوابات دیں
لاهور تمهیں کیوں پسند ھے؟ مفصل لکھو۔

لاهور کس نے دریافت کیا اور کیوں؟ اس کے لیے سزا بھی تجویز کرو؟

میونسپلٹی کی شان میں ایک قصیده مدحیه لکھو۔

www . geocities . com / kurdupk / geolahore . htm

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......