چند تصویر بتاں ۔۔۔۔

Submitted by Guest (not verified) on Tue, 07/29/2008 - 18:44

کیا ملک ہے اور کیسے کیسے لوگ پائے جاتے ہیں یہاں!! محسن پاکستان ڈاکٹر قدیر خان آف اے کیو کے لیباریٹریز اور محافظ پاکستان جنرل ﴿ر﴾ پرویز مشرف آف صدارتی کیمپ آفس کے درمیان تازہ ترین الزام تراشی بسلسلہ تجارت ایٹمی اسلحہ پر تبصرہ کرتے ہوئے، سنئے اور دیر تلک سر دھنئے کہ کس طرح ننگا کیا ہے پوری ’’قوم‘‘ کو بی بی سی نے کہ ’’معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور صدر پرویز مشرف کے درمیان جو شخصیات کی جنگ جاری ہے، وہی صورت ا ب ڈاکٹر قدیر اور صدر کے درمیان بیانات کی جنگ نے بھی اختیار کر لی ہے۔ شک تو پہلے سے تھا لیکن اب ڈاکٹر قدیر کے تازہ بیان سے کم از کم یہ واضح ہو گیا ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ جتنے زیادہ کپڑے عوامی مقامات میں دھلیں گے، اس کا نقصان فریقین کو کم اور پاکستان کو زیادہ ہونے کا احتمال ہے‘‘۔ اپنے تبصرے کا آغاز ان الفاظ سے کرتے ہوئے کہ ’’اپنی پوزیشن واضح کرنے کیلئے ڈاکٹر قدیر کافی بے چین دکھائی دیتے ہیں، جو ایک کمیشن کے ذریعے عوام کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ریاستی راز انہوں نے نہیں، صدر پرویز مشرف نے اپنی کتاب ’’آن دی لائن آف فائر‘‘ میں افشاں کئے ہیں،‘‘ تبصرہ نگار جب آگے چل کر کہتا ہے کہ ’’اس قسم کے بیانات نہ پہلے ہیں اور نہ آخری ہوں گے۔ اس مسئلے کا حل شاید غیر جانبدار کمیشن ہے لیکن کیا یہ ملک اور اس کے ادارے اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے سچ کو برداشت کرنے کے متحمل ہو سکتے ہیں؟‘‘ تو ارادی یا غیر ارادی طور پر وہ اس راز سے پردہ اٹھا رہا ہے کہ پاکستانی سٹیج پر گزشتہ سال سوا سال سے جو قسط وار ڈرامہ پلے کیا جا رہا ہے، اس کا مقصد سوائے اس ملک کے مختلف طبقوں اور سرکاری، نیم سرکاری اداروں کو آپس میں لڑا کر یہاں مسلسل انتشار، مستقل خلفشار، بے چینی، بد امنی اور عوام استحکام پیدا کر کے اس ملک کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے ، کچھ بھی نہیں۔
یہاں سوال یقینا پیدا ہوگا کہ کون ہے جو یہ سب کر رہا ہے اور کن مقاصد کے حصول کیلئے؟ اور یہ کہ ہم اتنی آسانی سے کیسے ان مذموم مقاصد کیلئے استعمال ہوتے چلے جارہے ہیں، اپنی سلامتی کی پرواہ اور خود مختاری کی حیا کا لحاظ رکھے بغیر؟؟؟
اہلِ نظر کیلئے ان تمام سوالات کے جواب پاکستان کی حالیہ اندرونی صورتِ حال پر معروف امریکی اخبارات کے ان تبصروں میں تلاش کرنا کوئی معمہ نہیں۔
سب سے بڑے امریکی اخبار ’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے کہا ہے کہ ’’پاکستان قیادت کے بغیر نیچے ڈھلان کی جانب جا رہا ہے۔‘‘ امریکہ کا دوسرا اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ اپنے ادارتی مضمون میں لکھتا ہے کہ ’’جنرل مشرف امریکیوں سے کہہ رہے ہیں کہ ’’دیکھو یہ وہ جمہوریت ہے جس کی امریکہ کو خواہش تھی۔‘‘ مزید برآں یہ کہ ’’اس صورتِ حال نے امریکہ کیلئے نائن الیون جیسا ایک اور رسک پیدا کر دیا ہے۔ پاکستان میں اسلامی انقلاب آسکتا ہے یا یہ ناکام ریاست کے انجام سے دوچار ہوسکتا ہے۔‘‘ اسی طرح اسی نیو یارک پوسٹ کے مطابق ’’پاکستان کی موجودہ سیاسی قیادت انتہائی کرپٹ ہے۔‘‘ اس اخبار کے خیال میں ’’صدر مشرف واحد شخص ہیں جن کو حکومت کی فکر ہے اور صرف فوج ہی ملک کو کسی بڑے بحران سے بچا سکتی ہے‘‘۔
امریکہ بہادر کی بطور واحد ورلڈ سپر پاور، عالمی تسلط کی سامراجی جبلت کی تسکین کی خاطر اختیار کی جانے والی ’’بین الاقومی پالیسی‘‘ پر براہِ راست اثر انداز ہونے والے امریکی اخبارات کے مذکورہ بالاتبصروں کو اگر پاکستان کی ساٹھ سالہ تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے غیر جانبدار تجزیہ نگاروں کے ان خیالات کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو تصویر قدرے واضح ہوتی چلی جاتی ہے کہ ’’پاکستان میں معاملات نظم و نسق اور حکومت سازی پر فیصلہ کن اتھارٹی رکھنے والی اسٹیبلشمنٹ نے اس بار ماضی کے مقابلے میں کچھ جلدبازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ نئی جمہوری حکومت کو ہنی مون پیریڈ کی رعایت دیے بغیر جبر و کراہ کے ایسے مربوط و مضبوط الجھائو میں جکڑ کر اور پے درپے غلطیاں کروا کر ایسی فضا پیدا کر دی جائے کہ اس بار لوگ جلد از جلد اور حتمی طور پر اس نتیجہ پر پہنچ جائیں کہ ہم ایسے ملک کا نظامِ حکومت چلانا
کم ازکم سیاست دانوں کے بس سے باہر ہے ۔‘‘
عقل مند را اشارہ کافی است کے مصداق قارئین کیلئے صدر بش کا حالیہ بیان بھی خاصا معنی خیز ہے کہ ’’نئے امریکی صدر کیلئے عراق یا افغانستان نہیں بلکہ پاکستان سب سے بڑا چیلنج ہوگا‘‘

قارئینِ کرام، اگر یہاں میں یہ کہوں کہ باہم دست و گریباں نہ سہی سیاسی بیان بازی کے ذریعے ہی اپنے حریف ﴿کہنے کو حلیف یا اتحادیوں﴾ پر سبقت لینے کی دیرینہ علّت میں مبتلا سیاست دانوں کو بھی یہ صورتِ حال اب کچھ کچھ سمجھ آنے لگ گئی ہے، تو ثبوت میں مجھے مختلف ایشوز پر بلکہ بہانے بہانے سے پی پی پی کی مرکزی حکومت اور آصف علی زرداری پر گرجتے برستے بلکہ پلٹتے جھپٹتے بالخصوص ن لیگ کے (Hawks) عقابوں اور ان کے پر جوش حامی﴿یہاں تنخواہ دار لکھتے ہوئے قلم کپکپا اٹھتا ہے﴾ قلم کاروں، تبصرہ نگاروں اور ٹی وی چینلز کے اینکر پرسنز کے لب و لہجہ میں یکا یک نرمی اور نو زائیدہ جمہوریت اور اپنی اتحادی جماعت بارے فکر مندی ﴿جو در اصل ان کی اپنی بقا کی فکر مندی ہے﴾ کو ضرور پیش کرنے دیجئے کہ چلئے دیر آید درست آید کے مصداق امریکی و یورپی جائزہ جاتی اداروں کے طرف سے عطا کردہ 86فیصد مقبولیت اور اس کی روشنی میں اپنی ﴿پسندیدہ﴾ پارٹی اور قائد کیلئے، وسط مدتی انتخابات کے نتیجہ میں دو تہائی بلکہ تین چوتھائی اکثریت کے حامل اختیار کل کے ساتھ اقتدار مطلق کے خواب سے تو یہ بیدار ہوئے اور اغلباً زرداری کی تنبیہہ پر یہ راز پا گئے کہ اب کے نوے کی دہائی والا میوزیکل چیئر نہیں بلکہ ایک خوف ناک اور عبرت ناک کھیل کھیلا جائے گا۔
ò ہم تم ہوں گے بادل ہوگا رقص میں سارا جنگل ہو گا
اسی بنائ پر آجکل یہ ’’بنگلہ دیشی بندوبست‘‘ کا بار بار حوالہ دے کر نئی قسم کی دانشوری جھاڑ رہے ہیں کہ آج کا کہا سندر ہے اور کل بوقت ضرورت کام آوے کہ ’’جی ہم تو پہلے ہی خبردار کر رہے تھے !‘‘ صورتِ حال کو دوستو، وسیع تر تناظر میں جانچنا اور پرکھنا چاہیں تو گزشتہ برس (2007) کی 9 مارچ کو ریاست کے دو اہم ستون یعنی فوج اور عدلیہ ﴿بذریعہ جنرل مشرف اور چیف جسٹس افتخار چوہدری﴾ کے درمیان شروع ہونے والے تنازعہ کے اثرات کا جائزہ لیں کہ نادیدہ اور پر اسرار قوتوں نے طرفین کو دو طرفہ ہلا شیری دے کہ معاملات کو اس قدر پیچیدہ کر دیا کہ ڈور سلجھائے نہیں دے رہی۔ آج ایک طرف تو یہ الزام دیا جاتا ہے کہ امریکہ معزول ججز کی بحالی کی راہ میں اصل رکاوٹ ہے، دوسرے طرف عدلیہ بحالی کی جنگ کا تھکا ہارا کمانڈر اعتزاز احسن اپنے تازہ ترین دورئہ امریکہ سے نئی کمک اور تونائی حاصل کرکے 19جولائی کو ایک نئے اور فیصلہ کن ’’لانگ مارچ‘‘ کی نوید سُنا رہا ہے۔
امریکہ کے تھنک ٹینکس، مطالعاتی و تحقیقی اداروں، سروے ایجنسیز، وہاں کی حکومت اور سیاست کے ارباب بست و کشاد اور آئے روز پاکستان کے ناگہانی دوروں پر آئے سرکاری اہلکاروں بشمول صدر امریکہ اور ان کی ٹیم کے ارکان، ان سب کے بیانات، تحقیقات، سرویز اور پالیسی سٹیٹ منٹس، سب کاباریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو حیران کن نتیجہ سامنے آئے گا کہ امریکہ یہاں باہم متحارب تمام عوامل یعنی جنرل پرویز مشرف اور ان کے دیرینہ مخالفین، فوج اور ’’سول سوسائٹی‘‘، حکومت اور حزب اختلاف، سب کا بیک وقت حامی بھی ہے اور مخالف بھی، گویا جناب شیخ کی ادایوں بھی ہے اور ووں بھی!۔
’’سول سوسائٹی‘‘ ، زباں پر بار خدایا یہ کس کا نام آیا۔
جاننا چاہتے ہو ساتھیو، سیاست پاکستان میں نوارد اس اصطلاح کا اطلاق کس طبقے پر ہوتا ہے تو یاد کیجئے 9ِ اپریل 2008ئ کو لاہور میں وقوع پذیر سانحہ جب سابقہ حکومت کے وزیر پارلیمانی امور اور جنرل پرویز مشرف کے پر جوش قانونی سپورٹر ڈاکٹر شیر افگن کو چند وکلائ نے پکڑ کر اپنے ایک ساتھی کے چیمبر میں قید کر ڈالا اور اپنے عقربی ساتھیوں کے چنگل سے انہیں چھڑانے میدان میں آئے وکلائ کے ’’غیر متنازعہ قائد‘‘ جناب اعتزاز احسن ایک ہیرو کے روپ میں۔ خود ان کے اپنے الفاظ میںجب انہوں نے آئی جی پنجاب پولیس سے کمک مانگی، محبوس ڈاکٹر شیر افگن کی باحفاظت رہائی کیلئے تو جواب ملا کہ ’’آپ کے اردگرد تو پہلے سے ہی ہمارے بہت سے جوان سول ڈریس میں موجود ہیں۔‘‘ معلوم نہیں ہیرو بننے اور لیڈری چمکانے کے ایک سنہرے موقع کی ترنگ میں جناب اعتزاز نے اپنے اردگرد نظر دوڑائی یا نہیں، البتہ ہمارے ایک دوست کے خیال میں اعتزاز احسن نے ایک نظر بھی اپنے گرد و پیش پر ڈالی ہوتی تو یہ دیکھ کر یقینا ان کے پیروں تلے زمین نکل جاتی کہ وہ چہرے جو گزشتہ تیرہ ماہ سے ان کی ’’عدلیہ بحالی‘‘ تحریک کے کرتا دھرتا تھے اور جنہیں وہ ’’سول سوسائٹی‘‘ کے نمائندے سمجھے بیٹھے تھے، آئی جی پنجاب انہیں اپنے بندے ﴿یعنی خفیہ والے﴾ قرار دے رہے تھے۔ اسے اعتزاز احسن کی سادگی سمجھئے یا روایتی بھولپن سے تعبیر کیجئے جوہر ’’دانشور‘‘ کا خاصہ رہا ہے کہ، پھر چوہدری صاحب انہیں ’’سول سوسائٹی‘‘ نمائندوں کے بھروسے پر ڈاکٹر شیر افگن کو ’’قید خانے‘‘ سے نکال باہر لائے، خود بھی خوار ہوئے اور بیچارے عمر رسیدہ ڈاکٹر کو جوتیاں بھی پڑوائیں۔
ہم دم دیرینہ کا یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ اول تو ’’سول سوسائٹی‘‘ کا راز طشت از بام ہونے پر یا پھر کم از کم ڈاکٹر شیر افگن کی درگت کی صورت میں ’’سول سوسائٹی‘‘ کی دریدہ دھن کار گزاری اور اپنے سپاہیوں کی اعلانیہ نا فرمانی پر چوہدری اعتزاز احسن وکلائ تحریک کی قیادت اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدارت سے دستبردار کیوں نہ ہوگئے ؟؟
مذکورہ بالا واقعہ بلکہ سانحہ کا ایک اور چشم کشا پہلو یہ بھی ہے پیارے قارئین، کہ لاہور کے اس وقوعہ سے ٹھیک تین روز قبل 6اپریل 2008ئ کو جب اسی ’’سول سوسائٹی‘‘ نے کراچی میں سندھ اسمبلی کے اجلاس کے افتتاحی روز سابق وزیرِ اعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کی اسمبلی ہال میں ہی خاطر مدارت کی اور ہمارے با خبر اور ذمہ دار ’’میڈیا‘‘ نے یہ سوچے، سمجھے بغیر کہ ابھی وہاں پی پی پی کی حکومت تو قائم ہی نہ ہوئی تھی، واقعہ کا ذمہ دار اس پارٹی کو قرار دیا تو اسی ’’سول سوسائٹی‘‘ نے کہیںردِعمل میں لاہور میں ڈاکٹر شیر افگن کی آئو بھگت کی صورت میں یہ پیغام تو نہیں دیا کہ ہماری نظر میں سب بچے جمورے ایک ہیں کہ سانحۂ لاہور کا ذمہ دار اسی میڈیا نے بالکل اسی طرح چند روز بعد قائم ہونے والی نواز لیگی حکومت کو قرار دیا۔ کیا کہنے ، حُسنِ اتفاق کے!!!
’’میڈیا‘‘ کی حسنِ کارکردگی اور انصاف پروری بھی دوستو ملاحظہ فرمائیے۔ کیا کیا شاہکار تشکیل پاتے ہیں یہاں!!
مضمون ہذا کے آغاز میں جس واقعہ کے حوالے سے بی بی سی کا یہ تبصرہ راقم نے نقل کیا ہے کہ ’’اس حمام میں سب ننگے ہیں‘‘ ، وہ کل کی ہی بات ہے کہ ’’محسنِ پاکستان‘‘ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے جاپانی نیوز سروس کے تحریری سوالنامہ کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ ’’مملکت خداداد‘‘ سے ایٹمی اسلحہ کی بین الاقوامی تجارت کی ذمہ دار حکومت اور ’’پاک فوج‘‘ ﴿اور جنرل مشرف﴾ ہے، جواب آں غزل کے ساتھ ’’سٹریٹیجک اینڈ پلاننگ ڈویژن‘‘کے سربراہ جنرل ﴿ر﴾ خالد قدوائی نمودارہوئے کہ ’’شمالی کوریا کے ساتھ سینٹری فیوجز کا سودا سرکار سے بالا بالا خود ڈاکٹر قدیر نے فرمایا اور جرم پکڑے جانے پر رضا کارانہ نظر بندی، ملازمت سے محرومی اور خاموشی کا اقرار بطور سزا خود اپنے لئے تجویز کیا۔ ‘‘
داد دیجئے ہمارے میڈیا کی غیر جانبداری کو کہ وہ جو کل تک ڈاکٹر قدیر کو قومی محسن قرار دیتے سر دھنتے تھے، آج غزل سراہیں کہ
ò ہم پہ احساں جو نہ کرتے تو یہ احساں ہوتا
یہاں ایک اور ’’ داد ‘‘ کیلئے تیار ہو جائیے صاحبو، اور یہ آئے گی پاکستان کے نظریاتی محافظ ’’آئی جے آئی فیم‘‘ جنرل حمید گل کے حصے میں، جو آج سامنے آئے ہیں، مذکورہ قضیہ میں ڈاکٹر قدیر خان کے خلاف ’’بے داد‘‘ گواہ کے طور پر کہ 1989ئ میں ’’آئی ایس آئی‘‘ کے چیف کے طور پر انہوں نے ڈاکٹر خان کی ’’نجی ایٹمی تجارت‘‘ اور غیر پیشہ وارانہ سرگرمیوں بارے اس وقت کے صدرِ مملکت غلام اسحٰق خان کو رپورٹ دے دی تھی۔
اب اسے جنرل گل کا ایک اور اعتراف سمجھئے کہ کم و بیش بیس برس بعد ہی سہی انہیں یاد تو آیا کہ قوم کو آگاہ کر دیا جائے کہ ’’محسنِ پاکستان‘‘ غیر قانونی سرگرمیوں میں بھی ملوث رہے ہیں۔ یا شاید ڈاکٹر صاحب موصوف کی طرف سے افواجِ پاکستان پر براہِ راست حملہ کے جواب میں اپنی ’’برادری‘‘ کے حق میں دفاعی حربہ، واللہ اعلم بالصواب!
اب اگر جنرل حمید گل کی طرف سے جنرل مشرف ﴿یاچلئے فوج﴾ کے حق میں اس قلا بازی پر، کہ کل تک موصوف ہر معاملے میں پرویز مشرف پر ہی برستے گرجتے رہے، کوئی یہ کہے کہ ہم دم دیرینہ کا یہ اندازہ قرین قیاس ہے کہ9مارچ 2007ئ سے آج تک جنرل پرویز مشرف کے خلاف بالخصوص جو کچھ ہو رہا ہے، خفیہ ہاتھوں ﴿یا خفیہ ایجنسیوں﴾ کا کیا دھرا ہے تو کیا غلط ہو گا، کہ ایکس سروس مین سوسائٹی، جوڈیشری، سول سوسائٹی، اور سیاسی برادری ﴿نواز لیگ اور اے پی ڈی ایم وغیرہ وغیرہ﴾ سب کا ٹارگٹ بظاہر مشرف کی ذات ہے، لیکن ان سب کو استعمال کرنے والے خفیہ ہاتھ جو کسی ’’محبوبہ دلنواز‘‘ کے اشارئہ ابرو پر کام کرتے ہیں، ان کا مطمع نظر صرف اور صرف پاکستان میں انتشار اور عدم استحکام ہے، اداروں کو آپس میں لڑا بھڑا کر مملکت کو کمزور اور نحیف و ناتواں کردینا تاکہ افرادی قوت و قدرتی وسائل سے مالا مال اور سٹریٹجک محلِ وقوع کے حامل اس ملک اور یہاں کے عوام ﴿وحکومت﴾ کو ہمیشہ اپنے اشاروں پر نچایا جائے کہ معاشی طور پر تو وہ پہلے ہی اسے مفلوج و محکوم بنا چکے۔۔۔۔۔۔
اب آخیر میں اہل نظر کیلئے صورت احوال کی گمبھیر تصویر کو مکمل کرنے کی غرض سے اس دونشستی ڈائیلاگ کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا جو فون پر راقم الحروف اور پاکستان کی ایک بہت بڑی ایڈورٹائزنگ ایجنسی کے مالک کے درمیان رہا۔ موصوف ایک تاریخ دان اور تاریخ نویس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور سابقہ حکومت کے بلا شبہ میڈیا منیجر کے فرائض بھی تنِ تنہا انجام دیتے رہے ۔ آپ قریباً ڈیڑھ ماہ پہلے اس ناچیز کے اس تجزیے سے بالکل متفق نہ تھے کہ گزشتہ سال سوا سال سے یہاں جو کچھ ہو رہا ہے، خفیہ ایجنسیاں کرا رہی ہیں کہ فرمایا ’’بھلا ایجنسیاں اپنے سپریم کمانڈر ﴿یعنی جنرل مشرف﴾ کے خلاف کیوں کر مہم چلائیں گی؟‘‘۔ جبکہ اب پندرہ روز قبل برملا اعتراف کر رہے تھے کہ اس پریکٹس کامقصد خدانخواستہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہی لگتا ہے، اس دعا کے ساتھ کہ ’’خدا کرے یہ منصوبہ مکمل طور پر نا کام ہوجائے۔‘‘
حضراتِ گرامی، ہم کچھ اور تو شاید کر نہیں سکتے لیکن آئیے کم از کم فکر تو کر یں اپنے گھر کی مل جل کر ۔
ò وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے
تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں پر

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......