پیش گوئی از فرخ نور

Submitted by Farrukh Noor on Wed, 01/16/2008 - 14:58

اللہ خالق ہے، انسان مخلوق۔ یہی فرق ہے پیش گوئی سے پیش بینی تک
علت معلول سے ہے؛ معلول علت سے نہیں۔ علم معلوم سے ہے، معلوم علم سے نہیں؛ معلوم نامعلوم سے ہے(١) ۔ایک پیش گوئی خدا کرتا ہے، ایک پیش گوئی انسان کچھ علوم، تجربات یا کلیات کے تحت کرتا ہے۔ ابہام سا دِکھائی دیتا ہے مگر مبہم کچھ نہیں؛ ابہام تو سرسری نگاہ میں رہتا ہے۔ اللہ کی پیش گوئی مکمل اور exact ہوتی ہے۔ انسان ناقص العقل ہے۔ اُسکی پیش بینی ١٠٠ فیصد نہیں ہوسکتی۔ اُس میں ہمیشہ probablity (شک) کا عنصر غالب رہےگا۔
انسان کا پیشگوئی کرنے سے نہ صرف اللہ پر اعتقاد کمزور ہوتا ہے؛ بلکہ یہ کچھ کلیات (formulas) ہیں جو عموماً ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ یہی ٹھیک ہونا مزید گھمبیر مسائل پیدا کرتا ہے۔ جو اکثر انسانوں کےدماغوں کو فرعون بنا دیتے ہیں چند ایک تو خود خدائیت کا دعوی کر بیٹھتے ہیں یا کروا دیتے ہیں۔ خدا نے دُنیا کے اختتام کی پیش گوئی بیان فرمائی۔ کچھ محققین موجودہ دور کو قیامت کا دور قرار دے دینے پر بضد ہیں۔ جبکہ خدا کےاس بارے میں واضح احکامات قرآن پاک میں موجود ہیں۔یہ مفکر، محقق اور دانشور بلاشبہ علم والے ہیں مگر یوں پیش گوئی کر کےلوگوں کو مغالطہ میں پھنسا کر، خود تو دعوی کر دیتے ہیں اور دعوئوں کا باعث بھی بن بیٹھتے ہیں۔ عام لوگ اِن پیش گوئیوں کے باعث الجھ سے جاتے ہیں۔ علم والا معاملہ اُلجھاتا نہیں، سلجھاتا ہے۔ جب غرض صرف اپنی نمائش، بیجا تعریف اور واہ، واہ کی بڑائیت سے ہو تو لوگوں کی رہنمائی نہیں ہوا کرتی۔ یہ معاملہ جاہلیت سے جہالت کا ہے۔ جہاں خدا کی خدائیت نظر آتی نہیں، اپنی فرعونیت ہی اپنی خدائیت کاشائبہ دلا جاتی ہے۔ جو باعث بنتی ہے منکر خدا کا۔ بیشک یہ علوم کچھ کلیات پر مبنی ہیں۔ اِن سے واضح یہ نظر آتا ہے۔ خدا کی کائنات بڑے ہی حسن سے توازن ِترتیب میں، خوبی کےساتھ خامی کیوں؛ اُسکا جواب اِن ”ظاہری مخفی علوم“ میں ہیں۔ جب اپنی ذات کی بڑائی کو minus کر کے، اُس میں اللہ کی ذات کی بڑائی کو plus کر دیا جائے۔ تب vision کھلنا شروع ہوتا ہے۔
غیب کا علم کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ وُہ rule of thumb نہیں ہوتا۔ وُہ حقیقی پوشیدہ ہوتا ہے، مجازی پوشیدہ نہیں۔ لذت ایک احساس ہے، چسکا ایک مزید احساس اور ہوس بھی ایک خطرناک احساس ہے۔ جب پیش بینی ہوس کا شکار ہو جائے تو یہ دُنیا کی بربادی لاتی ہے۔ پیش بینی اِن احساسات میں سےکسی کا بھی شکار ہو؛ تو وُہ بالترتیب خطرے سے خطرناک اور پھر خطرناک ترین ہی حالات کا مئوجب بنےگا۔ یہ معاملہ بڑی ذمہ داری کا ہوتا ہے۔ جو غیب کی بات جانتا ہے اسکی بات میں عموماً خاموشی کا عنصر غالب رہتا ہے۔
مخفی علوم فارمولوں سے ہٹ کر ہوتے ہیں۔ الہام ہوجانا، سچا خواب آجانا مخفی معاملات ہیں۔ مخفی عِلم یہ نہیں کہ حساب لگایا جائے۔ مخفی علم یہ ہے کہ نگاہ پڑتے ہی سب کچھ عیاں ہو جائے۔ مخفی علم خدا کی مرضی سے عنائیت ہوتا ہے۔ اُسکی حد کا تعین بھی خدا کی جانب سے ہوتا ہے۔
غیب جاننے والوں کی بھی حدیں مقرر ہے۔ جس طرح پرندوں کی پرواز کی حد مقرر ہے۔ اسی طرح جو غیب کو حقیقی طور پر جانتے ہیں۔ وُہ آنے والے واقعات سے آگاہ ہو کر بھی خاموش رہتے ہیں۔ دور اندیشی اتنی کہ کوئی جان نہیں سکتا۔ غیب جو جانتے ہیں؛ وُہ اظہار نہیں کیا کرتے۔ حالات کےمطابق ضرورت کےتحت صرف اشارہ ہی کر دیا کرتے ہیں۔ یہی اصل میں پیش گوئی کا معاملہ ہے۔ جو ہر کوئی جانتا نہیں۔
ہاتھ کی لکیریں اپنے اندر کئی dimensions رکھتی ہیں۔ انسان کی بیماری کی تشخیص و علاج، انسان کے مزاج کا علم اِسکی منفرد خاصیتوں میں سے ہیں مگر لوگوں کی اکثریت کی توجہ صرف مستقبل جان لینے کی ہوتی ہیں۔ دست شناسی میں لکیریں ضرور بتا دیتی ہیں۔ مگر بدل بھی جلد ہی دِنوں میں جاتی ہیں۔ آپ غصہ کیجیئے آپکی لکیریں بدلیں گی، آپ مسکرائیں تب بھی آپکی ریکھائیں تبدیل ہوگی۔ ذرا سوچئیے! یہ معاملہ ہے کیا؟ ہر شخص کا مستقبل اُسکے عمل اور کردار پر منحصر ہے۔ یہی وُہ معاملہ ہے۔ جو خدا نے انسان کو اختیار میں دیا ہے۔
ہم اکثر دور اندیشی کو بھی پیش گوئی کا نام دے جاتے ہیں۔ برائی کا انجام تباہی، بربادی ہے۔ یہ پیش گوئی نہیں ہے۔ یہ بصیرت ہے۔
روش قانون فطرت کا بتلاتی ہے۔” ہر عروج کو زوال ہے“۔ اگر روش بدل جائے تو زوال نہیں آیا کرتا بلکہ ٹل جایا کرتا ہے۔ بُرے کا انجام تباہی ہے۔ اگر بُرا اپنی روش بدل لے تو اُسکا انجام آبادی بھی ہوسکتا ہے۔ دُنیا کی گنوار ترین قوم، ہوسکتا ہے مستقبل کی تہذیب یافتہ ترین قوم بن جائے۔ جبکہ گنوار کا انجام جہالت ہوا کرتی ہے۔ یہ تب ہی ہوتا ہے؛ جب روش بدل لیں۔
تجربےکی بنیاد پر انتباہ دے دینا۔ غیب کا علم نہیں ہوتا۔ وہ تو تجربہ کا مجرد ہونا ہے۔ باپ بیٹے کو منع کرتا ہے کہتا ہے تم یوں کروں گے تو یہ ہوگا۔ پھر یہ ہوگا اور یوں چلتے چلتے انجام یہ ہوگا۔ تو وُہ اختیار کی گئی روش، رویہ اور حالات کا انجام ہوتا ہے۔ غیب کی بات نہیں۔ سائنسدانوں کی پیش بینی عموماً انسانیت کی فلاح کیلیئے ہوتی ہیں۔ مقصد فلاح ہو تو وُہ کامیاب ہوجایا کرتا ہے۔ سائنس کی پیش بینی تجربہ کی بنیاد پر آگاہی ہوتی ہے۔
ہم اپنی صلاحیتوں کو myths کا شکار کر لیتے ہیں۔ دراصل ہم ایک انجانے خوف کا شکار ہوتے ہیں۔ کسی کا سرخ رنگ کےقلم سے لکھنا؛ ورنہ نہ لکھنا۔ ہٹلر کا ٢ کےعدد سے مطابقت پیدا کر لینا، نیپولین کا کالی بلی سے خوف، مسولینی کا تاش کے پتوں سے تعلق اِک خوف تھا۔ اللہ پر یقین نہ تھا، اپنی ذات پر بھروسہ نہ تھا۔ ظہیرالدّین بابر کی قسمت پانی پت کی جنگ کے موقع پر ستاروں کے برعکس تھی، مگر شکست ابراہیم لودھی کو ہی ہوئی۔ بابر کو اللہ پر یقین تھا۔ بیشک نجومیوں کا علم درست تھا۔ ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔
انسان pre-diction کو تسلیم کر کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتا ہے۔ جبکہ اسلام میں ہے دُعا کروں اور ساتھ کوشش جاری رکھو۔ میدان بدر میں دُعا کےساتھ عملی جنگ کی کوشش بھی شامل تھی۔ جبکہ اس ہی عرب نسل میں سے چند افراد نے ابراہہ کا فیل والا واقع دیکھ رکھا تھا۔ جنگ میں نصرت تو تھی ہی مگر مسلمانوں کے لیئے غزوہ بدر عملی جدوجہد کا درس بھی رکھتا ہے۔ اللہ نے قرآن پاک میں کئی پیش گوئیاں کیں۔ اُنکو ہم ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر یوں تسلیم کر لیتے ہیں؛ جیسے وُہ وقت آج کا ہی ہے۔ مسلمان ملک پر حملہ ہوتا ہے، تو ہم کہتے ہیں: دشمن کو شکست سے دوچار کریں گے جب ملک مغلوب ہو جاتا ہے۔ پھر کہتے ہیں قرآن میں ہے کہ ایک وقت آئےگا مسلمان تمام دُنیا میں مغلوب ہو جائیں گے تو وُہ وقت آن پہنچا ہے۔ ہرگز نہیں! ابھی ہم بالکل نہیں جانتے؛ وُہ وقت کونسا ہوگا۔ ہم کوشش سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔ آج سے سو برس پہلےمسلمان تو غلام ہوگیا تھا۔ اب پھر مغلوب ہوجانا کیا معنی رکھتا ہے؟ پھر غالب ہو جانے کی بھی بات ہے۔تو غالب پھر کوشش سے ہی ہوا جاتا ہے۔نتیجہ اللہ پر رکھا جاتا ہے۔
”دعوی نمائشی لوگ کیا کرتے ہیں، اصلاح فہمائشی کیا کرتے ہیں“۔ عام انسان عموماً پیش گوئی کر کےدعوی کرتا ہے۔ اُسکا مقصد اصلاح نہیں ہوتا۔ اپنی ذات کی بڑائیاں ہوتی ہیں۔ جو اکثر صرف برائیاں ہی پیدا کرتی ہیں۔ اللہ کی پیش گوئی اصل میں انسان کی اصلاح کے لیئے ہوتی ہے۔ اُس میں دعوی ضرور ہوتا ہے مگر وُہ دعوی ہوتا نہیں۔ اس میں انتباہ ہوتا ہے۔اصلاح کی دعوت ہوتی ہے۔ وُہ وقت کےخدائوں کے لیئےدعوی اور سمجھ والوں کے لیئے اللہ کی نشانیاں ہوتی ہیں۔ یہ کائنات اللہ نے بنائی ہے۔ وُہ بخوبی جانتا ہے کیا، کب اور کسطرح سے ہونا ہے۔ اللہ نے یہ بتایا۔ بدی غالب آکر بھی مغلوب ہوجاتی ہے؛ نیکی مغلوب ہو کر اِک دِن پوری دُنیا پر پھیل کر نمایاں ہو جائےگی۔
ایک دست شناس palmistry میں مہارت رکھنے کے باوجود ہمیشہ اُمید کی کرن دِکھاتے تھی، خوف کی نہیں۔ اُنکے بارے میں مشہور تھا کہ ایک شخص کو اگر صبح کے وقت پھانسی ہو جانی ہو تو وُہ ہاتھ دیکھ کر کہہ دیتی۔ ”بھائی آپ پریشان کیوں ہوتے ہو۔ صبح جب آپ جائیں گے تو آپکی سزا کےاحکامات معطل ہو چکے ہونگے“۔ اُن کا مئوقف تھا کہ اُس شخص کی زندگی کی ایک رات باقی ہے۔ اُسکو سکون سے نیند تو آجائے۔ وُہ دو گھڑی خوشی سےگزار تو لے۔ کیوں وقت آنے سے پہلے بُری خبر سنا کر اُسکو مار دیا جائے اور اُسکی رات بھی بے چین گزرے۔
اُولیا کرام کے پاس جب کوئی اپنی التجا لے کر آتا ہے تو وُہ دُعا فرماتے ہیں۔ اچھی خبر کی نوید سنا دیتے ہیں۔ بُری خبر ہے تو چھپا دیتے ہیں۔ پیش گوئی کر دینے سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ اگلےشخص کو خوف میں مبتلا کر دیا جائے۔ اُسکو اُمید کی کرن دِکھائو مگر اتنی بھی نہیں کہ وُہ خود کو خود فریبی یا خوشی کے خوف میں مبتلا کر ڈالے۔
مادی پیش گوئی انسان اپنی سمجھ کے مطابق کسی نہ کسی کلیہ کےتعاون سےکرتا ہے۔ روحانی پیش گوئی بندے کی جانب سےنہیں ہوتی۔یہ اللہ کی جانب سے ہوتی ہے۔ اللہ کی مرضی سے ایک خاص حد تک ہوتی ہے۔ اُس حد سے باہر نہیں۔
پیشگوئی کون کرتے ہیں ؟ اور پھر اُسکو چھپایا کیوں جاتا ہے؟ جس طرح رسول پاک کے دیدار کے معاملہ میں کچھ احتیاطوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے؛ خاموشی میں رکھ لیا جاتا ہے۔ اسی طرح عموماً پیش گوئی بھی چھپا لی جاتی ہے۔ کیونکہ عوام گمراہ ہو سکتی ہے، ہر کوئی دعوی کرسکتا ہے۔ مگر اس سے ہر گزیہ مراد نہیں کہ دیدار والا پیش گوئی کرے۔ بلکہ یہ بھی اللہ کی عنائیت ہوتی ہیں۔ جسکو اللہ جیسے چاہے عنائیت کردے۔ حتٰی کہ بیان اور سامعین کی حد تک بھی اللہ کی جانب سے ایک حد مقرر ہو جاتی ہے۔ پیش گوئی کی تفصیل کا معاملہ صرف اللہ ہی جانتا ہے بندہ نہیں۔ فرعون کےدربار میں ایک پیش گوئی ہوئی فرعون نے اُسکا قلع قمع کرنے کی بڑی سعی کی مگر پیش گوئی پھر بھی ہوگئی۔ یہ اللہ کی جانب سے نجومیوں نے کی تھی۔ مگر اللہ کی مرضی شامل حال تھی۔ ایک خواب حضرت یوسف نے بھی دیکھا تھا۔ بادشاہت کا، پیغمبریت کا؛ مگر سفر کا تمام دور مایوسیوں اور ناکامیوں کا ہی تھا۔ مگر اِس خواب کے ساتھ ہی اصل حقیقت کو حضرت یعقوب نے بھائیوں کو بتانے سے منع فرما دیا تھا۔ کیونکہ ہر بات ہر ایک کے لیئے نہیں ہوتی۔
ادھورا علم خطرناک ہی ہوتا ہے۔ ایک ماہر نگاہ صحیح تعین کر کےدرست ترجمہ کسی حد تک کرسکتی ہے۔ اکثر نگاہ بھی دھوکہ کھاتی ہے۔
(فرخ)

(اگر میری بات میں کوئی غلطی ہو، یا میں غلط ہو تو مہربانی فرما کر مجھےمطلع کیجیئے۔ میں نہایت مشکور ہو گا۔تاکہ میں اپنی غلطی کی تصحیح کر سکوں)

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......