نظریہء پاکستان از فرخ نُور

Submitted by TeamAdmin on Tue, 10/02/2007 - 19:11

نظریہء پاکستان

نظریہ کسی قوم کی بنیاد ہوتا ہے پاکستان کی بنیاد اسلام ہے۔ موجودہ دور میں ایک فضول بحث چل پڑی ہے کہ دو قومی نظریہ ایک ضرورت تھی، سیاسی نعرہ تھا۔ ایسا کہنے والے نہ تو دوراندیش ہے اور نہ ہی عاقبت اندیش۔ وہ علمی حوالے سے کچھ نہیں جانتے بس وہ لوگ قابل رحم ہے۔ دو قومی نظریہ ہماری تاریخ ہی نہیں بلکہ ہمارا شاندار مستقبل کی جانب ایک واضح اشارہ ہے۔

آج کے مغرب مزاج دانشور نظریہ پاکستان پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ "اس میں دوسروں کے لیے برداشت نہیں ،ہماری تاریخ 712ء سے ہو یا 5000 ق۔م سے ، ہم نے طرز تعمیر میں ترقی نہیں کیں، موسیقی و مصوری میں کوئی جدت رونما نہیں ہوئی۔ نظریہ پاکستان کے خلاف کوئی بات کہی نہیں جاسکتی؛ ورنہ یہ جرم تصور کیا جاتا ہے"۔ یہ تمام وہ سوالات ہے جنکی کوئی بنیاد نہیں۔

مغرب میں بھی ایک نظریہ ہے۔ Democracy جو عرب شاہی ریاستوں کو برداشت نہیں کر پاتا۔ ان پر مسلسل جمہوریت کا زور دیا جاتا ہے۔ آزادی رائے بھی انکے ہاں ایک نظریہ ہے۔ جس میں اخلاقیات نام کی کوئی چیز موجود نہیں اور اسکے خلاف بات کرنے والا پابند سلاسل ہی ہوتا ہے۔ مغرب اپنے نظریات ہم پر زبردستی ٹھونس رہا ہے۔ مگر ہم نے اپنا نظریہ؛ وطن عزیز کی حدود سے باہر مسلط نہیں کیا۔ ہمارا نظریہ ایسا نہیں جو کسی پر مسلط ہو سکے۔ یہ قبولیت کا عمل ہے۔ اس میں شدت تو نہیں مگر no compromiseبھی ہے۔
نظریہ پاکستان:"ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں۔ جو کبھی یکجا نہیں ہوسکتی لہذا برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایسا خطہ ہو جہاں پر وہ آزادی سے اسلام کی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کر سکے۔ جہاں پر دیگر اقلیتوں کو تحفظ حاصل ہو۔"

اس مکمل نظریہ میں کوئی بھی ایسا لفظ نہیں جو شدت رکھتا ہو۔ اسلام عقیدہ ہے اور عقیدہ پر کوئیcompromise نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اس نظریہ میں جارحانہ رویہ ہی نہیں۔ بلکہ یہ دفاع کا نتیجہ تھا اور آج دفاع کی علامت ہیں۔ مسلط کرنے کی بات ہی نہیں بلکہ شخصی آزادی کا واضح اظہار ہے۔>

جو افراد آج اس نظریہ کے بدلنے اور مسخ کرنے کی تگ و دو میں ہے وہ نہیں جانتے کہ اسکو تبدیل کرنے کے لیئے۔ انکو نہ جانے کیا کچھ کرنا پڑے گا حتی کہ اسکو مسخ کرنے کے لیئے ایک صدی بھی کم ہے کیونکہ ایسا کرلینا ناممکن ہے۔

ہماری بنیاد دو قومی نظریہ تھی اور پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ (اللہ کے سواء کوئی نہیں)۔ پاکستان اور اسلام کے معنی ایک ہی ہوئے۔ ہر سچا مسلمان محب وطن پاکستانی بھی ہے (محب وطن ہونے کے لیئے ہمیں کسی certificate کی ضرورت نہیں۔ جو اللہ اور اسکے رسول سے محبت کرتا ہے وہ پاکستان سے بھی محبت کرتا ہے۔ جو اللہ پر یقین رکھتا ہے ، وہ پاکستان پر بھی یقین رکھتا ہے۔) گویا مسلمان اور محب وطن ایک ہی ہے۔ مراد پاکستان کا مطلب کیا? پر حملہ؛ عقیدہ اسلام پر حملہ ہے۔ جو کوئی بھی مسلمان گوارہ نہیں کرسکتا۔

پاکستان کا پرچم اس بات کا عکاس ہے۔ سفید تارہ: روشنی اور علم کا اظہار ہے؛ جو اسلام کی بنیادی تعلیم ہے۔ تارہ کے پانچ کونے: پانچ ارکان اسلام توحید، نماز، روزہ، زکوۃ اور حج ہیں۔ پانچ کونوں والا تارہ: صبح کے ستارہ کا اظہار کرتے ہوئے قرآن کو بیان کرتا ہے۔ سفید ہلال: قمری مہینہ اور اسلام کی علامت ہے۔ 45 درجے پر ہلال کو خم دینے سے مراد نیا طلوّ ہونے والا چاند، تعمیر ترقی اور ایک نئی قوم کا دنیا پر ابھر جانے کا علمبردار ہے۔ سبز رنگ: مسلمانوں کی اکثریت اور سفید رنگ: اقلیتوں کی علامت۔ سفید اور سبز کا امتزاج: امن اور ترقی کرنے کی علامت ہے۔

یہاں سبز اور سفید رنگ واضحتا دو قومی نظریہ اور ہلال و ستارہ لاالہ الااللہ کا واضح اظہار ہے۔ کتنا وسیع ترجمہ ہمارے پرچم کا ہے۔ جو دنیا کے کسی اور پرچم کا نہیں۔ یہ بات یہاں تک محدود نہیں دو قومی نظریہ کا واضح عکاس بھارتی پرچم بھی ہے۔

چکرا: اسکو عظیم بدھی بادشاہ (موریا خاندان کا تیسرا فرمانروا) وردھامنا اشوک اعظم (272ق-م تا 232ق-م) سے منسلک کیا جاتا ہے۔ جو 19ویں صدی میں موہنجو داڑو اور ہڑپا کی کھدائی کے دوران ملاتھا۔ یہ بدھ مت کا مذہبی نشان ہے۔ یہ پہیہ ہندوستانی مذاہب کے چکری زندگی (سات جنموں) کے نظریہ کا اظہار ہے۔ پھر اس چکرا کے 26 لکڑی کے ستون ہیں: جن کے باعث پہیہ گھوم سکتا ہے۔ 26 ہندوستانی ریاستوں اور صوبوں کی علامت ہیں۔ نارنجی رنگ: ہندو مت اور اس سے اخذ مذاہب (بدھ مت، جین مت اور سکھ مت) کا ترجمان ہے۔
لہذا دو قومی نظریہ کو ختم کرنے سے پہلے ہندوستانی پرچم کو بدلا جائے ۔ جو آج بھی ہندو اور مسلمان کو دو الگ قومیں ثابت کر رہا ہے۔

بات پرچم کی حد تک ہی نہیں پچھلے 60 برس دو قومی نظریہ کا واشگاف اظہار ہے۔ پاکستان کا ایٹمی طاقت بننے کا ہر مرحلہ دو قومی نظریہ کے باعث ہی ہوا۔ 1947ء میں جو سرحد کی لکیر کھینچی گئی تھی۔ وہ ایک لکیر نہیں تھی۔ بلکہ اس ملک کر سرحدوں کی بنیادوں میں پاکستان سے محبت کرنے والوں کا خون موجود ہے۔ یہ حد خون سے کھینچی گئی تھی۔ یہ کسی جنگ کا خون نہیں تھا۔ امن اور سکون چاہنے والوں کا خون تھا۔ یہ بات پڑھنے والوں کے لیئے معمولی سی ہوگی کہ خون کی لکیر کیا معنی دیتی ہے۔ جب وقت آئے گا تب اس خون کی بھی سمجھ آجائے گی۔ بات اتنی ہی کافی ہے "قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی" تاریخ انسانی کی سب سے بڑی ہجرت کا وسیع پیمانے پر قتل عام دو قومی نظریہ اور نظریہ پاکستان کا عملی نمونہ تھا۔

محمد بن قاسم کا فتح سندھ نظریہ پاکستان ہی تھا۔ محمود غزنوی کا ہندوستان پر 17 حملے کرنا دو قومی نظریہ ہی تھا۔

"لفظ پاکستان کیا ہے? پاک وطن، سبز ہلالی پرچم پاک وطن۔ دارلحکومت: اسلام آباد؛ یہ بھی مستقبل کی عظیم الشان داستان ہے۔ ذرا پاکستان اور اسلام کو دو قومی نظریہ اور لاالہ الااللہ کے تناظر میں دیکے تو اللہ نے ہر چیز بڑی بامعنی اس ملک کے لیئے رکھ چھوڑی ہے۔ اسلام آباد لاالہ الااللہ کے معنی شفاف الفاظ میں دے رہا ہے۔ "

پاکستان اور اسلام ایک دوسرے کے متضاد ہو ہی نہیں سکتے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا تصور اقتدار اعلی (اس ملک کا حقیقی حکمران اللہ تعالی ہے ؛ اقتدار کے اختیارات امانتا استعمال کیے جاتے ہیں) ہی اسلامی تشخص کا ترجمان ہے۔ صدر اور وزیراعظم کا مسلمان ہونا؛ نظریہ پاکستان ہی ہے۔ یہ ملک اللہ نے ہی بنایا اور اس کی تخلیق کے پیچھے ایک بہت بڑا راز ہے۔

"آج ہمیں صرف اور صرف اپنا اخلاقی معیار بلند کرنے کی ضرورت ہے۔" کیونکہ ہمیں ایک مہذب ترین قوم کی حیثیت سے دنیا پر حکمرانی کرنی ہے۔ مجھے اقبال کا شعر یاد آرہا ہے۔
سبق پڑھ عدالت کا، صداقت کا شجاعت کا۔
لیا جائے گا کام تجھ سےدنیا کی امامت کا۔

یہی وہ اللہ کا راز ہے جسکو عیاں ہونا باقی ہے۔ مرکز بدلتے ہیں اور نیا مرکز ہمارا منتظر ہے۔ بس ہمیں اس قامل بننا ہے۔

ایک ہجرت اللہ کے حکم سے حضرت موسی کے دور میں ہوئی ایک ہجرت مکہ سے مدینہ میں ہوئی اور ایک ایسی ہی ہجرت 1947 میں ہوئی۔ کہتے ہیں تاریخ اپنے آپکو دہراتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے جب کٹھن حالات کے باعث اللہ کے دین کی خاطر ہجرت کی گئی تو وہ نئی پناہ گاہ دنیا کا مرکز بن گئی۔ محبت رواداری اور تہذیب دنیا کا سکھلائی گئی۔ پیغام اسلام تیزی سے دنیا میں پھیلا۔

Vexilology(پراچم کا علم) کے مطابق صرف چار ممالک کے جھنڈے متوازی لٹکائے جاتے ہیں۔ عمودی لٹکایا جانا ممنوع ہے مگر دیگر تمام ممالک کے علم عمودی لٹکائے جاسکتے ہیں۔ سعودی عرب کلمہ طیبہ کی بنیاد پر، برازیل اپنے قومی نصب العین ORDEM & PROGRESSO، سری لنکا اپنے سیلون حکمرانوں کے آزاد دور (1815ء) میں شیر اور تلوار کی علامت کے باعث اور پاکستان کسی تحریر کے باعث نہیں؛ ایک مقدس نظریہ کے باعث ہے۔ دراصل ان تمام کے motto بالکل وسط میں ہیں۔ یہ بات یہاں تک ہی نہیں۔ نظریہ پاکستان ہمارے فن تعمیرات میں بھی نمایاں ہے مینار پاکستان کی Archealogyکو سمجھیئے تو وہاں بھی ہلال اور تارہ وہی ترجمانی کررہے ہیں۔ جو الحمراء اور ایوان اقبال کے کانفرنس ہال عکاسی کر رہے ہیں۔ سامعین کی نشستوں کی ترتیب ہلال کی مانند ہے۔ سٹیج کہٰن صرف تارہ تو کہیں پانچ کونوں والے تارہ کی واضح علامت ہے۔ موسیقی و مصوری میں ہم سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ان شعبوں میں ہم نے کوئی نئی جدت پیدا نہیں کیں۔ نعت گوئی اور قوالی ہمارے ہاں کی ہی جدت ہے؛ جو نظریہ اسلام بھی ہے غزل بھی اسی زمرہ کا ایک حصہ شمار ہوجاتی ہے۔ مصوری میں فن خطاطی ایک نئی جدت ہے۔ فریر ہال صادقین کی خطاطی، اسلم کمال کلام اقبال کی مصوارانہ تشریح کے سلسلہ میں، حافظ محمد سدیدی مرحوم کی خطاطی کا کمال قطب الدین ایبک کا مزار، مینار پاکستان، مسجد شہداء اور جامع مسجد منصورہ لاہور، حافظ محمد دہلوی کے ہمار آغازی نوٹوں اور سکوں پر خطاطی اور خانہ کعبہ کے غلاف پر خطاطی ہمارے ترقی یافتہ ہونے کی علمبردار ہے۔ اسکے علاوہ حنیف رامے مرحوم، خورشید عالم گوہر آج کے نامور ترین خطاط ہے۔ ہماری مساجد، تقریبی ہال، عجائب گھر ان نادر نمونہ سے بھرپور ہے۔ جن کا ذرہ ذرہ پاکستان کے معنی دے رہا ہے۔

رنگوں کی تاثیر و خصوصیت کے حوالے سے دیکھے تو وہاں بھی ہمارے پرچم کے معنی کچھ یوں ہے۔ گہرا سبز رنگ: توازن اور نگاہ کے اضافے کا باعث، سکون و لطافت کا احساس ، گہرا رنگ، مزاج میں گہرا پن اور سنجیدگی کی علامت، دور اندیشی کی ترجمانی بھی ہے۔ دین اسلام کا اظہار ذرہ ذرہ کا کرنا۔ کئی بار ذرہ ذرہ کی بات کہی تو سمجھیئے پھر ہی بات بھی؛ پاکستان کی مٹی کا ذرہ ذرہ لاالہ الااللہ پکار رہا ہے۔ زرعی ملک ہے۔ بیج بونے سے لیکر پیٹ میں جانے تک، ٍفضلہ سے کھاد بننے تک یہ عمل جاری ہے۔ کسان بیج بوتا ہے اور وہ سارا سال اپنی فصل اور زمین کی خوشحالی کے لیئے صرف اللہ سے ہی دعا مانگتا ہے۔ ہر جاندار شے اللہ کی حمد و ثناء کرتی ہے۔ پانی کا قطرہ قطرہ، زمین کا ذرہ، لہلہاتی فصلیں، جنجھلاتی ہوا سے ہلنے والا پیڑ اور پیڑ پر بیٹھے چرند و پرند سب یہی کہتے ہیں لاالہ الااللہ۔ یہی تو ہے سر سبزوشاداب پاکستان۔ سفید رنگ شفاف اجالا ہے جس میں مکروفریب نہیں۔ جو صرف نور ہی نور ہے؛ روشنی ہی روشنی۔ یوں دیکھیئے پاکستان کے جھنڈے میں متوازن رنگ مزاج رنگ ہے۔ نہ تو شدت پیدا کرنے والے شوخ رنگ ہے اور نہ ہی کمزور خاصیت کے ہلکے رنگ۔ گہرا رنگ کسی راز، کسی آنے والے چھپے وقت کا اظہار کر رہا ہے۔

اعتراض کرنے والے اعتراض کرتے ہیں۔ وہ فن کی خونی سے ناآشنا ہوتے ہیں۔ میں پاکستان کے کس کس موضوع کو بیان کرو۔ 27 رمضان المبارک خود ایک کہانی کا پیش خیمہ ہے۔ جو زوال سے عروج کی جانب سفر کا اظہار ہے۔ دعا کا نتیجہ بھی ہے۔ ہر سال اس روز اس ملک کے استحکام کے لیئے رات کو تمام قوم جاگ کر اللہ کے حضور عبادت کرتی ہے اور دعا مانگتی ہے۔ اس ملک کا ذرہ ذرہ پکار رہا ہے لاالہ الااللہ۔ ہمارے ہاں جشن آزادی یوم تشکر بھی ہے اور تشکر ہم روزے اور عبادت کی صورت میں اللہ کے حضور ادا بھی کرتے ہیں۔ کیا دنیا کی کسی اور قوم کے ہاں کبھی یوم آزادی اس انداز میں منایا جاتا ہے۔ یہی تو ہماری منفردیت ہے۔ مجھے تو اقبال کی ایک نظم یاد آپڑی ہے۔
(فرخ)
"لا الہ الا اللہ"
خودی سر نہاں لا الہ الا اللہ
خودی ہے تیغ، فساںلا الہ الا اللہ
یہ دور براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں، لا الہ الا اللہ
کیا ہے تونے متاع غرور کا سودا
فریب سود و زیاں، لا الہ الا اللہ
یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند
بتان وہم و گماں، لا الہ الا اللہ
خرد ہوئی ہے زماں و مکاں کی زناری
نہ ہے زماں و مکاں، لا الہ الا اللہ
یہ نغمہ فصل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں، لا الہ الا اللہ
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستیوں میں
مجھے ہے حکم اذاں، لا الہ الا اللہ
(ضرب کلیم از علامہ محمد اقبال)

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......