فاصلاتی نظام تعلیم ۔ ترقی کا زینہ

Submitted by Guest (not verified) on Fri, 01/11/2008 - 14:21

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں جب انسان اپنی معاشی مسائل کو حل کرنے کی خاطر مختلف کاموں کو سرانجام دے رہا ہے۔وہ ایسے میں اپنی تعلیم کو جاری نہیں رکھ سکتا۔ ایسے میں فاصلاتی نظا م تعلیم کسی بھی انسان کو جو مزید تعلیم کا خواہشمند ہے کو موقعہ فراہم کر تی ہے کہ وہ اپنی نوکری کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم کو مکمل کر سکے اور اپنی اس کمی کو پورا کر سکے جو وہ ادھوری تعلیم کے باعث اس میں تھی۔

پاکستان میں اگرچہ فاصلاتی نظام تعلیم کو پسند کرنے والوں کی تعداد کم ہے لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اس نظام تعلیم کی بدولت ہزاروں لاکھوں لوگ مستفید ہو چکے ہیں اور آج اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ معاشرے اور خاندان میں مثال سمجھتے جا تے ہیں۔ اگر وہ اس ذریعہ تعلیم سے فائدہ نہ اٹھاتے تو وہ ترقی کے مواقعوں سے محروم رہتے۔

فاصلاتی نظام تعلیم کی سب سے زیادہ ضرورت ہمار ے ملک کو ہے کیونکہ بہت سے لوگ جو اپنی معاشی مجبوریوںاور وسائل کی کمی وجہ سے باقاعدہ تعلیم کو جاری نہیں رکھ سکتے مزید تعلیم حاصل کر سکیں ۔اور دیہات میں رہنے والی بہت سی خواتین جن کو تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق اور جذبہ ہے وہ رسم ورواج اورپردے کی پابندی کی وجہ سے گھر سے باہر نہیں نکل سکتیں ۔وہ خاص طور سے اس ذریعہ تعلیم کی بدولت اپنی سوچوں اور شعور کو وسعت دے سکتی ہیں۔ اور اپنے پائوں پر خود کھڑی ہو سکتی ہیں۔ مزید براں یہ کہ وہ گھر کے سربراہ کے کام کاج کے قابل نہ رہنے یا اس کے ساتھ مل کر اپنے گھر کے نظام کو بخوبی چلا کر اپنا اور اپنے بچوں کو پیٹ پا ل سکیں۔

اگر پوری دنیا میں اس بات کا سروئے کیا جائے کہ ’’کیا آپ ترقی کرنا چاہتے ہیں‘‘ تو غالبا99.9%لوگ اس سوال کا جواب ’’ہاں‘‘ میں دیں گے ۔ لیکن بہت سے افراد نامساعد حالات کی وجہ سے اپنے اپنے میدان میں ترقی نہیں کر پاتے ۔ اس کی بنیادی وجہ دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ تعلیم کی کمی بھی ہے۔ تعلیم کو بلاشبہ ترقی کا زینہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ تعلیم سے ہر انسان ترقی کے خواب دیکھنا شروع کر دے ۔اگر قسمت انسان کا ساتھ دے تو تعلیم کے بغیر بھی کامیابی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ لیکن ایسا دنیا میں بہت کم کم ہی ہوتا ہے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ دوسرے عوامل کا کردار بھی کامیابی میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔

کم آمدنی اور غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے وہ افراد جو مزید تعلیم جاری رکھنا چاہ رہے ہوں لیکن باقاعدہ طورپر سکول، کالج نہ جاسکتے ہوں وہ کم خرچ میں تعلیم حاصل کر کے اپنے خوابوں کی تعبیر پاسکتے ہیں۔اس ذریعہ تعلیم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ نوکری کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی جاری رہتی ہے۔ اور انسان تعلیم کی بدولت ترقی کی منازل بھی طے کر تا چلا جا تا ہے۔ اور اپنے محکمے میں یاکسی دوسرے ادارے میں اچھی پوسٹ پر فائز ہو جاتاہے اور ملک وقوم کی خدمت کر تاہے۔
پاکستان میں فاصلاتی نظام تعلیم AIOUعرصہ دراز سے دے رہی ہے۔ اس نظام تعلیم میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا کردار نا قابل فراموش ہے۔ اور اسے ملک کی اولین فاصلاتی یونیورسٹی ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔سرکاری سطح پرورچوئل یونیورسٹی نے بھی فاصلاتی نظام تعلیم کو اپنا یا ہوا ہے ۔

تحریر: ذوالفقار علی بخاری،اسلام آباد
[email protected]

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......