علماء دیوبند سے انصاف کی درخواست ۔۔۔۔ آخر یہی کیوں لکھا گیا ؟

Submitted by Arslan on Sat, 07/12/2008 - 04:47

قاری طیب صاحب مہتمم دارلعلوم دیوبند بیان کرتے ہیں کہ جس زمانے میں مولوی رفیع الدین صاحب مدرسہ کے مہتمم تھے دارالعلوم کے صدر مدرسین کے درمیان آپس میں کچھ نزاع چھڑ گیی آگے چل کر مدرسہ کے صدر مدرس مولوی محمود الحسن صاحب بھی اس ہنگامے میں شریک ہو گیےاور جھگڑا طول پکڑ گیا۔ اب اس کے بعد کا واقعہ قاری طیب صاحب ہی کی زبانی سنیے۔موصوف لکھتے ہیں۔اسی دوران میں ایک دن صبح بعد نماز فجر مولانا رفیع الدین صاحب نے مولانا محمود الحسن صاحب کو اپنے حجرہ میں بلایا
(جو دارالعلوم دیوبند میں ہے)
مولانا حاضر ہویے اور بند حجرہ کے کواڑ کھول کر اندر داخل ہویے۔مولانا رفیع الدین صاحب نے فرمایا کہ پہلے یہ میرا رویی کا لبادہ دیکھ لو۔ مولانا نے دیکھا تو وہ تر تھا اور خوب بھیگ رہا تھا فرمایا کہ واقعہ یہ ہے کہ ابھی ابھی مولانا نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ جسم ظاہری کے ساتھ میرے پاس تشریف لایے تھے جس سے میں ایک دم پسینہ پسینہ ہو گیا اور میرا لبادہ تر بتر ہو گیا اور یہ فرمایا کہ محمود حسن کو کہہ دو کہ وہ اس جھگڑے میں نہ پڑے بس میں نے یہ کہنے کے لیے بلایا ہے۔مولانا محمود الحسن صاحب نے عرض کیا کہ حضرت میں آپ کے ہاتھ پر توبہ کرتا ہوں کہ اس کے بعد میں اس قصے میں کچھ نہ بولوں گا۔ بحوالہ۔۔۔ ارواح ثلثہ
اللہ اکبر یہ کیا ہے اور یہ کہاں کا اسلام ہے کہ جو لوگ اپنے ایک مولوی کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ اپنی موت کے بہت سالوں بعد بھی اپنے ظاہری جسم کے ساتھ آکر ان کی اصلاح فرماتے ہیں اور دیوبندی مذہب کی بنیادی کتاب کے تحت دیکھا جایے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دیوبند کا یہ عقیدہ ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم مر کر مٹی میں مل گیے۔ بحوالہ۔۔۔ تقویۃ الایمان تحریر۔۔۔ اسماعیل دہلوی۔
اور اسی کتاب میں دوسری جگہ لکھا ہےمرادیں پوری کرنا، مشکل میں دستگیری کرنے وغیرہ وغیرہ یہ سب اللہ کی شان ہے اور کسی انبیاء و اولیاء وغیرہ کی یہ شان نہیں جو کسی کو ایسا ثابت کرے ہر طرح سے شرک ثابت ہوتا ہے۔
۔ بحوالہ۔۔۔ تقویۃ الایمان تحریر۔۔۔ اسماعیل دہلوی
کیا یہ صورتحال اس حقیقت کو واضع نہیں کرتی کہ ان حضرات کے یہاں کفر و شرک کی یہ تمام بحثیں صرف اس لیے ہیں کہ انبیاء و اولیاء کی حرمتوں کے خلاف جنگ کرنے کیلیے انہیں ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جایے ورنہ خالص عقیدہ توحید کا جذبہ اس کے پس منظر میں کار فرما ہوتا تو شرک کے سوال پر اپنے اور بیگانے کے درمیان قطعا کویی تفریق روا نہ رکھی جاتی۔
آخر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ دیوبندی مذہب کی بنیادی کتاب میں مولوی اسماعیل دہلوی لکھتے ہیں کہ نبی،رسول سب ناکارہ ہیں اور اپنے مولوی کیلیے یہ عقیدہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ نہ صرف وہ اپنی قبر میں اپنے ظاہری جسم کے ساتھ زندہ ہیں بلکہ ہم سبھی کو دیکھتے بھی ہیں اور مشکل میں مدد بھی فرماتے ہیں۔
کیا آپ اب بھی نہیں سمجھے کہ ان لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کتنا بغض ہے کہ وہ نعوذباللہ ان کی شان میں ایسے ایسے الفاظ لکھتے ہیں کہ پڑھنے والے کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن اپنے مولوی کی بات آیی تو کفر و شرک کے سبھی فتوے ختم ہو گیے۔
آپ ہی انصاف کیجیے کہ اپنے رسول کے حق میں کیا اس سے زیادہ بھی جذبہ دل کی بیگانی کا کویی تصور کیا جاتا ہے ؟

http://irshad-ul-islam.com/forums

http://www.islamimehfil.info/index.php

musafir_wol@hotmail.com

Guest (not verified)

Mon, 03/22/2010 - 23:44

Oye Mr. pehle puri knowledge lao phir aana..

Guest (not verified)

Sat, 08/21/2010 - 06:21

In reply to by Guest (not verified)

Those who died are mightier than those who are alive. This funny belief is very common in Bidati types of Muslims. So is the reason narrated here that one sect is blaming the other sect. These types of bidati's claiming everywhere that their elders had the knowledge of unknowns! Again a funny belief ! If bdiati's still silly than go to disbelievers and present your ideas to Christians. They would reply you, "With this much power and knowledge your elders remained our slaves for centuries." What is actual status of this claim? Surprizing who did not believe these funny ideas defeated Christian all the way in the history. Would you like to think over it ! ! !

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......