سب سےپهلے قومی مفاد

Submitted by Guest (not verified) on Thu, 04/03/2008 - 09:20

سب سےپهلے قومی مفاد

آج سے کافی عرصہ بعد قلم اٹھایا ہے۔ دعا گو ہوں! کہ جو بھی لکھوں صحیح لکھوں۔ بہرحال کوشش ہے ملک کی صورت حال کے مطابق اپنی پہلی کوشش میں اپنی نئ حکومت کو چند مفید مشورے دینا چاہتا ہوں۔ ہمارا ملک اس وقت معاشی اعتبار سے بدحال ہے۔ مہنگائی کا وہ عالم ہےکہ غریب تو غریب متوسط طبقے کیلیۓ بھی زندگی گزارنا نہایت مشکل ہورہاہے۔ ہمارے ملک میں دیکھا گیا ہے کہ جب نئ حکومت آتی ہے تو پچھلی حکومت کو ملک کی بدحالی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ چند دنوں تک تو نئ حکومت خوب دعوے اور وعدے کرتی ہے۔ اسکے بعد وہی چال مستانی۔ غریب عوام بیچارے پستے ہی رہتے ہیں۔ دراصل میں یه سمجھتا هوں که هم لوگ ذاتی مفادات کے پیچھے اپنے وعدے پورے نهین کرتے۔ سوال پیدا هوتا هے که ایسا کیون هوتا هے؟ اسکا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ قیادت غریب یا متوسط طبقے کے پاس نہیں آتی۔

پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ سواۓ ابتدائی دور کے عموماً قیادت جاگیردارون زمینداروں اور صنعت کاروں کے ہاتھ میں رہی ہے۔ اسکے علاوہ فوج نے بھی حکومت پر قبضہ کرکے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے، ملک کی سیاسی پارٹیوں میں الیکشن ہونا چاہیئں اور قیادت عوام سے آنا چاہیے نه کہ اوپر سے نامزدگیاں ہوں۔ دوسرے یہ که الیکشن میں امیدواروں کا تعلق بلحاظ معاشرتی طبقات ہونا چاہیۓ۔ مثال کے طور پر ہم اپنے ملک کی آبادی کو اسطرح تقسیم کرسکتے ہیں:

 جاگیردار، زمیندار طبقه 5 فیصد
 اپر مڈل کلاس طبقه 15 فیصد
 لوئر مڈل کلاس طبقه 20 فیصد
 غریب طبقه 60 فیصد

ہر جماعت پابند ہوکہ وہ اپنے امیدوار بلحاظ معاشرتی طبقات نامزد کرے اس سے ایک فائدہ خود جماعتوں کو ہوگا کہ وہ مضبوط ہوں گی کیونکہ انکی جڑیں عوام میں ہونگی۔ دوسرے یہ کہ آبادی کے تمام طبقات کی آواز اسمبلی میں پہنچے گی اور عوام کے مسائل حل ہونگے۔ جبکہ سینیٹ صرف ایسے ممبران پر مشتمل هو جو مختلف شعبه جات کے ماهرین هوں۔ مثلاً ڈاکٹرز، انجینئیرز، وکلاء، زراعت پیشه، وغیره۔

اب میں آتا ہوں اصل موضوع کی طرف یعنی اپنی موجودہ مشکل صورت حال میں مسائل کا حل:

 عدلیہ کی بحالی اور آزادی: اسکے لیے پہلے ہی اعلان ہوچکا ہے کہ یہ پارلیمنٹ کے ذریعے حل ہوگا۔ اسمیں صرف یہ اضافہ کروں گا کہ عدلیہ کو انتظامیہ سے بالکل آزاد کیا جاۓ۔ تاکہ ججز پر کسی قسم کا دباؤ نہ ہو اور وہ اپنے فیصلے آزادی سے قانون و آئین کے مطابق کریں اس سلسلے میں دوسرے ممالک کے آئین کا بھی مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔

 مہنگائی پر کنٹرول: سب سے پہلے تو یہ کہوں گا کہ ارکان پارلیمنٹ وزراء افسران کے اللے تللے بند کیۓ جائیں۔ انتظامی اخراجات کم سے کم کیۓ جائیں۔

o میری راۓ ہے کہ ماشاء الله ہمارے اکثر وزراء ارکان پارلیمنٹ پہلے ہی سونے کا چمچمہ منہ میں لیکر پیدا ہوۓ ہیں۔ اگر وہ خود رضاکارانہ طور پر یہ اعلان کردیں کہ وہ قومی خزانے سے کسی قسم کی تنخواہ الاؤنس اور مراعات نہ لیں گے تو یہ قوم پر احسان ہوگا۔

o اگر یه لوگ ساده زندگی بسر کرنے کا عهد کرلیں تو نہ صرف انکا بھلا ہوگا بلکہ قوم بھی سادہ زندگی کی طرف لوٹ آۓ گی۔

o کے پرافٹ کو کنٹرول کیا جاۓ کیونکہ یہ آئیل کمپنیاں بے تحاشہ منافع کمارہی ہیں۔ جو کہ انکی سالانہ رپورٹ میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ لیکن ساتھ هی ایندھن کے استعمال میں بچت کی جاۓ۔ گاڑیون کی امپورٹ پر پابندی لگائی جاۓ۔ بینک لون پر گاڑی کی خرید پر پابندی لگائ جاۓ۔ ہمارے ہاں گاڑی پارک کرنے کی جگہ نہیں ہے مگر گاڑیوں میں ہر روز اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ جیسا کہ دوسرے ممالک میں ہوتا ہے لوگ پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کریں۔ عوام کے لیے خاطر خواہ بسوں و ویگنوں کا انتظام کیا جاۓ۔ بلکہ شہروں کے گنجان آباد علاقوں میں گاڑیاں لیجانے پر پابندی ہونی چاہیۓ۔ شہروں کے اطراف میں حدود مقرر کی جائیں تاکہ رش پر قابو پایا جاۓ۔ ان حدوں میں پارکنگ پلازے تعمیر کیۓ جائیں۔ وهاں سے آگے سفر جاری رکھنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کا اتنظام ہونا چاهیۓ۔ اس تجویز پر عمل کرنے سے آپ اندازہ لگالیں کتنی بچت ہوگی۔ جب تیل کا استعمال ہی ہم کم کردیں گے پھر تیل کا بل خود ہی کم ہوجائیگا۔

o دیکھا یہ گیا ہے کہ امیر لوگوں کے پاس گاڑیون کی ایک فلیٹ ہوتی ہے۔ گھر کے ہر فرد کے لیے ایک گاڑی ضرور ہوتی ہے۔ سودا سلف خریدنے کے لیے ایک گاڑی اور ڈرائیور، کالج اسکول جانے کے لیے علحیده ایک گاڑی، بسا اوقات ہر لڑکے لڑکی کو کالج جانے کے لیے علیحدہ گاڑیان ہوتی ہیں، یہ فضول خرچی نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟؟؟؟ اگر یہ لوگ ملک و قوم کا خیال کریں تو اپنے بچوں کو بسوں میں کالج بھیج سکتے ہیں۔ آخر غریب ماں باپ بھی تو اپنے بچوں کو سائیکلون، بسوں اور ویگنوں میں بھیجتے ہین، وہ کیسے بھیجتے ہین؟؟؟ وه بھی تو انسان ہیں، کوئی بادشاہ سلامت تو ہیں نہیں۔ اس طرح ٹریفک بھی کم رہے گی، سڑکوں پر رش کم ہوگا۔ سن 80 کی دہائی میں آپکو یاد ہوگا کہ آبادی براۓ نام ہی ہوا کرتی تھی، سڑکیں سنسان سی لگا کرتی تھیں۔ ایک پرسکون سا ماحول ہوا کرتا تھا۔ اب تو ہر طرف طوفان ہی طوفان سا مچا ہوتا ہے۔
o سڑکون کے دونون اطراف سائیکل ٹریک بناۓ جائیں۔ جیسا کہ دوسرے ممالک میں ہوتا ہے۔ اسطرح سائیکل سوار بھی محفوظ رہے گا اور حادثات بھی کم ہونگے۔ اسی چیز کے لیے سب کو قربانی دینا ہوگی۔ یعنی ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح۔
o کاروباری اوقات میں تبدیلی بھی ہونی چاہیۓ۔ صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک۔ ہمارے ملک مین عجیب ہی رواج ہے۔ دن کے 11 بجے دکانیں کھلتی ہیں اور رات 12 بجے تک کاروبار ہوتا ہے۔ اندازہ لگائیے ایسے اوقات کار سے بجلی بہت ضائیع ہوتی ہے۔ جب ہمارے پاس مطلوبہ بجلی ہی نہیں ہے تو ہمیں بجلی بچانا ہوگی۔ انڈسٹری کو البته بجلی بچانا هوگی۔

o کھانے پینے کی اشیاء جب تک ایکسپورٹ هوتی رهے گی جب تک مهنگائی کم نهیں هوسکتی۔ کم از کم کھانے پینے کی اشیاء ایکسپورٹ نهیں هونی چاهئیں۔ خود اگائیں خود هی کھائیں کی پالیسی سب سے اچھی هے اس طرح غریب کو بھی کم از کم روٹی تو ملے گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 دهشت گردی کا خاتمه: اس کے لیے امریکه نواز پالیسی کو خیرباد کهنا ھوگا۔ ساری دنیا میں دهشت گردی پھیلانے کی ذمه داری امریکه پر عائد هوتی هے۔ جسے هم دهشت گردی کهتے هیں وه دراصل ایک ایکشن کا ری ایکشن هے۔ اگر آج هم ایک خود مختار ملک بن جائیں اور امریکه کےگوش گزار کریں که بھائ اب یه جنگ بند کریں اور جو پیسه آپ یهاں ضائع کررهے هیں۔ وه اپنی عوام کی بھلائ پر خرچ کریں تو آپکا ملک تو خوشحال هوگا هی لیکن معتوب ملکوں میں بھی
خوشحالی آجائیگی۔

شیخ محمد فاروق

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......