ذوالفقار علی بھٹو، تاریخ کا رزمیہ کردار

Submitted by Atif Aliem on Sun, 04/06/2008 - 09:42

بہادر وہی ہے جو خاک نشینوں کے ساتھ جیا اور مرا تو ان کی سربلندی کا جرم اپنے نام لکھوا کر مرا۔ذوالفقار علی بھٹو بھی تاریخ عالم کے ان بہادروں میں شامل ہیں جو عوام کے نام پر جئے اور ان کی سربلندی کیلئے موت سے ہمکنار ہوئے۔گڑھی خدا بخش میں چار روشن قبریں بہادری کے اس رزمیہ کی زندہ نشانیاں ہیں جس کی ابتدا ذوالفقار علی بھٹو نے کی اور جس کی تکمیل بے نظیر بھٹو کا مقدر ہوئی۔صدیوں تک دیس کی ہوائیںبہادری کے اس رزمیہ کو گاتی رہیں گی جسے بھٹو خاندان نے اپنے خون سے تحریر کیا ہے۔یہی وہ رزمیہ ہے جس نے ہماری آنے والی تمام نسلوں کے راستوں کا تعین کردیا ہے۔راستوں کا یہ تعین اتنا واضح اور اٹل ہے کہ کوئی بھی ،بھلے وہ بھٹو خاندان کی جانشینی کا دعوے دار ہی کیوں نہ ہو ان راستوں کو دھندلانے کی کوشش کرے گا تو وہ اس مسند سے ہمیشہ کیلئے محروم ہوجائے گا جو اسے بھٹو خاندان کی لازوال قربانیوںکے طفیل نصیب ہوئی۔

ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی اور طرز سیاست پاکستانی سیاست کا ہی نہیں انتھروپولوجی کا بھی دل چسپ موضوع ہے۔مسلمانوں کی آمد کے بعد سے برصغیر میں زندگی دو واضح دھاروں میں بٹی دکھائی دیتی ہے۔ایک دھارا مفاہمت کے رویوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے تو دوسرا مزاحمت کی نمائندگی کرتا ہے۔مختلف ادوار میں ان دھاروں کی نمائندگی مختلف گروہوں نے کی ہے۔ان میں سے ایک گروہ اگر مقلدین پر مشتمل ہے تو دوسرا غیر مقلدین کی آرزوؤں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔یہ دونوں دھارے برصغیر کے پسماندہ عوام کی سیاسی اور سماجی زندگی پر اثر انداز ہونے کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ برسرپیکار رہے ہیں۔دونوں کے درمیان فکری ٹکراؤ ہمیشہ پر امن نہیں رہا بلکہ یوں کہا جاسکتا ہے کہ یہ ٹکراؤبرصغیر میں بدامنی اور خونریزی کے طویل سلسلے میں ایک طاقتور زیریں لہر کے طور پر کار فرما رہا ہے۔ مفاہمت کے دھارے کا منبع واضع طور پر طاقت کے مراکز سے پھوٹتا ہے اور مزاحمتی دھارے نے ان مراکز سے دورعوامی زندگی کے ساتھ ربط ضبط سے اپنی طاقت کشید کی۔ مفاہمت پر بضد دھارے کی قیادت مولوی ،برہمن، جاگیر دار اور ریاستی عمال یا بیوروکریسی کے ہاتھ میں تھی۔یہ وہ گروہ تھا جس کے مفادات براہ راست دربار کے ساتھ وابستہ تھے ۔آج کی اصطلاح میں انہیں مضبوط مرکز کا سرگرم حامی بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔اس کے برعکس مزاحمتی دھارے کی قیادت روایتی طور پر ہندو اور مسلمان صوفیوں کے علاوہ ان گروہوں کے ہاتھ میں رہی جو موقع ملنے پر کسانوں کی تحریکیں منظم کرتے تھے اور سرکار دربار سے ڈاکو کا خطاب پاتے تھے۔ ایک گروہ میں اگر داراشکوہ ، سرمد،شاہ حسین ،بھلے شاہ، بابا گرونانک اور بھگت کبیر دکھائی دیتے ہیں تو دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کی نمائندگی کا شرف اورنگ زیب عالمگیر کو حاصل ہے۔ روایتی طور پر ریاستی اقتدار پر مفاہمتی گروہ کی بالادستی رہی جبکہ مزاحمتی گروہ اس بالادستی کو توڑنے اور ریاست پر اپنا کنٹرول حاصل کرنے کیلئے مسلسل کوشاں رہا۔لیکن وہ کبھی بھی طاقت کے اس حصار کو توڑ نہ پایا جو اس بنا پر اس کے ساتھ کسی بھی سطح پر ’’ پاور شیئرنگ‘‘ سے انکاری رہا کہ اس کا براہ راست رشتہ خاک نشینوں سے تھا۔وہ اس خوف میں مبتلا تھا کہ اگر غیر مقلد مزاحمتی گروہ ریاست پر قابض ہوگیا تواس کے ساتھ ہی ’’بد تہذیب اور گنوار‘‘ خاک نشین بھی دربار میں گھس آئیں گے ۔یوں مقدس شاہی آداب کا تقدس ’’ جئے بھٹو‘‘ قسم کے باغیانہ نعروں سے تار تار ہوجائے گا اورشاہی محلات کے نفیس ایرانی قالینوں پر گندے پیروں سے وہ داغ لگیں گے جو کسی لانڈری میں دھوئے نہ دھلیںگے۔تاریخ کے کسی موڑ پرداراشکوہ کی صورت میں اگر کوئی ایسا خطرہ حقیقت بن کر سامنے آیا بھی تو اسے’’عبرت کی مثال‘‘ بنا دیا گیا۔

برصغیر کی تقسیم کو بھی تاریخ کے اسی تسلسل میں رکھ کر دیکھا جاسکتا ہے لیکن یہ ایک الگ موضوع ہے۔مختصر طور پر یہ کہا جاسکتا ہے تقسیم کے بعد ہندوستان نے تو ریاستی اقتدار میں دونوں گروہوں کو اس طرح سمو لیا کہ ان کی ماہیت ہی بدل گئی لیکن پاکستان میں فکری ٹکراؤ کا یہ تسلسل اب تک جاری ہے۔ گویہ کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ عہد میں مفاہمت اور مزاحمت کے دھاروں کے رخ زیادہ واضح نہیں ۔یہاں مزاحمتی دھارے کی نمائندگی بائیں بازو کی قوتوں، ذوالفقار علی بھٹو اور پیپلز پارٹی کے حصے میں آئی جبکہ دوسرے گروہ کے نمائندوں کی شکلیں اس قدر واضح ہیںکہ انہیں دور سے پہچانا جاسکتا ہے۔ بعد ازاں زمانہ حال کے نواز شریف اور مسلم لیگ نون بھی تاریخ کے جبر کے تحت مزاحمتی دھارے میںشامل ہونے پر مجبور ہوئے ۔ نواز شریف گو اپنے مزاحمتی مزاج میں دونوں کے ہمسر ہیں تاہم وہ اس بنا پر مختلف ہیں کہ وہ اپنا رشتہ مقلدین کے گروہ سے تاحال جوڑے رکھنے پر مائل ہیں۔داراشکوہ کی طرح ذوالفقار علی بھٹو کا تعلق بھی طبقہ اشراف سے تھا۔دونوں غیر مقلد تھے اور دونوں صوفیا اور شعرا کے عاشق تھے۔اس کے ساتھ ہی ان دونوں نے اپنی قوت محروم طبقوں میں تلاش کرنے کی کوشش کی اور اس کوشش میں دونوں شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے طرز سیاست پر یقینا ایک سے زیادہ آرا ہوسکتی ہیں۔تاہم ان کے طرز زندگی اور ان کی موت کو تاریخ کے تسلسل میں رکھ کر دیکھا جائے تو ہمارے لئے معاملات کو سمجھنا آسان ہوسکتا ہے وگرنہ ہم پاکستانی سیاست کی موجودہ تہہ در تہہ پیچیدگیوں کو ٹھیک طرح سے سمجھ نہیں پائیں گے۔بھٹو شہید پر یہ الزام لگایا جاتا رہے گاکہ انہوں نے مزاحمتی دھارے میں رہتے ہوئے بھی مفاہمتی گروہ سے بھی اپنی طاقت کشید کی ۔یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے جس پیپلز پارٹی کی بنیاد عوامی امنگوں پر رکھی اس کے دروازے بعد میں عوام دشمن قوتوں پر بھی کھول دئیے ۔اس کا ایک سرسری سا جواب تو بائیں بازو کے ناکام تجربے کی روشنی میں تلاش کیا جاسکتا ہے تاہم ایک اور جواب ہے جو نہایت واضح ہے اور یہ جواب ہے ان کا عدالتی قتل۔

مزاحمت کرنے والے بہادر ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنا رشتہ خاک نشینوں سے جوڑتے ہیں اور ان کی سربلندی کیلئے اپنی جان دے دیتے ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو نے یہی کیا اور بے نظیر بھٹو نے اسی روایت کو آگے بڑھایا۔ان دونوں کے جانشین اگر ان کی تاریخ میں پیوست فکری وابستگیوں کو اپنے پیش نظر رکھتے ہوئے آگے بڑھیں گے تو ان کا بھلا ہوگا اور عوام کو بھی سربلندی کے اس خواب کی تعبیر مل پائے گی جو ذوالفقار علی بھٹو نے ان کی آنکھوں میں سجایا تھا۔ اٹھارہ فروری کے انتخابات نے بھٹو کے جانشینوں کو واضح راستے دکھا دئیے ہیں کہ سیاسی سفر میں کون ان کے فطری اتحادی ہیں اور کون ایسے ہیں جو انہیں راہ سے بے راہ کرنے کیلئے ان سے پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ملک کے موجودہ نازک حالات میں قومی مفاہمت یقینا ناگزیر ہے اور محبت کے زمزمہ کا بہنایقینا خوش آئند ہے لیکن قومی مفاہمت کے نام پر بھیڑ اکٹھی کرلینا اور محبت کے زمزمے کا بے سمت ہونا اس ساری جدوجہد پر پانی پھیر سکتا ہے جو بھٹو خاندان کی قربانیوں سے عبارت ہے اور جس کی تقویت آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے درمیان یکجائی سے مشروط ہے۔

Zulifqar Ali Bhutto Tareekh Ka Rizmia Kirdar is an urdu article about Zulifqar Ali Bhutto by Atif Aleem

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......