خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سنا افسانہ تھا

Submitted by Guest (not verified) on Tue, 07/29/2008 - 18:41

آج جب بین الاقوامی اور خود ہمارے مقامی ’’دانش ور‘‘ طبقے میں اس ’’مملکت ِ خداداد‘‘ بارے اس طرح کی بحث و قیاس آرائیاں عام ہیں کہ آیا پاکستان ایک نام کام ریاست، روگ سٹیٹ یا پھر بنانا ریپبلک کا درجہ اختیار کر گیا ہے اور یہ کہ 2010ئ، 2015ئ یا اس سے زیادہ 2020ئ تک اس ’’مملکت‘‘ کے جغرافیہ میں کچھ ناگزیر تبدیلیاں رونما ہوچکی ہوں گی، ایسے میں یہ سوال یقینا غیر متعلقہ اور غیر اہم نہیں رہے گا کہ ’’قوم‘‘ کی تعریف کیا ہے؟ اور افراد کے ایک ابنوہ کثیر میں وہ کیامشترکہ علامات و خصوصیات ہوتی ہیں یا جن کی بنائ پر وہ ’’قوم‘‘ کہلانے کا حق دار ٹھہرتا ہے؟ کیونکہ ریاست ہو یا ’’مملکت‘‘ ’’قوم‘‘ ہی سے تشکیل پاتی ہے۔ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘ کے کالم نگار عاطف علیم 10جولائی 2008ئ کے اپنے کالم ’’آہٹ‘‘ میں اس موضوع پر کچھ یوں رقم طراز ہیں۔
’’انسانوں کا ایک مخصوص گروہ، مخصوص جغرافیائی اور اقتصادی حالات میں، اپنے مقامی ذرائع پیداوار، پیداواری رشتوں اور تاریخ کے مشترکہ سفر کا حامل ہو تو علم سیاسیات کے مطابق ’’قوم کہلاتا ہے۔‘‘ قوم کوئی ساکن و مجرد اکائی نہیں بلکہ ایک متحرک نامیاتی وجود ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ اپنی شباہت میں تبدیلیاں پیدا کرتا رہتا ہے۔‘‘
جبکہ ’’تاریخ عروج و زوال اقوام‘‘ کے ایک ادنیٰ طالبِ علم کی حیثیت سے خود راقم الحروف ’’قوم‘‘ کی تعریف میں درج بالا سطور میں عاطف علیم کی طرف سے بیان کردہ خصوصیات کے علی الرغم یا چلئے بین بین ایک انتہائی اہم فیکٹر یا خصوصیت کا اضافہ ناگزیر سمجھتا ہے اور وہ ہے۔
’’ایک متفق الیہ مرکز اطاعت جو پوری قوم ﴿یا تمام افراد﴾ کی کسی مشترکہ اور متفقہ مقصدِ حیات یا منزل کی جانب پیش قدمی میں، قیادت کا فریضہ انجام دے رہا ہو۔‘‘
نا چیزکی رائے میں اس متفقہ اور مشترکہ ’’منزلِ حیات‘‘ اور بالخصوص اس کی سمت رہنمائی کرنے والے ’’اولوالامر‘‘ کی غیر موجودگی میں افراد کا انبوہ کثیر بھیڑ بکریوں کا گروہ تو کہلا سکتا ہے ’’قوم‘‘ نہیں، قطی طور پر نہیں۔
قرآن مجید نے بلا وجہ تو اللہ اور اس کے رسولö کے بعد اس ’’اولوالامرمنکم‘‘ کی غیر مشروط اطاعت کا حکم نہیں دے ڈالا!
آئیے برادران وطن،تاریخ کی روشنی میں جاننے کی کوشش کریں کہ 1947ئ میں برٹش امپیریلزم کی گرفت سے ’’آزادی‘‘ حاصل کرنے والی اس ’’مملکتِ خداداد‘‘ میں گزشتہ 61برس کی ’’زندگی‘‘ میں یہ مشترکہ و متفقہ خصوصیات کبھی موجود بھی رہیں کہ ہم یہاں کے بسنے والوں کو ایک ’’قوم‘‘ کہہ سکیں؟؟؟
عاطف علیم کے الفاظ میں ’’تاریخ کے مشترکہ سفر‘‘ کی بات کرتے ہیں تو دیکھنا پڑے گا کہ تقسیم ہند کے نتیجہ میں لاکھوں، کروڑوں پر مشتمل وسیع پیمانے کے تبادلۂ آبادی ﴿ہجرت﴾ کے بعد تاریخی سفر کا یہ اشتراک باقی رہا کہ نہیں؟ تقسیم ہند اور قیامِ پاکستان کے فیصلہ کن موڑ پر نئی قائم ہونے والی ہر دو مملکتوں کے قائدین نے دانستہ یا نا دانستہ طور پر اس تبادلۂ آبادی کو عارضی بند وبست قرار دینے کی جو کنفیوژن پیدا کی ﴿کہ مہاجرین اپنے بھرے پرے گھر لاک کرکے اس امید پر روانہ ہوئے کہ جلد ہی وہ واپس اپنے گھروں کو لوٹیں گے﴾ اس نے تو اشتراک سفر کے تسلسل کی گنجائش ہی بالکل ختم کردی، پھر اس پر وہ دو طرفہ فسادات جن کے نتیجہ میں بلا مبالغہ مسلمانوں ﴿یایوں کہئے پاکستانیوں﴾ کو کئی گنا زیادہ مالی و جانی نقصانات برداشت کرنا پڑے اور وہ ان صدمات کے نفسیاتی اثرات سے برسہا برس بعد بھی چھٹکارہ نہ پا سکے۔ منزل کا تعین مبہم تھا کہ وہ دستیاب زادِراہ کے ساتھ کمر کس کر عازم سفر ہوپاتے۔
یہاں اگر کوئی یہ کہے کہ ’’اسلامی نظریاتی مملکت‘‘ کی منزل کا تعین غیرمبہم طور پر کیا جا چکا تھا تو اس کی سادگی کی داد ضرور دیجئے دوستو کہ تاریخ گواہ ہے کہ بانیان پاکستان میں سے کسی نے تو اس کی واضح نشاندہی فرمانا ضروری نہ جانا بلکہ قراردادِ مقاصد کو چند اسلامی ’’دانشوروں‘‘ کی تسلی کی خاطر ﴿اس وقت کے حکمرانوں کی ضرورت کے تحت﴾ پاکستان کے پہلے نامکمل آئین کا حصہ بنانے کے اعلان کے باوجود انیس سو ساٹھ کی دہائی کے نصف تک ’’نظریہ پاکستان ‘‘ اور ’’اسلامی نظام حکومت‘‘ جیسی گمراہ کن تراکیب سننے میں بالکل نہ آئیں ۔یہ لفاظی توساٹھ کی دہائی میں مادر ملت فاطمہ جناح، احرار رہنما عطائ اللہ شاہ بخاری اور خاکسار اعظم علامہ عنایت اللہ خان المشرقی جیسے تقسیم ہند کے عینی شاہدین کی آنکھیں یکے بعد دیگرے بند ہونے کے ساتھ شروع ہوئی اور مکمل ہوا یہ دیباچہ 1970ئ کی انتخابی مہم کے دوران جب جماعتِ اسلامی نے ’’پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ‘‘ کو اپنے انتخابی منشور کی بنیاد بنایا اس اعلان کے ساتھ کہ جنرل یحییٰ خان کے شرابی ہاتھوں اور زانی دماغ سے وہ پاکستان میں ’’اسلامی نظام‘‘ نافذ کروا کر دکھائیں گے ﴿قارئین گواہی کیلئے 1970ئ کے اخبارات کی فائلز کھول کر مولانا مودودی اور میاں طفیل محمد کے بیانات غور سے پڑہیں﴾۔ یہاں ایک اور حوالہ بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ سید مودودی کے دیرینہ نظریاتی حریف غلام احمد پرویز نے بھی اسی دور میں قائد اعظم کے منہ سے اپنے الفاظ میں پاکستان نامی مملکت کو دنیا کی پہلی اسلامی نظریاتی ریاست قرار دیا اور موصوف مرتے دم تک بایں ہمہ اپنے اس موقف کو ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے گو ساتھ ساتھ اس اصرار کے کہ قائداعظم کے ذہن میں ’’اسلامی نظام‘‘ کا جو خاکہ تھا وہ مودودی کے اسلام سے بالکل مختلف اور خود پرویز کے پیش کردہ اسلام کے عین مطابق تھا۔
رہی ’’مسلمانوں کیلئے معاشی بنیادوں پر علیحدہ مملکت‘‘ کی بات تو اس نقطۂ نظر کو پذیرائی یہاں کبھی مل نہ سکی۔ ملتی بھی تو کیسے؟ پاکستان کے مسلمانوں سے کہیں زیادہ تعداد میں مسلمان تو آپ بھارت میں چھوڑ آئے جن کے مالی و معاشرتی حالات تقسیمِ ہند اور ’’مسلمانوں کی بھارت سے علیحدگی‘‘ کے باعث ابتر سے ابتر ہوتے چلے آئے ہیں آج تک۔ ویسے بھی پاکستان کی صورت میں بہتر تجارتی مواقع سوائے کراچی کے میمنوں کے ﴿یاپھر کچھ فیصل آباد کے جولاہوں کے﴾ کس کو حاصل ہوئے؟ باقی ماندہ پاکستان میں تو وہی وڈیرہ شاہی جاگیردارانہ نظام ہی قائم رہا جو پہلے سے موجود چلاآرہا تھا۔

اب اگر صاحبو! تاریخ کے مشترکہ سفر کے تسلسل کو دو متحارب ریاستوں کے قیام اور وسیع پیمانے پر بے ہنگم اور غیر یقینی تبادلۂ آبادی کے نتیجہ میں آپ نے منقطع کر دیا۔ منزل مقصود اور نصب العین کا تعین بھی بروقت نہ ہوسکا بلکہ متنازعہ قرار پایا۔ مشترکہ مفادات کا حصول بھی غیر واضح رہا، اور تو اور غیر متنازعہ مشترکہ قیادت بھی دستیاب نہ رہی تو پھر ’’قوم‘‘ کیسے تشکیل پاتی بھلا؟؟
چلئے ایک بار پھر چلتے ہیں عاطف علیم کے کالم ’’بس ایک چنگھاڑ کی دیر ہے‘‘ کی طرف جس کا حوالہ مضمون ہذا کی ابتدائی سطور میں دیا جا چکا ہے ﴿جو سلسلہ ’’آہٹ‘‘ کے تحت روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘ میں شائع ہوا۔﴾ فاضل مضمون نگار وطنِ عزیزکے مستقبل بارے بجا طور پر خوش عقیدگی کا شکار دکھائی دیتے ہیں، جب فرماتے ہیں ’’خوف اور مایوسی کے اندر بھی ایک حرکی توانائی چھپی ہوتی ہے جو کسی مخصوص لمحے میں انبوہ کثیر کو باہم جوڑ دیتی ہے۔ سو اوپر سے اتری ہوئی قیادت تو خیر کیا بیچے گی لیکن سترہ کروڑ لوگوں کے ہجوم میں کہیں چھپی ہوئی روح عصر مجبوری اور خوف کی کسی انتہا پر انہیں خود دریافتی کے عمل میں لا سکتی ہے اور بند گلی میں دھکیلے گئے یہ لوگ ایک خوفناک چنگھاڑ کے ساتھ اپنے بند راستے کھول سکتے ہیں۔‘‘
یہاں اپنے فاضل دوست سے یہ سوال گستاخی پر محمول تو نہ ہوگا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور اس کے بعد بالخصوص روز بروز دگرگوں ہوتے حالات اور اب امریکہ بہادر کی طرف سے آئے روز پاکستانی حدود میں در اندازی اور ہماری سول آبادی اور سیکیورٹی ایجنسیز پر پے در پے جان لیوا حملوں کے بعد آپ مزید کس خوفناک چنگھاڑ (BIG BANG) کا انتظار فرمارہے ہیں؟؟ جو آپ کے بقول سترہ کروڑ لوگوں کو ایک ساتھ جوڑ دے گا، جس کے نتیجہ میں ’’ایسا پاکستان وجود میں آئے گا جسے ڈرانا اور دھمکانا کسی کیلئے ممکن نہیں ہوگا۔‘‘ آپ کے منہ میں گھی شکر!
محترم المقام آپ ’’روح عصر‘‘ نامی کس معجزہ کے منتظر ہیں؟ جب آپ خود فرماتے ہیں کہ ’’پاکستان میں وفاق کا کردار حقیقی طور پر منفی رہا ہے۔‘‘ اور نہ ہی آپ کے تصورات کے مطابق اس وفاق کی قومیتی اکائیاں ایک ڈھیلی ڈھالی ہی سہی مرکزیت کی جانب بڑھ پائی ہیں۔
آپ کی اس روح عصر ﴿وفاقیت﴾ کی متجسم صورت 1973ئ کا آئین ہی قرار پائے گا نا، ایک متفقہ عمرانی معاہدہ جو بجا طور پر پاکستان ایسے ممالک میں مرکزیت اور اتحاد کی شاید آخری عملی صور ہوسکتی تھی۔ تو سنئے صاحب ذی وقار خود اپنے خالق یعنی قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو ﴿شہید﴾ کی طرف سے سات تیز رفتار ترامیم اور اس کے بعد اب تک دس مزید یک طرفہ ترامیم کے بعد تو یہ آئین بھی متفقہ نہ رہا اور نہ ہی اتحاد و مرکزیت کی علامت کہ اب سوائے پنجاب کے اس کی تمام اکائیاں ’’نئے عمرانی معاہدہ‘‘ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ سرحد و بلوچستان کی صورت حال تو سب پہ واضح ہے، شہری سندھ و دیہی سندھ کی تقسیم کے بعد اب بالائی پنجاب اور زیریں پنجاب ﴿سرائیکی بیلٹ﴾ کے رجحانات میں تفاوت کا حتمی اظہار الیکشن 2008 ئ کے نتائج سے ہی ہو چکا۔ حال ہی میں ’’سرائیکی صوبہ‘‘ کے مطالبہ میں پڑی نئی جان بھی آپ کی نظروں سے اوجھل نہ ہوگی یقینا۔
قارئینِ کرام! ہمارا حقیقی المیہ یہ ہے کہ ہمارے ارباب حل و عقد اور اہلِ دانش مسائل کی مبادیات تک پہنچے بغیر حل کیلئے دور کی کوڑیاں لانے اور رجائیت پسندی کے ذعم میں ’’قوم‘‘ کو سہانے خواب دکھانے کے عادی ہیں۔ بھائیو حقیقت احوال کو قنوطیت، یاسیت یا خاکم بدہن پاکستان دشمنی پر محمول مت کیجئے۔ آنکھ کھول کر دیکھئے، ماضی کو اچھی طرح پہچانئے، حال کو جانئے تاکہ مستقبل کیلئے راہیں تلاش کی جاسکیں۔
آپ مان کر کیوں نہیں دیتے کہ ò مری تعمیر میں مضمر تھی صورت اک خرابی کی
اب تو میڈیکل / سرجیکل سائنس نے ترقی کی یہ شکل اختیار کرلی ہے کہ پیدائشی و موروثی عوارض کی بھی جراحی سے اصلاح ممکن ہے۔
پاکستان میرا، آپ کا، ہم سب کا وطن ہے اور ہماری آخری جائے پناہ بھی۔ اس وطن سے محبت نہ صرف ہماری بقا کا راز ہے بلکہ ایمان کا حصہ بھی۔ لیکن جتنی بڑی حقیقت یہ وطن اور اس سے ہماری لازوال محبت ہے، اتنی ہی بڑی حقیقت یہ ہے کہ ساٹھ اکسٹھ برس اصلاح احوال کی کسی سنجیدہ کوشش کے بنا گزارنے کا نتیجہ یہ ہے کہ مرض اب بڑھ کر کینسر کی صورت Chronicہوچکا اور اسے شدید اشد ضرورت ہے Intensive Surgeryکی۔۔۔
ہمارے کرنے کا کام شاید صرف اتنا ہے دوستو کہ احساسِ زیاں پیدا کرتے چلے جائیں کہ احساس زیاں سے عاری ’’قوم‘‘ کبھی تلافیِ ٔ مکافات کا سوچ بھی نہیں سکتی ۔
ò وائے نا کامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
بلکہ اصل کام یہ ہے کہ اپنے ارد گرد لوگوں کو ’’حاضر و موجود سے بیگانہ، بے زار بلکہ متنفر‘‘ کرتے چلے جائیں کہ جب تک ہمیں ’’آزادی‘‘ کے نام پر بپا کئے گئے اس ہولناک فراڈ کی حقیقت معلوم نہ ہوگی، نہ ’’انقلاب‘‘ کی تڑپ و ضرورت پیدا ہوگی نہ غلامی سے مکمل نجات کی اُمنگ!!!

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......