حاضری از فرخ نور

Submitted by Farrukh Noor on Tue, 10/02/2007 - 19:04

حاضری

جنکی حاضری لگا کرتی ہے؛ وہ کام نہیں کیا کرتے؛ جو حاضری لگواتے ہیں؛ وہ کام کے عادی نہیں ہوتے۔ وہ کام چور ہوتے ہیں۔ ہمارے دفاتر، اسکولوں میں حاضریdiscpline کے لیئے ہوتی ہیں؛ ریکارڈ کے لیئے بھی ہوتی ہیں۔ ۔ ۔ مگر standard کہاں گیا? ایک دکان پر بھی انسان حاضری لگاتا ہے (ملازمت حاضری ہے)، ہم درباروں پر بھی حاضری لگاتے (لگواتے) ہیں۔ لوگوں کے پاس جا کر بھی حاضری لگواتے ہیں۔ نماز میں بھی حاضری لگاتے ہیں؛ مگر کیا اللہ ہماری ہر صبح کی حاضری لگاتا ہے۔ ابھی تو یہ سوال حل نہیں ہو پائے گا کہ ہم حاضری لگاتے ہیں یا لگوائے جاتے ہیں۔ ۔ ۔ ہر جانب صورت درست ہی ہوگی۔ فرض کی جگہ تو حاضری لگائی جاتی ہے؛ تو ایک فرض کے نام پر تفریح کی حاضری ہونی چاہیے۔ ۔ ۔ حاضری وہاں ہوا کرتی ہے۔ جہاں کوئی headہو اور جہاں تبادلہ خیالات ہو؛ وہاں حاضری نہیں ہوتی؛ اگر حاضری ہو تو تبادلہ خیال معطل ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ خیال پر focus کی جگہ حاضری کی خواہش نمایاں رہ جاتی ہے۔

کہتے ہیں؛ نماز پڑھ لینے سے مسائل حل ہوجاتے ہیں مگر ہم نماز پڑھتے نہیں۔ خدا کو یاد کرتے ہیں پر یاد خدا سے غافل ہے۔ دعا کی تمنا کرتے ہیں مگر دعا کے عمل سے فارغ ہے۔ گرچہ دعا بے وقت، بے موقع مانگی جاسکتی ہے۔ دعا میں اثر، نماز میں اثر؛ عمل کی نیت سے ہیں۔ بس! آج ہم حاضری لگا دیتے ہیں۔ حاضری سے بڑھ کر بات نہیں۔ چلوں! حاضری لگا دینے والے نہ لگانے والوں سے تو کچھ بہتر مگر جن کے عمل حاضری کے باوجود بے عملی کے رہے تو وہ حاضری؛ غیر حاضری ہی ہے۔ غیر حاضری میں جو عمل؛ بے عملی کی بجائے؛ عمل درآمد ہوئے؛ برآمد نہ ہوئے؛ وہ غیر حاضر ہو کر بھی حاضر ہے۔ گویا قاصر کی درخواست قبول ہوئی؛ حاضر کی درخواست reject ہوئی۔ لوگ کہتے ہیں؛ پیاسا کنوئیں کے پاس جاتا ہے؛ مگر خدا کے ہاں کنواں پیاسا کے پاس آتا ہے کہ یہ پیاس بچجھتی ہے کہ نہیں۔ بس یہ اک حال کیفیت ہے۔

جب مفاد ہوتا ہے تو اللہ کو یاد کرتے ہیں؛ ماتھا رگڑتے ہیں۔ توبہ نہیں کرتے کہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے۔سب کچھ جان کر بھی اللہ سے کہتے ہیں۔ حاجت پوری کرو تو تجھ کو تسلیم کریں گے، ادائیگیاں فرض قائم رکھے گے۔ ہم فرض پر بھی اللہ سے سودا کرتے ہیں۔ مراد حاجت کو اللہ کے حکم سے منسوب کردیا، دھمکی دے دی، شرط لگا دی۔ مگر اس رویہ کے باعث بھی ہماری حاجت پوری ہوجاتی ہےمگر وعدہ نہیں نبھاتے اور عذر تلاش کرلیتے ہیں۔

بس میں بھی ایسا ہی ہوں کہ عذر کی تلاش کرلیتا ہوں۔ درحقیقت میں خود ناانصافی کرتا ہوں۔ اسی لیئے تمام دنیابھی عذر کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ اسلام کی clear statements کو اپنے مفاد کی خاطر دلائل اور تاویلوں کے ذریعے اپنے حق میں کردیتا ہوں۔ جیسا ایک شوہر اپنی بیوی کو طلاق دے کر پچھتائے کہ غصہ میں ہوگیا؛ ارادۃ نہں ہوا تو ہم مفتی ،علماء حضرات سے رابطہ کرتے ہیں کہ کسی فقہ میں ہماری یہ طلاق ؛ طلاق ثابت نہ ہو؛ کوئی چھوٹ مل جائے۔ جس فقہ میں یہ لچک ہو اس مسلک کو ہی اپنا مسلک اپنا لے گے۔ سچائ جانتے ہیں؛ اسکو کس قدر ہم موڑ دیتے ہیں۔

بس ہم نماز پڑھتے نہیں تو عذر پیش کردیتے ہیں۔ جبکہ عذر قابل قبول نہیں اور جب پڑھتے ہیں تو اکثر افراد صرف نمازی، پاک،دیندار کہلانے کے لیئے پڑھتے ہیں۔ اللہ کی خوشنودی کے لیئے نہیں اگر اللہ کی خوشنودی تو عملی زندگی بھی پاک صاف ہو۔ فراڈکرتے ہیں اور اللہ کے حضور حاضر ہو کر سمجھتے ہیں fraud کی بخشش ہوگئ۔
یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ اپنے حقوق تو معاف کرسکتا ہے۔ مگر بندوں کےحقوق نہیں؛ مگر اسکو بھی ہم اپنے شاندار دلائل سے نظر انداز کر دیتے ہیں۔
کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ظالم ہوتے ہیں اور ظلم کے بعد اللہ کی بارگاہ میں پیشانی رگڑتے ہیں۔ان میں سےکچھ سچی توبہ کے لیئے اگر توبہ سچی ہوتو
کفارہ بھی ادا ہوسکتا ہے اور اگر کفارہ کی ادائیگی کا موقع بھی ہو اور ادا نہ کرے مگر عبادات خوب کرے تویہ کیا ہے? کیا یہ اللہ کی طرف سے سزا ہے۔ ایسا حق مارنے والوں کے ساتھ ہی ہوا کرتا ہے۔

کسی کو اسکے مال سے بے ہتھل کر کے لاچار بنا دیتے ہیں اور خوب نمازیں، عمرہ اور حج ادا کرتے ہیں؛ کسی کا مال مار کر ہم نیک نامی کماتے ہیں۔ تو یہ سب کچھ ثواب نہیں ہے۔ بلکہ اللہ کی طرف سے سزا ہے کہ خوب عبادت کرو؛ جسکا کوئی اجر نہیں؛ کیونکہ ہمارے ہم کسی کی ہا ہا کے نتیجے میں ایسا کرتے ہیں۔ اور ہائے کا علاج بندوں کے حقوق کی ادائیگی میں ہے؛ اللہ سے معافی میں نہیں۔ بھائی ہمارا غربت کی چکی میں پس جائے مگر ہماری زکوۃ ان غرباء کے لیئے ہو جو ہماری نیک نامی کے گیت گائے مگر اپنے سگے بھائی کے لیئے نہ ہو۔ فرض کی ادائیگیاں ہم کس قدر خوبصورت طریقہ سے کرتے ہیں اور ان کو اللہ کے ہاں قابل منظور سمجھتے ہیں۔ دراصل ہم فرض ادا نہیں کرتے بس ایک بوجھ کو سر سے اتار پھینکتے ہیں اور اسطرح اتارتے ہیں کہ اس میں بھی کاروبار ہی کرتے یہں۔ ہماری مثال class room میں سوئے ہوئے اس بچے کی مانند ہے جو سمجھتا ہے کہ اس کی حاضری لگ گئی ہے؛ مگر وہ دل میں بخوبی جانتا ہے کہ وہ غیر حاضر ہی ہے ۔ اس کا موجود ہونا یا نہ موجود ہونا مقصد کے حوالے سے ایک ہی ہے؛ غیر حاضری۔ ہم دھوکہ کس کو دے رہے ہیں? خود کو، لوگوں کو، اپنے اساتذہ کو، اپنے والدین کو یا اللہ کو۔۔ ۔ ۔ یقینا خود کو۔

کتنی عجیب بات ہے کہ ہم خدا پر یقین نہیں کرتے۔ اللہ کے بندوں پر یقین کر لیتے ہیں۔ اور خدا پر یقین رکھتے ہیں مگر خدا پر یقین نہیں کرتے۔
(فرخ)

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......