تبدیلی کی خواہش اور خراٹوں کا آہنگ

Submitted by Guest (not verified) on Thu, 12/20/2007 - 19:15

تبدیلی کی خواہش اور خراٹوں کا آہنگ

وی آئی پیز کی بجائے قوم سے اتحاد کیجئے
از: ڈاکٹر ظفر اقبال

ایک بات تو طے ہے کہ ایسے ہی نہیں چلے گا۔اور تبدیلی ہو کر رہے گی۔ مگر تبدیلی لائی جائے گی ،مسلط کی جائے گی یا "پیش" آ جائے گی۔اس کا انحصار ہمارے مجموعی رویوں پر ہے،جو ہمارے انفرادی رویوں کا ایک اجتماعی پرتو ہو گا۔

جو تبدیلی ہمارے خواب و خیال میں ہے اس کے کچھ تقاضے ہیں۔
تبدیلی اگر خواہش پر منحصر ہوتی تو جرمنوں کی توپوں میں کب کے کیڑے پڑ چکے ہوتے۔
اور تبدیلی اگر حالات کی شدید خرابی کے پست ترین نقطہء انحطاط کی محتاج ہوتی تو ہم سب کو اس کی آمد کا جشن منانا شروع کر دینا چاہے۔۔اللہ اللہ خیر صلا۔

مطلوبہ تبدیلی ایک وژن کا،ایک عہد کا،اس سے منسلک دور رس نتائج کی حامل منصوبہ بندی کا ،اس کی متقاضی تنظیم سازی کا،قوم کی بیداری،قوم کی صف بندی کا اور پھر ایک منصوبہ بند جدوجہد کا تقاضا کرتی ہے۔اس کے راستے کی تمام مشکلات اوررکاوٹوں کا ادراک مانگتی ہے۔مقابلے کا حوصلہ اور ایک کنوکشن مانگتی ہے۔قیادت کا صحیح انتخاب اور اس پر اعتماد طلب کرتی ہی۔تبدیلی کے نقیبوں میں سرعت کے ساتھ صحیح فیصلوں کی صلاحیت اور ان کی ایک مطلوبہ ساکھ چاہتی ہے۔ جی ہاں ساکھ جو بعض اوقات جان سے بھی قیمتی بن جاتی ہے۔اور اجتماعی ساکھ تو اور بھی بڑیی قربانیاں اور تسلسل کے ساتھ موقف میں پختگی مانگتی ہے۔

گروہی مفادات کی بڑے مقصد کے سامنے قربانی یا اس سے ہم آہنگی مانگتی ہے۔
سب سے اہم یہ کہ قوم کی قیادت کیا کردار ادا کرتی ہے،اور قیادت کے اجزاء کتنے خالص اور کتنے مفید ہوتے ہیں۔

قوم کے کچھ بیدار عناصر نے پاکستانی تاریخ کے اہم ترین موڑ پر زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ کیا ہے
قاضی صاحب اور دیگر رہنما اپنی صفوں کو مضبوط کر لیں تو قوم کو نیا حوصلہ مل سکتا ہے۔اگر تبدیلی کے راستے کو اپنا سب سے بڑا مسئلہ بنا لیں اور اس کا شعور اپنے اور قوم کے اندر گہرا کر لیں تو اس کام کی رفتار اور بھی تیز ہو سکتی ہے۔جوں ہی یہ جدوجہد رفتار پکڑے گی۔جوابی اقدام ہو گا۔مزاحمتی عناصر میں عمودی اور افقی ہر لحاظ سے اختلافات پیدا کرنا استحصالیو ں کا سب سے بڑا ایجنڈا ہو گا۔۔
لیکن جدوجہد کے اس مرحلہ پر ہی یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ اس جدوجہد میں لیڈری کے لئے پلیٹ فارم کی تلاش میں امیدواروں کے لئے "نو ویکنسی" ابھی سے لکھ دیا جائے ورنہ بعد میں قربانی دینے والے مخلص کارکنوں اور عوام کی فرسٹریشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اب یہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کس ظرح ایم آر ڈ ی کی میٹنگ کی روداد حاصل کر لیتی تھی۔۔ بھلافوجی مقتدرہ کے خلاف بننے والی اپوزیشن کے جس اجلاس میں سردار عبدالقیوم (مسلم کانفرنس)موجود ہوں اس میں خفیہ مائیک لگانے کی کیا ضروروت ہے۔ حشر جو ہونا تھا سب نے دیکھا۔

آج کس پر نظر رکھنی ہے۔ یہ دور اندیش لوگوں سے پوچھئے، ہمیں کیا پتہ۔
البتہ قیادت کا قافلہ بیدار ہو اور بیدار مغز بھی۔باضمیر بھی ہو اور با تدبیر بھی۔
اس میں ایک باضمیر جج اور ایک خود دار وکیل بے اعتبار نام نہاد سیاست دان اور اس کے مطلبی چیلوں سے بھاری ہو گا۔ ہمیں اس اندھیرے میں روشنی کے لئے جگنو جمع کرنے ہوں گے۔اور چمگادڑوں کی آنکھیں کھولنے کی مشق فضول کو چھوڑنا ہوگا۔ان کی کور چشمی کا علاج آپ نہیں کر سکیں گے۔ان کا اور رات کا رومانس ازلی ہے۔ان کی پھڑپھڑاہٹ قافلوں کی رہنمائی کے لئے نہیں رات کی ویرانی کو رونق بخشنے کے لئے ہے۔آپ بیدارون کو جمع کریں یا بیداری کے قابل خوابیدہ انسانوں کو بیدار کریں۔مردوں میں جان ڈالنے کا معجزہ ابن مریم کے لئے تھا۔
ضرورت ذندگی ،زندوں اور زندہ آوازوں کی ہے۔ورنہ خراٹوں کا آہنگ کتنا ہی بلند ہو جائے اور ان میں کتنا ہی نظم و ضبط پیدا کر لیا جائے وہ نعرہ ہائے آزادی میں ڈھل نہیں سکتے۔

جو سونے کو بیداری قرار دے کر اس کے فضائل کے قائل ہو چکے اور اس کے فوائد سے پوری قوم کو مستفید کرنا چاہتے ہیں ان سے "سلام" کر کے فاصلہ رکھیں۔"یہ خوابیدہ ہیں ،انہیں خوابیدہ ہی رہنے دو" جھگڑا اچھی بات نہیں مگر سانپ سے دوستی بھی اچھی نہیں۔خیر خواہ سب کے رہیے مگر بدخواہوں کو اہنا راستہ خراب نہ کرنے دیجئے۔ اپنے فیصلے کسی اور کے ہاتھوں میں نہیں بلکہ اپنے ہاتھ میں رکھئے۔

قوم کے نام نہاد وی آئی پیز کی بجائے قوم سے اتحاد کیجئے ،جس کا دامن تار تار مگر دل ملک و ملت کے لئے مخلص ہے۔
وہ جس صبح کی منتظر ہے کیا آپ اس کے نقیب بنیں گے??

Dr Zafar Iqbal zafariqbaldr@gmail.com

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......