تبت کا مسئلہ

Submitted by arifmahi on Fri, 03/21/2008 - 10:50

پہاڑوں کے دامن میں چودہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع تبت کو دنیا کی چھت کہا جاتا ہے۔ اس کی آبادی تقریباچھبیس لاکھ ہے جو بارہ لاکھ مربع کلومیٹر کے کوہستانی علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے۔

بیشتر آبادی بدھ مذہب میں یقین رکھتی ہے اور یہاں کی بدھ خانقاہیں اپنی مخصوص روایات اور طرزِ تعمیر کے لۓ مشہور ہیں۔

تبت ایک پر امن ملک رہا ہے۔ یہاں روایتی طور پر مذہبی رہنماء جنہیں دلائی لامہ کہا جاتا ہے روحانی اور حکومتی سربراہ بھی ہیں۔

انیس سو اکیاون میں چین کے ہزاروں فوجی دارالحکومت لہاسہ میں داخل ہوئے اور تب سے وہ تبت پر قابض ہیں۔ سن انیس سو انسٹھ میں مقامی آبادی نے چینی قبضے کے خلاف بغاوت کی لیکن چین نے انتہائی سختی سے یہ بغاوت کچل دی۔

اُس وقت تبت کے روحانی اور حکومتی سربراہ چودہویں دلائی لامہ تھے۔ وہ تبت سے فرار ہو کر ہندوستان آ گئے جہاں اُنہیں سیاسی پناہ دی گئی۔

ہندوستان نے اُس وقت سے اب تک تبت کو ایک آزاد خطےکی حیثیت سے تسلیم کیا تھا۔ دلائی لامہ اپنے ہزاروں حامی تبتی پناہ گزینوں کے ساتھہ ہماچل پردیش کی دھرم شالہ میں مقیم رہے ہیں۔

چین کے قبضے کے خلاف متعدد تبتی باشندوں نے اپنا وطن چھوڑ دیا اور آج پوری دنیا میں تقریباً ایک لاکھ تبتی پناہ گزیں ہیں جو اپنے وطن کی آزادی کے انتظار میں ہیں۔ دلائی لامہ نے گذشتہ چالیس برسوں سے چین کے قبضے کے خلاف عدم تشدد پر مبنی تحریک چلا رکھی ہے۔

اُنہوں نے ایک بار کہا تھا کہ یہ گذشتہ دو ہزار برس کے دوران ہماری تاریخ کا بد ترین باب ہے۔

مبصرین کے مطابق اس بات کے حقیقی خطرات موجود ہیں کہ تبتی قوم اپنے مخصوص ثقافی اور تہذیبی ورثے کے ساتھہ ہمیشہ کے لئے فنا ہو جائے۔ موجود صورتحال اتنی سنگین ہے کہ تبتیوں کے لئے زندگی اور موت کا سوال بن گئی ہے۔

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......