برڈ فلو حقیقت یا افسانہ؟

Submitted by Guest (not verified) on Thu, 02/14/2008 - 04:28

برڈ فلو کیا ہے ؟
کیا یہ انسانوں میں منتقل ہوسکتا ہے؟
اور ان دنوں مرغی کا گوشت استعمال کیا جائے یا نہ کیا جائے؟

عوام کی صحت و سلامتی کے لیے ان سوالات کاجواب بہت ضروری ہے ۔ اس وقت پوری دنیا میں برڈ فلو سے آگاہی کا اہتمام کیا جارہا ہے. ا س حوالے سے بحیثیت پاکستانی پولٹری سائنس دان اپنے عوام کو حقائق سے آگاہ کرنا ہمارا فرض ہے کیونکہ پچھلےدس بارہ سال سے ہرسال دنیا میں وقفے وقفے سے برڈفلو کی خبریں گرم ہوتی ہیں۔ جس سے پولٹری صنعت سے وابستہ تمام ممالک متاثر ہوتے ہیں۔ ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پاکستان کا شمار دنیا میں بہترین پولٹری پیدا کرنے والوں میں ہوتا ہے اورپاکستان کی پولٹری کا معیار امریکہ اور یورپ کے برابر تسلیم کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان سے پولٹری خریدنے والوں میں یمن، سعودی عرب ، بنگلہ دیش اوردیگر کئی ممالک شامل ہیں ۔

پولٹری سائنس میں مرغیوں کا نزلہ زکام برڈ فلو کہلاتا ہے۔ جب سے انسان دنیا میں آیا ہے نزلہ زکام یعنی فلو اس کے ساتھ ہے ۔ یہ معمول کاایک وائرس ہے۔ اسی طرح انسانوں کی طرح جانوروں کا نزلہ و زکام بھی ہمیشہ سے موجود ہے۔ زمین پر جب موسم بدلتا ہے تودرجہ حرارت میں اچانک فرق سے انسان، مویشی اور پرندے نزلہ زکام کاشکار ہوتے ہیں۔ موسم کی تبدیلی سے جانداروں کا نظام تنفس متاثر ہونا معمول کا عمل ہے۔ ہمارے خطے میں اکتوبر،نومبر اوراپریل،مئی میں موسمی تبدیلی سے انسان اور جانور دونوں یکساں طورپر نزلہ وزکام سے متاثر ہوتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں پالتو پرند وں کو بھی برڈ فلو ہوتا ہے۔ پولٹری کا تعلق اڑنے والے پرندوں کی نسل سے ہے۔ اس لیے مرغیوں اور پرندوں کی بیماریاں ایک جیسی ہیں۔

جب سے دنیا وجود میں آئی ہے،انسان،جانور اور پرندے ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔پرانے زمانے میں دنیا بھر کے دیہاتوں میں ایک ہی گھر کے اندر انسان، جانور اور پرندے ،جن میں مرغی بھی شامل ہے، ایک ہی چاردیواری کے اندر رہتے رہے ہیں۔ آج کل بھی پاکستان کے دیہی علاقوں میں ایک ہی چاردیواری کے اندر انسان، گائے،بھینس،بکری، مرغیاں اوران کے بچے رہائیش رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا بندوبست کیا ہوا ہے کہ عام طور پر ان کی بیماریاں ایک دوسرے کومنتقل نہیں ہوتیں۔البتہ، چند بیماریاں ایک دوسرے کو تھوڑا بہت متاثر ضرور کرتی ہیں۔

مرغیوں کے نزلہ و زکام یعنی برڈ فلو کی تین بڑی قسمیں ایچ5, ایچ7اور ایچ9 ہیں۔ ۔ ابتداء میں سائنس دانوں کاخیال تھا کہ اگر نزلہ زکام کاوائرس H5N1 اپنی ہیئت تبدیل کرلے تو انسانوں کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس مفروضے کی بنیاد پر پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ میں تشویش پیدا ہوئی اوربرڈ فلو کے خدشات سے پولٹری کی صنعت سے وابستہ ممالک کے عوام میں خوف وہراس پیدا ہوا۔ اب برڈ فلو کی حقیقت واضح ہوچکی ہے۔ اقوام متحدہ کےادارہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی زیر نگرانی پیرس میں حیوانات کی صحت کے عالمی ادارہ O.I.E کے ڈائریکٹر جنرل برنارڈ ویلیٹ کایہ بیان ادارے کی ویب سائٹ پرموجو ہے.جس میں انہوں نے اپنے پہلے موقف میں تبدیلی کرتے ہوئے برڈ فلو کے متعلق کہا ہے کہ
Risk was over estimated and fears of an imminent pandemic were just non-scientific supposition.

گذشتہ دس سالوں کی تحقیق اورتجربات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اس وائرس کی انسانوں میں منتقل ہونے کی صلاحیت انتہائی کم ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی میڈیا اس ایشو کو اب بہت زیادہ اہمیت نہیں دے رہا۔ اس گلوبل ویلج میں عام آدمی بہت باشعور اورباخبر ہوچکا ہے۔ انٹرنیٹ اورکیبل چینلز سے دنیا کے ہر فردکی معلومات میں دن رات ضافہ ہورہاہے ۔اب افواہ زیادہ دیر اثر نہیں کرتی اور ذرائع ابلاغ کی وجہ سے عوام اپنے آپ کو پراعتماد محسوس کرتے ہیں۔

اب میں اس آخری سوال کی طرف آتا ہوں کہ کیا ان حالات میں مرغیوں کاگوشت اورانڈے استعمال کئے جائیں یا نہیں اورکیا ان کے استعمال سے انسانی صحت کو کوئی نقصان پہنچا ہے یا پہنچ سکتا ہے؟

اس کاجواب پچھلے دس بارہ سال کے تجربہ سے ملتا ہے۔ پچھلے دس بارہ سال سے دنیا بھر میں برڈفلو کاپرابلم چل رہا ہے۔ اس تمام عرصہ میں تمام دنیا میں کوئی بھی انسان مرغیوں کاگوشت یاانڈے چھونے یا کھانے سے بیمار نہیں ہوا۔ اس لئے اب اس پر دنیا بھر کے سائنس دان متفق ہیں کہ مرغیوں کاگوشت اورانڈے کھانے کے لئے محفوظ ہیں اوران سے انسانی صحت کوکوئی خطرہ نہیں ہے۔

اس وقت پاکستان میں 25 ہزار پولٹری فارم ہیں۔ جن میں 16کروڑ مرغیاں زندہ سلامت اورصحت مند ہیں اور ہرروز مارکیٹ میں اوسطاً 25لاکھ مرغیاں ذبح کرکے فروخت ہوتی ہیں۔جو ہرلحاظ سے صحت مند ہیں۔

پاکستان میں پولٹری ایک قابل فخراورقومی صنعت ہے جس میں پرائیویٹ سیکٹر نے 2 سوارب روپے کی سرمایہ کاری کررکھی ہے۔ اس صنعت سے 15لاکھ افراد کاروزگار وابستہ ہے۔ ہمارے ملک میں گوشت کی قومی ضروریات کا 40 فیصد مرغی کے گوشت سے حاصل کیا جارہا ہے لیکن پولٹری کے بحران سے پوری مارکیٹ متاثر ہوئی ہے۔ اس مندے سے پریشان ہوکر چالیس فی صد فارمر کام بند کرگئے ہیں۔ سینکڑوں پولٹری فارم بند ہونے سے ہزاروں ہنر مند بے روز گار ہوچکے ہیں۔جس کے نتیجے میں پولٹری کی پیداوارکم ہوگئی اورگوشت کی قلت پیدا ہوئی ۔جس کے ساتھ ہی مٹن اور بیف کی قیمت پچاس سے 70فی صد بڑھ گئی۔ اس طرح ایک غلط فہمی کے نتیجے میں بلاوجہ مہنگائی میں اضافہ ہوااورعوام سستے گوشت سے محروم ہوگئے۔
گزشتہ سالوں میں گوشت کی کمی دور کرنے کے لیے بھارت سے بکرے منگوائے گئے جن کاگوشت مہنگا اورغیر معیاری نکلا۔

آئندہ برڈ فلو کے کسی بحران سے بچنے اورافواہوں کی روک تھام کے لیے ملک میں آگاہی کا اہتمام پولٹری کی صنعت اورحکومت دونوں کی ذمہ داری ہے۔

برڈ فلو حقیقت یا افسانہ؟
تحریر ڈاکٹر محمد صادق
صدر ورلڈ پولٹری سائنس ایسوسی ایشن (پاکستان برانچ)
This is an Urdu article about Bird Flu by Dr. Muhammad Sadiq, President World Poultry Science Association, (Pakistan Chapter)

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......