ایک خط حسن جمال کے نام

Submitted by Guest (not verified) on Wed, 01/16/2008 - 09:07

- مشرف عالم ذوقی
محترم حسن جمال صاحب!
سرچشمۂ خلوص و عقیدت
خدا کرے آپ بخیر ہوں، ’شیش‘ ملا۔ شکریہ ۔ اچانک نگاہ آصف ملک کے ذریعہ پاکستان میں لیے گئے، اقبال مجید سے انٹرویو پر چلی گئی۔ میرے لیے یہ موضوع دلچسپ تھا کہ پاکستان میں ترقی پسند نقاد حسن عابد کی آرام گاہ پر علی احمد فاطمی اور اقبال حیدر کے سامنے لیے گئے انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا: ’آج ہندستان کے اچھے افسانہ نگار کون ہیں۔ اقبال مجید نے جواب دیا. اشرف اور ساجد۔ سوال کرنے والے کا جوابی حملہ تھا— اور مشرف عالم ذوقی؟ اقبال مجید سے علی احمد فاطمی جیسوں کی موجودگی میں جس جواب کی امید تھی، انہوں نے وہی جواب دیا۔ لیکن سوال کے سوتے یہیں سے پھوٹتے ہیں بھائی! بات شاید 1998 کی ہے۔ پاکستان سے نکلنے والے رسالہ بادبان ﴿مدیر: ناصر بغدادی﴾ میں میرے ایک خط پرکافی بحث ہوئی تھی۔ در اصل میرا خط اقبال مجید کے لکھے گئے، ان پانچ الگ الگ خطوط کا جواب تھا، جو مجھ پر ’حملے‘ کے طور پر لکھے گئے تھے اور جب میں نے بادبان میں اقبال مجید کو تلخ جواب دیا تو انہوں نے تلملا کر اس وقت کے آجکل کے مدیر محبوب صاحب کو بھی جواب لکھ بھیجا کہ ذرا ذوقی کو سمجھائیں— جہاں کہیں بھی مجھے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر مجھے میرے قاری سے الگ کیے جانے کی سازش ہو رہی ہے۔ میں وہاں خاموش نہیں رہتا۔ میرے بھائی افسانہ کیا ہے، یہ طے کرنے والے اقبال مجید نہیں ہیں— جہاں تک ’معلومات کے خزانے‘ کی بات ہے، خود یہی خزانہ کسی قدر اپنے بے حد کمزورناول کسی دن میں وہ تلاش کر چکے ہیں۔ اردو افسانہ آج کمزور اس لیے ہوا کہ ہم منٹو ، بیدی اور عصمت سے آگے نکلنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔ معلومات کے اس خزانے کی کمی یا معلومات کی تہہ میں نہیں جانے کا ردّ عمل ہے کہ ہم صرف بند ڈرائنگ روم میں ایک تخلیق کے خاموش گواہ بن جاتے ہیں۔ مار خیز، ملان، کندیرا سے ارندھتی رائے اور اوہان پامک یا حالیہ بُکر انعام یافتہ کرن دیسائی کے ناول تک پڑھ جائیے۔ سلمان رشدی نے ابھی حال میں اپنے نئے ناول ﴿جس میں اٹلی کی قدیم تاریخ کا تذکرہ ہے﴾ کے بارے میں لکھا ہے کہ معلومات حاصل کرنے کے لیے انہیں کافی جدو جہد کرنا پڑا۔
در اصل اقبال جیسے لوگ اسی جدو جہد سے بچتے رہے اور کہانی کو ڈرائنگ روم میں لکھنے کاآسان سا کام سمجھ بیٹھے۔ پورے روسی ادب کو پڑھ جائیے۔ ایک مضبوط ناول کی بنیاد ہی ’معلومات‘ ہے۔ ہندی میں ہی دیکھئے، اُدے پرکاش سے لے کر الکاسراوگی تک— کہانی کے بطن میں جاکر معلومات کے ذخیرے حاصل کرنے کی کوشش پہلی نظر میں ہی دکھائی دے جائے گا۔ در اصل اقبال مجید جیسے لوگ شروع سے ہی کمزور رہے۔ ان کی بنیاد کمزور رہی۔ اور واضح طور پر انہوں نے افسانے اور قلم کار کی دمہ داری کو سمجھا ہی نہیں۔ اس لیے میں صرف ڈرائنگ روم کے ادب کو سرے سے ادب ہی تسلیم نہیں کرتا— اس انٹرویو میں مجھے ’وژن‘ کی کمی محسوس ہوئی۔ کیونکہ
میرے بھائی، اردو کا نقاد سویا ہوا ہے۔ اُسے جگانا فضول ہے۔ میری کہانیوں کی کتاب ’لینڈ اسکیپ کے گھوڑے‘ پڑھ کر پاکستان کے مشہور ناول نگار وحید احمد ﴿مشہور ناول: زینو﴾ نے لکھا۔ ایسی کہانیاں انہوں نے اردو میں کبھی نہیں پڑھی۔ عابد سورتی نے میرا ناول ’بیان‘ پڑھ کر مجھے لکھا—
Bayan is one of th finest books of the decade. After year I have read an urdu book that runs like juicy fiction. It is a rare achievement for a work of literature in any language. Zauqui's style of writing reminds me of henry miller, the contrevessial author of 'Tropic of Cancer' and 'Tropic of Copricorn'.
ابھی دسمبر 2006 کے شمارہ ’سبق اردو‘ میں ڈاکٹر محمد حسن کی یہ چند لائنیں بھی پڑھ لیجئے— اس دور کی کہانی میرے خیال میں صرف مشرف عالم ذوقی کے ناولوں میں لکھے انداز میںبیان ہوئی ہے۔ ذوقی کے ناول بیان، مسلمان اور ایک کہانی جو ’نیا سفر‘ میں چھپی تھی، تینوں فن پاروں میں جس گہرائی اور دردمندی سے متحدہ قومیت کی شکست و ریخت کی داستان بے کم و کاست بیان ہوئی ہے، اس کی نظیر تک تقسیمِ ہند کے بعد سے آج تک سامنے نہیں آئی تھی۔‘
ڈاکٹر محمد حسن کا حوالہ اس لیے ضروری تھا کہ اقبال مجید احتشام حسین اور ڈاکٹر محمد حسین کو مانتے ہیں ﴿انٹرویو دیکھئے﴾ اور ڈاکٹر محمد حسن کا ہی یہ بیان ہے کہ تقسیم ہند کے بعد سے آج تک ایسی دردمند تحریر کسی نے نہیں لکھی۔ ڈاکٹر محمد حسن اس سے پہلے بھی یہ لکھ چکے ہیں— ’ اردو میں ذوقی جیسا کوئی نہیں۔‘
اس لیے بھائی، مجھے اقبال مجید کی باتوں پر تعجب نہیں ہوا۔ خوشامدی دور ہے۔ ذوقی کو برا کہنے کا مطلب آج فاروقیوں کو خوش کرنا ہے اور احباب اس کام میں پیچھے کہاں رہتے ہیں۔ ابھی حال میں، میں نے این بی ٹی کے لیے اردو افسانہ 1970کے بعد‘ کتاب ترتیب دی ہے۔ میں نے 2006 تک کے افسانہ نگاروں کی باتیں کرتے ہوئے لکھا ہے کہ خالد جاوید، صدیق عالم، ترنم ریاض،نسیم بن عاصی، رضوان الحق اور رحمان عباس— اردو کہانی بس انہی ناموں پر آکر ٹھہر گئی ہے۔ باقی گمراہی کا شکار ہیں۔ نہ کہانی، نہ وژن، نہ مطالعہ، نہ مشاہدہ— افسانہ نگار ، قومی آواز پڑھتا ہے اور ادب کا عام قاری ٹائمز آف انڈیا ہندستان ٹائمز یا دَ ہندو ۔ افسانہ نگار وہیں کھڑا ہے، قاری سوچ کی سطح پر اردو قلم کار سے آگے نکل چکا ہے۔
کہانی کے عالمی منظر نامے کا جائزہ لیں تو اردو کہانی اپنا رنگ، اپنے خدو خال کھو کر، سسکتی ہوئی ایک کونے میں پڑی ہے— وہی کہانی کی صدیوں پرانی تعریف— اور ایک کمزور سا بیانیہ۔
میرے بھائی حسن جمال۔ یہ اردو نقادوں کا بھی المیہ ہے کہ ان کی نظریں کہانی کے محدود کینواس سے آگے تک کا سفر طے نہیں کرسکتیں۔ پاکستان کی طرف نظر ڈالیے تو وحید احمد اور اشرف شاد جیسا فنکار بڑی فکر کے ناولوں کے ساتھ سامنے آچکا ہے۔ لیکن اقبال مجید جیسے لوگ کتنا جانتے ہیں، ان لوگوں کو— ہندستان کی بات کریں تو سلام بھائی کی نسل کے بت پرانے اور کمزور پڑچکے ہیں— رحمان عباس، خالد جاوید، صدیق عالم، رضوان الحق، ترنم ریاض کہانی کے نئے تیور کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔ افسانہ کیا ہے، یہاں یہ گفتگو مقصود نہیں۔ لیکن اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ آج اردو کے بڑے کہے جانے والے افسانہ نگار یا تو افسانہ لکھنا بھول چکے ہیں یا فن اور فکر کے نام پر وہ جو کچھ بھی لکھ رہے ہیں۔ اُسے کم از کم افسانہ نہیں کہا جاسکتا— اردو فکشن میں 90کے بعد کی نسل تو سامنے آچکی ہے۔ لیکن زیادہ تر افسانہ نگاروں کا فکری کینوس بہت محدود ہے۔ اسلوب اور تجربے کی سطح پر بھی یہ نسل افسانے تو بن لیتی ہے لیکن افسانے کو بڑا بنانے کا خیال اسے نہیں آتا— اور اس کے لیے جس مطالعہ اور مشاہدے کی گہرائی چاہئے وہ بھی مفقود ہے۔ یا یوں کہیں نئی کہانی انجام کی پرواہ نہیں کرتی— وہ طرحداری یا تہہ داری میں غم جاناں، غم دوراں سے آگے نکل کر اپنے زمانے کا کرب اور اظہار بن جاتی ہے— یہ وقت ہے اردو افسانے کی نئی بوطیقا تیار کرنے کا— اس کے لیے آپ آج کے اردو نقادوں پر بھروسہ نہیں کرسکتے— اس خط کے حوالہ سے یہ بات ضرور کہنا چاہوں گا کہ نئے سرے سے نئے افسانوں پر گفتگو کا وقت آگیا ہے۔ آپ پرانے بتوں کو خارج نہ کیجئے لیکن افسانے کے نئے بتوں کے لیے راستہ دیجئے— اور اس کے لیے خالد جاوید کے ساتھ ترنم ریاض، صدیق عالم، رحمان عباس، رضوان الحق اور نسیم بن عاصی کے افسانوں پر گفتگو کی شروعات ہونی ضروری ہے۔
کہانی کی ایک مخصوص شروعات، ایک مخصوص انجام، نصاب کی کتابوںمیں بھی کہانی کی وہی پرانی تعریف ملتی ہے۔ لیکن آج یہ تعریف بدل گئی۔ ابھی ایک اطالوی ناول پڑھ رہا تھا۔ چاکلیٹ اور چاکلیٹ کے الگ الگ ذائقوں میں بچوں سے بوڑھوں تک کی دنیا آباد تھی۔ کیا مارخیز کو پڑھنا آسان ہے؟ کہانی میں کیا ہونا چاہئے اور کیا نہیں، یہ تمام بحثیں فرسودہ ہوچکی ہیں۔ نئی کہانی، نیا روپ لے کر سامنے آچکی ہے۔ کہانی میں ’جذباتیت‘ نہیں چاہئے ، سنتے آئے تھے۔ لیکن انیتا دیسائی، کرن، ارندھتی، وکرم سیٹھ کے اے سوئیٹبل بوائے سے جھمپا ہری کے نیم سیک تک جذباتی لہروں کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔
دھند ہے اور ایک گہری خاموشی
اس خاموشی سے ڈر لگتا ہے مجھے
ہر بار کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ ہر بار کہانیوں سے الگ کچھ کہنے کی خواہش ہوتی ہے۔ تھم جاتا ہوں۔
کیا کہوں. اور کس لیے کہوں. اور کس سے کہوں.
اپنی اپنی خوش فہمیوں میں گم لوگ۔ مگر جلسے تو ہو رہے ہیں۔ سیمینار تو ہو رہے ہیں— فکشن پر سمینار. ہم عصر ناول نگاروں پر سمینار. اس بات کی سوچنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ کیسا فکشن لکھا جارہا ہے تمہارے ادب میں؟ کیا لکھا جارہا ہے؟ یا کتنے لوگ لکھ رہے ہیں۔ ناول کتنے ہیں؟ یا ناول کے نام پر جو ادب پیش کیا جارہا ہے اسے ناول کہا بھی جاسکتا ہے یا نہیں۔ مگر— یار زندہ صحبت باقی۔ یار ہوں گے تو صحبتیں ہوں گی۔ محفلیں بھی سجائی جائیں گی۔ خود کو زندہ رکھنے کے سامان بھی کیے جائیں گے ۔ کیونکہ یہ اندیشہ انہیں بھی ہے کہ وہ لمحہ بھی آنے والا ہے ﴿خدا نہ کرے﴾ کہ جب یہ محفلیں بھی اٹھ جائیں گی— کس بات پر محفلیں سجائیں گے آپ؟
ادب بھی تو چاہئے—لکھنے والے کہاں ہیں؟
دھند میں کھو گئے۔ برسوں پہلے ’کوہِ قاف‘ کی پہاڑیوں میں راستہ بھٹک گئے ان ادیبوں کو حصرت خضر(ع) نے ایک قلم کا تحفہ دیا تھا۔ طلسمی قلم، لیکن کہانیوں کے اس جادو نے 2007 تک آتے آتے دم توڑ دیا— میڈیا سے سائبر کیفے تک اپنا بچپن بھول بیٹھے بچوں کو نہ یہ جادو راس آنا تھا، نہ راس آیا— بچے تو کتابوں سے بھی اپنا دامن چھڑا چکے تھے۔ پھر وہ جادوئی کہانیاں کیسے اور کیوں کر سنتے جو ہمارے افسانہ نگار اُنہیں سنانا چاہتے تھے۔ کبھی کبھی کوئی بھولا بھٹکابچہ ان کہانیوں کی زد میں آبھی جاتا تو وہ اسے دادی امّاں اور نانی امّاں کی صدیوں پرانی کہانی سمجھ کر درمیان میں ہی بند کردیتا— پھر بھی خوش فہمیوں کا جنگل روشن تھا۔ نہ خواب باقی تھے اور نہ حقیقت تک جانے والی سڑک کا راستہ ہی پتہ تھا۔
ایک بار اپنے انٹرویو میں ہندی کے مشہور نقاد نامور جی نے کہا تھا— ’خواب دیکھنا برا نہیں ہے۔ بلکہ سچ پوچھئے تو جو خواب دیکھنا بند کردیتے ہیں وہ حقیقت سے بھی کٹ جاتے ہیں۔ ایک زمانے میں بڑے بڑے لوگ ’یوٹوپیا‘ دیکھتے تھے۔ ترقی پسندوں نے بھی مارکس کو پڑھنا بند کردیا۔ ما بعد جدیدیت کا دور ہے جس نے مارکس کو آؤٹ ڈیٹیڈ قرار دے دیا ہے۔
کل ترقی پسند، مارکس کو بطور فیشن رومال‘ کی طرح استعمال کرتے تھے اور آج کے نقاد ما بعد جدیدیت کو اسی رومال کی طرح استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ مستقبل میں صرف رومال رہ جائے گا۔ اس لیے کہ جب لکھنے والے ہی نہ ہوں گے تو استعمال کرنے والے‘ کیا کریں گے۔ المیہ یہ بھی ہے کہ لکھنے والوں کے لیے کم، نقادوں کے لیے زیادہ برا وقت ہے۔
میں نے سوچ لیا تھا، میںاپنی بات نہیں کروں گا۔ کیوں کہ جب ادب کو جوڑ کر میں اپنی بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو ہمارے دوست اسے غلط رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن بہت سوچنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے اپنی بات کہنے کا حق کیوں نہیں ہے۔ اردو میرا حق ہے— اور یہ زبان میری سب سے بڑی کمزوری— یہ زبان میرے جینے کا سامان ہے اور زندگی کے 44برس کا زیادہ تر لمحہ میں نے اسی زبان اور ادب کے ساتھ گزارا ہے۔
اقبال مجید ہوں، یا اس قماش کے دوسرے لوگ، یہ سمجھنا لازمی ہے کہ دنیا ان کے ڈرائنگ روم سے آگے نکل گئی ہے۔ جہاں ارتقائ کی ہر دہلیز پر سیاست اور سماج کا ایک بھیانک بت رکھا ہوا ہے۔ جہاں دہشت گردی بھی ہے اور خود کو محفوظ رکھنے کے لیے طاقتوں کا سہارا— اور ان سب سے الگ ایک بھیانک سیاست کی بساط بچھی ہے— میں نے اسی بساط کے لہو آگیں چھینٹوں میں ’پوکے مان کے دنیا‘ کا بھیانک سچ پڑھا تھا— اور یہیں مجھے ہینری ملر کے موبی ڈک ، یا ہیمنگ وے کے داولڈ مین اینڈ دسی کی یاد آئی تو میں نے ’ارتقائ‘ کی تھیوری کو لے کر پروفیسر ایس کی عجیب داستان وایا سونامی‘ کی تخلیق کی۔ میری تخلیق ایک جاگتے دماغ کی پیداوار ہے۔ یہ سوئے ہوئے نقادوں کی سمجھ سے بالا تر— یہ فاروقیوں کے لیے نہیں جو اپنے کم تر ناولوں پر اپنے گھر کے لوگوں ﴿ارشاد حیدر وغیرہ﴾ سے مضامین لکھواتے ہیں اور خود کو بڑا ثابت کرتے رہتے ہیں۔ میری تخلیق کے سچ کے لیے پہلے اس گہرائی تک جانا ہوگا۔ شاید اسی لیے میں ہر بار کہانی میں ایک کردار بن کر اپنے قاری کو بھی تخلیق کا ایک حصہ بنا دیتا ہوں۔
حسن بھائی، میں ہندستان کی پوری اردو برادری سے لڑا ہوں، اس لیے کہ میں سچ بولتا ہوں۔ میں نے انجام کی کبھی پروا نہیں کی۔ نہ ہی مجھے کسی انعام یا اعزاز کا لالچ رہا۔ میں اپنے کہانی اور قارئین کے درمیان نقاد یا کسی کو بھی گواہ بنا کر سمجھوتہ یا چاپلوسی کا دم نہیں بھرتا۔ برسوں پہلے، جب میں 20سال کا تھا، مجھے ڈاکٹر محمد حسن کا ایک ملا تھا— اس فائر کو کبھی بجھنے مت دیجئے گا۔ میں آج 44 سال کی عمر میں بھی اسی ’فائر‘ کے ساتھ زندہ ہوں— اور زندہ رہوں گا۔ میرے قاری میرا انعام ہیں۔ اور مجھے کسی سے کچھ نہیں چاہئے۔
آخر میں— اس خط کی ایک کاپی میں حسن عابد کو بھی بھیج رہا ہوں— کیونکہ یہ انٹرویو ان کے ہی گھر لیا گیا تھا۔

آپ کا
مشرف عالم ذوقی

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......