آٹے کا بحران

Submitted by Guest (not verified) on Sun, 02/03/2008 - 08:57

اس وقت عوام کا سب سے اہم مسئلہ روٹی ہے۔ غریب آدمی روٹی کے نوالے کو ترس گیا ہے۔ دو وقت کی روکھی سوکھی پوری کرنے کیلئے اسے مشقتوں کے پہاڑ توڑنے پڑتے ہیں بعض اوقات پھر بھی پوری نہیں پڑتی کیونکہ پاکستان میں غریب، محنت کش اور خاص طور پر مزدور طبقہ انتہائی کمپسری اور لاچاری کی حالت میں زندگی گزار رہا ہے۔ اس طبقے کے لوگ ملک کے اندر کوئی بھی بحران چل رہا ہو، یعنی ایمر جنسی کا مسئلہ ہو یا انتخابات کا سے لا تعلق روٹی اور کپڑے کے بحران سے ہی نہیں نکل پاتے اور کسی ملکی حالات پر اگر ان سے بات کی جائے تو یہی پوچھتے ہیں کیا آٹے کا بحران ختم ہو گیا ہے؟ ۔

گندم کے مصنوعی بحران سے چند افراد کی تجوریاں تو بھر گئی ہیں مگر بے شمار غریبوں کے پیٹ خالی رہ گئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق چند افراد کو نوازنے کیلئے انہیں گندم افغانستان برآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔ جنہوں نے اس معاملے میں کروڑوں ڈالر کمائے اور ملک کو اس سطح پر پہنچا دیا کہ آج پوری قوم روٹی کیلئے پریشان ہے۔اس سے قبل چینی اور سیمنٹ بحران بھی پیدا ہوئے جن سے چند افراد نے جہان فانی کے کروڑوں سکے جمع کر کے عوام کی اکثریت کو بحران میں دھکیل دیا۔ ان سکینڈلز کی طرح اگر آٹے کے بحران کے پیچھے کرداروں کو بے نقاب نہ کیا گیا تو اس طرح کے مصنوعی بحرانوں کا سلسلہ انتہائی تشویشناک صورتحال اختیار کر لے گا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ چند ماہ قبل تک حکومت ملک میں وافر گندم کے ترانے گا رہی تھی اور اب کمی کے نوحے پڑھ رہی ہے۔آتے کے اس بحران کیلئے ایک عرصے سے پلانگ کی گئی کیونکہ اتنا بڑا بحران چند روز میں پیدا نہیں ہو سکتا۔ ذرائع کے مطابق جس وقت گندم برآمد کرنے کی اجازت دی گئی عالمی سطح پر بہت سے ممالک میں گندم کی شارٹیج تھی۔ اسٹریلیا جیسے ممالک جہاں گندم بہت زیادہ پیدا ہوتی ہے میں بھی گندم کی کمی واقع ہوئی تھی جبکہ اسٹریلیا کی سالانہ پیداوار 23ملین ٹن تک ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر کمی کے بعد ایکسپرٹرز نے بڑے پیمانے پر گندم کی ایکسپورٹ شروع کر دی۔ ماہرین کے مطابق گندم کی اتنے پڑے پیمانے پر کمی کی وجہ عالمی منڈی میں ایکسپورٹرز کا گندم کی بڑے پیمانے پر خرید اور ذخیرہ کرنا بھی ہے۔

حکومت کی جانب سے گندم کی فی من 425روپے مقرر کی گئی اس کے برعکس ایکسپورٹرز نے 450 روپے فی من کے حساب سے اوپن مارکیت سے گندم خرید لی۔ حکومت نے گندم کی فی بوری کی قیمت 1050 روپے مقرر کی جسے برآمدگندان نے 1150 روپے فی من کے حساب سے اٹھانا شروع کر دیا یوں گندم مارکیٹ سے غائب ہونا شروع ہو گئی۔ جس کے ساتھ ہی ذخیرہ اندوزوں نے بڑے پیمانے پر گندم کا سٹاک کرنا شروع کر دیا۔ ملک کی ماہانہ گندم کی ضروت 16لاکھ ٹن ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت ذخیرہ اندوزوں نے 80لاکھ ٹن گندم کا ذخیرہ کر رکھا ہے۔ ایشائی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان اس وقت مہنگے ترین ملکوں کی فہرست میں دوسرتے نمبر پر آ گیا ہے۔ اگر ذخیرہ اندوزوی اور منافع خوری کا سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو بہت جلد وطن عزیز مہنگائی کے حوالے سے ایشیا میں پہلے نمبر پر ہو گا۔ اس وقت گندم کی فی بوری کی قیمت 1500روپے تک جا پہنچی ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو فی کلو آٹے کی قیمت 30تک جا پہنچے گی۔

گندم کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ہی دیگر معمولات ضرورت کی اشیائ بھی متاثر ہوئی ہیں۔ پاکستان کی معیشت کا 70فی صد زراعت پر منحصر ہے اس کے باوجود ہم گندم اور چینی جیسے بحرانوں کی زد میں ہیں۔ ایران جو کہ پاکستان کا ہمسایہ ملک اور زرعی اعتبار سے اس قدر موذون نہیں ہے جس طرح کہ پاکستان لیکن اس کے باوجود وہاں پر روٹی فری ہے۔ جو ملک اپنے عوام کور وٹی جیسی بنیادی ضروت پوری کرنے سے قاصر ہے اس ایک عوام دوست اسٹیٹ نہیں قرار دیا جا سکتا۔ قیام پاکستان سے لیکر اب تک اگر مہنگائی کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ تیل کے بعد گندم اور زمین کی قیمتوں میں ہزاروں گنا اضافہ ہوا ہے۔ اگر ایک قوم صحت ہو تو ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دیتی ہے جس سے ایک صحت مند ملک وجود میں آتا ہے لیکن اگر قوم روٹی جیسے مسائل میں ہی گری رہے تو وہاں ترقی کی منزل دور ہو جاتی ہے اور خود کشی جیسے واقعات عام ہو جاتے ہیں اور یہی اس وقت پاکستان میں ہو رہا ہے۔ پاکستان کو ایک آئیڈیل اور عوام دوست اسٹیٹ بنانے کیلئے عوام کے بنیادی مسائل روٹی ، کپڑا اور مکان کو سب سے پہلے حل کرنا ہو گا۔

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......