انقلاب از فرخ نُور

Submitted by Farrukh Noor on Tue, 10/02/2007 - 19:32

انقلاب

انقلاب کے لیئے وزن کی ضرورت ہوتی ہے۔ خود تو ڈوبتے ہیں اور دوسروں کو ہلا دیتے ہیں۔ کیا انقلاب کے معنٰی بربادی ہیں? ڈوب جانا ہے۔ ۔ ۔ حالات کا سکوت توڑ دینا۔ ۔ ۔ امن تنکا کی مانند؛ انقلاب پتھر کا وزن۔ ۔ ۔ مگر انجام غیریقینی ہوتا ہے۔

انقلاب ایسے ہی ۔ ۔ ۔ جیسے ایک عمارت گرا دی جائے۔ ۔ ۔ انقلاب زلزلہ کی طرح ہے۔ عمل کرنے والے کو پتہ ہے کہ تبدیلی کی کوشش کی جانی چاہیے۔ ۔ ۔ تبدیلی کتنی آئے گی۔ ۔ ۔ یہ اندازہ! ساتھ والے کو؛ نہیں ہوتا؛ مگر اللہ جانتا ہے۔ ۔ ۔ جن پر عمل ہونا ہے؛ جو شکار ہوگے؛ وہ اس سے بے خبر رہتے ہیں۔ ایک جانب تو عمارت گرا دی گئی مگر دوسری جانب عمارت گر گئی? تعمیر سوچ و خیال پر مبنی ہوتی ہے۔ ۔ ۔ ڈھانچہ کیسا تیار کیا جائے۔

سمندر طوفان برپا کرتا ہے؛ کب کرے گا? یہ سمندر بھی نہیں جانتا۔ ۔ ۔ کیسے کرے گا? یہ حکم پر ہے۔ جب ملے گا؛ تو ابھر جائے گا۔آتش فشاں ابلتا ہے جب کمزوری ملتی ہے تو نکل جاتا ہے۔ ۔ ۔ کمزوری کب ملے گی? یہ علم؛ آتش فشاں کو بھی نہیں۔ ۔ ۔ کتنی شدت ہوگی? اندازہ نہیں۔

بس جسقدر خاموشی ہوگی اسقدر بڑا ہی شور برپا ہوگا بات انقلاب کی ہر کوئی کرتا ہے مگر انقلاب کبھی ملاپ نہیں کرتے۔ انقلاب بے ساختہ حالی ہے۔۔۔۔ انقلاب جنگ کے بعد بدوحالی ہے۔

ہم انقلاب کا معنٰی جبرلیتے ہیں۔ عرب میں اسلام، ایران و مصر میں تبلیغ اسلام نے تو انقلاب برپا نہ کیا۔ ۔ ۔ ایک مستقل تبدیلی پیدا کردی۔ انقلاب بیزاری کے نقوش رکھتا ہے۔ طوفان کی بدوحالی، دریا کا سیلاب، زمین کا زلزلہ، آتش فشاں کا لاوہ، انسان کی جنگ سب انقلاب کی ہی صورتیں ہیں؛ جن میں زبردستی ہے۔ کئ سالوں کی تباہی کے بعد جب اثرات ٹھنڈے ہوتے ہیں تو جن پر عذاب آیا ہوتا ہے؛ پھر وہی بہترین زرخیز زمین بن جاتی ہے۔ مراد معمولات عام ہونے میں خاصہ وقت درکار ہوتا ہے۔ اور پھر ایک اور انقلاب کے داعی ہو جاتے ہیں۔ ۔ ۔ فطرت جو تبدیلی پسند ٹھہری۔ ۔ ۔

انقلاب کو ہم بغاوت کے نام سے منسوب کردیتے ہیں۔ ۔ ۔ بچوں کی بغاوت بگاڑ ہیں۔ ۔ ۔ 1857ء بغاوت نہیں ہیں۔ ۔ ۔ دفاع برصغیر تھا۔ ۔ ۔ جو اندر کے باغیوں کے باعث بغاوت کہلایا گیا۔ ۔ ۔ شائید نیت کا بھی مسئلہ تھا۔ ۔ ۔ 1947ء نہ انقلاب تھا۔ ۔ ۔ نہ بغاوت تھی۔ ۔ ۔ وہ ظہور تھا۔ ۔ ۔ ظہور اسلام بھی ایک مستقبل تبدیلی تھی اور تعمیر پاکستان بھی۔ ۔ ۔ظہور نظریہ پر ہونا؛ عقیدہ پر ہونا ہے۔ ہر رکن شخص اس نظریہ سے بخوبی واقف ہوتا ہے؛ Practicle Exampleہوتا ہے۔ Confusionsمیں نہیں ہوتا۔ ۔ ۔ Confuse منافق ہوتا ہے۔ ۔ ۔ دوغلا ہوتا ہے۔ ظہور ایک پودا سے کئی پودے لگا دینا ہے۔ جنکی تبدیلی خوبصورتی پیدا کرتی ہے۔ نہ کہ مزید بگاڑ اور بیابانی۔ ۔ ۔

انڈونیشیا میں ظہور اسلام تلوار سے نہیں ہوا؛ عمل سے ہوا۔ ۔ ۔ بوڑھی بڑھیا ایمان؛ عمل دیکھ کر لائی۔ ایران سے زرتشتی آثار ختم۔ ۔ ۔ عمل کو اپنا لینے سے ہوئے۔ انقلاب متاثر نہیں کرتا۔ ۔ ۔ عمل متاثر کرتا ہے۔ تھپڑ زوردار ہوتا ہے۔ مگر دیرپا نہیں ہوتا۔۔۔۔بات معمولی ہوتی ہے مگر عمر بھر کے لیئے ہلا دیتی ہے۔

انقلاب جدل سے ہے۔ ۔ ۔ بغاوت جدل۔ ۔ ۔ اور ظہور بھی جدل ہی ہ؛ تینوں ایک آغاز رکھتے ہیں۔ ۔ ۔ مگر راستے مختلف ہیں۔ ۔ ۔ بات سوفسطائیت سے جدلیات تک کی ہے۔ ۔ ۔ جدل سے ہی سونا کندن بنتا ہے۔ ۔ ۔ جدل سے ہی برتن ٹوٹتا ہے۔ ۔ ۔ جدل ہی سے سکون ٹوٹتا ہے۔ ۔ ۔ جدل ہی سے وجود رہ جاتا ہے۔ ۔ ۔ جدل ہی برباد ہوتا ہے۔ جدلjump conditionنہیں بلکہfunction سے گزرنا ہے۔

نہ وزن والا ہے۔ ۔ ۔ نہ جوش والا ہے۔ ۔ ۔ نہ ہوش والا ہے۔ ۔ ۔ سب سمجھ دار ہی ہیں؛ مگر بے وقوف کوئی نہیں۔ ۔ ۔
(فرخ)

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......