انصاف سے ناانصافی از فرخ نور

Submitted by Farrukh Noor on Tue, 10/02/2007 - 19:07

انصاف سے ناانصافی
"غرور سے ہی بے انصافی کا وجود ہے ۔شکر خدا میں ہی انصاف ہے۔ عاجزی و انکساری منصف مزاج ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام و سلیمان علیہ السلام اللہ کے شکر گزارتھے۔ عاجز اسقدر کہ چیونٹیاں بھی خائف نہ تھی، حصول انصاف جو تھا۔ انصاف خوف خدا سے ہے۔ قربت خدا عاجزو منکسر بنا دیتی ہے۔ انصاف کسی کو رستہ دکھلاتا بھی ہے؛ بلکہ انصاف یہی تو ہے۔ واقعہ ہد ہد یہی تو بتلاتا ہے ہمکو۔

انصاف کیا ہے۔ ظلم، زیادتی کا اللہ کی جانب سے طے کیا گیا فیصلہ۔ ۔ ۔ جو تمام انسانوں کے لیئے فیصل ہو ۔انصاف میں ذاتی پسند یا رائے کی کوئی گنجائش نہیں۔ بس حکم خداوندی کے تحت اعلان ہے۔ اللہ کے حکم سے ڈرے گے اور اللہ کے حکم کی تعمیل کرے گے۔ تو ہر شے کی تعمیر ہوگی مرتبہ کے لیئے منصف ہونا ضروری ہے۔ کامیابی کی راہ اپنانے کے لیئے انصاف ہر حال لازمی ہے۔

انصاف یہ نہیں سچ کو جھوٹ۔ ۔ ۔ جھوٹ کو سچ بنا دینا۔ یہ ظلم عظیم ہے۔ یہ جھوٹی گواہی کے مترادف ہے۔ مراد اللہ کے حکم شہادت (گواہی) کی نفی کردیتا ہے۔ حقیقت سے انحراف بھی انصاف کے ساتھ ظلم ہے۔ کسی کی بات کو توجہ سے نہ سننا اور انصاف کردینا بھی ظلم؛ ظلم کے نتیجہ میں ظالم ترین فیصلہ بھی ظلم۔ جھوٹی گواہی والوں کے لیئے تو سزا موجود ہے مگر حقیقت کو بے بنیاد الزام ثابت کرنے والوں کے لیئے کیا کوئی سزا نہیں۔ اگر سزا نہیں تو یہ بھی ایک ناانصافی ہوئی۔ جھوٹی گواہی۔ ۔ ۔ جھوٹ پیش کرنا ہے۔ جھوٹ بناکر جھوٹ پیش۔ ۔ ۔ ایک سنگین ترین جرم ہے۔

روزی کی خاطر ہی جھوٹ بولتے ہیں روزی کی خاطر ہی جھوٹ کا ساتھ دیتے ہیں۔ جس روزی میں جھوٹ کا عنصر شامل ہو جائے تو وہ حلال ہوتی ہے یا حرام? سوچیئے ذرا۔ ۔ ۔ اللہ بھی بڑا کریم ہے اور بڑا ہی رحیم بھی۔ ہم حرام کو حلال کہتے ہیں۔ اللہ تو حرام کو حلال کر دیتا ہے۔ اللہ تو ہر حال ہمارا معاون و مددگار ہے؛ اگر سمجھے تو ۔ ۔ ۔ ہم اللہ کے ساتھ چلنے کے بجائے اسکے مخالف چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسکا نظام بھی بڑا ہی خوبصورت ہے۔ وہ مخالف چلنے والوں کو بھی ساتھ لے کر چلتا ہے اور اسکی جو بات سمجھ کر تائب ہو جائے۔ ان سے انصاف کرواتا ہے۔ ۔ ۔ بس یہ معاملہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اگر کبھی کائنات پر خوب غور کریں؛ علوم مخفی و ظاہری کو بھی جانے، مزاج، رویوں اور معاملات کو جانے۔ بس ہر جگہ اللہ کا انصاف ہی انصاف نظرآتا ہے۔ ہر جگہ توازن کا پہلو ہی پہلو۔ ۔ ۔ جب کبھی توازن کو بگاڑتے ہیں۔ ۔ ۔ پوری کوشش سے ۔ ۔ ۔ پھر خود ہی ہم دیکھتے ہیں اللہ دونوں پلڑے مساوی کردیتا ہے۔ یہی تو عادل کا انصاف ہے۔
آج کا منصف مزاج تکبر مزاج ہے تبھی تو انصاف نہیں ایک غلط فیصلہ کئی غلط فیصلوں کا سرانجام ہے اور سرراہ بھی۔ ہر انسان جسکو کچھ اختیار حاصل ہے۔ وہ قابل انصاف بھی ہے۔ ایک باپ تربیت کے لیئے، ایک ماں شفقت کے لیئے، رشتہ تعلقات کے لیئے، بزرگ معاملات کے لیئے کیا غیر جانبدار منصف ہے? درجہ بدرجہ اختیارات کی وسعت تک چلے جائے تو ہر بااختیار کو منصف المزاج ہونا چاہیے? منصف مزاج کے لیے اللہ کے حکم سے آگاہی ہونی چاہیے۔ اللہ کا خوف دل میں موجود ہونا چاہیے۔ اللہ سے صراط مستقیم کی دعا مانگنی چاہیے۔ اللہ کے کی رضا سے جو ہم انصاف کرتے ہیں وہ حکم خداوندی کے تحت ہی ہوتا ہے۔

انصاف تفریق کا نام نہیں بلا امتیازی کا طلبگار ہوتا ہے۔ تبھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا"تم سے پہلی قومیں اس لیئے برباد ہوئی کہ جب ان میں سے کوئی بڑا آدمی غلطی کرتا تو وہ اسکی عیب پوشی کرتی اور کوئی چھوٹا آدمی غلطی کرتا تو سخت ترین سزائیں دی جاتی تھی۔" قبیلہ قریش کی ایک خاتون کے ہاتھ کاٹ دینے کا حکم ارشاد فرمایا تو سفارشین کی سفارش پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا "اگر میری بیٹی فاطمہ بھی ہوتی تو میں اسکے ہاتھ کاٹ دینے کا حکم دیتا۔"
کیا آج ہر انسان یہی انصاف کرنے کا خواہشمند ہے کتابوں میں، تحریروں میں، محفلوں میں اسطرح کے جملے بڑے سجاتے ہیں۔ کیا ہم باعمل ہے۔ قول و عمل میں تضاد بھی اپنی ذات کے ساتھ ناانصافی ہے اپنے بچے کو غلطی سے روکنا اور دوسرے بچے کو روکنے کی بجائے ترغیب دینا کیا درست ہے۔ ہم سب کو خود سوچنا ہے کہ ہمارا انصاف کہاں پر ہے۔
"روح کو غالب کر لینے سے انسان منصف مزاج ہوتا ہے۔ نفس کو حاوی کرنے سے ناانصافی کا وجود پذیر ہوتا ہے۔"

ہمیں تب تک انصاف کی توقع نہیں کرنی چاہیے جب تک ہم خود منصف نہ ہو۔ جب ہم خود ناانصافی کو فروغ دے گے تو انصاف کا بے انصافی کا سفر انصاف سے ناانصافی ہی ہوگا۔ جس کا باعث ہماری اپنی ناانصافی بھی ہوگی۔ بے حس وہی ہوتا ہے۔ جو خود چور ہو اور چوروں کی برادری میں رہتے ہوئے سیاہ و سفید کو چاہتے ہوئے اور نہ چاہتے ہوئے تسلیم کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم اپنی غلطیوں، کوتاہیوں اور گناہوں کے خوف کے باعث خاموشی اختیار کرلیتے ہیں اور بے حس اس لیئے ہوجاتے ہیں۔ کہ اگر حس بیدار ہوگئی تو ہم خود برباد ہوجائے گے۔ اپنی کی گئی ناانصافیوں سے مزید کئی ناانصافیاں جنم دینے میں معاون و مشیر ہوتے ہیں۔

انصاف مناسب دیکھ بھال کرنا بھی ہے۔، پودوں کا خیال رکھنا بھی ہے، کتاب لاکر سنبھالنا اور لازما” اسکو پڑھنا پھر عمل کرنا بھی ہے، حقوق و فرائض کی ادائیگی بھی اور حصول بھی ۔انصاف کسی جھکاؤ کا نہیں توازن کا نام ہے؛ جھکاؤ ناانصافی ہے۔ گھر بنالینا اور پھر اسکو قابل رہائش نہ کرنا اور کھنڈر سا بنا دینا بھی عمارت کے ساتھ ناانصافی ہے۔ تھالی میں کھانا چھوڑ دینا کھانے کے ساتھ نا انصافی ہے، فروخت کرنے والا قلم معمولی سی استعمال کر کے اسی فروخت کے دام بلا بتلائے فروخت کردینا بھی بددیانتی ہے۔ کسی کے کارنامہ کو اپنا بنا لینا بھی درست نہیں۔ کسی کی تحریر کو بلا اجازت چھاپ لینا، اپنے نام سے منسوب کرکے شائع کرلینا تحریر کے ساتھ ناانصافی اور تخلیق کار کو محسن جان کر ظلم کر دینا ہے۔
"انصاف دیانتداری میں پنہاں ہے۔"

وقت کی امانت کو ضائع کرنا بھی بددیانتی ہیں جو اپنی ذات کے ساتھ ناانصافی ہے۔، اپنی ذات پر ظلم کرنا بھی جسم کے ساتھ ناانصافی ہے۔ "مہمان کو مٹی کے پیالہ، پیتل کے برتن اور کانچ کے گلاس میں پانی مرتبہ کے اعتبار سے پیش کرنا مہمان نوازی کے ساتھ کیا انصاف ہے اور کیا یہ خود کے ساتھ بھی انصاف ہے?"

انصاف نصف سے ہیں۔ نصف سے مراد آدھا کردینا نہیں ہیں؛ توازن قائم کرنا ؛ ایمانداری ہے۔ ناحق اس نصف کو نصفت سے خالی کرتا ہے اور ناحق کے مقابلے پر حق قائم کردینا ہی انصاف ہے؛ عدل و مساوات ہے۔ عادل کا وصف بلاامتیاز مساوات کے تحت ایسا انصاف کرنا جو نظیر بھی ہو۔
(فرخ نور)

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......