اندھی ٹرین کا سفر

Submitted by Guest (not verified) on Wed, 10/03/2007 - 01:47

اندھی ٹرین کا سفر

هوا یوں که ڈاکیا گھر میں ایک لفافه پھینک گیا۔ میں نے کھولا تو وه ایک دعوتی کارڈ تھا۔ گوجرانواله میں ایک ادبی جلسه هو رها تھا جس میں شرکت کے لیے مجھے بلایا گیا تھا۔ جلسے کی تاریخ تھی پندره اکتوبر اتفاق سے مجھے چوده کو لاهور جانا تھا۔ میں نے پروگرام بنایا که چوده کو اپنے شهر منڈی بهاؤالدین سے سیدھا لاهور چلا جاؤں گا اور وهاں سے پندره کو گوجرانواله جاکر جلسے میں شرکت کروں گا۔ چنانچه چوده کو میں بیگ اٹھا کر صبح سویرے گھر سے نکلا اور ویگن میں بیٹھ کر دن کے دس بجے لاهور پهنچا۔ وه دن لاهور هی میں گزارا۔ اگلے دن کے باره بجے گوجرانواله روانه هوگیا۔ کیون که جلسے کا وقت تین بجے تھا۔ دو بجے کے قریب گوجرانواله پهنچا اور سیدھا ایک حمام خانے میں جا گھسا اور نها دھو کر کپڑے بدل ڈالے۔ گوجرانواله کے اردو بازار میں میرے ایک عزیز دوست کی دکان هے۔ میں نے سوچا که بیگ اس کی دکان میں رکھدوں۔ جلسے سے واپسی پر لے لوں گا۔ تانگه میں بیٹھ کر دکان پهنچا تو دوست نے گرم جوشی سے استقبال کیا بیگ وهاں رکھنے اور چاۓ پینے کے بعد میں وهاں سے چل پڑا۔ تین بجنے والے تھے جلسه جی ٹی روڈ پر پاکستان نیشنل سنٹر مین تھا۔ میں نیشنل سینٹر گیا جلسے میں شرکت کی۔۔ آخر میں کھانے پینے کا دور چلا ابھی لوگ کھا پی هی رهے تھے که میں وهاں سے کھسک آیا۔ هال سے باهر نکلا تو هر طرف گھپ اندھیرا تھا اب پتا چلا که رات کافی هوچکی هے۔ آسمان پر کالے بادل چھاۓ هوۓ تھے۔ اور بجلی بھی چمک رهی تھی۔ هوا بھی فر فر چل رهی تھی۔ بارش کسی بھی لمحے هوسکتی تھی۔ یه دیکھ کر میں گھبرا گیا جلدی جلدی سڑک کے کنارے آکھڑا هوا۔ که کوئ وین آۓ تو اس میں بیٹھوں۔ دور سے کسی گاڑی کی لائٹیں نظر آئیں مگر قریب آنے پر پتا چلا که وه تو کسی کی کار هے۔ کافی دیر تک کوئ وین نه آئ۔ اوپر سے بارش تیز هونے کا خطره تھا که کهیں میرے دوست دکان بند کرکے نه چلے گۓ هوں۔ تیز هوا اور بارش نے مجھے پریشان کردیا تھا۔ میں دعا مانگنے لگا که الله میری دو دعائیں قبول فرما کم از کم ایک گھنٹا بارش نه برسا اور جب تک میں اپنے دوست کی دکان پر نه پهنچ جاؤں وه دکان بند کرکے نه جاۓ۔ خدا اپنے گنهگار بندوں کی بھی دعائیں سنتا هے۔ بارش بھی بند هوگئ اور هوا کا زور بھی کم هوگیا۔ میں جی ٹی ایس کے اڈے کے راستے چل پڑا بازار کی اکثر دکانیں بند تھیں مگر میرے دوست کی دکان کھلی تھی۔

رات کے دس بجے کا وقت تھا مین نے دکان سے اپنا بیگ لیا اس وقت مجھے کوئ بس یا وین نهیں مل سکتی تھی اسلئے ٹرین سے جانے کا فیصله کیا اور ریلوے اسٹیشن پهنچ گیا۔ یهاں آکر معلوم هوا که لاله موسیٰ جانے والی گاڑی تو باره بجے آۓ گی۔ لاله موسیٰ سے منڈی بهاؤالدین کے لیے گاڑی بدلنا پڑتی هے۔ لیکن اب مجھے کوئ فکر نهیں تھی۔ پلیٹ فارم پر کئ مسافر تھے اگر چه میں کافی دیر پیدل چل چکا تھا لیکن ایک جگه ٹک کر بیٹھنا میری عادت نهیں۔ جب گاڑی کے آنے کا وقت هوا تھا میں نے ٹکٹ خریدا کیونکه اس سے پهلے اس کی کھڑکی بند تھی۔ باره بجے گاڑی دھڑ دھڑاتی آگئ۔ اس گاڑی کا نام تو اب مجھے یاد نهیں لیکن یه ضرور یاد هے که اس جیسی ریل گاڑی میں نے پهلے کبھی نهیں دیکھی تھی۔ انجن اور گارڈ کے ڈبے کے سوا باقی تمام ڈبوں میں گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا هوا تھا۔ مزے کی بات یه که ایک دو مسافروں کے علاوه کوئ اور اس گاڑی میں سوار نه هوا۔ اس کی وجه یه تھی که اس گاڑی کو لاله موسیٰ جا کر ختم هوجانے تھا اور دوسری گاڑی سوا باره بجے آنے تھی۔ گاڑی کی سیٹیں اکھڑی هوئ دروازے ٹوٹے هوۓ هر چیز تباه حال تھی۔ پلیٹ فارم پر لگے بلبوں کی روشنی میں میں نے دیکھا که کسی ڈبے میں ایک مسافر هے کسی میں دو۔ اکثر ڈبے بالکل خالی پڑے هیں۔ میں بھی ایک خالی ڈبے میں سوار هوگیا۔ ایک سیٹ پر بیگ رکھا اور اس کے سامنے والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد جب گاڑی اسٹیشن کی حدود سے باهر نکلی تو ڈبے میں رهی سهی روشنی بھی ختم هوگئ۔ اب میں اتنے گھپ اندھیرے میں سفر کررها تھا که هاتھ کو هاتھ سجھائ نهیں دیتا تھا۔ گاڑی کے اندر بھی اندھیرا اور باهر بھی۔ ایسے میں گاڑی کے چلنے سے ایک پراسرار سا ماحول پیدا هوگیا تھا۔

پانچ دس منٹ گزر گۓ مجھے نیند آنے لگی۔ اچانک اس ڈبے میں ایک کھردری سی آواز گونجی۔ ڈاهڈی ترهیه پئ لگی هے [بهت سخت پیاس لگی هے] میں حیرت و خوف سے اچھل پڑا۔ اس ڈبے میں میرے سوا تو کوئ اور مسافر نه تھا پھر یه آواز کس کی تھی؟ جلد هی وه آواز پھر گونجی۔ اؤۓ اک گھونٹ پانی دا تے پیا چھڈ ظالما ڈاهڈی ترهیه پئ لگی اے۔ [ایک گھونٹ پانی کا تو پلادے ظالم بهت سخت پیاس لگی هے] اب میں نے سوچا که کوئ مسافر اس ڈبے میں موجود هے جسے مین اندھیرے میں نهیں دیکھ سکا هوں گا۔ میں نے بھی اندھیرے میں آواز لگائ کون هے جسے اتنی سردی میں پیاس لگ رهی هے۔ وهی آواز پهر آئ میں ۔ ۔ ۔ میں مرنیں ایں پئ۔ [میں مر رهی هوں] تب مجھے محسوس هوا که یه تو کوئ عورت هے۔ اتنے میں گاڑی کی رفتار هلکی هوگئ۔ اور پھر وه ایک چھوٹے سے اسٹیشن پر رک گئ۔ یه اسٹیشن کسی گاؤں کا تھا اس لیے سنسان پڑا تھا۔ وهاں صرف ایک بلب جل رها تھا جس کی هلکی هلکی روشنی گاڑی کے ڈبے میں داخل هورهی تھی۔۔ اب میں نے دیکھا که مجھ سے دو تین سیٹوں کے فاصلے پر ایک بهت موٹی سے عورت بیٹھی هے۔ اس نے اپنے گلے میں بڑے بڑے دانوں کی مالا ڈال رکھی تھی۔ سر کے بال کھلے هوۓ تھے۔ اور چهر بهت خوفناک لگ رها تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے کوئ جادوگرنی هو۔ گاڑی کے رکتے هی وه دروازے کی طرف بڑھی اور نیچے اتر گئ۔ سامنے پلیٹ فارم پر ایک نل لگا هوا تھا وه سپڑ سپڑ کر کے پانی پینے لگی۔ اور ڈھیر سارا پانی پی کر پھر ڈبے میں بیٹھ گئ۔ اس اسٹیشن سے نه تو کوئ مسافر اترا اور نه هی سوار هوا۔ اسی وقت ریلوے گارڈ نے همارے ڈبے میں جھانک کر کها تم دونوں کسی ایسے ڈبے میں بیٹھ جاؤ جهاں دوچار مسافر هوں۔ یهاں کوئ چور اچکا آسکتا هے۔ میں تو خاموش هی رها عورت نے غصے سے کها سن ایتھے ساڈا کائ ناں کھاندا پیا [سن یهاں همارا کوئ کچھ نهیں بگاڑ سکتا] گارڈ نے کندھے اچکاۓ اور سیٹی بجاتا هوا اپنے ڈبے کی طرف چلا گیا۔ گاڑی آهسته آهسته رینگنے لگی۔ اب پھر چاروں طرف اندھیرا هی اندھیرا تھا۔ چند هی منٹ گزرے هوں گے که اس عورت نے پھر آواز لگائ ڈاهڈی ترهیه پئ لگی اے [بهت سخت پیاس لگی هے] میں زور زور سے هنسنے لگا یه عورت هے یا کوئ بلا سردی سے میرے دانت بج رهے تھے اور اسے باربار پیاس لگے جارهی تھی۔ وه تھوڑی تھوڑی دیر بعد یهی فقره دهراتی رهی۔ میں اسے پاگل خیال کیے بیٹھا رها۔ کچھ هی دیر بعد گاڑی پھر ایک چھوٹے سے اسٹیشن پر رکی۔ وه عورت پھر نیچے اتری اور پلیٹ فارم پر لگے نل سے منه لگا کر غٹ غٹ پانی پینے لگی۔ جب تک گاڑی کھڑی رهی وه پانی پیتی رهی۔ اس اسٹیشن سے ایک لنگڑا مسافر بھی همارے ڈبے میں آچڑھا۔ اس نے بغلوں میں بیساکھیاں دبا رکھیں تھیں وه کھٹ کھٹ کرتا هوا آیا اور ایک سیٹ پر بیٹھ گیا۔ گاڑی کے حرکت کرتے هی وه عورت بھی پانی کا پیچھا چھوڑ کر ڈبے میں آگئ۔ لنگڑا مسافر غور سے مجھے دیکھے جارها تھا۔ اب اس ڈبے میں تین مسافر تھے۔ جب گاڑی چلی اور هر طرف گھپ اندھیرا هوگیا تو لنگڑے نے اپنی بیساکھیاں ایک طرف رکھیں اور میری طرف بڑھا اور بولا بابو صاحب دو روپے تو دینا۔ میں نے اس کا هاتھ پکڑ کر ایک طرف جھٹک دیا اور بولا پرے هٹو۔ بس پھر کیا تھا که اس نے دونوں هاتھوں سے میری گردن پکڑ لی اور لگا زور زور سے بھیچنے۔ اس کے هاتھوں کی طاقت دیکھ کر میں حیران ره گیا۔ مجھے سانس لینا مشکل هورها تھا۔ هاتھ پاؤں سن هوگۓ تھے۔ ایسے میں پچھلی سیٹ سے اس عورت کی آواز آئ۔ ڈاهڈی ترهیه پئ لگی اے [بهت سخت پیاس لگی هے] ایسے وقت میں بھی مجھے هنسی آگئ۔ میں نے بڑی مشکل سے اس لنگڑے کے هاتھوں کو پکڑ کر پیچھے هٹایا۔ اور گھٹی گھٹی آواز میں بولا چھوڑو مجھے۔ میں تمھیں دو روپے دیتا هوں۔ اس نے میری گردن چھوڑ دی۔ میں نے جیب میں هاتھ ڈال کر ایک نوٹ نکالا اندھیرے میں پتا نه چلا که نوٹ دو کا هے پانچ کا یا دس کا۔ بهر حال میں نے وه نوٹ جلدی سے اس لنگڑے کو دے دیا۔ اور وه اپنی سیٹ پر جا بیٹھا۔ اسی وقت پیچھے سے پیاسی جادوگرنی کے قدموں کی چاپ سنائ دی۔ وه غسل خانے کا دروازه کھولنے کی کوشش کررهی تھی۔ مگر دروازه نهیں کھل رها تھا۔ وه اس پر مکے اور لاتیں برسانے لگی۔ ڈبے میں دھڑام دھڑام کی آوازیں گونجنے لگیں۔ لنگڑے نے زور سے آواز لگائ کیا بات هے مائ۔ عورت نے بھی چیخ کر جواب دیا اؤۓ ایدھا بوها نئیں لتھدا پیا ایدھے وچ تے لگدا اے کائ بند موا پیا جے [اس کا دروازه نهیں کھل رها اس میں تو لگتا هے کوئ آدمی مرا پڑا هے] یه کهه کر وه پھر دروازے پر ٹکریں مارنے لگی۔ مگر دروازه نهیں کھل رها تھا۔ لنگڑے نے بیساکھیاں اٹھائیں اور غسل خانے کی طرف چل پڑا۔ اب وه دونوں دروازه کھولنے کی کوشش کررهے تھے۔ مگر دروازه نهیں کھل رها تھا۔ عورت ٹکریں مارنے کے ساتھ ساتھ چیخ بھی رهی تھی۔ یاتے کائ بند موا پیا جے یا فر جن بھوت ایدھے وچ وڑیا هویا اے [یا تو کوئ آدمی مرا پڑا هے یا پھر جن بھوت اس میں گھسا هوا هے] وه دونوں مسلسل دروازے پر لاتیں اور مکے برسارهے تھے۔ اچانک دروازه کھل گیا۔ اور اس عورت کی آواز گونجی اؤۓ ایدھے وچ تے کائ شے وی نئیں اے [اس میں تو کوئ چیز بھی نهیں هے] لنگڑے نے کها مائ یه رروازه ویسے هی جام هوگیا تھا گاڑی پرانی هے ناں! عورت نے کها چنگا فیر پراں هٹ مینوں پانی په لین دی ڈاهڈی ترهیه پئ لگی اے [اچھا پھر پیچھے هٹو مجھے پانی پینے دو بهت سخت پیاس لگی هے] مگر غسل خانے میں پانی نهیں تھا عورت کی غصے بھر آواز گونجی اؤۓ ایدھے وچ تے قطرک پانی وی ناں اے میں ترهیه نال مرنیں ایں پئ [اس میں تو ایک قطره پانی بھی نهیں هے میں پیاس سے مرر رهی هوں]

یه کهه کر وه اپنی سیٹ پر آبیٹھی اور لنگڑا بھی۔

گاڑی چلے جارهی تھی دھڑم دھڑم دھام دھام چھک چھک۔ اچانک اس عورت نے بلند آواز سے عالم لوهار کا کوئ گانا گانا شروع کردیا۔ پانچ منٹ بعد اس نے گانا بند کیا تو لنگڑا مسافر عطاء الله عیسیٰ خیلوی کی نقل اتارنے لگا۔ آخر گجرات کا اسٹیشن آگیا۔ وهاں وه عورت بھی اتر گئ اور لنگڑا بھی۔ اسٹیشن پر کافی روشنی تھی۔ وه دونوں اسٹیشن کے دروازے سے نکل کر باهر جارهے تھے۔ ان عجیب و غریب مسافروں کی جدائ سے میری آنکھوں میں آنسو آگۓ۔

بهر حال گاڑی چل پڑی۔ مجھے تو لاله موسیٰ جانےتھا۔ گجرات کے بعد ایک چھوٹا سا اسٹیشن اور آیا اور پھر لاله موسیٰ آگیا۔ یهاں گاڑی سے اترنے والا میں اکیلا مسافر تھا۔ دوسرے ڈبوں میں جو مسافر هوں گے وه پهلے هی کهیں اتر گۓ هوں گے۔ گاڑی سے اتر کر بیگ هاتھ میں لیے پل کی طرف بڑھا اور چڑھ کر باهر آگیا۔ جهاں پر دوسرے درجے کا مسافر خانه هے۔ ٹکٹ گھر اور معلومات کی کھڑکی بھی یهیں هے اس وقت رات کے دو بج رهے تھے۔ میں نے انکوئری سے پتا کیا تو معلوم هوا که سرگودھا جانے والی گاڑی تو اڑھائ بجے آرهی هے۔ سرگودھا کے راستے میں منڈی بهاؤالدین آتی هے۔ میں نے ٹکٹ جیب میں ڈال لیا۔ مسافر خانے میں تین چار مسافر چادریں اوڑھے بیٹھے تھے۔ سردی خاصی بڑھ گئ تھی۔ اور لاله موسیٰ کی سردی تو ویسے بھی بهت مشهور هے۔ میں نے بیگ میں سے چادر نکالی اور اوڑھ لی۔ مسافر خانے کے باهر ٹهلنے لگا۔ اتنے میں ایک تانگه آکر مسافر خانے کے باهر رکا۔ اس میں پوری ایک فیملی بیٹھی تھی۔ وه لوگ نیچے اترے۔ ایک آدمی نے ٹکٹ خریدا اور قلی کے سر پر سامان رکھ کر وه لوگ پلیٹ فارم کی طرف چل دیے۔ چند اور مسافر بھی پلیٹ فارم کی طرف جانے لگے میں بھی ساتھ هولیا۔ یهاں کوئ خطره نه تھا۔ میں ایک ٹی سٹال سے چاۓ لے کر پینے لگا۔ اڑھائ بجے گاڑی آئ تو میں اس میں سوار هوگیا۔ اس میں روشنی بھی تھی اور مسافر بھی بهت سے تھے۔ پونے چار بجے گاڑی منڈی بهاؤالدین کے اسٹیشن پر رکی۔ اور صبح

http://geocities.com/kurdupk/train.htm
kashif farooq

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......