امریکہ پہ بھروسہ

Submitted by Mohammad-Ilyas on Sat, 02/09/2008 - 20:27

پرانی کہاوت اور مانی ہوئی بات ہے کہ وہ شخص جو کہ اپنی جان سے ہاتھ دھوئے جا رہا ہو کچھ بھی کر گزر سکتا ہے۔ شیخ سعدی(رح) نے اسکی مثال اسطرح دی ہےکہ بلّی کو بھی معلوم ہونے پر کہ شیر اسے مارنے جا رہا ہے اسکی آنکھوں پر جھپٹا مارتی ہے۔ یہی مثال بدحواس ہوئے کا بھی ہے جو چاہے دوست ہی کیوں نہ ہو ایسی حالت میں بدترین دشمن سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔
امریکہ نے تجارتی مراکزکے گرائے جانے کے بعد آؤ دیکھا نہ تاؤ طاقت کے گھمنڈ میں عراق اور افغانستان کے خلاف بغیر تحقیق کے جنگ کا اعلان کر دیا ساتھ ہی ایران اور شام کو بھی دھمکی دی کہ اسکے بعد ان پر بھی حملہ کیا جائے گا۔یہ ایک الگ کہانی ہے کہ عراقی صدر صدّام کس طرح اسلامی ملکوں کے شور'ی سے پیش آتا رہا تھا اور اسی امریکہ کے اشارے پر کیسے گھٹیا حربے ایران اور کْردوں کے خلاف استعمال کرتا رہا تھا۔ اسی دوست کے ہاتھوں آخر صدّام حسین کو تہہ خانے میں چھپی حالت سے پھانسی کے پھندے تک پہنچنا پڑا۔ صدّام ٹیپو سلطان کی طرح جان نہیں دے سکتا تھا کیونکہ وہ اْس پائے کا مرد نہیں تھا۔
پینٹاگان جہاں سے پوری دنیا پر راج کرنے کا نیا لائحہ عمل(نیو ورلڈ آرڈر) طے ہوا تھا خود ہی ایسے لوگوں کا نشانہ بنا جنہوں نے خود انکے ہاں اسکی تربیّت حاصل کی تھی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ فدائی حملہ آور بےگناہ لوگوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں مگر یہ بات بھی مدّنظر رہے کہ امریکہ اور اسکے اتّحادیوں نے بنیاد پرستوں کی تلاش کے نام پر مسلمان عورتوں اور بچّوں کا بے دریغ خون بہایا ہے۔ گاؤں کے گاؤں بمباری کی نظر ہوۓ اورخبروں کے مطابق ایک موقعہ پر عراق میں ایسی دو عورتوں تک کو گولی مار دی گئی جوکہ اْمید سے تھیں۔ جو ملک امریکہ کے ساتھ عراق اور افغانستان پر حملے میں شریک ہیں وہ صرف اسی لئے ہیں کہ اسکو 'نہ' نہیں کہہ سکتے۔ اب امریکہ ایران اور پھر شام پر اپنے حملے کو پورا نہ کر سکتے ہوئے بری طرح پھنس چْکا ہے۔ وہ پاکستان کی کاروائیوں پر بھی بے اطمینانی کا اظہار کر رہا ہے اور مطالبے کر رہا ہے کہ ملک میں اور زیادہ خون خرابہ ہو۔ یہ مطالبہ مضحکہ خیز ہے کیونکہ جبکہ امریکہ اپنے عالمی طاقتوں کے جتّھے کے ساتھ ایک ہموار اور چھوٹے سے ملک عراق کو قابو میں نہ لا سکا تو دوسروں سے کیا گلہ، البتّہ خون خرابہ ہی بڑھ سکتا ہے۔
اب دو باتوں پر نظر رکھنی ھوگی، ایک تو یہ کہ قطع نظر اسکے کہ کون ٹھیک کر رہا ہے یا غلط امریکہ آزاد اور بے قاعدہ مٹّھی بھر فدائی جتّھوں سے شکست کھا رہا ہے جو کہ اسکی تذلیل ہے اور وہ مکمّل طور پر بدحواس ہوچکا ہے۔ دوسری بات یہ کہ امریکہ کا مقابلہ اس وقت مسلمان ملکوں سے نہ سہی پھر بھی ایسے مخالفین سے ہے جو کہ مسلمان ہیں، جسکے پیش نظر وہ کبھی کبھی بلاواسطہ اور بالواسطہ طور پر مسلمان ملکوں کو بھی اسکا ذمّہ دار ٹھہراتا رہتا ہے۔ اب لازمی امر یہ ہے کہ جو تاریخ میں مخلص دوست کبھی نہیں رہا ہو اس پر مکمّل نظر رکھنی پڑے گی۔ دیکھنا پڑے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......