اصل مددگار

Submitted by Guest (not verified) on Thu, 10/04/2007 - 19:13

کچھ لوگ کہتے ہیں، مدد کسی کی کوئی نہیں کرتا ۔۔۔ مدد تو ہرکسی کی ہر کوئی کرتا ہے مگر یہ کوئی نہیں جانتا، ہمارےاصل مددگار کون افراد ہیں۔

کسی زمانےمیں ایک کُتب فروش دولت کےمالک تو نہ تھے مگر عزت سے ہمکنار ہوئی۔ ہاتھ کی تنگی کےباوجود اپنے اُن گاہکوں کواُدھار کےروپوں کےمعاملہ میں کبھی بیجا تنگ نہ کرتے۔ جنکےبچے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہوتے۔ مزےکی بات یہ ہے کہ اُن میں سے چند بیوپاری اپنے مطلب کے پورے بھی ہوتے مگر قطع نظر تنگ دستی کے باوجود اُن گاہکوں پر ادائیگی قرض کا اِتنا زور دار مطالبہ اِس خیال سے نہ ڈالتے کہ اُن بچوں کی تعلیم متاثر نہ ہو جائے۔ خود اُنکےقرض کا بوجھ اپنےقرض کی ادائیگی کی صورت میں برداشت کر لیتے۔اصل مدد گار کی بات یہاں تک نہیں رہتی، بلکہ یہ ایک طرح کا پورا سلسلہ سا بن جاتا ہے۔ اس میں کردار کتب کےاشاعتی اداروں، کاغذ کےتاجروں، دفتریوں، چھاپہ خانوں کے مالکان، کاتبوں و ڈیزائنروں تک جا پہنچتی ہے۔ یوں ایک شخص یہ سلسلہِ بوجھ کسی نہ کسی صورت میں برداشت کر کےاگلے بندے پر کم بوجھ ڈال دے۔ صرف اُنکی اُولاد کی تعلیم کی خاطر۔ تو یہ بھی اللہ کےفضل سے ایک نیکی کی صورت میں مدد ہوئی۔ یہ افراد اُن اصل مددگاروں میں سےایک مدد گار ہیں۔ جو ہمیں ڈاکٹر، انجنئیر، بینکار اور معاشرے کا ایک فعال شخص بناتے ہیں۔
حضرت علی کا ایک قول ہے۔
”جس نےمجھےایک حرف بھی سکھایاگویا میں نےاُسکو اپنا استاد بنا لیا۔“

سنگ تراش کی مہارت سے پتھر عمارت کی خوبصورتی بنتا ہے۔ نگ تراش نگ کو نگینہ بنا کر خاص امارت کا باعث بناتا ہے۔ تراش کار ظاہری ساخت بناتا ہے۔ اور خاصیت اللہ کی طرف سے بن جاتی ہے۔ اُستاد ہر شاگرد کو تعلیم دیتا ہے، اُنکی قابلیت کو نکھارتا ہے مگر خاص قابلیت اللہ کی عطاء کےساتھ ہی ہوتی ہے۔ اقبال صاحب کے علامہ اقبال بننےمیں مولوی میر حسن کا تعاون بنیاد بنا۔

ہم نہیں جانتے ہماری تربیت کون کون کر رہا ہے۔ہماری کامیابی کے پیچھےکن کن کی دعائیں شامل ہیں۔ اکثر لوگوں کی بطور حوصلہ افزائی کے لئے کی گئی تعریف انسان میں ولولہ ، استقامت، خوداعتمادی اورنکھار دیتی ہے۔ کبھی کبھی افراد کی تنقید اِنسان میں نیا جوش اور جذبہ پیدا کرتی ہے۔ یوں شدید محنت اور تنقید کو مثبت انداز سے لےکر کامیابی کا حصول پاتے ہیں۔

کبھی کبھی گناہ بھی اپنا راستہ بدل لیتا ہے اور انسان گناہگار سے نیک کار ہوجاتا ہے۔ عباسی خلافت کےدور میں ایک شخص تھا جو ہر رات عشاء کی نماز باجماعت ادا کرت، اُسکے بعد اپنےسفید گھوڑا کی ٹانگوں پر سیاہ پٹیاں یوں باندھ لیتا تھا کہ لوگ اندھیرے میں اُسکو سیاہ اسپ (گھوڑا) ہی جانیں۔ وُہ اپنےعلاقے سے دور نکل جاتا رات بھر ڈاکےمارتا اور صبح فجر کی نماز سے پہلے پہل وُہ اپنےگھر پہنچ جاتا اور گھوڑا پر سےسیاہ پٹیاں فوراً اُتار دیتا تاکہ کسی کو ذرہ برابر بھی شک نہ گزرے اور پھر وُہ باجماعت فجر کی نماز کی تیار ی کرتا، نمازیوں سے باقاعدگی سے ملتا۔ بس ایک دِن اللہ نےاُسکے دل میں ایک خیال ڈال دیا کہ اگر وُہ پکڑا گیا تو خلیفہ اُسکو سزا دیں گی، لوگ کہیں گے کہ ایک نمازی ، پرہیزگار شخص رات کی تاریکی میں ڈاکے مارا کرتا تھا۔ اُسی وقت اُس نےخدا سےسچےدِل سےتوبہ کرلی۔ ڈاکے مارنے چھوڑ دیے اور پھر وُہ دُنیا اسلام کا موسیٰ بن شاکر بن کر اُبھرا۔ وُہ عظیم سائنسدان جسکا شماربانی الفرغانی سائنسدانوں میں ہوتا ہے نہ صرف وُہ سائنسدان بنا، اُسکےدو فرزند تھے وُہ دونوں اپنے وقت کے نامور ترین سائنسدان بنے۔ دُنیا میں ڈیم بنانےکا concept اسی سائنسدان کا تھا جسکو اُسکے بیٹوں نےدُنیا کےسامنے پیش کیا۔ جو اُس وقت دریائے نیل کےاسوان کےمقام پر implement تو نہ ہوسکا مگر کوشش ضرور ہوئی۔ بس ہمارا مددگار، کوئی لمحہ، کوئی بات، کوئی خیال، کوئی خوف، کوئی انداز، کوئی نصیحت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ہماری موت کے بعد ہماری ذات کا کوئی بھی پہلو کسی زندگی کو سنوار سکتا ہے۔ ہم بھی نہیں جانتے ہماری بات کہاں پر کس کس کے لئے کیا کچھ کر دکھائےگی۔ کوئی تحریر صدیوں بعد کسی کی زندگی میں خوشگوار تبدیلی پیدا کر دیتی ہے۔ بس یہ اللہ کا ہی راز ہے یہ صرف وہی جانتا ہےاور کوئی نہیں۔ اللہ ہی اصل مددگار ہے باقی تو وسیلے ہی ہوتے ہیں۔

ہماری اصل مددگار ہماری نیت بھی ہوتی ہے۔ ہماری اصل مددگار کوئی ملاقات بھی ہوسکتی ہے۔ کوئی خواب بھی رہنمائی کر کے مدد گار ہو سکتا ہے۔

بیشتر اُوقات ہماری غلطیاں بھی ہماری مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ اِنسان غلطی کر کے ہی سیکھتا ہے۔ ناکامیاں اور غلطیاں ہماری کامیابیوں کا زینہ بنتی ہے۔ کسی پر اعتماد کر لینا اور اُسکا دھوکہ دے جانا ہمیں بتلاتا ہےکہ اعتماد کس طرح کیا جانا ہے اور دھوکہ کس طرح کھایا جاتا ہے۔ ماں اپنے بچے کی کوتاہی پر سرزنش کرتی ہے تو ماں کی ڈانٹ بچے کے لئے ایک سبق آموز بات ہوتی ہے۔ کسی کا ہمیں نظرانداز کرنا، ہمیں مزید بہتر سے بہتر بنانے اور نکھارنے میں اہم کردار ہوتا ہے۔

اکثر اُوقات ہم دوسروں کی زندگیوں سےسبق حاصل کرتے ہیں۔ دوسری قوموں کی کوتاہی سے سیکھتے ہیں، اپنےرشتہ داروں کے اقدامات کے نتائج سے اپنی زندگی کو بہتر انداز میں ڈھالتے ہیں۔

بس انسان لمحہ، لمحہ سیکھتا ہے اور سیکھنا ہی اُسکا اصل معاون ہے۔ درخت کے نیچے بیٹھ کر سیکھنا، تو درخت بھی معاون ہوا۔ جس نےدرخت لگایا ، اُس درخت کو ننھا پودا سے تناور درخت بنانے میں ایک بوند پانی بھی ڈالا وُہ بھی ہمارا مدد گار ہی ہوا۔ پھر اُس درخت کے نیچے بیٹھ کر تعلیم و تربیت کرنے والے افراد بھی مددگار ہوئے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو رہتی دُنیا تک جاری رہےگا۔ کھمبا کے نیچے بیٹھ کر روشنی کی مدد سے پڑھنا بھی تو معاون ہوا، وُہ ادارہ، وُہ اشخاص جو اُس روشنی کےکھمبا کےلگانےمیں کسی نہ کسی طرح سےشامل ہیں، حکومت بھی جس کی وساطت سے یہ ممکن ہوا کہ ہم اُس کھمبا کی روشنی سےمستفید ہوسکےتو یہ بھی ہمارے کسی نہ کسی صورت میں معاون ہوئےاور یہ عمل ایک صدقہء جاریہ ہی ہے۔ جاندار ہی نہیں بےجان بھی ہمارے اصل مددگار ہوئے۔ ایک گمنام قلم ہماری کامیابی کی ضمانت بھی ہے، ایک پیار بھری مسکراہٹ اور ایک زور دار ڈانٹ بھی۔ جو بات اثر کر گئی اُس نے ہماری زندگی بدل دی تو ایک شبد(لفظ) بھی مددگار ہوا۔

کبھی کبھی ہم خود اپنےمددگار بھی ہوتے ہیں۔ایک مدد انجانےمیں ہم خود اپنی کرتے ہیں کسی کےساتھ نیکی کردینا دراصل اپنی مدد کرنا ہے، کسی کو امتحان کی تیاری کروا دینا دراصل صدقہء جاریہ ہوا یوں ہم اس ذریعہ سے اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرتے ہیں۔

ستارے روشنی دیتے ہیں۔ بھٹکے ہوؤں کو راستہ بھی بتلاتے ہیں کیا خوب بات ہے ستارہ روشنی بھی رکھتا ہے اور منزل کے راستہ کا تعین بھی کرواتا ہے۔ کیا نایاب بات ہے منور بھی کرتا ہے۔ اور رہنمائی بھی تبھی تو نور کو سچا راستہ کہا جاتا ہے۔ اُستاد نور ہی ہوتا ہے۔ جو بصیرت کےساتھ ساتھ اعلیٰ سیرت بھی اللہ کی رہنمائی سےعطاء کرواتا ہے۔
(فرخ)

Respected Farrukh, Your articles are very thought provoking and we learn a lot from this. Many thanks for sharing your thoughts

a well written article to generate thought process in the reader to not only analyse one's personality but also think what he is leaving behind for the benefit of others. Instead of being overly critical of others, the author suggests in a subtle yet compelling manner to feel how much we owe others for our growth and development. A very positive approach indeed. May Allah SWT reward you .
Amina

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......