اردو زبان از کاشف فاروق

Submitted by TeamAdmin on Tue, 10/02/2007 - 19:39

اردو ادب

گزشته دنوں قومی اسمبلی میں اردو زبان کو بطور سرکاری زبان نافذ کرنے کی بازگشت سنی گئ جب مولانا محمد خان شیرانی نے آئین کے آرٹیکل 251 کا حواله دیتے ھوۓ کھا که 15 سال میں اردو کو سرکاری زبان کی حیثیت سے نافذ کیا جانا تھا۔ مگر یه ذمه داریاں پوری نھیں کی گئیں چنانچه ارکان اسمبلی کو مختلف وزاتوں کی کارکردگی کی رپورٹس انگریزی میں دی جاتی ھیں۔ جو آئین کی خلاف ورزی ھے انھوں نے کها آئین میں اردو کے نفاذ کی 15 سال کی مدت کا تعین کردیا گیا تھا۔ یه آئینی تقاضا پورا هونا چاهۓ۔

اردو ابان کی ابتداء اور آغاز کے بارے میں بعض حقائق پر نظر ڈالنا دلچسپی سے خالی نھ ھوگا۔ اردو زبان کی ابتداء اور آغاز کے بارے میں کئ مختلف و متضاد نظریات ملتے ھیں۔ ان نظریات میں ایک بات نمایاں ھے که اردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ھند میں آمد اور مقامی لوگوں کے میل جول اور مقامی زبان پر اثرات سے ھوا اور ایک نئ زبان معرض وجود میں آئ۔ جو بعد میں اردو کهلائ۔ کچھ ماھرین لسانیات نے اردو کی ابتداء کا سراغ قدیم آریاؤں کے زمانے میں لگانے کی کوشش کی ھے۔ تاھم بیشتر محقیقین اس بات پر متفق ھیں کھ قدیم اردو ھندوی کا آغاز جدید ھند آریائ زبانوں کے طلوع کے ساتھ 1000ء کے لگ بھگ اس زمانے میں ھوگیا تھا جب مسلمان فاتحین شمال مغربی ھند کے علاقوں میں آباد ھوۓ۔ اردو ایک ایسی زبان ھے جس نے قدرتی حالات میں نشو نما پائ اور کسی سلطان یا سلطنت نے اسکی سرپرستی نھیں کی۔ یه زبان عوامی سطح پر ھندو مسلم میل جول سے ابھری۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت کو ضرورت کی خاطر اردو کو دفتری اور عدالتوں کی زبان بنایا اور وھاں سے فارسی کو رخصت کیا۔

باباۓ اردو بابا مولوی عبدالحق نےفرمایا
ھم نے اب تک اپنی زبان کا صحیح مقام نھیں سمجھا اور نه اس کی وه قدر کی جو ھونی چاھئے تھی۔ حالانکه یورپ کے مستشرقین بھی اب سمجھنے لگے ھیں که اسلامی تھذیب و تمدن کو سمجھنے کے لیے اردو زبان کا جاننا بھی ضروری ھے۔ سن 1938ء کے بعد جب اردو فارسی کی جانشین پائ تو اس زبان کا رواج دفتروں، عدالتوں اور مدرسوں میں ھونے لگا۔ جج فیصلے اردو میں کرتے تھے۔ یھی حال دوسرے دفتروں کا تھا۔ انجینیئرنگ اور ڈاکٹری اردو کے ذریعے سکھائ جاتی تھی۔ اب جاپان جیسے بیشتر ملکوں کی حیرت انگیز ترقی کا راز یه ھے که انھوں نے اپنی تعلیم کا ذریعھ اپنی قومی زبان کو بنالیا ھے۔ ھم ابھی تک یه فیصله نھیں کرسکے کھ ذریعه تعلیم کیا ھو، اردو زبان کی صلاحیتیں بے پایاں ھیں۔ یھ بین الاقوامی زبان بننے کی اھلیت رکھتی ھے۔

پاکستان بننے کے بعد 24 مارچ 1948ء کو ڈھاکه میں خطاب کرتے ھوئے بانی پاک قائداعظم نے کھا کھ میں آپ کو بتادینا چاھتا ھوں کھ پورے ملک کی صرف ایک هی زبان ھوسکتی ھے، اور یه اردو کے سوا اور کوئ نھیں ھوسکتی۔ اس سےقبل تیرا فروری 1941ء کو دوسری کل پنجاب اردو کانفرنس سے خطاب کرتے ھوۓ قائداعظم نے کھا کھ اردو ھماری قومی زبان ھے۔ ھمیں اس کو ھر قسم کے نقصان سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنی پوری توانائ اور زورلگا دینا چاھۓ۔ لیکن ایسا نھ ھوسکا۔

سن 1956ء کے دستور میں اردو کو سرکاری زبان قرار دینے کا مسئله التواء میں رکھ کر انگریزی کی بالادستی کو برقرار رکھا گیا۔ سن 1973ء کے دستور میں قومی و صوبائ زبانوں کا مسئله حل کرلیا گیا۔ لیکن اردو کے نفاذ کے لیے 15 سال کی مدت مقرر کی گئ۔ اور یه تاثر دیا گیا کھ اگست 88ء میں حتمی طور پر اردو انگریزی کی جگھ سرکاری زبان بن جاۓ گی۔ آئین میں دفعه 251 کے مطابق اردو کو زیاده سے زیاده 88ء تک تمام سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں نافذ کیا جانا تھا۔، اب اس حتمی تاریخ کو گزرے بھی ایک طویل مدت گزر گئ ھے۔ مگر اردو کو اس کا مقام دینے کی کوئ صورت نظر نھیں آئ۔ اردو کے الفاظ کا تخمینھ تقریباً چار لاکھ ھے دنیا کی چالیس سے زیاده یونیورسٹیوں میں پڑھائ جانے والی زبان ھے۔

http://www.geocities.com/kurdupk/adab.htm

kashif farooq
thanks

Add new comment

CAPTCHA
This question is for testing whether or not you are a human visitor and to prevent automated spam submissions.
Copyright (©) 2007-2019 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......