Islam

اسلام سے متعلق مضامین

ظالموں کے لیے ایک نقارہ

Submitted by siaksa on Fri, 08/27/2010 - 19:18

اج پاکستان میں ھر جگہ متحدہ قومی موومنٹ کے قاید الطاف حسین صاحب کا یہ تقاضہ ھی زیر موضوع ھے کہ پاکستان کو بچانے کے لیے کسی محب وطن جرنیل کو میدان میں اکے مارشل لا کی طرز پر ایسے اقدام لینے ھونگے اور م

فیصلہ کن جنگ شروع

Submitted by imkanaat on Sat, 11/14/2009 - 07:31

فیصلہ کن جنگ شروع

زبیرا حمد ظہیر

جنوبی وزیرستان آپریشن کے نتائج کیا ہونگے ؟نتائج جو بھی ہوں۔یہ سوال اب سوال نہیں رہابلکہ ملکی بقا ء کا معاملہ بن گیا ہے ۔پچھلے آٹھ سال سے افغانستان میں جاری امریکی جنگ اب عملا ً پاکستان میں داخل ہوچکی ہے ۔امریکا افغانستان میں جنگ ہار کر پاکستان میں فیصلہ کن جنگ لڑنے کا فیصلہ کر چکا ہے ۔پاکستان القاعدہ کے بارے میں بتاتا کیوں نہیں،لاعلم کیوں ہے؟ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کا یہ تازہ تعجب صاف چغلی کھا رہا ہے کہ امریکہ القاعدہ کے خلاف اپنی جنگ پاکستان کے کاندھوںپر تھوپ چکا ہے اور اب اس نے یہ امید باندھ لی ہے کہ القاعدہ کو پاکستان ہی ٹھکانے لگائے گا۔آج امریکا یہ امید کس منہ سے لگا رہا ہے اسے کل کیوں یاد نہیںرہا۔جب پاکستانی اداروں نے القاعدہ کی گردن تک ہاتھ ڈا ل دیا تھا ۔۔!!

2004ء میں جب امریکا سے پاکستانی اداروں کی کامیابی نہ دیکھی گئی اور القاعدہ کے خلاف آپریشن کی باگ ڈور پاکستان سے چھین لی تب سے حالات پاکستانی اداروں کے قابو سے باہر ہونے لگے۔ پھرالقاعدہ اور طالبان نے بھی کھل کر جوابی مزاحمت شروع کردی۔ جوں جوں امریکی سفارت خانے اور قونصل خانوں کی سرِبازاراور پراسرار سرگرمیاں بڑھتی گئیں۔ امریکی تنصیبات پر حملوں میں تیزی آتی گئی۔ میریٹ اسلام آباد، میریٹ کراچی اور پشاور کانٹی نینٹل جیسے خودکش حملوں کے واقعاتی شواہد اوراموات کی تفصیلات نے ثابت کر دیا کہ ان حملوں میں ہدف امریکی سی آئی اے اور ایف بی آئی کے اہلکار ہی تھے جو تجارتی اورسفارتی بہروپ میں تھے۔یہ امریکا اور القاعدہ کی جوابی حکمت عملی کا ٹکراؤتھا جب امریکا نے جنگ کو القاعدہ کے ممکنہ ٹھکانوں تک پہنچایا تو جوابی حکمت عملی نے بھی امریکا کو اس کے راستوں میں گھیر لیا ۔کراچی ،اسلام آباد اور پشاور کے بم حملے ہوں یاپاکستان کے راستے افغانستان جانے والی فوجی کمک ہو ان پرحملے امریکا کو راستے میں دبوچ لینے کی حکمت عملی تھے۔امریکا اور القاعدہ کی پاکستان میں اس دوطرفہ جنگ میںالقاعدہ کے مقابل امریکابراہ راست موجود نہیں بلکہ امریکا کی جگہ القاعدہ اورطالبان کو پاکستانی ادارے امریکی مفادات کی نگہبانی کرتے نظرآئے جس کی وجہ سے القاعد ہ اور طالبان کا فوج اور حساس اداروں سے براہ راست تصادم شروع ہو گیا جواب فیصلہ کن جنگ کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اب تک امریکا کی جانب سے یہ الزام لگایا جاتا تھاکہ پاکستان سے طالبان اور قبائلی افغانستان میں جاکر لڑتے ہیں۔ اس کی روک تھا م کے لیے پاکستان نے اپنی سرحد سے متصل افغان بارڈر پر ایک لاکھ بیس ہزار فوج کا پہرہ بٹھا دیا اور ایک ہزار چوکیوںسے سرحد محفوظ بنا لی ۔پاکستان نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے بارڈر پر باڑھ لگانے کی تجویز دی جسے افغان حکومت نے تسلیم نہ کیا ۔کون نہیں جانتا کہ افغان حکومت امریکا کی کٹھ پتلی ہے لہٰذایہ کہا جائے گا کہ باڑھ لگانے میں خود امریکا نے ہی روکاوٹیں ڈال دیں ادھر افغانستان کا حال یہ ہے کہ ا س بارڈر پر ایک افغان فوجی چوکیدار یاپہرے دار کھڑا نہیں ۔افغانستان کے بارڈروں کو محفوظ بنانا امریکا اور اسکے اتحادیوں کی ذمہ داری تھی مگر خود امریکا ادھر ایک سپاہی تک کھڑا نہیں کر سکا 2ہزار 5سو کلومیٹرطویل اس سرحد پر قبائلی علاقوں سے متصل امریکا کی جو برائے نام 8چوکیاں تھیں ۔جنوبی وزیرستان کاآپریشن شروع ہونے سے 5دن طالبان کی جانب سے انتقام لیے جانے کے انہیں خالی کردیا گیا اور افغان طالبان کو پاکستان داخل ہو کر لڑنے کی خود امریکی فوج نے کھلی چھوٹ دے دی ہے۔کل تک پاکستان سے افغانستان جانے کاالزام تھا اورامریکا نے طالبان کو خود راہداری دے کر جنگ پاکستان منتقل کر دی ہے ۔ طالبان کو افغانستان سے نکالنے کی یہ محفوظ امریکی راہدری چغلی کھارہی کہ امریکاافغان جنگ ہار گیا ہے اور نہ تل دھرنے کو جگہ نہ بھاگ کھڑے ہونے کو رستہ کی سی کیفیت سے دوچار امریکااب اس جنگ کو پاکستان منتقل کر کے اپنی خفت مٹانا چاہتا ہے۔ وزیرستان آپریشن امریکی جنگ کو پاکستان منتقل کرنے کی سوفیصد سند ہے ۔اس منصوبے کو امریکی فوج کی 8چوکیاں قبل از وقت خالی ہونے نے بے نقاب کر دیا ہے ۔امریکاکی اس حکمت عملی سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکا القاعدہ کاخاتمہ پاکستانی فوج کے ہاتھوں کروانے پر تلا بیٹھا ہے ۔یہی وجہ ہے جو جنگ 2001ء میں خالصتاً امریکا کی تھی ۔آج 2009کے اختتام پر خالصتا ًپاکستان کی جنگ بن چکی ہے۔رائے عامہ اس جنگ کے لیے ہموار ہے ۔ساری ذمہ داری پاک فوج کاندھوں پر عائد ہوچکی ہے۔جنوبی وزیرستان آپریشن شروع ہو چکا ۔کیری لوگر بل پر باراک اوبامہ نے دستخط کر دیے اور یوںیہ بات سامنے آگئی ہے القاعدہ کے خلاف امریکاکی فیصلہ کن جنگ کاسوداصرف سات ارب ڈالر میں طے پایا ہے ۔القاعدہ اور طالبان کے پاس جو ہتھیار ہیںوہ بم دھماکے ،خود کش حملے ہیں اب ہمیں کیری لوگر بل کے مرہم کے بدلے ان بم دھماکوں کیلے تیاررہناہوگا ۔فیصلہ کن جنگ کے ان منڈلاتے بادلوں سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے افغانستا ن کی سرحد عبور کرتی جنگ کو پاکستان میںداخل نہ ہونے دیا جائے۔ ہم القاعدہ کو لاکھ گالیاں دیں اور طالبان کو ہزار بر ابھلا کہیں ۔نہ القاعدہ اور نہ طالبان کو کالم اور میڈیا کے مباحثے پڑھنے ،سننے کی فرصت ہے۔نہ امریکا کو سمجھانے کا موقع ہے لیکن ایک بات طے ہے اس جنگ کے بدلے ساری قربانی امریکا نے پاک فوج سے دلوانے کی قسم رکھ چھوڑی ہے ۔

پاکستانی حکومتوں سے ساز باز کرنے انہیں چلتا کرنے اور انہیں نئی حکومتیں دلانے والا امریکا آج تک اگر پاکستان میں بحیثیت ادارہ کسی سے ساز باز نہ کرسکا تھاتووہ فوج تھی مگر کیری لوگر بل کی شرائط صاف بتا رہی ہیںکہ امریکا نے مقتدر حلقوں سے بھی ساز باز کر لی ہے اوریہ امداد شرائط کے سیاق سباق کے لحاظ سے القاعدہ کے خلاف فیصلہ کن معرکہ کی انتہائی معمولی قیمت ہے القاعدہ کے خلاف فیصلہ کن جنگ پاکستانی فوج سے کرانے کے اس منصوبے کی چغلی امریکا کے تیزی سے وہ انتظامات کھا رہے ہیں جن میں امریکی سفارتی عملے میں اضافہ انکی رہائش گاہوں کا انتظام اور ان کی حفاظت کے نام پر بلیک واٹرآمد شامل ہے۔

پاکستان میں ان امریکی انتظامات سے صاف لگتا ہے امریکا افغانستان سے مایوس ہوکر پاکستان میں مستقل بنیادوں پر ڈیرہ جمانے کی تیاریوں میں مصروف ہے ۔افغان جنگ پاکستان منتقل ہونے میں اب رتی برابر شک نہیں رہا ۔اب اس جنگ کو پاکستان سے باہر نکالنے کی ضرورت ہے۔جنوبی وزیرستان آپریشن کا اگر شدت پسندوں کا صفایا کر کے اس جنگ کو پاکستان سے افغانستان واپس موڑ سکا تو اسے کامیاب آپریشن کہا جائے گااوراگر یہ آپریشن افغان جنگ کو پاکستان کے اندرمزید دھکیل لایا تو یہ پاکستان کی سلامتی کی جنگ نہ ہوگی بلکہ امریکی مقاصدکی تکمیل ہوگی لہٰذا جنوبی وزیرستان آپریشن کی کامیابی افغان جنگ کی پاکستان سے واپسی سے جڑی ہوئی ہے ۔اور امریکا اس کوشش میں ہے کہ یہ بلا کسی طرح افغانستان سے ٹل جائے۔اس جنگ کی افغانستان واپسی میں پاکستان کی سلامتی کا راز مضمر ہے

[email protected]

Copyright (©) 2007-2018 Urdu Articles. All rights reserved.
Developed By Solaxim Web Hosting and Development Services
Affiliates: Urdu Books | Urdu Poetry | Shahzad Qais | Urdu Jokes One Urdu| Popular Searches | XML Sitemap Partners: UrduKit | Urdu Public Library

Urdu Articles Is One Of The Largest Collection Of Urdu Articles On Different Topics. You can read articles on topics like parenting, relationship, politics, How to do Things, Shopping Reviews, Life Style, Cooking, Health and Fitness, Islam and Spirituality... You can also submit your articles to get free publicity and fame on your published work. Keep Smiling......